Connect with us

Today News

تعصب ایک عالمی ورثہ ہے

Published

on


امریکی ریاست منی سوٹا میں صومالی تارکینِ وطن کی آبادی دو فیصد ہے۔یہاں سے ایک صومالی نژاد رکنِ کانگریس الہان عمر صدر ٹرمپ کو ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔ٹرمپ منی سوٹا کے صومالی نژاد ووٹروں کو ایسا کچرہ کہتے ہیں جو کسی کام کا نہیں اور اس کچرے کی صفائی کے بغیر امریکا عظیم نہیں بن سکتا۔بقول ٹرمپ یہ لوگ امریکا چھوڑ کر اپنے بدترین غلیظ اصل ملک کیوں نہیں لوٹ جاتے۔

ہو سکتا ہے بہت سوں کو ٹرمپ کا یہ تبصرہ بھی کچرے جیسا لگے مگر ان دنوں عمومی ماحول ایسا ہے کہ کسی میں ہمت نہیں کہ اپنے ہی شہریوں کے خلاف ایسے کھلم کھلا نسل پرستانہ تبصروں کو کسی امریکی عدالت میں چیلنج کرے اور عدالت اس کا سختی سے نوٹس لے کر اور کچھ نہیں تو ہلکی پھلکی سرزنش ہی کر دے۔

بالخصوص ڈھائی ماہ قبل ایک افغان پناہ گزین کے ہاتھوں واشنگٹن میں نیشنل گارڈ کی ایک افسر کے قتل اور ایک کے شدید زخمی ہونے کے بعد تو گویا بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹ گیا۔اس واردات کی آڑ میں تیسری دنیا کے کم ازکم سولہ ممالک کے شہریوں کا امریکا میں داخلہ ممنوع قرار پایا اور تیس دیگر ممالک کے شہریوں کے لیے امریکی ویزہ کا حصول مزید مشکل ہو گیا۔ویزہ مل بھی جائے تو ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی اسکریننگ ملک میں داخلے سے پہلے لازمی قرار پائی ۔ٹرمپ کے حامیوں کے منہ کی کڑواہٹ اب تک دور نہیں ہوئی کہ سانولے رنگ کا زہران ممدانی نیویارک کا مئیر کیوں بن گیا اور اس کی شہریت منسوخ ہونے سے کیسے بچ گئی۔

اسی دوران صدر ٹرمپ نے ایک پوسٹ بھی شئیر کی جس میں سابق صدر اوباما اور ان کی اہلیہ کی بندر جیسی میم بنائی گئی ہے۔مگر اس حرکت کا صدمہ یوں نہیں ہونا چاہئیے کہ لگ بھگ بارہ برس پہلے جب ٹرمپ نے پہلی بار صدر اوباما کی امریکی شہریت پر سوال اٹھائے تھے تب سے اب تک تعصب اور نسل پرستی کے پلوں تلے سے نفرت کا اتنا پانی گذر چکا ہے کہ امریکا میں اب کسی کے لیے بھی کسی نسل پرست ریمارک کے کوئی معنی نہیں رہے۔ انیس سو پچاس اور ساٹھ کی دہائی تک کی سفید فام امریکی نسل پرستی جو بظاہر کچھ عرصے کے لیے مدہم دکھائی پڑتی تھی، ایک انگڑائی لے کر امریکی ریاستی سوچ پر دوگنی شدت سے ٹوٹ پڑی ہے۔

 امریکا کے علاوہ اس لہر کی لپیٹ میں ایسے ایسے ممالک آ رہے ہیں کہ جنھیں چند برس پہلے تک درگذر ، روشن خیالی اور کھلے پن کا امام سمجھا جاتا تھا۔مثلاً ڈنمارک میں نسل پرستی کی لہر کے خلاف ایک موثر روشن خیال اتحاد تشکیل دینے کے بجائے امیگریشن قوانین اتنے سخت کر دیے گئے ہیں کہ اب دوسرے یورپی ممالک بھی ان کی بتدریج تقلید کر رہے ہیں۔

