Connect with us

Today News

اے آئی سمٹ سبکی میں تبدیل، شائننگ انڈیا کا بیانیہ احتجاج کی نذر

Published

on


مصنوعی ذہانت (اے آئی) سمٹ کا انعقاد بھارت کے لیے ہزمیت کا باعث بن گیا۔

اے آئی سمٹ کی بدانتظامی اور تنازعات نے بھارت کی ترقی اور عالمی ٹیکنالوجی کے نام نہاد بیانیے کا پول کھول دیا۔ بل گیٹس کےخطاب کی منسوخی،چینی روبوٹ کو مقامی ایجاد قرار دینے کا جھوٹا دعویٰ اور یوتھ کانگریس کے احتجاج نے سمٹ کو مزید متنازعہ بنا دیا۔ 

بھارتی میڈیا کے مطابق انڈین یوتھ کانگرس کے کارکنان نے سمٹ  کے دوران اپنی قمیضیں اتار کر حکومت مخالف نعرے بازی کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ ہونے والے مبینہ تجارتی معاہدے میں قومی مفادات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

انڈین یوتھ کانگریس کے صدر ادے بھانو نے کہا کہ وزیراعظم مودی کمپرومائزڈ ہیں اور نوجوانوں کا غصہ محض سیاسی نہیں بلکہ بے روزگاری اور معاشی غیر یقینی صورتحال کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ ہونے والی بھارتی ڈیل کا فائدہ صرف امریکا کو ہوگا جبکہ بھارتی کسانوں اور عام شہریوں کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔ مودی ممکنہ طور پر ایپسٹین فائل میں نام آنے یا اڈانی کو بچانے کے لیے  فیصلے کر رہا ہے، جس کی قیمت ملک کے نوجوان ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی عزت احتجاج سے نہیں بلکہ مودی کے عالمی مجرم کے مشورے سے اسرائیل میں ناچنے سے خراب ہوئی۔

ماہرین کے مطابق عالمی ٹیکنالوجی سمٹ کے دوران حکومتی پالیسیوں کے خلاف اس شدت کا احتجاج سیاست نہیں بلکہ مودی کی پالیسی پر سنگین سوالیہ نشان ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پارٹی کے اندرونی معاملات اچھے ہوتے تو عمران خان جیل سے باہر ہوتے،علی امین گنڈاپور

Published

on


سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے اندرونی معاملات اچھے ہوتے تو بانی چیئرمین پی ٹی آئی جیل سے باہر ہوتے،قانون و انصاف نہیں ہے ملک کا نظام ٹھیک نہیں ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں بھی اس چیز کا گناہ گار ہوں کہ کیا وجہ ہے کہ اتنی سپورٹ اور شہرت کے باوجود ناکام ہو رہے ہیں بار بار، یا تو ہمارے نیتوں میں فرق ہے یا پھر آپس کے اختلاف ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے کاموں میں لگے ہوئے ہیں جو مقصد سے ہٹ کر ہیں، ہم بے وقوفی پر لگے ہوئے نادانی میں لگے ہوئے ہیں استعمال ہورہے ہیں جو بھی وجہ ہے، نتائج جو بھی وجہ اس کا نتیجہ کیا نکل رہا ہے وہ دیکھنا چاہیے۔

علی امین نے کہا کہ ہمارا ہر کسی کے لیے احترام ہے، جب میرے لیڈر پرسخت  وقت ہوگا اسے تکلیف ہوگی، اس کے لئے میں اگر غصہ میں بات کرتا ہوں تو لوگوں کو برداشت کرنا چاہیے، بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی رہائی کے لئے کتنی پریشر سے کمپین شروع کی ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ہم آج ادھر کھڑے ہوئے ہیں ہمیں ہوش کے ناخن لینے چاہیے، میں جو بھی کر رہا ہوں بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے لئے کر رہا ہوں، ہماری غلطیاں تو ہیں، بانی پی ٹی آئی عمران خان معالج کی رسائی مانگ رہا ہے وہ ہم نہیں کر پا رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پریشر باتوں سے نہیں رویہ سے بنتا ہے، آپ کی طاقت سے بنتا ہے آپ کیا کر سکتے ہیں، ڈائیلاگ ٹک ٹاک بنانے سے فرق پڑتا تو آج یہ حال نہ ہوتا، خان صاحب کی رہائی دور کی بات آج معالج بھی نہیں مل رہا، میں پہلے بھی خاموش نہیں تھا میں وزیر اعلیٰ تھا۔

سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اس وقت ایک ورکر ہوں نہ سیاسی کمیٹی کا حصہ ہوں نہ ہی کوئی عہدہ ہے، میں اپنے حلقہ میں تھا پاکستان کی سب سے بڑی ریلیاں کر رہا تھا،  چیلنج کرتا ہوں میری ریلی سب سے بڑی نہ ہوئی تو کہیں میں خاموش تھا۔

