Connect with us

Today News

کراچی میں پولیس اہلکاروں کا رشوت نہ دینے پر شہری پر بہیمانہ تشدد

Published

on



شہر قائد کے ڈسٹرکٹ سینٹرل میں لاقانونیت کی انتہا ہوگئی، شاہین فورس کے اہلکاروں نے بے گناہ شہری کو روکا اوررشوت نہ دینے پر تھانے لے جاکر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناکر اُسے ہاف فرائی کی دھمکیاں بھی دیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی کے عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے بنائی گئی شاہین فورس کے اہلکاروں نے غریب آباد پھاٹک کے قریب لگائے گئے ناکے پر شہری کو روک کر مبینہ طور پر رشوت طلب کی۔

شہری نے رشوت دینے سے انکار کیا تو اسے شریف آباد تھانے لے جاکر مبینہ طور پر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اسے مقابلے میں ہائی فرائی کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

شہری کی شکایت پر ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل نے متاثرہ شہری پر کیے جانے والے تشدد کی انکوائری ڈی ایس پی لیاقت آباد کو سونپ دی۔

 شہری اپنے اوپر کیے گئے تشدد کے باعث 2 روزے بھی نہیں رکھ سکا جبکہ پولیس کے ہاتھوں بلاجواز پکڑ کر تشدد کرنے کی اطلاع ملتے ہی شہری کے اہلخانہ ، اہل محلہ اور وکلا کی بڑی تعداد شریف آباد تھانے پہنچی۔

 شہری نے سی پی ایل سی سے ایم ایل لیٹر حاصل کر کے عباسی شہید اسپتال میں اپنا جسمانی معائنہ بھی کرایا ہے۔

اس حوالے سے متاثرہ شہری انور علی نے بتایا کہ وہ گلبرگ فیڈرل بی ایریا بلاک 4 کا رہائشی ہے اور مرغیوں کی فیڈ بنانے کے کارخانے کا مالک ہے، پہلے روزے بروز جمعرات کو وہ تروایح کے بعد ورزش کیلیے جم گیا اور وہاں سے الکرم کے قریب بریانی سینٹر سے گھروالوں کے لیے بریانی لیکر جا رہا تھا کہ شریف آباد کے علاقے میں ریلوے پھاٹک کے قریب سنسان مقام پر 2 موٹر سائیکلوں پر سوار 4 اہلکاروں نے اُسے روکا۔

انور علی کے مطابق بعد میں پتہ چلا کہ وہ شاہین فورس کے اہلکار تھے انھوں نے ناکہ لگایا ہوا تھا اور وہاں سے گزرنے والوں کو روک کر چیکنگ کر رہے تھے۔

شہری نے الزام عائد کیا ہے کہ جب میں وہاں پہنچا تو اہلکاروں نے مجھے روکا اور مجھے سے مبینہ طور پر 2000 روپے طلب کیے جبکہ میرے پاس 58 ہزار روپے نقد موجود تھے تاہم شہری نے پیسے دینے سے انکار کیا تو اس کے موٹر سائیکل کے دستاویزات طلب کیے جسے دیکھ کر اہلکاروں نے کہا کہ یہ چوری کی موٹر سائیکل ہے جس پر اس تھانے لیجایا گیا،

شہری انور علی نے بتایا کہ تھانے میں ڈیوٹی افسر آصف ، سنتری اور دیگر افراد نے مجھے ایک کمرے میں لے جا کر بلاجواز تشدد کا نشانہ بنایا جس کے باعث میں شدید خوفزدہ ہوگیا جبکہ کمرے میں دیگر 2 سے 3 افراد بھی پہلے سے موجود تھے اور انھیں خوفزدہ کرنے کے لیے مجھے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

انور علی نے بتایا کہ پولیس کے مبینہ تشدد سے اس کے دو روزے بھی چھوٹ گئے جبکہ تشدد کرنے والے ایک اہلکار نے کسی کو کال پر لیکر میری ویڈیو بھی بنائی اور یہ بات ایس ایچ او شریف آباد کو پتہ چلی تو انھوں نے اس اہلکار کے موبائل فون سے ویڈیو دیکھ کر اس پر غصہ بھی کیا۔

