Connect with us

Today News

آڈیو لیک کیس میں علی امین گنڈاپور پر فردِ جرم عائد

Published

on


ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کے خلاف آڈیو لیک کیس کی سماعت ہوئی۔ علی امین گنڈاپور ضلعی کچہری میں پیش ہوئے اور سرنڈر کیا۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نصر من اللہ بلوچ نے کیس کی سماعت کی۔ ملزم علی امین گنڈاپور اپنے وکیل راجہ ظہور الحسن کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ شریک ملزم اسد فاروق خان بھی عدالت میں حاضر ہوئے۔

عدالت نے آڈیو لیک کیس میں علی امین گنڈاپور اور اسد فاروق خان پر فردِ جرم عائد کر دی۔ عدالت نے علی امین گنڈاپور کے وارنٹِ گرفتاری معطل کرتے ہوئے ان کے خلاف اشتہاری کی کارروائی بھی ختم کر دی۔

سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ آپ تو عدالت پیش ہی نہیں ہوتے رہے، جس پر علی امین گنڈاپور نے مؤقف اختیار کیا کہ سیکیورٹی صورتحال، کرفیو اور راستوں کی بندش کے باعث پیش نہیں ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کال پر صرف لائسنس کے بارے میں پوچھ رہے تھے اور چھاپوں کے دوران ان کے موبائل بھی لے لیے گئے۔

جج نصر من اللہ بلوچ نے ریمارکس دیے کہ صرف پراسیکوشن کے کہنے پر سزا نہیں ہو سکتی اور کیس طویل عرصے سے زیرِ سماعت ہے۔

وکیلِ صفائی نے وارنٹ منسوخ کرنے کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے آئندہ احتیاط اور حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسی صورتحال میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دی جا سکتی ہے۔

عدالت نے کیس کی سماعت 6 اپریل تک ملتوی کر دی۔

سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے اندرونی معاملات اچھے ہوتے تو بانی چیئرمین پی ٹی آئی جیل سے باہر ہوتے،قانون و انصاف نہیں ہے ملک کا نظام ٹھیک نہیں ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں بھی اس چیز کا گناہ گار ہوں کہ کیا وجہ ہے کہ اتنی سپورٹ اور شہرت کے باوجود ناکام ہو رہے ہیں بار بار، یا تو ہمارے نیتوں میں فرق ہے یا پھر آپس کے اختلاف ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے کاموں میں لگے ہوئے ہیں جو مقصد سے ہٹ کر ہیں، ہم بے وقوفی پر لگے ہوئے نادانی میں لگے ہوئے ہیں استعمال ہورہے ہیں جو بھی وجہ ہے، نتائج جو بھی وجہ اس کا نتیجہ کیا نکل رہا ہے وہ دیکھنا چاہیے۔

علی امین نے کہا کہ ہمارا ہر کسی کے لیے احترام ہے، جب میرے لیڈر پرسخت  وقت ہوگا اسے تکلیف ہوگی، اس کے لئے میں اگر غصہ میں بات کرتا ہوں تو لوگوں کو برداشت کرنا چاہیے، بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی رہائی کے لئے کتنی پریشر سے کمپین شروع کی ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ہم آج ادھر کھڑے ہوئے ہیں ہمیں ہوش ہے ناخن لینے چاہیے، میں جو بھی کر رہا ہوں بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے لئے کر رہا ہوں، ہماری غلطیاں تو ہیں، بانی پی ٹی آئی عمران خان معالج کی رسائی مانگ رہا ہے وہ ہم نہیں کر پا رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پریشر باتوں سے نہیں رویہ سے بنتا ہے، آپ کی طاقت سے بنتا ہے آپ کیا کر سکتے ہیں، ڈائیلاگ ٹک ٹاک بنانے سے فرق پڑتا تو آج یہ حال نہ ہوتا، خان صاحب کی رہائی دور کی بات آج معالج بھی نہیں مل رہا، میں پہلے بھی خاموش نہیں تھا میں وزیر اعلیٰ تھا۔

سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اس وقت ایک ورکر ہوں نہ سیاسی کمیٹی کا حصہ ہوں نہ ہی کوئی عہدہ ہے، میں اپنے حلقہ میں تھا پاکستان کی سب سے بڑی ریلیاں کر رہا تھا،  چیلنج کرتا ہوں میری ریلی سب سے بڑی نہ ہوئی تو کہیں میں خاموش تھا۔

انہوں نے کہا کہ کال دی گئی میں سب سے پہلے آیا، کیمرے لگے ہوئے تھے، سب سے زیادہ ایکٹویٹی بھی میں نے کی تھی، یہاں آیا ہوں پانچ دنوں میں بارہ گھنٹے نہیں سویا، پھر حکم ہوا کہ چلے جاؤ میں کیا کرتا، کوئی وجہ ہے تو ہمارا پریشر کم ہوا اور بانی کو مشکلات ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پریشر بناؤ یہ کہنا گناہ ہے تو میں کرونگا، میں جگاونگا ان لوگوں کو مسئلے حل نہیں ہورہے ہیں، کوشش تو کرو یہ نہیں ہوسکتا کہ ٹی وی پروگرام میں بیٹھ جاؤ، آپ کے عمل سے سارا کچھ ہوتا ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

شراب کے قانون میں ترمیم کیلیے بل پیش، غیر مسلموں پر بھی پابندی کا مطالبہ

Published

on



جمعیت علما اسلام کی رکن نے ملک بھر میں شراب پر پابندی سے متعلق ترمیمی بل قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروادیا۔

تفصیلات کے مطابق جے یو آئی کی رکن اسمبلی نعیمہ کشور نے شراب سے متعلق آرٹیکل 37 میں ترمیم جمع کرادی۔

مجوزہ ترمیم میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 37 شق ایچ میں غیر مسلم کا لفظ ختم کیا جائے۔