جو برطانوی لیبر پارٹی کچھ عرصے پہلے تک کنزرویٹو پارٹی کو تعصب کا طعنہ دیتی آ رہی تھی اب اپنی امیگریشن پالیسیوں میں روایتی نسل پرستوں سے بھی اوپر جاتی دکھائی دے رہی ہے۔وزیراعظم کئر اسٹارمر کھل کے کہہ رہے ہیں کہ ان کی سرکار یقینی بنائے گی کہ یہ جزیرہ ( برطانیہ ) اجنبیوں کی پناہ گاہ نہ بن جائے۔

یہ وہی برطانیہ ہے جس نے دوسری عالمی جنگ کے بعد تباہ حال معیشت کو پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے برصغیر اور سابق افریقی نوآبادیات کے مزدوروں کے لیے امیگریشن کے دروازے ایسے کھولے تھے کہ سن پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں برطانیہ پہنچنے کے صرف پندرہ دن کے اندر اندر سابق نوآبادیاتی باشندے برطانوی شہریت کے لیے اپلائی کر سکتے تھے۔اب یہ مدت دس برس کر دی گئی ہے اور دس برس بعد بھی درخواست گذار کے رہائشی و سماجی ریکارڈ کا جائزہ لے کر ہی اسے شہریت کا اہل قرار دیا جائے گا۔مگر یہ سخت گیر پالیسی کم ازکم ان امیر مسلمان ممالک کی پالیسی سے تو پھر بھی بہتر ہے جہاں تارکینِ وطن کی تین تین نسلیں بھی شہریت کی اہل نہیں سمجھی جاتیں۔وہاں شہریت بنیادی حق نہیں بلکہ ’’ احسان ‘‘ ہے۔

غیر مغربی ممالک میں بھی اجنبیوں کے لیے برداشت ختم ہو رہی ہے۔مثلاً جو تارکینِ وطن یورپ جانے کی غرض سے لیبیا میں عارضی طور پر داخل ہوتے ہیں۔وہ سرسری گرفتاریوں ، گمشدگی ، تشدد ، ریپ ، قتل ، بھتہ خوری اور جبری مشقت کروانے والے گروہوں کے نشانے پر ہیں۔یورپی یونین لیبیائی کوسٹ گارڈز کی مسلح تربیت کے لیے بھاری رقم دیتی ہے تاکہ تارکینِ وطن کو یورپ جانے سے روکا جا سکے۔مگر لیبیا میں تارکینِ وطن سے ہونے والے سلوک سے یورپی یونین کو کوئی مطلب نہیں۔انسانی حقوق کا کوڑا صرف ان ممالک کی پیٹھ پر برسانے کے لیے ہے جو مغرب کو کسی نہ کسی وجہ سے پسند نہیں۔

کہنے کو لیبیا کا ہمسایہ تیونس بھی ایک عرب و بربر اکثریتی مگر افریقی ملک ہے۔تاہم وہاں بھی سیاہ فام تارکینِ وطن ایک مدت سے اپنی رنگت کا جرمانہ دے رہے ہیں۔لگ بھگ ڈھائی برس پہلے تیونس کے صدر قیس سعید نے بیان دیا کہ افریقی تارکینِ وطن کا اس ملک میں اکثریت بننے کا خدشہ حقیقی ہے۔ایسا ہوا تو تیونس کا ثقافتی و تاریخی رشتہ عرب ثقافت سے کٹ جائے گا۔اس بیان کے بعد ملک میں سیاہ فام طلبا اور سیاسی پناہ کے متلاشیوں کے خلاف حملوں کی لہر اور گرفتاریوں کا سلسلہ چل نکلا۔

جنوبی افریقہ کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ کس طرح چالیس لاکھ سفید فاموں نے ڈھائی کروڑ سیاہ فام شہریوں کو اپارتھائیڈ پالیسی کے ذریعے انیس سو چورانوے تک ایک نسل پرست نظام میں جکڑے رکھا ۔مگر آج اپارتھائیڈ سے پاک اسی جنوبی افریقہ میں آس پڑوس سے روزگار کی خاطر آنے والے سیاہ فام تارکینِ وطن کو انہی حقارت بھری نظروں سے دیکھا جاتا ہے جس نظر سے گورے افریکانر جنوبی افریقی سیاہ فاموں کو دیکھتے تھے۔

