Today News
Epstein Files Leonardo DiCaprio accused of eating human flesh what is the truth
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر ان دنوں ایک چونکا دینے والا دعویٰ تیزی سے وائرل ہورہا ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ ہالی ووڈ اداکار لیونارڈو ڈی کیپریو نے مبینہ طور پر 70 پاؤنڈ ’’بچوں کا گوشت‘‘ کھایا۔
یہ انکشاف حال ہی میں جاری ہونے والی جیفری ایپسٹین سے متعلق فائلز میں ہوا ہے۔ بعض پوسٹوں میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ اداکار نے فلمساز ووڈی ایلن کے ساتھ ای میلز میں خود کو آدم خور قرار دیا۔
New Epstein files reveal that Leonardo DiCaprio ate over 70 pounds of “child meat” as part of a cannibalism diet.
The files expose DiCaprio swapping emails with Woody Allen where he brags about being a full-blown cannibal.https://t.co/ql16rG6rwd
— TPV Sean (@tpvsean) February 21, 2026
یہ سنسنی خیز دعوے دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین میں تشویش اور حیرت کی لہر دوڑ گئی، تاہم دستیاب دستاویزات اور مستند رپورٹس کا جائزہ لینے سے ایک بالکل مختلف حقیقت سامنے آئی ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی لاکھوں دستاویزات، جو ایپسٹین کے نیٹ ورک اور روابط سے متعلق ہیں، ان میں لیونارڈو ڈی کیپریو کا نام صرف چند مواقع پر سامنے آتا ہے۔ دستاویزات کے مطابق ایک ای میل میں سابق برطانوی سفارتکار پیٹر مینڈلسن نے ایپسٹین سے ڈی کیپریو کے ممکنہ برانڈ اینڈورسمنٹس کے بارے میں رابطہ کیا تھا، جبکہ ایک اور ای میل میں 2016 کے دوران اداکار کے ساتھ ممکنہ ڈنر میٹنگ کا ذکر کیا گیا۔
VIDEO: Epstein’s ‘Jerky’ Operation EXPOSED Where The Flesh Of Children Is Prepared By Chef With ‘Cannibal’ Restaurant For Global Elite
PLUS, 655 Gallon Drum Of Sulfuric Acid Ordered By Epstein To Dissolve Bodies / Body Parts pic.twitter.com/0L9QxNlO7K
— Alex Jones (@RealAlexJones) February 9, 2026
اہم بات یہ ہے کہ ان دستاویزات میں کہیں بھی آدم خوری، ’’چائلڈ میٹ‘‘ یا کسی بھی نوعیت کی مجرمانہ سرگرمی کا کوئی ذکر موجود نہیں۔
وائرل ہونے والے سنگین الزامات دراصل چند غیر مصدقہ ویب سائٹس اور سازشی نظریات پر مبنی رپورٹس سے پھیلے، جن میں مبہم اصطلاحات کو غلط انداز میں پیش کرکے عالمی شخصیات کے خلاف سنسنی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔
سوشل میڈیا کے کمیونٹی فیکٹ چیکس اور آزاد تحقیق کے مطابق ڈی کیپریو کا نام فائلز میں صرف اس لیے آیا کیونکہ ایپسٹین مختلف مواقع پر بااثر شخصیات کا نام لے کر اپنے تعلقات بڑھا چڑھا کر بیان کرتا تھا۔
عدالتی ریکارڈ اور گواہیوں سے بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ اداکار نہ تو ایپسٹین کی کسی پراپرٹی پر دیکھے گئے اور نہ ہی ان کے خلاف کسی قسم کی بدعنوانی یا غیر قانونی سرگرمی کا کوئی الزام ثابت ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ دعویٰ مکمل طور پر جھوٹا ہے اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی گمراہ کن مہم کا حصہ ہے۔ فیکٹ چیک کے نتیجے میں واضح ہوا ہے کہ ایپسٹین دستاویزات میں لیونارڈو ڈی کیپریو کے خلاف آدم خوری یا کسی بھی سنگین جرم کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔
Today News
Controversy over harassment allegations actress Hania Aamir categorical stance comes to light
پاکستانی شوبز انڈسٹری میں جاری حالیہ تنازع پر معروف اداکارہ ہانیہ عامر نے خاموشی توڑتے ہوئے اپنا واضح مؤقف سامنے رکھ دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری بحث کے بعد اداکارہ نے کہا ہے کہ وہ ہراسانی اور استحصال جیسے معاملات پر کسی قسم کی نرمی یا سمجھوتے کی قائل نہیں اور اس حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی رکھتی ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت زیر بحث آیا جب سابق ماڈل ماہ نور رحیم نے اداکارہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ایسے پروڈیوسر کی قریبی دوست ہیں جن پر ہراسانی کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بعض ماڈلز اور اداکاراؤں نے سوشل میڈیا پر مبینہ پیغامات کے اسکرین شاٹس بھی شیئر کیے، جس کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا۔
صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے ہانیہ عامر نے انسٹاگرام کے ذریعے وضاحت کی کہ انہیں اس معاملے کی پہلے سے کوئی معلومات نہیں تھیں اور نہ ہی وہ اس میں کسی طور شامل رہی ہیں۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ خواتین اور لڑکیوں کے وقار اور تحفظ کو متاثر کرنے والا کوئی بھی رویہ ناقابلِ قبول ہے اور ایسے حساس معاملات کو سنجیدگی اور احترام کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔
اداکارہ نے ان خواتین کے حق میں بھی آواز بلند کی جنہوں نے مبینہ طور پر شکایات سامنے لائیں اور کہا کہ شوبز سمیت ہر شعبے میں محفوظ ماحول کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ موجودہ خدشات کے پیش نظر انہوں نے متعلقہ فرد سے خود کو الگ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور کسی بھی سماجی یا پیشہ ورانہ وابستگی کو کسی دوسرے شخص کے عمل کی حمایت نہ سمجھا جائے۔
اپنے بیان میں انہوں نے احتساب، باہمی احترام اور محفوظ پیشہ ورانہ ماحول کے فروغ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ نقصان دہ رویوں کے خلاف کھڑے ہوں اور متاثرہ افراد کی حمایت کریں۔
سوشل میڈیا پر اداکارہ کے اس بیان کو ملا جلا ردعمل ملا ہے۔ بڑی تعداد میں مداحوں نے ہراسانی کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرنے پر ان کی تعریف کی، جبکہ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ انہیں مزید کھل کر اور نام لے کر بات کرنی چاہیے تھی۔
Today News
راولپنڈی: ڈکیتی کے دوران فائرنگ سے سرکاری اہلکار جاں بحق
راولپنڈی میں تھانہ چونترہ کی حدود میں ڈکیتی کے دوران فائرنگ سے اہم ادارے کا سرکاری اہلکار جاں بحق ہوگیا، موٹرسائیکل پر سوار تین ملزمان موقع سے فرار ہوگئے، پولیس نے ڈکیتی کے دوران قتل کا مقدمہ درج کرلیا۔
پولیس نے بتایا کہ مقتول محمد ادیب کے بھائی محمد حسین کی درخواست پرچونترہ پولیس نے ڈکیتی وقتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، مدعی مقدمہ نے بتایا کہ بڑا بھائی محمد ادیب سرکاری ملازم ہے جو چھٹی پرگھر آرہا تھا، بھائی نے فون کیا کہ چکری انٹرچینج پہنچ رہا ہوں موٹرسائیکل پر لینے آجاؤ۔
ایف آئی آر کے مطابق بھائی چکری اڈے پر پہنچا تو اسکا دوست رحمت خان ساتھ تھا، بھائی نے کہا کہ میں رحمت کو سہال چھوڑ کر آتا ہوں تم یہیں رکو، کافی دیر تک بھائی واپس نہ آیا تو اسکے نمبر پر کال کی رحمت نے فون اٹینڈ کرکے واقعہ بارے بتایا، کالج کے قریب واصل ہسپتال کے سامنے پہنچا تو بھائی زخمی اور قریب رحمت کھڑا تھا۔
رحمت نے بتایا کہ موٹرسائیکل سوار تین لڑکوں نے ادیب کو روکنے کی کوشش کی تھی، ادیب کے نہ رکنے پر ایک نے فائرنگ کی اور فرار ہوگئے۔
مدعی کے مطابق نامعلوم ملزمان نے بھائی کو ڈکیتی کی نیت سے روکا اور فائرنگ کرکے قتل کردیا، واقعے کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچی اور تفتیش کا آغاز کیا۔
پولیس کا کہنا تھا کہ واقع کا مقدمہ ڈکیتی اور قتل کی دفعات کے تحت درج کیا ہے، ملزمان کی شناخت کے لیے مختلف وسائل استعمال کررہے ہیں۔
Today News
ریاستی اداروں پر الزامات کا کیس: سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم
اسلام آباد کی مقامی عدالت نے ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے کیس میں وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیدیا۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے کیس میں عدم حاضری پر سہیل آفریدی کے وارنٹ گرفتاری برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اس کیس میں وزیراعلی سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیا اور کیس کی مزید سماعت 9 مارچ تک ملتوی کردی۔
سہیل آفریدی کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت این سی سی آئی اے نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔
-
Tech2 weeks ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech1 week ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Tech1 week ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Tech2 weeks ago
Apple iPhone 17e Release Date: Just Days Away, New Report Claims
-
Entertainment1 week ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Entertainment2 weeks ago
Pakistani Stars Land From Karachi To Lahore For Basant