Connect with us

Today News

سابق بھارتی کرکٹر شیکھر دھون نے اپنی گرل فرینڈ سے شادی کرلی

Published

on



سابق بھارتی کرکٹر شیکھر دھون نے اپنی گرل فرینڈ صوفی شائن سے دوسری شادی کرلی ہے جس کے بعد مداحوں کی جانب سے انہیں مبارکبادیں دی جا رہی ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شیکھر دھون نے ہفتے کے روز دہلی این سی آر میں ایک نجی تقریب کے دوران صوفی شائن کے ساتھ شادی کی۔ اس تقریب میں صرف قریبی اہلِ خانہ اور چند دوستوں نے شرکت کی۔

شادی کی خبر بھارتی اسپنر یوزویندر چہل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر شیئر کی۔ انہوں نے شادی کی چند تصاویر پوسٹ کرتے ہوئے مداحوں کو اس خوشخبری سے آگاہ کیا جس کے بعد سوشل میڈیا پر مبارکبادوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

 

 

 

 

View this post on Instagram

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

واضح رہے کہ جنوری میں شیکھر دھون نے اپنی گرل فرینڈ صوفی شائن سے منگنی کا باضابطہ اعلان کیا تھا۔

لنکڈ اِن پروفائل کے مطابق صوفی شائن کا تعلق آئرلینڈ سے ہے اور وہ ایک پروڈکٹ کنسلٹنٹ ہیں۔ وہ اس وقت امریکی ادارے ناردرن ٹرسٹ کارپوریشن میں سیکنڈ وائس پریذیڈنٹ اور پروڈکٹ کنسلٹنٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔

یاد رہے کہ شیکھر دھون اور ان کی سابق اہلیہ عائشہ مکھرجی کے درمیان اکتوبر 2023 میں باضابطہ علیحدگی ہوگئی تھی اور ان کی 11 سالہ ازدواجی زندگی کا اختتام ہوا تھا۔

 



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایپسٹین فائل : سوال فرد پر نہیں نظام پر ہے

Published

on


کچھ عرصہ قبل سے عالمی میڈیا پر ایک لفظ چھایا ہوا ہے ’’ایپسٹین فائل‘‘ یہ جیفری ایپسٹین نامی ایک مجرم کی کہانی، جو مبینہ طور پر دنیا کی طاقتور ترین شخصیات کو اپنے جال میں لپیٹے ہوئے تھا۔

تفصیل اِس اجمال کی بہت ہے، بہت کچھ سامنے آگیا ہے اور بہت کچھ سامنے آنا ابھی باقی ہے۔ 30 جنوری 2026 کو امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ 3.5 ملین صفحات، 2000 ویڈیوز اور تقریباً 180,000 تصاویر نے اس معاملے کو ایک نیا اور انتہائی خطرناک موڑ دے دیا ہے، لیکن اب تک اِس تمام معاملے کو ایک فرد کی خطا کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ محض ایک فرد کے قبیح جرائم کی روداد ہے؟ ہماری رائے میں ان دستاویزات نے سب سے بڑا انکشاف یہ کیا ہے کہ ایپسٹین جیسے شیطان کو پروان چڑھانے والا کوئی فرد نہیں، بلکہ ایک پورا نظام ہے۔

سوال اب فرد پر نہیں، بلکہ اس نظام پر ہے جس نے ترقی، آزادی اور مساوات کے دعوے کرتے ہوئے انسانیت کو شرمسارکیا۔

مغرب کی بلند و بالا اخلاقی عمارتیں جب زمیں بوس ہوتی ہیں تو ان کی دھول دور دور تک اڑتی ہے اور آج کل ’ ایپسٹین فائلز‘ کی صورت میں یہی گرد پوری دنیا کے ایوانوں میں بیٹھی دکھائی دے رہی ہے۔ مغرب نے ہمیشہ تین بڑے نعروں پر اپنی برتری کی بنیاد رکھی۔

آزادی، ترقی اور مساوات۔ لیکن ایپسٹین کیس نے ثابت کردیا ہے کہ یہ ستون محض ریت کی دیواریں تھیں۔