انہوں نے کہا کہ کال دی گئی میں سب سے پہلے آیا، کیمرے لگے ہوئے تھے، سب سے زیادہ ایکٹویٹی بھی میں نے کی تھی، یہاں آیا ہوں پانچ دنوں میں بارہ گھنٹے نہیں سویا، پھر حکم ہوا کہ چلے جاؤ میں کیا کرتا، کوئی وجہ ہے تو ہمارا پریشر کم ہوا اور بانی کو مشکلات ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پریشر بناؤ یہ کہنا گناہ ہے تو میں کرونگا، میں جگاونگا ان لوگوں کو مسئلے حل نہیں ہورہے ہیں، کوشش تو کرو یہ نہیں ہوسکتا کہ ٹی وی پروگرام میں بیٹھ جاؤ، آپ کے عمل سے سارا کچھ ہوتا ہے۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کے خلاف آڈیو لیک کیس کی سماعت ہوئی۔ علی امین گنڈاپور ضلعی کچہری میں پیش ہوئے اور سرنڈر کیا۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نصر من اللہ بلوچ نے کیس کی سماعت کی۔ ملزم علی امین گنڈاپور اپنے وکیل راجہ ظہور الحسن کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ شریک ملزم اسد فاروق خان بھی عدالت میں حاضر ہوئے۔

عدالت نے آڈیو لیک کیس میں علی امین گنڈاپور اور اسد فاروق خان پر فردِ جرم عائد کر دی۔ عدالت نے علی امین گنڈاپور کے وارنٹِ گرفتاری معطل کرتے ہوئے ان کے خلاف اشتہاری کی کارروائی بھی ختم کر دی۔

سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ آپ تو عدالت پیش ہی نہیں ہوتے رہے، جس پر علی امین گنڈاپور نے مؤقف اختیار کیا کہ سیکیورٹی صورتحال، کرفیو اور راستوں کی بندش کے باعث پیش نہیں ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کال پر صرف لائسنس کے بارے میں پوچھ رہے تھے اور چھاپوں کے دوران ان کے موبائل بھی لے لیے گئے۔

جج نصر من اللہ بلوچ نے ریمارکس دیے کہ صرف پراسیکوشن کے کہنے پر سزا نہیں ہو سکتی اور کیس طویل عرصے سے زیرِ سماعت ہے۔

وکیلِ صفائی نے وارنٹ منسوخ کرنے کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے آئندہ احتیاط اور حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسی صورتحال میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دی جا سکتی ہے۔

عدالت نے کیس کی سماعت 6 اپریل تک ملتوی کر دی۔

 

 

 

 





Source link

Continue Reading

Today News

کےپی حکومت کو رمضان پیکیج سے زیادہ بانی کے دانت اور آنکھ اہم ہیں، عظمٰی بخاری

Published

on


وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے کہا کہ پنجاب میں رمضان نگہبان پیکج کی تقسیم کا سلسلہ کامیابی سے جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق انہوں نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہر مستحق کو میرٹ کی بنیاد پر اسکی دہلیز پر امداد پہنچائی جارہی ہے۔ کے پی حکومت ابھی تک رمضان پیکج کی تقسیم تو دور اعلان نہیں کرسکی۔

انہوں نے کہا کہ کے پی حکومت کے لیے بانی کی آنکھ، بانی کے دانت اور بانی کی جیل میں آسائشیں اہم ہیں۔ کے پی حکومت کا فوکس رمضان سے زیادہ رہائی فورس اور نیا فتنہ پھیلانے پر ہے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خیبر پختونخواہ میں ابھی تک ڈیجیٹل ڈیٹا ہی جمع نہیں کیا جا سکا۔ گزشتہ سال بھی کے پی حکومت کا رمضان پیکج پارٹی کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کی فہرستوں پر دیا گیا جبکہ پنجاب حکومت نے اپنے وسائل سے صوبے بھر میں سروے مکمل کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سروے کے تحت پنجاب کے ہر شہری کا ڈیٹا اکٹھا کر لیا گیا ہے۔ پنجاب میں اسی سروے کے تحت 42 لاکھ خاندانوں کو رمضان نگہبان کارڈ مل رہے ہیں۔ اسی کے تحت مسیحی برادری کو بھی امدادی رقم الگ سے مل رہی ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا رمضان پیکج ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

وزیر داخلہ سے ایم کیو ایم، ق لیگ اور بلوچستان عوامی پارٹی کے وفاقی وزرا کی ملاقات

Published

on



اسلام آباد:

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے پاکستان مسلم لیگ (ق)، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور بلوچستان عوامی پارٹی کے وفاقی وزرا نے ملاقات کی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اہم ملاقات میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے چوہدری سالک حسین، ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی اور بلوچستان عوامی پارٹی کے خالد مگسی شامل تھے۔

ملاقات کے دوران ملک کی مجموعی صورتحال اور داخلی سلامتی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی بات چیت ہوئی۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے تینوں جماعتوں کے رہنماؤں کو خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی صورتحال سے آگاہ کیا اور قیام امن کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔

چوہدری سالک حسین، خالد مقبول صدیقی اور خالد مگسی نے قیام امن کے لیے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی مخلصانہ کاوشوں کو سراہا۔ تینوں رہنماؤں نے دوٹوک اعلان کیا کہ ان کی جماعتیں پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہیں اور ہمیشہ ساتھ کھڑی رہیں گی۔

چاروں وفاقی وزرا نے امن کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مل کر ساتھ چلنے کے عزم کا اعادہ کیا اور قیام امن کے لیے سیکیورٹی فورسز کی دلیرانہ کارروائیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

وفاقی وزراء نے فتنۃ الخوارج کے دہشتگردوں کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے بہادر سپوتوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ شہدا کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔

 





Source link

Continue Reading

Trending