شہری نے بتایا کہ ایس ایچ او کی جانب سے تعاون کیا گیا لیکن دیگر پولیس اہلکاروں نے مجھے خوفزدہ کرنے کے لیے کہا کہ اس کے پاس سے اسلحہ بھی ملا ہے اور اسے مقابلے ہائی فرائی کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئی اس دوران ایسا محسوس ہوا کہ میرا دل پھٹ جائیگا اور میں اپنے آپ کو کوسنے لگا کہ انھیں 2000 دیکر جان چھڑا لیتا۔

پولیس گردی کا شکار شہری نے مزید بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے میرا آئی فون 14 پرو موبائل بھی توڑ دیا جبکہ میرے پکڑے جانے کی اطلاع پر اہلخانہ ، اہل محلہ اور وکلا کی بڑی تعداد تھانے پہنچ گئی جس کے بعد مجھے رہائی ملی۔

بعدازاں سی پی ایل سی کا ایم ایل لیٹر لیکر عباسی شہید اسپتال سے اپنا ایم ایل او بھی کرایا جبکہ میرے جسم پر بلاجواز تشدد کے نشانات واضح طور پر پائے گئے۔

شہری نے بتایا کہ اس حوالے سے ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل کے دفتر بھی گیا اور انھوں نے معلومات حاصل کرنے کے بعد ڈی ایس پی لیاقت آباد کو واقعے کی انکوائری دی ہے۔

شہری نے بتایا کہ اس کی گلبرگ موسیٰ کالونی میں بھی مرغیوں کی ویسٹیج کی فیکٹری قائم ہے جس کا میں مالک ہوں۔ شہری کا کہنا تھا کہ پولیس نے اسے اتنا خوفزدہ کیا تھا کہ اس کا ہارٹ فیل بھی ہوسکتا تھا۔

اس حوالے سے ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل ڈاکٹر عمران خان نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ شہری کی شکایت پر ڈی ایس پی لیاقت آباد کو انکوائری کا حکم دیدیا ہے جبکہ انکوائری افسر ڈی ایس پی وسیم احمد نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ متاثرہ شہری سے واقعے کی تفصیلات معلوم کرنے کے لیے دفتر بلوایا ہے جبکہ اس کی جانب سے جو الزامات عائد کیے جا رہے ہیں ان کی بھی غیرجانبدار تحقیقات کر کے رپورٹ مرتب کی جائیگی۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کیا غزہ میں فوج بھیجنی چاہیے ؟

Published

on


غزہ میں امن کے لیے قائم بورڈ آف پیس کے دو سربراہی اجلاس ہو گئے ہیں ۔ پاکستان کے وزیر اعظم میا ں شہباز شریف نے دونوں اجلاس میں شرکت کی ہے۔ پہلے اجلاس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی شریک تھے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کو غزہ میں اپنی فوجیں بھیجنی چاہیے۔ انڈونیشیا، مراکش سمیت متعدد مسلم ممالک غزہ میں فوج بھیجنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک انڈونیشیا کو غزہ میں تعینات ہونے والی عالمی فورس کا ڈپٹی کمانڈر بھی بنا دیا گیا ہے۔ پاکستان نے ابھی تک غزہ میں فوج بھیجنے کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا۔

اس لیے جب بھی بورڈ آف پیس کا اجلا س ہو تا ہے، قیاس آرائیاں شروع ہوجاتی ہیں کہ کیا اس اجلاس میں پاکستان فوج بھیجنے کا اعلان کر دے گا۔ کچھ دوست پراپیگنڈا بھی شروع کر دیتے ہیں۔

امریکی دباؤ کی بھی بات کی جاتی ہے۔ میری رائے میں اب یہ بات نہیں ہے کہ ہم پر فوج بھیجنے کا کوئی دباؤ ہے۔ جب سارے مسلم ممالک فوج بھیجنے کے لیے تیار ہیں، وہ اعلان کر رہے ہیں تو دباؤ کیوں ہوگا۔

دباؤ تو تب ہوگا جب کوئی مسلم ملک اس پر تیار نہ ہو جب کہ پاکستان ہی واحد آپشن ہو، اس لیے پاکستان پر دباؤ ڈالا جائے۔ پاکستان کی فوج پر اسرائیل کو تو سخت اعتراض ہے اور وہ تو کبھی نہیں چاہے گا کہ پاکستان کی فوج اس بین الا قوامی فورس کا حصہ بنے، باقی اسلامی ممالک کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کا مفاد کیا ہے؟ دوسر اہم سوال یہ ہے کہ غزہ کے مسلمانوں کا مفاد کیا ہے؟ ہمیں ان دونوں مفاد کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا ہوگا۔