مغرب، خاص طور پر امریکا اور برطانیہ، نے صدیوں سے خود کو روشن خیالی کا علم بردار قرار دیا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ عقل و دانش کی روشنی میں انسانیت کو ایک بہتر مستقبل کی طرف لے جا رہے ہیں، مگر ایپسٹین فائل نے اس دعوے کی نہ صرف دھجیاں بکھیر دی ہیں، بلکہ ایک مرتبہ پھر یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ یہ روشن خیالی محض ایک ہے۔

یہ کیسا نظام ہے جہاں 1996 میں پہلی بار ایک نوجوان لڑکی نے ایف بی آئی کے سامنے جنسی زیادتی کا الزام لگایا، مگر اس کی آواز کو سننے والا کوئی نہ تھا؟

یہ کیسا نظام ہے جہاں 2008 میں ایک مجرم کو صرف 13 ماہ کی سزا ہوئی اور وہ بھی اس شرط پرکہ وہ دن میں 12 گھنٹے باہرگزار سکتا ہے؟ یہ کیسا نظام ہے جہاں 2019 میں اس مجرم کو جیل میں مردہ پایا گیا اور قتل یا خودکشی کے حالات آج تک ایک معمہ بنے ہوئے ہیں؟

یہ صرف بدقسمتی نہیں یہ نظام کا دیا ہوا تحفہ ہے۔ امریکی محکمہ انصاف، ایف بی آئی اور عدلیہ کا وہ عظیم الشان ڈھانچہ جس پر دنیا کو ناز تھا، ایک درجن سے زائد مرتبہ ناکام ہوا۔

اس ناکامی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک ہزار سے زائد متاثرین کو اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کو سہنا پڑا۔ آپ دیکھیں حالیہ دستاویزات میں بھی سیکڑوں ناموں کو خفیہ رکھا گیا ہے، کیوں؟

کانگریس کے دو اراکین تھامس میسی اور روکھنہ کو جب خود جا کر محکمہ انصاف کے دفاتر کا معائنہ کرنا پڑا تو پتہ چلا کہ کم ازکم چھ افراد کے نام جان بوجھ کر چھپائے گئے تھے۔ کیا یہ ہی انصاف ہے؟ اسے ہی شفافیت کہتے ہیں؟

اب ذرا مغرب کے ان ترقی یافتہ معاشروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں، جنھوں نے اپنے آپ کو انسانیت کا امام کہلوایا۔ ایڈلمین ٹرسٹ بیرومیٹر 2025 کے مطابق، صرف 30 فیصد امریکی شہری اپنے روشن مستقبل پر یقین رکھتے ہیں، جب  کہ کئی نسبتاً غیر ترقی یافتہ ممالک میں یہ تناسب 70 فیصد تک ہے۔

فرانس میں صرف 9 فیصد، جرمنی میں 14 فیصد اور برطانیہ میں 17 فیصد لوگوں کو اپنے مستقبل پر بھروسہ ہے۔کیا یہ وہی ممالک نہیں، جو دنیا کو جمہوریت، آزادی اور مساوات کا درس دیتے ہیں؟

اعداد و شمار مزید بھیانک حقائق پیش کرتے ہیں۔ امریکا اور برطانیہ میں شیر خوار بچوں کی اموات کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے جب  کہ ترقی پذیر ممالک میں یہ مسلسل گر رہی ہے۔

امریکا اور برطانیہ میں متوقع عمر میں کمی واقع ہوئی ہے۔ نیویارک اور واشنگٹن کے امیر ترین طبقے میں تو لوگ 100 سال بھی جی رہے ہیں، مگر سفید فام غریب طبقے میں مردوں کی متوقع عمر بہ مشکل 60 سال ہے۔

شراب، منشیات اور موٹاپے کی وبا نے اس تباہی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ امریکا میں 16 سے 24 سال کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد فوج میں بھرتی ہونے کے قابل نہیں ہے، کیونکہ وہ جسمانی طور پر صحت مند نہیں ہیں۔ یہ وہ قوم ہے جو دنیا پر فوجی تسلط کی خواہاں ہے۔

ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ایپسٹین کا یہ پورا نیٹ ورک اخلاقی اقدار کے مکمل فقدان کی عکاسی کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جن ملحدین نے اپنی زندگیوں کو اس قدر آلودہ کر لیا کہ ان کی اپنی تنہائیاں بے راہ روی سے پاک نہ رہ سکیں، وہ مذہب پر سوال اٹھانے کے حق دار کیسے ٹھہرے؟

