Connect with us

Today News

سی ٹی ڈی کی کارروائی، خاتون خودکش حملہ آور رنگے ہاتھوں گرفتار

Published

on


محکمہ انسداد دہشتگردی خیبر پختونخواہ ڈیرہ ریجن نے مصدقہ  اطلاع پر کامیاب کارروائی، کرتے ہوئے دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنادیا، ڈیرہ اسماعیل خان کی بروقت کارروائی میں شیخ یوسف خیمہ بستی سے خاتون خودکش حملہ آور کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا۔

رپورٹ کے مطابق محکمہ انسداد دہشتگری ڈیرہ اسماعیل خان ریجن کو خفیہ اداروں کی جانب سے اطلاع موصول ہوئی کہ شیخ یوسف خیمہ بستی میں ایک جوان العمر خودکش حملہ آور خاتون موجود ہے۔

اطلاع پر سی ٹی ڈی سپیشل ویپنز اینڈ ٹیکٹکس ٹیمز (SWAT) نے  چھاپہ مار کر متذکرہ مقام پر ایک جوان العمر لڑکی کو پا کر پوچھ گچھ کرنے پر خاتون نے اپنا نام مسماۃ (ز) بتلایا اور کہا کہ وہ عرصہ دراز سے خارجی کمانڈر شاہ ولی عرف طارق کوچی کی تربیت میں رہی جو اب مر چکا  ہے۔

مبینہ خاتون خودکش حملہ آور نے مزید بتلایا کہ وہ کالعدم تنظیم کی رکن ہے اور اس نے حالیہ دنوں میں خودکش حملے کیلئے رضامندی ظاہر کی تھی جس کیلئے خودکش جیکٹ اور ٹارگٹ خارجی کمانڈر عاصم نے فراہم کرنا تھی۔

خاتون کے خیمے سے ایک عدد کمانڈو بیگ بھی ملا جس میں پستول بمعہ  کارتوس، پرفیوم جو بارود کی بو کو اپنی خوشبو میں جذب کرے، 2 موبائل فون جس میں کالعدم تنظیم سے رابطے وغیرہ تھے، پاور بینک اور دیگر سامان برآمد ہوا۔

ان انکشافات کے بعد مبینہ خاتون خودکش حملہ آور کو باضابطہ گرفتار کر کے مزید تفتیش کیلئے  منتقل کر دیا گیا ہے۔

انسپیکٹر جنرل اف پولیس ذوالفقار حمید نے سی ٹی ڈی ٹیم کی کامیاب اپریشن کو سراہتے ہوئے نقد انعام کا اعلان کر دیا۔

سی ٹی ڈی حکام نے  واضح کیا  کہ صوبہ بھر میں دہشتگردوں کے مذموم مقاصد کو خاک میں ملانے اور ہر قسم کی دہشتگردی روکنے کیلئے بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور ریاست مخالف عناصر کے زیروٹالرنس کی پالیسی پر من و عن عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر کا ہاکی کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کیلیے بڑا اقدام

Published

on



پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین وانی کی طرف سے پاکستان میں ہاکی کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے بڑا اقدام اٹھایا گیا۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے نومنتخب صدر محی الدین احمد وانی سے طاہر زمان کی قیادت میں انتظامی ٹیم کے ایک وفد نے ملاقات کی۔حالیہ مختلف ممالک کے دوروں سمیت ٹیم کی کارکردگی، درپیش چیلنجز اور بعض انتظامی امور سے آگاہ کیا۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے نومنتخب صدر محی الدین احمد وانی سے کے دوران وفد نے صدر پی ایچ ایف کو قومی ہاکی ٹیم کے حالیہ دوروں جن میں ارجنٹینا، آسٹریلیا اور بنگلہ دیش شامل ہیں،اس حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

بریفنگ میں ٹیم کی کارکردگی، درپیش چیلنجز اور بعض انتظامی امور میں کوتاہیوں پر روشنی ڈالی گئی۔ اس عمل سے مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے اہم نکات اور نئی سمت متعین کرنے میں مدد ملی۔

صدر پی ایچ ایف نے ٹیم کو ہدایت کی کہ وہ قاہرہ میں ہونے والے ورلڈ کپ کوالیفائر کے جاری دورے کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھے۔ تاہم وفد نے درخواست کی کہ انہیں مستقبل کے دوروں میں بہتری اور کھلاڑیوں کی پیشہ ورانہ تربیت و ترقی پر مشتمل ایک جامع رپورٹ تیار کرنے کی اجازت دی جائے۔

صدر محی الدین احمد وانی نے وفد کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں موجودہ دورے کے ساتھ جانے کے بجائے پاکستان ہاکی فیڈریشن کی رہنمائی کے لیے مفصل رپورٹ تیار کرنے کی اجازت دے دی۔

 ایڈہاک صدر محی الدین وانی نے ہاکی کے انتظامی اور کھیل سے متعلق امور الگ الگ کرنے کا فیصلہ کیا جس کے تحت  پاکستان ہاکی فیڈریشن کا دو اہم کمیٹیوں کے قیام کا اعلان 
کیا گیا۔