سب سے پہلے پاکستان کے مفادکی بات کریں، پاکستان کا مفاد اسلامی ممالک کے ساتھ چلنے میں ہے یا ان سے الگ اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے میں ہے۔

ہمیں فلسطین کے معاملے میں اسلامی ممالک کے ساتھ چلنا چاہیے، مشترکہ فیصلے کرنے چاہیے۔ اس سے پہلے بھی آٹھ اسلامی ممالک فلسطین پر اکٹھے پریس ریلز جاری کرتے ہیں۔

مشترکہ موقف میں طاقت ہے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں غزہ میں فوج بھیجنے اور مسئلہ فلسطین میں پاکستان کو اسلامی ممالک کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چلنا چاہیے ۔

کوئی تنہا پالیسی نہیں بنانی چاہیے۔ جب سب بڑے اسلامی ممالک بورڈ آف پیس میں شامل ہو رہے تھے تو پاکستان کو بلا جھجھک بورڈ آف پیس میں شامل ہونا چاہیے تھا۔

اس کا پاکستان کو فائدہ ہوا ہے۔ ہم سینٹر اسٹیج پر موجود ہیں۔ انکار کرنے کی صورت میں ہم الگ بیٹھے ہوتے اور ہماری آواز کی کوئی اہمیت نہ ہوتی۔

جب پاکستان کے دوست اسلامی ممالک کو غزہ میں فوج بھیجنے پر کوئی ا عتراض نہیں تو ہمیں بھی کوئی اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔ جب وہ وہاں موجود ہوںگے تو مل کر ہی فیصلے ہوںگے۔

ہم کیوں سمجھتے ہیں کہ صرف ہم ہی فلسطین اور غزہ کے مفاد کے چوکیدا رہیں۔ اور باقی اسلامی ممالک غزہ اور فلسطین کے دشمن ہیں۔ ہم کیوں سمجھتے ہیں کہ باقی اسلامی ممالک کی افواج غزہ اور فلسطینیوں کے خلاف کام کریں گی، وہ وہاں اسرائیلی عزئم کی تکمیل کریں گی۔

ایسا نہیں ہے، سب مل کر ایک میز پر موجود ہوںگے تو ایک دوسرے کی طاقت ہوںگے۔ مل کر دباؤ بھی ختم کریں گے۔ مل کر فلسطین کی بہتر خدمت ہو سکتی ہے۔ اکیلا پاکستان فلسطین کی کیا خدمت کر سکتا ہے۔

آج جب پاکستان کوئی فیصلہ نہیں کر رہا توہم دنیا میں پاکستان کا مقام بلند نہیں کر رہے۔ بلکہ یہ سمجھا جا رہاہے کہ ہم فیصلہ سازی میں کمزور ہیں۔ آج دوست اسلامی ممالک دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان ہمارے ساتھ قدم سے قدم ملا کر نہیں چل رہا۔

میں سمجھتا ہوں فلسطینی بھی پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ فیصلے کی اس گھڑی میں ہم کوئی درست فیصلہ نہیں کر رہے ہیں۔ ہم نہ توا سلامی دنیا کے ساتھ چل رہے ہیں اور نہ ہی فلسطینیوں کے ساتھ چل رہے ہیں۔

پاکستان کی فوج کئی شعبوں میں غزہ میں مدد کر سکتی ہے۔ میڈیکل کور کے ڈاکٹر جا سکتے ہیں۔ انجیئرنگ کو ر وہاں کی تعمیر میں مدد کر سکتی ہے۔ کمیونیکیشن کے شعبے میں پاک فوج مدد کر سکتی ہے۔ لیکن جانا تو چاہیے۔

مجھے سمجھ نہیں آتی کہ نہ جانے سے کیا فائدہ حاصل ہوگا؟ایک لمحہ کے لیے یہ سوچیں کہ غزہ میں تعینات کثیرالملکی فوج نے امن قائم کر دیا۔ غزہ کی تعمیر نو گئی۔ پھر سوچیں پاکستان کہاں کھڑ اہوگا۔