انیس سو چورانوے میں آزادی ملنے کے بعد سے اب تک جنوبی افریقہ میں غیرملکی سیاہ فام تارکینِ وطن کے خلاف لگ بھگ ڈیڑھ ہزار پرتشدد وارداتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ان وارداتوں میں تذلیل ، لوٹ مار ، اغوا اور قتل سمیت ہر طرح کے قصے شامل ہیں۔کوویڈ کے دوران بھی تارکینِ وطن امتیازی سلوک سے گذرے۔جنوبی افریقہ کی سول سوسائٹی کے کئی گروپ نائجیریا ، موزمبیق ، زیمبیا اور زمبابوے سے تلاشِ روزگار کے لیے آنے والے ہم نسلوں کے خلاف ریلیاں منظم کرتے رہے۔

لاطینی امریکی ممالک کولمبیا ، پیرو ، چلی اور ایکویڈور میں وینزویلا سے آنے والے تارکینِ وطن کے خلاف غم و غصہ بڑھ رہا ہے۔بھارتی حکومت بنگالی نژاد مسلمانوں اور میانمار کے روہنگیا پناہ گزینوں کو جب کہ ایران و پاکستان کی حکومتیں افغان پناہ گزینوں کو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتی ہیں اور تارکینِ وطن مخالف ریاستی بیانیہ مقامی شہریوں کو بھی انتہاپسند بنا رہا ہے۔

 جب ریاست روزگار ، معاشی ترقی اور بڑھتی ہوئی طبقاتی عدم مساوات کے تناظر میں اپنے شہریوں کی توقعات پوری نہیں کر پاتی تو اس کا ذمے دار تارکینِ وطن کو ٹھہرانا مقامی ووٹروں کی توجہ بٹانے کا نہایت مجرب نسخہ ہے۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ٹیرف سے متعلق اب دیگر قوانین کا سہارا لیا جائے گا، امریکی وزیرِخزانہ

Published

on



امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ٹیرف سے متعلق اب  دیگر قوانین کا سہارا لیا جائے گا۔

امریکی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد اپنے بیان میں اسکاٹ بیسنٹ کا کہنا تھا کہ رواں سال کے دوران ٹیرف کی مجموعی سطح کم و بیش یہی رہے گی جو اس وقت نافذ ہے، تاہم ان کے نفاذ کا طریقہ کار تبدیل کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اب ٹیرف کے لیے سیکشن 232 اور سیکشن 301 جیسے قوانین کا سہارا لے گی، جنہیں ماضی میں متعدد بار عدالتوں میں چیلنج کیا گیا لیکن عدالتوں نے درست قرار دیا۔

امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ عدالت کے فیصلے سے صدر کے بعض اختیارات محدود ہوئے ہیں، تاہم مختلف ممالک کے لیے ٹیرف کی سطح کو ایک حد تک برقرار رکھا جائے گا، البتہ اس کے لیے قانونی بنیاد مختلف ہوگی۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ آف دی یونائیٹڈ اسٹیٹس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیرف عائد کرتے وقت اپنے اختیارات سے تجاوز کیا جس کے نتیجے میں عالمی تجارت شدید متاثر ہوئی۔

عدالت کے مطابق جس قانون کے تحت یہ ٹیرف نافذ کیے گئے وہ قومی ایمرجنسی کے حالات کے لیے بنایا گیا تھا اور یہ قانون صدر کو اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار فراہم نہیں کرتا۔

عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ جو چاہیں کر سکتے ہیں اور یہ کہ دیگر ممالک کی خوشی زیادہ دیر قائم نہیں رہے گی۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

18 سال سے کم عمر افراد کی شادی جرم قرار، نیا آرڈیننس جاری

Published

on



پنجاب میں لڑکا ہو یا لڑکی ، 18سال سے کم عمر افراد کی شادی جرم قرار ہوگا، پنجاب حکومت کی طرف سے نیا آرڈیننس جاری کردیا گیا۔

