Connect with us

Today News

پریانکا چوپڑا کو کس نے بالی ووڈ چھوڑنے پر مجبور کیا، اداکارہ کا انکشاف

Published

on



ہالی ووڈ میں اپنی اداکاری کا لوہا منوانے والی پریانکا چوپڑا نے بہت عرصے بعد بالی ووڈ چھوڑنے کی وجہ بتادی۔ 

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پریانکا چوپڑا نے ایک انٹریو میں انکشاف کیا ہے کہ وہ کبھی بالی ووڈ چھوڑنا نہیں چاہتی تھیں، لیکن انہیں دباؤ میں آ کر یہ قدم اٹھانا پڑا۔

ادکارہ نے کھل کر بتایا کہ وہ کبھی بھی بھارت کی فلموں کو چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھیں، لیکن انہیں زیادہ دلچسپ مواقع تلاش کرنے کے لیے باہر جانا پڑا۔

انٹریو کے دوران پریانکا چوپڑا کے بالی ووڈ سے ہالی وڈ اور دیگر شعبوں میں منتقلی کے بارے میں کافی بات کی گئی ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ یہ تبدیلی کیسے اور کیوں آئی، اور یہ فیصلہ ان مواقع کی بنیاد پر کیا گیا جو ان کے لیے بھارت میں دستیاب تھے۔

یاد رہے کہ بھارتی فلم انڈسٹری میں کئی سال کام کرنے کے بعد، پریانکا چوپڑا نے بیرون ملک کام کرنا شروع کیا اور ہالی ووڈ میں متعدد پروجیکٹس میں کام کیا۔ 

انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں میں کبھی بالی ووڈ چھوڑنا نہیں چاہتی تھی، مجھے کئی وجوہات کی بنا پر ہندی فلموں میں محدود محسوس ہوتا تھا اور مجھے دباؤ میں لایا جا رہا تھا جس کے بعد میں ایسے مواقع تلاش کر رہی تھی جو میرے لیے ایک فنکار کے طور پر دلچسپ ہوں، اور آخرکار میں امریکا میں کام کرنے لگی۔

اس وقت اداکارہ بھارت میں راجامولی کے پروجیکٹ کی شوٹنگ کر رہی ہیں جب کہ دوسری طرف اپنی تازہ ترین فلم ’دی بلف‘ کو نیویارک میں پروموٹ کررہی ہیں۔ 

تاہم، 43 سالہ اداکارہ اس بات پر خوش ہیں کہ انہیں انتخاب کرنے کی آزادی حاصل ہے اور وہ اپنے ملک واپس آ کر کام کرنے سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں واقعی خوش ہوں کہ دوبارہ بھارت میں وارناسی میں کام کر رہی ہوں،  میں نہیں چاہوں گی کہ مجھے دونوں کے درمیان انتخاب کرنا پڑے کیوں کہ مجھے دونوں انڈسٹریز میں کام کرنے کا لطف آتا ہے،  وہ کئی لحاظ سے مختلف ہیں، بالکل جیسا کہ ثقافتیں مختلف ہیں۔

 



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

صدر ٹرمپ کی ڈیڈ لائن؛ امریکی طیاروں نے ایران کی جانب پوزیشن سنبھال لیں

Published

on


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو معاہدہ کرنے کے لیے 10 سے 15 روز کی واضح ڈیڈ لائن دے دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے مہلت دیئے جانے تک مذاکرات نہ کیے تو بڑا فوجی حملہ کیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ کی ایران کو کی دئی گئی ڈیڈ لائن کے بعد یورپ میں موجود امریکی فضائیہ نے ایران کی جانب اپنی عسکری پوزیشنز سنبھالنا شروع کر دیں۔

پرتگال کے ایک جزیرے پر قائم امریکی ایئربیس پر جنگی طیاروں اور معاون فضائی اثاثوں کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جہاں امریکی طیاروں نے ممکنہ آپریشنز کے لیے پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔

دوسری جانب معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ ایران پر کسی بھی قسم کے امریکی حملے کے نتائج ناقابلِ پیش گوئی ہو سکتے ہیں اور یہ اقدام پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئی جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

ایک روز قبل برطانوی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی صدر ایران کی اعلیٰ قیادت کو براہِ راست نشانہ بنانے پر غور کر رہے ہیں جبکہ بعض رپورٹس میں ایران پر محدود حملوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

انھی رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ امریکی فوج کا ہدف صرف عسکری کارروائی نہیں بلکہ ایرانی حکومت پر دباؤ بڑھا کر نظام کی تبدیلی کی کوشش ہو سکتی ہے۔

ایران کی جانب سے تاحال ان خبروں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم ماضی میں ایرانی حکام واضح کر چکے ہیں کہ کسی بھی حملے کی صورت میں سخت جواب دیا جائے گا۔

