Today News
ملازمین کی تنخواہ میں کٹوتی غیر قانونی قرار دے کر محکمہ خزانہ کی تشریح مسترد
ملازمین کی تنخواہ میں کٹوتی غیر قانونی قرار دے کر محکمہ خزانہ کی تشریح مسترد کردی۔ڈیپوٹیشن پر تعینات سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق پیدا ہونے والے ابہام کو دور کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے وضاحتی حکم نامہ جاری کر دیا اور قرار دیا ہے کہ محکمہ خزانہ نے 20 اگست 2025 کے آفس میمورنڈم میں عدالتی فیصلے کی غلط تشریح کی۔
عدالت نے واضح کیا کہ سابقہ فیصلہ مستقل طور پر نئی ملازمت اختیار کرنے والوں کے لیے تھا، ڈیپوٹیشن پر آنے والے ملازمین اس کے دائرہ کار میں شامل نہیں۔
رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ ڈیپوٹیشن ایک عارضی تبادلہ ہوتا ہے، اسے مستقل ملازمت کی تبدیلی تصور نہیں کیا جا سکتا۔
ڈیپوٹیشن پر آنے والا ملازم اپنے اصل ادارے کا ہی حصہ رہتا ہے، اس لیے اس کی تنخواہ میں کٹوتی کرنا یا اسے نئی بھرتی تصور کرکے ابتدائی اسکیل پر فکس کرنا غیر قانونی اور عدالتی منشا کے خلاف ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں عتیق الرحمان کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ فیصلہ ان ملازمین کے لیے تھا جنہوں نے مستقل طور پر سابقہ ملازمت ختم کر کے نئی سرکاری ملازمت اختیار کی۔
عتیق الرحمان نے اٹامک انرجی کی ملازمت چھوڑ کر وزارتِ تعلیم میں شمولیت اختیار کی تھی اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ چونکہ اس کی سابقہ تنخواہ زیادہ تھی، اس لیے نئی ملازمت میں بھی اسی تنخواہ کا تحفظ دیا جائے۔
سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں قرار دیا تھا کہ مستقل طور پر نوکری بدلنے والے ملازمین سابقہ تنخواہ کے تحفظ کے حقدار نہیں ہوتے۔تاہم عدالت نے واضح کیا کہ اس فیصلے کا اطلاق ڈیپوٹیشن پر آنے والے ملازمین پر نہیں ہوتا۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی عدالت کے روبرو اعتراف کیا کہ سابقہ فیصلے کا اطلاق ڈیپوٹیشن کیسز پر نہیں کیا جا سکتا۔
موجودہ کیس میں درخواست گزار ضیاء الرشید عباسی کو حکومت نے ڈیپوٹیشن پر ایوانِ صدر تعینات کیا تھا، تاہم محکمہ خزانہ نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کا سہارا لیتے ہوئے ان کی تنخواہ کم کر کے ابتدائی مرحلے پر مقرر کر دی تھی۔
عدالت نے اس اقدام کو عدالتی فیصلے کی غلط تشریح قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ڈیپوٹیشن ملازمین کی تنخواہوں میں اس بنیاد پر کٹوتی نہیں کی جا سکتی۔
Today News
تاریخی موقع؛ 47 سال بعد رجنی کانت اور کمل ہاسن پردۂ اسکرین پر ایک ساتھ جلوہ گر
مداحوں کا طویل انتطار ختم ہوا۔ بھارتی فلم انڈسٹری کے دو سپر اسٹارز لیجنڈری رجنی کانت اور کمل ہاسن ایک ہی فلم میں اداکاری کے جوہر دکھائیں گے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ تاریخی فلم معروف پروڈکشن ہاؤس ریڈ جائنٹ موویز بنانے جا رہی ہے اور ہدایت کار نیلسن دلیپ کمار ہیں جو اس وقت رجنی کانت کے ساتھ جیلر 2 پر بھی کام کر رہے ہیں۔
اس فلم کا نام اب تک فائنل نہیں ہوا ہے تاہم اسے ایک عارضی عنوان دونوں سپر اسٹارز کے ناموں کے پہلے پہلے حروف کو ملا کر KHxRK دیا گیا ہے۔
ایک اور پیغام میں پروڈکشن ٹیم نے کہا کہ تاریخ شاذ و نادر ہی خود کو دہراتی ہے لیکن جب ایسا ہوتا ہے تو یہ نسلوں کے لیے ایک یادگار جشن بن جاتا ہے۔
یاد رہے کہ کمل ہاسن اور رجنی کانت اپنے کیریئر کے ابتدائی دور میں متعدد یادگار فلموں میں ایک ساتھ کام کر چکے ہیں۔ ان فلموں کو آج بھی تامل سنیما کے سنہری دور کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
فلم کی موسیقی معروف موسیقار انیرودھ روی چندر ترتیب دیں گے۔ فلم کی شوٹنگ، کہانی اور ریلیز کی تاریخ کے حوالے معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