حکومت کی جانب سے جاری آرڈیننس کے مطابق نکاح رجسٹرار کو کم عمر شادی رجسٹر کرنے پر ایک سال قید اور ایک لاکھ جرمانہ ہوگا ، 18سال سے زائد عمر شخص کو کم عمر لڑکی سے نکاح پر کم از کم دو سال قید ہوگی ، کم عمری کی شادی میں ملوث بالغ شخص کو 5لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔

 آرڈیننس میں شادی کے بعد کم عمر کے ساتھ رہائش یا تعلقات کو چائلڈ ابیوز قرار دیدیا گیا ، چائلڈ ابیوز پر 5سے 7سال قید اور کم از کم 10لاکھ روپے جرمانہ کیا جائیگا ۔

 آرڈیننس کے مطابق کم عمر بچوں کو شادی کے لیے پنجاب سے باہر لے جانا چائلڈ ٹریفکنگ تصور ہوگا ، چائلڈ ٹریفکنگ پر 5سے 7سال قید اور 10لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا ، سرپرست یا والدین کی جانب سے کم عمری کی شادی کرانے پر 2سے 3سال قید کی سزا ہوگی۔ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس پنجاب اسمبلی اجلاس میں پیش ہوگا۔



Source link

Continue Reading

Today News

ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کا نجی شعبے پر مشتمل بورڈ قائم، 22 رکنی بورڈ میں 6 سرکاری ارکان شامل

Published

on



حکومت نے ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ(ای ڈی ایف) کے انتظامی امور میں شفافیت اور نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے کے لیے 22 رکنی نیابورڈ آف ایڈمنسٹریٹرز تشکیل دیدیاہے، جس میں اکثریت نجی شعبے کے نمائندوں پر مشتمل ہے۔

سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق سروس لانگ مارچ ٹائرز لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹوآفیسر عمرسعید کوبورڈ کا نیا چیئرمین مقررکیاگیا ہے۔ اس سے قبل یہ عہدہ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کے پاس تھا ،جبکہ سیکریٹری تجارت بورڈکے وائس چیئرمین تھے، حالیہ قانونی ترامیم کے بعددونوں عہدے ختم کر دیے گئے ہیں۔

حکومت نے گزشتہ ماہ ای ڈی ایف ایکٹ میں وزیراعظم کی جانب سے قائم پینل کی سفارشات کی روشنی میں ترامیم کی تھیں،جن کامقصد فنڈکے استعمال کی نگرانی سخت کرنا اور بیوروکریسی کاکردارمحدودکرنا ہے۔

 ای ڈی ایف میں تقریباً 52 ارب روپے کی رقم موجودہے،جو برآمدکنندگان پر عائد 0.25 فیصدسرچارج کے ذریعے جمع کی جاتی تھی۔ حکومت پہلے ہی اس سرچارج کو ختم کر چکی ہے اور وزیراعظم نے فنڈکابین الاقوامی معیارکے مطابق تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔

گزشتہ ماہ بورڈ نے چاول برآمدکنندگان کوعالمی مسابقت اور برآمدی حجم میں کمی کے پیش نظر 15 ارب روپے کی منظوری دی تھی اور جون تک 3 سے 9 فیصد ریبیٹ دینے کافیصلہ کیاتھا،تاہم اس اقدام پر بعض حلقوں کی جانب سے اعتراضات بھی سامنے آئے تھے۔

 نئے بورڈ میں 22 ارکان میں سے صرف 6 سرکاری افسران شامل ہیں،نجی شعبے کے ارکان میں ملک کے نمایاں برآمد کنندگان اور صنعتی نمائندے شامل کیے گئے ہیں،جبکہ پاکستان بزنس کونسل،فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری،رائس ایکسپورٹرز ، سرجیکل گڈز، اسپورٹس گڈز مینوفیکچررز،میٹ ایکسپورٹرز اور فارماسیوٹیکل مینوفیکچررزکے نمائندگان بھی بورڈکاحصہ ہونگے۔

قانونی ترامیم کے تحت گزشتہ تین برسوں کی بنیاد پر چار بڑے برآمدکنندگان، بڑا نان ٹیکسٹائل برآمد کنندہ اور زراعت، آئی ٹی اور صنعت کے شعبوں سے ایک، ایک رکن کی تقرری لازمی قرار دی گئی ہے۔



Source link

Continue Reading

Trending