ہم یہی کہیں گے کہ ہم نے بہترین موقع کھو دیا۔ ہمیں اس فورس کا بھی حصہ ہونا چاہیے تھا۔جب فلسطینی سب مسلم ممالک کا شکریہ اد اکر رہے ہوںگے تو پاکستان کا نام نہیں ہوگا۔ یہی کہا جا ئے گا کہ پاکستان فیصلہ نہیں کر سکا۔ ہم خدشات کا شکار رہے۔

اگر فرض کر لیں کہ کچھ غلط ہو جاتا۔ تو ہم اکیلے تھوڑی ہوںگے۔ ایسے میں سب اسلامی ملک جو بھی فیصلہ کریں گے ، ہم بھی وہی فیصلہ کریں گے۔

ہم یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ باقی سب اسلامی ممالک تو فلسطینیوں کے خلاف فیصلہ کر لیں گے، صرف ہم نہیں کریں گے۔ ہمیں یہ یقین کرنا ہوگا کہ سب مسلمان ممالک فلسطین اور فلسطینیوں کے ساتھ اتنے ہی مخلص ہیں جتنے ہم ہیں۔

باقی اسلامی ممالک کو شک سے دیکھنے کی کوئی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اگر دیکھا جائے تو باقی ممالک نے فلسطین کے لیے ماضی میں پاکستان سے زیادہ عملی جدو جہد کی ہے۔ ہم ان کے کردار کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اس لیے کسی بھی مشکل میں مل کر ہی فیصلہ ہوگا۔ سولو فلائٹ میں کوئی فائدہ نہیں ، مل کر چلنے میں ہی فائدہ ہے۔

پاکستان محمود عباس کی فلسطین حکومت کو مانتا ہے۔ یہاں محمود عباس کی حکومت کا سفارتخانہ ہے۔ ہم نے کبھی حماس کا سفارتخانہ نہیں کھولا۔

ہمیں اپنی پالیسی جا ری رکھنی ہے۔ ہم واضح کر رہے ہیں کہ ہم حماس کو غیرمسلح کرنے کے عمل کا حصہ نہیں ہوں گے۔ اس لیے اب وقت فیصلے کا ہے، اب مزید تاخیر درست نہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

زرخیز موتی – ایکسپریس اردو

Published

on


مجھے اپنی فیلڈ کو سمجھنے کے لیے کم از کم دو سال لگے تھے۔ الیکٹرانکس میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن اس سے منسلک کوئی اور فیلڈ نہ تھی لہٰذا مجھے یہی لینا پڑا۔

مجبوری تھی پھر اس کو میں نے سمجھنا شروع کیا تو جا کر مجھے اس میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ پھر مجھے پتا چلا کہ میں نے اپنے آپ کو ہی کمتر سمجھا تھا میں تو بہت بہتر ہوں اور یہ بات مجھے فیلڈ میں اترنے سے پتا چلی ہے۔

جب تک ہم فیلڈ میں کسی کام کو لگن اور شوق سے نہیں کرتے تب تک ہمیں اس میں مزہ نہیں آتا ۔ کسی بھی اچھے سے اچھے کام کو بغیر دلچسپی اور بددلی سے کیا جائے تو وہ انسان کو کوئی خوشی نہیں دیتا۔ خوشی تب ہی حاصل ہوتی ہے جب کوئی بھی کام پورے شوق اور دل جمعی سے کیا جائے۔

’’کیا طالب علم اپنی پسند کی فیلڈ میں بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں؟‘‘

اس کی ایک مثال میری اپنی ایک کلاس فیلو تو نہیں، اسکول فیلو کی ہے اسے لٹریچر سے انتہا کی حد تک عشق تھا، اسکول میں وہ ایسی باتیں کرتی تھی کہ ہم کہتے تھے کہ بہن ذرا آسان زبان میں بات کرتاکہ دوسرے بھی آسانی سے سمجھ سکیں‘اتنی مشکل زبان میں بات کرو گی تو دوسروں کو خاک سمجھ آئے گی۔

بہرحال اس نے پہلی پوزیشن لی اور اس نے ڈگری لے کر گھر میں لا کر اپنے والدین کو پکڑائی اور کہا کہ یہ ڈگری حاصل کرنا آپ کا شوق تھا تو میں نے حاصل کر لی، اب میں وہ کروں گی جو میرا دل چاہتا تھا۔