Today News
ممنوعہ مواد تک رسائی کیلئے امریکا کا نئے پورٹل پر کام جاری
امریکا ایک ایسا آن لائن پورٹل تیار کر رہا ہے جو صارفین کو ممنوعہ کانٹینٹ تک رسائی فراہم کرے گا۔ اس پورٹل پر ممکنہ طور پر نفرت انگیز اور دہشتگردوں کے پروپیگنڈے سے متعلقہ ویب سائٹس شامل ہو سکتی ہیں۔
Freedom.gov نامی یہ سائٹ ایک پورٹل ہوگا جو یورپ سمیت ان تمام جگہوں پر کھولا جا سکے گا جہاں پر ریگولیٹرز نے کچھ مخصوص ویب سائٹس پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
رائٹرز کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اس پورٹل کو آزادی اظہار رائے کو لوٹانے اور سینسرشپ سے نمٹنے کے ایک اہم طریقے کے طور پر دیکھتا ہے۔
رپورٹ کےمطابق Freedom.gov لوگوں کو ایسے براؤز کرنے کی سہولت دے گا جیسے کہ وہ امریکا میں ہیں اور ان کا ڈیٹا بھی ٹریک نہیں کیا جا سکے گا۔
اس ویب سائٹ کا ایک ورژن لائیو کردیا گیا ہے جس پر ایک بینر آویزاں ہے اور اس پر لکھا ہے ’معلومات طاقت ہے۔ اپنا آزادی اظہار رائے حق واپس لیں۔ تیار ہوجائیں۔‘
Source link
Today News
امریکی فوج کی بحرالکاہل میں ایک کشتی پر بمباری؛ 3 افراد ہلاک
امریکی فوج نے ایک بار پھر بحرالکاہل میں منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ایک مشتبہ کشتی کو نشانہ بنایا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی فوجی کے ترجمان نے بتایا کہ یہ کشتی بحرالکاہل کے ایک ایسے حصے میں سرگرم تھی جہاں منشیات کی غیر قانونی ترسیل کے واقعات میں حالیہ عرصے کے دوران اضافہ دیکھا گیا۔
فوجی حکام نے بتایا کہ نشانہ بننے والی کشتی منشیات اسمگلنگ کے نیٹ ورک سے منسلک تھی اور مبینہ طور پر اسے ایسی تنظیمیں استعمال کر رہی تھیں جنہیں امریکا نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس فوجی کارروائی کے دوران کشتی کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ امریکی حملے میں 3 افراد ہلاک ہوگئے جن کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔
امریکی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ ستمبر 2025 سے بحرالکاہل اور ملحقہ سمندری راستوں میں انسدادِ منشیات آپریشنز تیزی سے جاری ہیں اور اسی دوران ایک کشتی کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سدرن کمانڈ نے بھی تصدیق کی ہے کہ یہ کارروائی جوائنٹ ٹاسک فورس سدرن اسپیئر کی جانب سے کی گئی۔ جس کا مقصد منشیات کی بین الاقوامی ترسیل روکنا اور مسلح نیٹ ورکس کو کمزور کرنا ہے۔
یاد رہے کہ بحرالکاہل میں کی جانے والی ان کارروائیوں میں تقریباً 150 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ درجنوں اسمگلنگ کشتیاں تباہ کی جا چکی ہیں۔
امریکی فوج کا دعویٰ ہے کہ ان اقدامات سے نہ صرف منشیات کی ترسیل متاثر ہوئی ہے بلکہ اس غیر قانونی کاروبار سے وابستہ گروہوں کی مالی معاونت کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
تاہم انسانی حقوق کے بعض حلقوں کی جانب سے ان کارروائیوں میں جانی نقصان پر تشویش کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ امریکی فوجی کارروائیوں میں قانون اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔
-
Tech2 weeks ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech1 week ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Tech2 weeks ago
Apple iPhone 17e Release Date: Just Days Away, New Report Claims
-
Tech1 week ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Entertainment1 week ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Entertainment2 weeks ago
Pakistani Stars Land From Karachi To Lahore For Basant