 

 





Source link

Continue Reading

Today News

پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امووایبل پراپرٹی (ترمیمی) آرڈیننس 2026 سامنے آگیا

Published

on


قبضہ مافیا کیخلاف سخت سزائیں اور جرمانوں کا پنجاب حکومت پنجاب پروٹیکشن آف اونرشب پراپرٹی آرڈیننس دوبارہ لے آئی جب کہ پنجاب حکومت  پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امووایبل پراپرٹی (ترمیمی) آرڈیننس 2026 سامنے آگیا۔

غیر قانونی قبضہ قابل سزا جرم قرارہوگا، سزا پانچ سے دس سال یا قید ہوگی، پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امووایبل پراپرٹی (ترمیمی) آرڈیننس 2026 میں پانچ سیکشن کو ختم کر دیا گیا ہے۔

محکمہ قانون نے پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امووایبل پراپرٹی (ترمیمی) آرڈیننس 2026 کو پنجاب  اسمبلی بھجوا دیا، ہر ضلع میں ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں اسکروٹنی کمیٹی قائم کی جائے گی۔

 کمیٹی میں ڈی پی او، اے ڈی سی ریونیو، اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر افسران شامل ہوں گے، کمیٹی فریقین کو طلب کر کے ریکارڈ کی جانچ اور بیانات قلمبند کرے گی، کمیٹی مصالحتی حل کی کوشش بھی کرے گی۔

مصالحت، صلح کی صورت میں تحریری معاہدہ ٹریبونل کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

آرڈیننس کے مطابق  غیر قانونی قبضے پر ایک کروڑ روپے تک جرمانہ یا قید و جرمانہ دونوں سزائیں دی جائیں گی، ترمیمی آرڈیننس کے تحت “ملزم” کی تعریف میں کمپنی، ادارہ، ٹرسٹ، سوسائٹی اور دیگر ادارے بھی شامل کر دیے گئے ہیں، کسی ادارے کے ذمہ دار افسران، ڈائریکٹرز، پارٹنرز اور بینیفشل اونرز بھی قانون کے دائرے میں آئیں گے۔

ڈسپیوٹ ریزولوشن” کی جگہ “اسکروٹنی” کا لفظ شامل کر دیا گیا۔

جج سے مراد اب ٹریبونل کا نامزد پریزائیڈنگ آفیسر ہوگا، پنجاب پراپرٹی ٹریبونل کا قیام ہر ضلع میں کیا جائے گا، ایڈیشنل سیشن جج کو ٹریبونل جج مقرر کیا جائے گا، جعلسازی، دھوکہ دہی، جبر یا طاقت کے ذریعے قبضہ بھی جرم تصور ہوگا۔

جرم میں معاونت، سہولت کاری یا سازش پر ایک سے تین سال قید کی سزا ہوگی، آرڈیننس کے مطابق قبضہ کی معاونت پر دس لاکھ روپے تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا،   مالک براہ راست متعلقہ ٹریبونل میں شکایت دائر کر سکے گا۔

شکایت میں ملکیت کا ثبوت، جائیداد کی تفصیل اور ملزم کی معلومات دینا لازمی ہوگا، شکایت موصول ہونے کے تین دن کے اندر معاملہ اسکروٹنی کمیٹی کو بھیجا جائے گا،  اسکروٹنی کمیٹی تیس دن میں رپورٹ ٹریبونل کو پیش کرنے کی پابند ہوگی۔

ٹریبونل کو عبوری احکامات جاری کرنے کا اختیار دیا گیا،  ٹریبونل جائیداد سیل کرنے یا ضمانت لینے کا حکم دے سکے گا، کیس کے دوران جائیداد کے قبضے کو ریگولیٹ کرنے کا اختیار ٹریبونل کو حاصل ہوگا،  ٹریبونل کو جائیداد کی ملکیت کا فیصلہ کرنے کا خصوصی اختیار دیا گیا۔

جھوٹی یا بدنیتی پر مبنی شکایت دینے والے  کو ایک سے پانچ سال قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا، ٹریبونل مقدمات کا فیصلہ تیس دن کے اندر کرنے کا پابند ہوگا، مقدمات کی روزانہ بنیاد پر سماعت ہوگی، سات دن سے زائد التوا نہیں دیا جائے گا، ٹریبونل غیر قانونی قبضے پر جائیداد کی مالیت کے برابر کم از کم ہرجانہ مقرر کر سکے گا۔

ناجائز منافع یا تعمیرات کا فائدہ بھی قانونی مالک کو دلایا جا سکے گا، ہرجانہ اور اخراجات لینڈ ریونیو بقایا جات کے طور پر وصول کیے جائیں گے، ٹریبونل کو ملزم کی گرفتاری کا اختیار حاصل ہوگا، گرفتاری کے بعد ضمانت کا اختیار صرف لاہور ہائی کورٹ کو ہوگا۔