آٸندہ دو روز میں گورنینس مینجمنٹ اور پروفیشنل ڈویلپمنٹ کمیٹی تشکیل دی جائیں گی، نئی کمیٹیوں کے قیام سے قومی کھیل ہاکی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا،
گورننس مینجمنٹ کمیٹی پی ایچ ایف کے انتظامی امور کو بہتر کرے گی،کمیٹی میں ایچ آر، مالیاتی امور، ریسورس موبلائزیشن،کمیونیکیشن، رابطہ کاری کے ماہر شامل ہونگے۔

کمیٹی اسکولوں، کالجوں میں کھیلوں کے فروغ کے لیے رابطہ کاری بھی کرے گی، پروفیشنل ڈیولپمنٹ کمیٹی میں سابق اولمپینز، اسپورٹس کوچز، ٹرینرز ، اسپورٹس میڈیسن ایکسپرٹس شامل ہونگے۔



Source link

Continue Reading

Today News

کراچی؛ حکومت سندھ کا مزید نئی بسیں جلد متعارف کرانے کا فیصلہ

Published

on



حکومت سندھ نے کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کی بہتری کے لیے مزید نئی بسیں جلد متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت محکمہ ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ کا ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس کراچی میں ہوا، جس میں ریڈ لائن بی آر ٹی سمیت جاری منصوبوں، عوامی سہولت اور کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کی بہتری سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔

سی ای او ٹرانس کراچی نے اجلاس کو ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے پر جاری ترقیاتی کاموں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی، اجلاس کو ریڈ لائن بی آر ٹی میں اب تک کی پیش رفت، درپیش مسائل اور آئندہ کے اہداف سے متعلق بھی آگاہی دی گئی۔

سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ریڈ لائن بی آر ٹی پر کام کی رفتار مجموعی طور پر تسلی بخش ہے تاہم اسے مزید تیز کیا جائے، تمام متعلقہ ادارے روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ کوریڈور کی بروقت تکمیل حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے تاکہ عوام کو درپیش سفری مشکلات، ٹریفک جام اور روزمرہ کی پریشانیوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔

سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے ہدایت کہ کہ تعمیراتی کاموں کے دوران متبادل ٹریفک پلان پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں سے متعلق مؤثر آگاہی مہم کو مزید فعال بنایا جائے، تاکہ شہریوں کو بروقت معلومات فراہم ہوں اور  کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ نئی بسوں کے آغاز کے عمل کو تیز کیا جائے، ایسے روٹس کا انتخاب کیا جائے جہاں عوام کو سب سے زیادہ سفری مشکلات درپیش ہیں، بس سروس میں توسیع سے شہریوں کو محفوظ، سستی اور باوقار سفری سہولت میسر آئے گی۔

اس موقع پر سینئر وزیر نے سینیٹر تاج حیدر پل کے دوسرے حصے پر تعمیراتی کام جلد از جلد شروع کرنے کی ہدایت کی اور متعلقہ اداروں کو فوری اقدامات کی ہدایات جاری کیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کراچی کے عوام کو جدید اور مؤثر پبلک ٹرانسپورٹ نظام فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے،  بی آر ٹی منصوبوں کے ساتھ نئی بسوں کا آغاز شہری زندگی میں مثبت تبدیلی لائے گا۔



Source link

Continue Reading

Today News

سندھ اسمبلی میں صوبے کی تقسیم یا کراچی علیحدہ کیخلاف قرارداد منظور، ایم کیو ایم کی مخالفت

Published

on



وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے صوبے کی تقسیم کے خلاف پیش کی گئی قرارداد کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا جبکہ ایم کیو ایم پاکستان نے اس کی مخالفت کی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ اسمبلی میں ہفتے کے روز اسپیکر اویس قادر شاہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وزیر اعلی ٰسندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے کی تقسیم کیخلاف قرار داد پیش کی جس کو ایوان نے کثرت رائے سے منظور کرلیا، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے اراکین نے بھی اس کی حمایت کی۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کراچی سندھ کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے اور رہے گا، سندھ کی تقسیم یا کراچی کو علیحدہ صوبہ بنانے کی کوئی بھی کوشش تاریخ، آئین اور جمہوری اقدار کے منافی سمجھی جائے گی ۔ایسی کوئی بھی کوشش قومی یکجہتی اور وفاقی ڈھانچے کیلئے خطرہ ہے۔

 قرارداد میں ایوان کی جانب سے سندھ کی تقسیم یا کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی کسی بھی سازش کی دوٹوک مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ کراچی سندھ کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے اور رہے گا۔