رچرڈ ڈاکنز جیسے نام نہاد روشن خیال مفکرین نے برسوں سے مذہب کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مذہب انسان کو جکڑتا ہے، اس کی عقل کو پائمال کرتا ہے اور اسے عدم برداشت کا خوگر بنا دیتا ہے، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

’’ جدید الحاد کے سب سے بڑے وکیل ریچرڈ ڈاکنز سے جب پوچھا گیا کہ اگرکائنات میں کوئی ’’ اخلاقی مطلق‘‘ نہیں تو اچھے برے کی تمیزکیسے ہوگی؟ تو ان کا سرد جواب تھا کہ کائنات میں نہ کوئی خیر ہے نہ شر، بس ایک بے رحم بے حسی ہے۔

یہ اعتراف دراصل ایپسٹین جیسے درندوں کے لیے ایک فکری جواز فراہم کرتا ہے، اگر اخلاقیات محض ایک ’ انسانی ایجاد‘ ہیں، تو پھر اس نظام پر اعتراض کیسے کیا جا سکتا ہے جو طاقتور کو اپنی مرضی کی اخلاقیات ایجاد کرنے کی چھوٹ دیتا ہے؟ ‘‘

یہ کوئی اتفاق نہیں کہ دوستوفسکی نے کہا تھا ’’ اگر خدا نہیں ہے تو سب کچھ جائز ہے‘‘ ایپسٹین فائل اس جملے کی عملی تفسیر ہے۔ یہ وہ منطق ہے جس نے ہزاروں بچیوں کو ایک شیطان کے حوالے کردیا۔ یہ وہ فلسفہ ہے جس نے امریکی محکمہ انصاف کو بتایا کہ ’’ مسٹر ایپسٹین کے ساتھ پارٹی کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔‘‘

آج مغربی نظام عدل پر اعتماد کا بحران طاری ہے۔ بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے سینئر فیلو ڈیرل ویسٹ کہتے ہیں کہ ’’ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مزید تفتیش نہیں ہوگی، مزید فردِ جرم عائد نہیں کی جائے گی، لیکن برے رویے کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ لوگ اس طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہیں۔‘‘

یہ سوال صرف ایپسٹین تک محدود نہیں۔ یہ سوال پورے نظام سے ہے۔ یہ وہ نظام ہے جس نے 1996 سے 2019 تک آنکھیں بند رکھیں۔ یہ وہ نظام ہے جس نے ایک غیر قانونی معاہدے کے تحت مجرم کو بچایا۔

یہ وہ نظام ہے جس نے حالیہ دستاویزات میں بھی طاقتوروں کے نام چھپائے… اور… اور یہ تاریخ کا وہ بدترین نظام ہے جہاں ایپسٹین جیسے افراد کا وجود و نمو ممکن ہے، وہ نظام جس نے مجرموں کو پروان چڑھایا، ان کی حفاظت کی اور آج بھی ان کے نام چھپا کر انسانیت کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ طاقت ہی اصل سچ ہے۔ سوال فرد پر نہیں، نظام پر ہے اور یہ نظام پوری انسانیت کے لیے ننگِ عظیم ہے۔

یہ ہی وہ لمحہ ہے جب ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ہم اس نظام کو قبول کریں گے جہاں اخلاقیات کا کوئی مطلق نہیں، جہاں ’’ سب کچھ جائز‘‘ ہے، یا پھر ہم اس راستے پر واپس جائیں گے جہاں انسانیت کی فلاح کے لیے اخلاقی اقدارکا احترام ضروری ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

حوا کی بیٹیاں اور آٹھ مارچ ( حصہ اول )

Published

on


عورت کے حقوق کے تحفظ کے لیے اسلامی و غیر اسلامی قوانین موجود ہیں، باقاعدہ طور پر عورت کی مکمل آزادی یا مادر پدر آزادی کی راہیں ہموار تو کی گئی ہیں لیکن ذرا کم کم، غلاف چڑھا کر، چوری چھپے قانون بنانے والے اور اس کے محافظ اسے مکمل اور ہر طریقے سے بے حیائی اور عریانی کی راہ پر لگا کر مطمئن ہیں۔ 