زیر التوا مقدمات ٹریبونل کو منتقل کیے جا سکیں گے، ٹریبونل کو مقدمہ اسی مرحلے سے آگے بڑھانے کا اختیار ہوگا جہاں سے منتقل ہوا، فیصلہ سناتے وقت ٹریبونل باقاعدہ ڈگری جاری کرے گا۔

 کارروائی مکمل ہونے پر قانونی مالک کو فوری قبضہ دلانے کا حکم دیا جائے گا، پولیس اور دیگر سرکاری ادارے قبضہ واگزاری میں معاونت کے پابند ہوں گے، ٹریبونل کے حتمی فیصلے کے خلاف تیس دن میں لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جا سکے گی۔

 عبوری یا درمیانی حکم کے خلاف اپیل یا نظرثانی کی اجازت نہیں ہوگی، شکایت دائر ہونے کے بعد جائیداد کی خرید و فروخت یا منتقلی کالعدم تصور ہوگی، مقدمہ زیر سماعت ہونے کے دوران کسی بھی قسم کی الاٹمنٹ، گفٹ یا لیز پر پابندی ہوگی۔

نیک نیتی سے کام کرنے والے سرکاری افسران کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا، بعض سابقہ دفعات کو ختم کر کے قانون کو موثر اور جامع بنایا گیا، ترامیم کا مقصد غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف سخت کارروائی اور اصل مالکان کو فوری ریلیف فراہم کرنا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ملازمین کی تنخواہ میں کٹوتی غیر قانونی قرار دے کر محکمہ خزانہ کی تشریح مسترد

Published

on


ملازمین کی تنخواہ میں کٹوتی غیر قانونی قرار دے کر محکمہ خزانہ کی تشریح مسترد کردی۔ڈیپوٹیشن پر تعینات سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق پیدا ہونے والے ابہام کو دور کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے وضاحتی حکم نامہ جاری کر دیا اور قرار دیا ہے کہ محکمہ خزانہ نے 20 اگست 2025 کے آفس میمورنڈم میں عدالتی فیصلے کی غلط تشریح کی۔

عدالت نے واضح کیا کہ سابقہ فیصلہ مستقل طور پر نئی ملازمت اختیار کرنے والوں کے لیے تھا، ڈیپوٹیشن پر آنے والے ملازمین اس کے دائرہ کار میں شامل نہیں۔

رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ ڈیپوٹیشن ایک عارضی تبادلہ ہوتا ہے، اسے مستقل ملازمت کی تبدیلی تصور نہیں کیا جا سکتا۔

ڈیپوٹیشن پر آنے والا ملازم اپنے اصل ادارے کا ہی حصہ رہتا ہے، اس لیے اس کی تنخواہ میں کٹوتی کرنا یا اسے نئی بھرتی تصور کرکے ابتدائی اسکیل پر فکس کرنا غیر قانونی اور عدالتی منشا کے خلاف ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں عتیق الرحمان کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ فیصلہ ان ملازمین کے لیے تھا جنہوں نے مستقل طور پر سابقہ ملازمت ختم کر کے نئی سرکاری ملازمت اختیار کی۔

عتیق الرحمان نے اٹامک انرجی کی ملازمت چھوڑ کر وزارتِ تعلیم میں شمولیت اختیار کی تھی اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ چونکہ اس کی سابقہ تنخواہ زیادہ تھی، اس لیے نئی ملازمت میں بھی اسی تنخواہ کا تحفظ دیا جائے۔

سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں قرار دیا تھا کہ مستقل طور پر نوکری بدلنے والے ملازمین سابقہ تنخواہ کے تحفظ کے حقدار نہیں ہوتے۔تاہم عدالت نے واضح کیا کہ اس فیصلے کا اطلاق ڈیپوٹیشن پر آنے والے ملازمین پر نہیں ہوتا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی عدالت کے روبرو اعتراف کیا کہ سابقہ فیصلے کا اطلاق ڈیپوٹیشن کیسز پر نہیں کیا جا سکتا۔

موجودہ کیس میں درخواست گزار ضیاء الرشید عباسی کو حکومت نے ڈیپوٹیشن پر ایوانِ صدر تعینات کیا تھا، تاہم محکمہ خزانہ نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کا سہارا لیتے ہوئے ان کی تنخواہ کم کر کے ابتدائی مرحلے پر مقرر کر دی تھی۔

عدالت نے اس اقدام کو عدالتی فیصلے کی غلط تشریح قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ڈیپوٹیشن ملازمین کی تنخواہوں میں اس بنیاد پر کٹوتی نہیں کی جا سکتی۔





Source link

Continue Reading

Trending