لہٰذا اس نے وہ کام پروفیشنلی اختیار کیا، وہ کالج کے زمانے سے ہی بلاگز لکھتی تھی، پھر اس نے باہر کے میگزین کے لیے کام کرنا شروع کر دیا، وہی شوق جو وہ اسکول کے زمانے میں رکھتی تھی۔ اس کی زبان ایسی لٹرل تھی اور ایسا ہی وہ لکھتی تھی۔

’’کس یونیورسٹی سے پڑھا اس لڑکی نے؟‘‘ سوال پوچھا گیا تو جواب نے ششدر کر دیا۔ کراچی کی نمبر ون سرکاری انجینئرنگ یونیورسٹی۔

اسی کے سیکنڈ پوزیشن ہولڈر کی بات سنیں وہ بھی ہمارے اسکول کا ہی تھا (کراچی کا مایہ ناز اسکول جس کا نظام کئی اسکولوں میں رائج ہے) اسے سرکار کے محکمے میں نوکری ملی تھی، پھر اسے ایک انجینئرنگ کمپنی میں جاب ملی۔ 

اس نے فوراً سرکاری کنٹریکٹ کی جاب چھوڑ کر انجینئرنگ کمپنی میں نوکری اختیار کر لی۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک ٹاپر کو انجینئرنگ کی جاب ملی ہوگی، جی نہیں، اسے ٹیکنیکل سیلز میں جاب ملی ہے اور وہ کر رہا ہے۔

یہ تو حیران کن بات ہے کہ ہمارے یہاں کے ٹاپرز کو بھی اس طرح کی جابس کرنا پڑتی ہیں، لیکن ایسا کیوں ہے کہ بڑے سرکاری اداروں میں نااہلی، کرپشن کی باتیں سنتے ہیں، ایسے ذہین بچوں کے ساتھ ایسا سلوک سمجھ نہیں آتا۔

صرف یہی نہیں ایسے ایسے ذہین نوجوان کہ ان کے ٹیچرز ان سے گھبراتے ہیں۔ میں اپنے ایک سینئر کی بات بتاتا ہوں، وہ تین سال تک بے روزگار رہے، اب جا کر کہیں جاب کر رہے ہیں، وہ بھی ان کی اہلیت کے لائق نہیں۔

میں نے خود ان سے ایک مضمون پڑھا تھا، انھوں نے مجھے بہت اچھی طرح سمجھایا تھا، پھر انھوں نے مجھ سے کہا کہ تمہیں کون ٹیچر پڑھا رہا ہے، میں نے نام لیا تو انھوں نے مجھ سے کہا کہ ان سے اس ٹرم کا مطلب پوچھنا اور اگر وہ بتا دیں تو مجھے ضرور بتانا۔

اس ٹرم میں ایسا کیا تھا آخر؟

اس ٹرم میں ایسا کیا تھا، دراصل ان موصوف کو اس کا علم نہیں تھا اور اسی بات پر ان سے بحث ہوئی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انھیں فیل کردیا گیا۔ یہ صرف ان کے ساتھ ہی نہیں بلکہ اکثر طالب علموں کے ساتھ ہوتا ہے لیکن کیوں ہوتا ہے سوال یہ ہے۔

آپ ان کی قابلیت کے بارے میں ایسے اندازہ لگائیں کہ فلاں ( ایک نجی نامی گرامی یونیورسٹی) میں ان سے لوگ ہل جاتے ہیں۔

ہلنے کا مطلب؟ مطلب یہ کہ لوگ کنفیوژ ہو جاتے ہیں کہ اب یہ کوئی ایسا سوال نہ پوچھ لے کہ جس کا جواب ہمیں نہ آتا ہو۔ ایسے ذہین طالب علموں کو بھی جاب نہیں ملتی۔

اس کی کیا وجہ ہے؟ ( جواب مسکراہٹ کے ساتھ ملا)۔ اس لیے کہ جو انٹرویو لیتے ہیں انھیں بھی اپنی سیٹ بچانی ہوتی ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ باہر کی دنیا بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور ہم اور ہمارا سلیبس بہت پیچھے ہے۔