اگر یہ ترمیم منظور ہوگئی تو شراب کے حوالے سے غیر مسلموں کو دیا گیا استثنیٰ ختم ہوجائے گا اور پھر مکمل پابندی ہوگی۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر کا ہاکی کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کیلیے بڑا اقدام

Published

on



پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین وانی کی طرف سے پاکستان میں ہاکی کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے بڑا اقدام اٹھایا گیا۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے نومنتخب صدر محی الدین احمد وانی سے طاہر زمان کی قیادت میں انتظامی ٹیم کے ایک وفد نے ملاقات کی۔حالیہ مختلف ممالک کے دوروں سمیت ٹیم کی کارکردگی، درپیش چیلنجز اور بعض انتظامی امور سے آگاہ کیا۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے نومنتخب صدر محی الدین احمد وانی سے کے دوران وفد نے صدر پی ایچ ایف کو قومی ہاکی ٹیم کے حالیہ دوروں جن میں ارجنٹینا، آسٹریلیا اور بنگلہ دیش شامل ہیں،اس حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

بریفنگ میں ٹیم کی کارکردگی، درپیش چیلنجز اور بعض انتظامی امور میں کوتاہیوں پر روشنی ڈالی گئی۔ اس عمل سے مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے اہم نکات اور نئی سمت متعین کرنے میں مدد ملی۔

صدر پی ایچ ایف نے ٹیم کو ہدایت کی کہ وہ قاہرہ میں ہونے والے ورلڈ کپ کوالیفائر کے جاری دورے کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھے۔ تاہم وفد نے درخواست کی کہ انہیں مستقبل کے دوروں میں بہتری اور کھلاڑیوں کی پیشہ ورانہ تربیت و ترقی پر مشتمل ایک جامع رپورٹ تیار کرنے کی اجازت دی جائے۔

صدر محی الدین احمد وانی نے وفد کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں موجودہ دورے کے ساتھ جانے کے بجائے پاکستان ہاکی فیڈریشن کی رہنمائی کے لیے مفصل رپورٹ تیار کرنے کی اجازت دے دی۔

 ایڈہاک صدر محی الدین وانی نے ہاکی کے انتظامی اور کھیل سے متعلق امور الگ الگ کرنے کا فیصلہ کیا جس کے تحت  پاکستان ہاکی فیڈریشن کا دو اہم کمیٹیوں کے قیام کا اعلان 
کیا گیا۔

آٸندہ دو روز میں گورنینس مینجمنٹ اور پروفیشنل ڈویلپمنٹ کمیٹی تشکیل دی جائیں گی، نئی کمیٹیوں کے قیام سے قومی کھیل ہاکی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا،
گورننس مینجمنٹ کمیٹی پی ایچ ایف کے انتظامی امور کو بہتر کرے گی،کمیٹی میں ایچ آر، مالیاتی امور، ریسورس موبلائزیشن،کمیونیکیشن، رابطہ کاری کے ماہر شامل ہونگے۔

کمیٹی اسکولوں، کالجوں میں کھیلوں کے فروغ کے لیے رابطہ کاری بھی کرے گی، پروفیشنل ڈیولپمنٹ کمیٹی میں سابق اولمپینز، اسپورٹس کوچز، ٹرینرز ، اسپورٹس میڈیسن ایکسپرٹس شامل ہونگے۔



Source link

Continue Reading

Today News

کراچی؛ حکومت سندھ کا مزید نئی بسیں جلد متعارف کرانے کا فیصلہ

Published

on



حکومت سندھ نے کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کی بہتری کے لیے مزید نئی بسیں جلد متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت محکمہ ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ کا ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس کراچی میں ہوا، جس میں ریڈ لائن بی آر ٹی سمیت جاری منصوبوں، عوامی سہولت اور کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کی بہتری سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔

سی ای او ٹرانس کراچی نے اجلاس کو ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے پر جاری ترقیاتی کاموں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی، اجلاس کو ریڈ لائن بی آر ٹی میں اب تک کی پیش رفت، درپیش مسائل اور آئندہ کے اہداف سے متعلق بھی آگاہی دی گئی۔

سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ریڈ لائن بی آر ٹی پر کام کی رفتار مجموعی طور پر تسلی بخش ہے تاہم اسے مزید تیز کیا جائے، تمام متعلقہ ادارے روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ کوریڈور کی بروقت تکمیل حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے تاکہ عوام کو درپیش سفری مشکلات، ٹریفک جام اور روزمرہ کی پریشانیوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔

سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے ہدایت کہ کہ تعمیراتی کاموں کے دوران متبادل ٹریفک پلان پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں سے متعلق مؤثر آگاہی مہم کو مزید فعال بنایا جائے، تاکہ شہریوں کو بروقت معلومات فراہم ہوں اور  کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ نئی بسوں کے آغاز کے عمل کو تیز کیا جائے، ایسے روٹس کا انتخاب کیا جائے جہاں عوام کو سب سے زیادہ سفری مشکلات درپیش ہیں، بس سروس میں توسیع سے شہریوں کو محفوظ، سستی اور باوقار سفری سہولت میسر آئے گی۔

اس موقع پر سینئر وزیر نے سینیٹر تاج حیدر پل کے دوسرے حصے پر تعمیراتی کام جلد از جلد شروع کرنے کی ہدایت کی اور متعلقہ اداروں کو فوری اقدامات کی ہدایات جاری کیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کراچی کے عوام کو جدید اور مؤثر پبلک ٹرانسپورٹ نظام فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے،  بی آر ٹی منصوبوں کے ساتھ نئی بسوں کا آغاز شہری زندگی میں مثبت تبدیلی لائے گا۔



Source link

Continue Reading

Trending