قرارداد پیش کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ کہا کہ جو اس قرارداد کی مخالفت کرے گا اسے سندھ کا مخالف سمجھا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے قرارداد پیش کرتے ہوئے اپنی تقریر میں کہا کہ کچھ جگہوں پرایسے اجلاس ہوئے جہاں بات ہوئی کہ سندھ کو توڑ دیا جائے اور کراچی کو الگ کردیا جائے، میں اس کی پرزور مذمت کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان صوبہ سندھ نے بنایا تھا۔ پاکستان سے محبت کرنے والا ہر شخص اس قرارداد کی تائید کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس قرارداد کی جو بھی مخالفت کرے گا ایسا سمجھا جائے گا کہ وہ سندھ کو توڑنے کی بات کر رہاہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ میری قرارداد میں کسی شخص یا پارٹی کا نام نہیں ہے، پاکستان کی قرارداد اسی سندھ اسمبلی نے پاکستان بننے سے پہلے اور بعد میں پاس کی تھی۔ محترمہ کو جب شہید کردیا گیا تھا تو اس وقت بھی صدر زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا تھا۔ مجھے پوری امید ہے کہ اس قرارداد کی حمایت دونوں طرف بیٹھے لوگ کریں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے سندھ اسمبلی میں پیش کردہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ سندھ محض انتظامی اکائی نہیں بلکہ دنیا کی قدیم ترین زندہ تہذیبوں میں سے ایک ہے، موہن جو دڑو کی سرزمین، وادی سندھ تہذیب کا گہوارہ ہے، سندھ شاہ عبداللطیف بھٹائی، سچل سرمست، عبداللہ شاہ غازی اور لعل شہباز قلندر کی دھرتی ہے، سندھ کی شناخت، زبان اور ثقافتی تسلسل جدید سیاسی سرحدوں سے قبل کا ورثہ ہے،تاریخی یلغاروں، سلطنتوں اور نوآبادیاتی ادوار کے باوجود سندھ کی وحدت برقرار رہی۔

قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ تاریخ میں کئی حملہ آور آئے اور چلے گئے مگر سندھ متحد اور ناقابل تقسیم رہا، کراچی تاریخی طور پر کولاچی کے نام سے معروف تھا، یہ سندھ کی سرزمین سے ابھرنے والا شہر ہے، کراچی سندھ کی بندرگاہ، تجارتی مرکز اور دنیا سے رابطے کا دروازہ ہے، قیام پاکستان کے بعد 1947 میں پہلا دارالحکومت بننے کے باوجود کراچی جغرافیائی، تاریخی اور جذباتی طور پر سندھ سے جدا نہیں ہوا۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ 1936 میں طویل آئینی و جمہوری جدوجہد کے بعد سندھ کی بمبئی پریزیڈنسی سے علیحدگی تاریخی سنگ میل ہے۔

قرارداد کے مطابق سندھ کی سیاسی شناخت کی بحالی عوام کی قربانیوں اور شعور کا نتیجہ ہے۔ وزیر اعلیٰ کی قرارداد میں 3 مارچ 1943 کو سندھ اسمبلی کی جانب سے منظور کردہ قرارداد پاکستان کا تاریخی حوالہ بھی دیا گیا اس میں یاد دلایا گیا ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کیلئے علیحدہ وطن کے مطالبے کی توثیق میں سندھ کا کلیدی کردار تھا اورسندھ اسمبلی پاکستان کے قیام میں بنیادی کردار ادا کرنے والی اولین صوبائی اسمبلی تھی۔جس اسمبلی نے پاکستان کے قیام کی حمایت کی وہ اپنی تاریخی سرزمین کی تقسیم کی اجازت نہیں دے سکتی۔

 قرارداد میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ 1955 میں ون یونٹ اسکیم کی مخالفت سندھ کے عوام کی مزاحمت تھی، 1970میں سندھ کی الگ حیثیت کی بحالی عوام کے عزم کی گواہی تھی۔

قرارداد کے مطابق1973 کے آئین میں وفاقی ڈھانچے کی توثیق کی گئی ہے، آرٹیکل 239 کے تحت دو تہائی اکثریت کے بغیر صوبائی حدود میں تبدیلی ناممکن ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ سندھ کو پاکستان فیڈریشن میں تاریخی اور جداگانہ اکائی کے طور پر شامل کیا گیا۔ سندھ قرارداد پاکستان منظور کرنے والا پہلا صوبہ ہے، کراچی سے کیٹی بندر، کشمور سے کارونجھر تک عوام کی مشترکہ کاوشوں کا اعتراف ہے ۔

قرارداد کے مطابق کراچی پاکستان کی معاشی شہ رگ اور اتحاد کی علامت ہے، سندھ کی تقسیم یا کراچی کو علیحدہ صوبہ بنانے کی کوئی بھی کوشش تاریخ، آئین اور جمہوری اقدار کے منافی ہے۔

ایسی کوئی بھی کوشش قومی یکجہتی اور وفاقی ڈھانچے کیلئے خطرہ ہے، ایوان کی جانب سے سندھ کی تقسیم یا کراچی کو علیحدہ کرنے کی مذمت و مخالفت کرتا ہے۔



Source link

Continue Reading

Trending