اسے بینرز پر سجا کر، اشتہارات میں پیش کرکے اور نائٹ کلب میں نچا کر خوش ہوتے ہیں اور آزادی اور وہ بھی مغربی آزادی کے علم بردار بن کر ایک جیتا جاگتا نمونہ پیش کرتے ہیں۔

آج جو عورت کی ذلت و رسوائی اور اس کے حقوق کی روگردانی کی گئی ہے اور اسے سونے کا تاج اور اطلس کا جوڑا پہنا کر ایک ایسی دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے جہاں سے نکلنا اب اس کے لیے ممکن نہیں ہے، وہ بڑھتی ہوئی آزادی کی اسیر ہو چکی ہے۔

وہ پرتعیش دنیا اور تعیشات زندگی کی ہی طالب ہے، اگر صاحب ثروت ہے تو صبح و شام اس کے ہوٹل اور کلبوں میں ناچتے گاتے یا پھر ایسے پروگراموں کا حصہ بن کر ہی گزرتے ہیں، وہ نائٹ کلب سے سگریٹ پیتی، دھواں اڑاتی اپنے بوائے فرینڈ کی سنگت میں اپنے عالی شان گھر کے گیٹ پر اترتی ہے، اسے کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔

اس کی یہ حالت دیکھ کر والدین کو دکھ تو ضرور ہوتا ہے کہ انھوں نے ایسا تو نہیں سوچا تھا، ہاں آزادی ضرور دی تھی۔ اب سوائے صبر کے کچھ ہو نہیں سکتا۔

پھر بہت جلد اس آزادی کا انجام سامنے آ جاتا ہے، جب تازہ پھولوں کے طالبوں کی تعداد زیادہ بڑھ جاتی ہے، تب وہ راستہ بدل لیتی ہے، ایک انار سو بیمار۔

ان حالات میں رقیب رو سیاہوں کے ہاتھوں میں تلواریں، چاقو، پستول اور خنجر آ جاتے ہیں پھر انجام وہی جو ہمیشہ سے ہوتا ہے، قتل و غارت، کمرے میں تو کبھی کسی ویرانے میں لے جا کر اس سے اپنی محبت کی توہین کا بدلہ لے لیا جاتا ہے، یہ ہے آزادی کی قیمت۔

دوسری طرف وہ خواتین بھی ہیں جو متوسط یا غریب طبقے سے تعلق رکھتی ہیں لیکن ان کے پاس وہ زندگی نہیں ہے جو ڈراموں میں، فلموں اور اسٹیج پر دکھائی جاتی ہے لیکن نادان اور بھولی لڑکیاں اسے ہر قیمت پر حاصل کرنے کی تمنا کرتی ہیں، والدین، بھائیوں کے منع کرنے کے باوجود وہ گھروں سے ملازمت کے لیے نکلتی ہیں چونکہ ان کا مسئلہ گھر کی غربت مٹانا اور آسودہ حال زندگی کا حاصل ہے۔

ان کا تعلق ایسے گھرانوں سے ہے جہاں تعلیم اور شعور کی کمی ہے لہٰذا وہ بھی اپنی بیٹیوں کی سوچ اور ان کے خیالات کو سمجھ نہیں پاتے ہیں لہٰذا پہلے ملازمت کی اور پھر ڈراموں کی ہیروئن بننے کی آزادی انھیں گھر سے مل جاتی ہے یا وہ پھر زبردستی ہی حاصل کر لیتی ہیں جو کہ ان کے مستقبل اور والدین و بہن بھائیوں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔

اکثر ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے دولت پیسے کی چمک اس کے محافظوں کی آنکھوں پر پٹی باندھ دیتی ہے، ان مواقعوں پر این جی اوز اور عورت کے تحفظ کی بات کرنے والے کچھ کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں نہ وہ گھروں میں جا کر بھولا ہوا سبق یاد دلاتے ہیں اور نہ ہی اسلام کے زریں اصولوں سے آگاہ کرتے ہیں۔ 

ہاں اتنا ضرور کرتے ہیں قتل یا زیادتی کا شکار ہونے والی اور گھروں سے فرار ہونے والی لڑکی کا ساتھ دیتے ہیں، مقدمات کے ساتھ ساتھ احتجاج بھی کرتے ، روڈوں، سڑکوں اور پریس کلب آ کر نعرے بازی یا ریلی نکالتے ہیں، اب ایک طریقہ سالہا سال سے اور نکل آیا ہے، وہ ہے عورت مارچ۔

ہر سال 8 مارچ پوری دنیا میں عورت کے حقوق کے تحفظ کے لیے باقاعدہ دن منایا جاتا ہے، تقاریر اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتا ہے، میری مرضی کے حوالے سے خواتین عجیب و غریب باتیں کرتی ہیں اور خوب چیخ پکار کرتی ہیں، مرد کو مورد الزام ٹھہراتی ہیں، اسے گھر کا سربراہ ماننے سے انکار کرتی ہیں گویا اسلامی اور معاشرتی و سماجی رسم و رواج سے بالکل منکر نظر آتی ہیں، ان کے ساتھ انھی جیسے مرد بھی ان کے ہم خیال ہوتے ہیں۔

ان میں سے اکثریت آزادی کی چاہت یا عذاب الٰہی کو آواز دینے کے لیے قوم لوط کی طرز زندگی پر چلنے کے خواہاں اور اس کا پرچار کرنا چاہتے ہیں، کچھ لوگ ان غیر فطری، غیر اخلاقی اور غیر انسانی طریقوں کو اپنا کر فخر محسوس کرتے ہیں۔

ایسے لوگوں کے لیے قوانین کے مطابق کارروائی تو کی جاتی ہے لیکن بہت جلد یعنی دو چار گھنٹوں میں آزادی کا پروانہ دے کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ گویا انسان ہونا اور انسانیت کے عظیم مقصد کی نفی کرنا ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔

ان حالات میں ہر باشعور شخص یہ کہنے کا حق دار ہے کہ انسانوں اور جانوروں میں بالکل فرق نہیں ہے۔ اگر فرق ہے بھی یا پھر موازنہ کیا جائے تو جانور زیادہ بہتر، بااصول اور باحیا نظر آتے ہیں، کسی کا حصہ نہیں کھاتے، کسی کے حق پر ڈاکہ نہیں ڈالتے ہیں اپنی فیملی، اپنا خاندان اور عزت کے پہرے دار، باحیا اور غیور ہیں۔

اس کی مثال جنگل کا شیر ہے۔ حالات بد سے بدتر ہیں لیکن اس کے ساتھ ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ اس دور آزادی اور وہ بھی بے جا آزادی کے دور میں بے شمار مدارس، مکاتب اور اسکولوں میں جہاں دینی تعلیم، قرآنی علوم سے آشنا کیا جاتا ہے اور عورت کے تقدس اور عزت، شرم و حیا کے سبق کا اعادہ کیا جاتا ہے۔

(جاری ہے ۔)





Source link

Continue Reading

Today News

راجن پور پولیس کا کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن، مطلوب گینگز کے 13 ارکان نے ہتھیار ڈال دیے

Published

on



پنجاب کے ضلع راجن پور میں پولیس نے  کچے کے انتہائی مطلوب گینگز عمرانی، سکھانی، لونڈ، اندھڑ گینگ اور کچہ کراچی کے ڈاکوؤں کے ٹھکانوں پر ڈرون حملہ کیا جبکہ 13 ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال دیا۔

ترجمان پنجاب پولیس نے بتایا کہ پولیس آپریشن میں ہلاکت کے ڈر سے انتہائی مطلوب  گینگز  کے 13 مزید ڈاکوؤں نے سرنڈر کیا، ہتھیار ڈالنے والے ڈاکو اغوا برائے تاوان، قتل اور ڈکیتی سمیت متعدد مقدمات میں مطلوب تھے۔

ڈی پی او راجن پور محمد عمران نے کہا کہ پنجاب پولیس کے آپریشن کے نتیجے میں اب تک سرنڈر کرنے والے ڈاکوؤں کی تعداد 355 ہو گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ راجن پور پولیس  نے ڈاکوؤں کے 39 ٹھکانوں اور بنکرز کو تباہ کردیا۔



Source link

Continue Reading

Trending