اب جو باہر کی دنیا کو فالو کرتا ہے کیونکہ بہت کچھ آپ کو انٹرنیٹ کے ذریعے مل جاتا ہے تو جن کے ذہن کو پالش ہونا ہی ہوتا ہے وہ ہو جاتے ہیں، ان کا معیار بڑھ جاتا ہے جب  کہ ہمارے پڑھانے والے اپنے پرانے تعلیمی نظام اور سلیبس کو پڑھ کر آتے ہیں تو دونوں میں ٹکراؤ ہوتا ہے۔ کیا ایک ڈگری یافتہ نوجوان ایک اچھی نوکری کا اہل ہوتا ہے؟

بالکل ہوتا ہے بشرطیکہ اس نے عملی طور پر بھی کام کیا ہو، صرف رٹو طوطا اور لکیر کے فقیر بن کر آپ اچھی جی پی لے کر نمایاں ہو جاتے ہیں لیکن پڑھائی اور پریکٹیکل دو الگ الگ معیار ہیں، یہ ضرور ہے کہ اگر آپ پڑھائی میں اچھے ہیں اور اسے اپنے پریکٹیکل میں اپلائی کرتے ہیں تو کامیاب ہیں لیکن صرف کتابیں پڑھ لینا خاص کر سائنس اور ٹیکنیکل میدان میں کارگر نہیں۔

یہ ایک نوجوان کے خیالات تھے۔ ہمارے ہاں طالب علم کے ذہن کو نہیں دیکھتے کہ اس کا رجحان کس طرف ہے، وہ اپنے والدین کی خواہشات کے مطابق ہی فیلڈ اختیارکرتا ہے، پڑھتا ہے اس طرح ہم ناکارہ سسٹم تعمیر کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ہمارے یہاں اوسط درجے کی ذہانت والے لوگ ہر فیلڈ میں گھسے نظر آئیں گے۔

کچھ عرصہ قبل ایک صاحبہ اردو کے حوالے سے نظر آئیں، ان کی سرکاری ملازمت کے گریڈ کا کیا ہی کہیں لیکن جب ان کے املا کی عام سی غلطیاں دیکھیں تو دل پر ملال تھا۔ ایسا کیوں؟ انگریزی کے ٹیچر انگریزی تو کیا اردو بھی صحیح سے نہیں بول سکتے، اسی طرح اردو اور دوسرے مضامین کی کہانی ہے۔

ہم اوسط درجے کی ذہانت سے بھی گر گئے ہیں اور اپنی اس کرپشن پر رنجیدہ نہیں بلکہ بے باک ہو گئے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر ایک ہیرا تھے، جن کی ذہانت، قابلیت اور حب الوطنی جتنا بھی سراہا جائے کم ہے لیکن کیا ڈاکٹر عبدالقدیر کے بعد ہم ان جیسے ذہین پاکستانی کی تلاش ترک کردیں جو اپنے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

کیا ہم ایسا کر سکتے ہیں۔ ہمیں سوچنا ہوگا، کہیں ہم اپنے زرخیز ذہنوں کو ڈپریشن، مایوسی اور ناکامی کے کانٹوں میں الجھا کر ناشکری کے مرتکب تو نہیں ہو رہے؟





Source link

Continue Reading

Today News

ایپسٹین فائل : سوال فرد پر نہیں نظام پر ہے

Published

on


کچھ عرصہ قبل سے عالمی میڈیا پر ایک لفظ چھایا ہوا ہے ’’ایپسٹین فائل‘‘ یہ جیفری ایپسٹین نامی ایک مجرم کی کہانی، جو مبینہ طور پر دنیا کی طاقتور ترین شخصیات کو اپنے جال میں لپیٹے ہوئے تھا۔

تفصیل اِس اجمال کی بہت ہے، بہت کچھ سامنے آگیا ہے اور بہت کچھ سامنے آنا ابھی باقی ہے۔ 30 جنوری 2026 کو امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ 3.5 ملین صفحات، 2000 ویڈیوز اور تقریباً 180,000 تصاویر نے اس معاملے کو ایک نیا اور انتہائی خطرناک موڑ دے دیا ہے، لیکن اب تک اِس تمام معاملے کو ایک فرد کی خطا کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ محض ایک فرد کے قبیح جرائم کی روداد ہے؟ ہماری رائے میں ان دستاویزات نے سب سے بڑا انکشاف یہ کیا ہے کہ ایپسٹین جیسے شیطان کو پروان چڑھانے والا کوئی فرد نہیں، بلکہ ایک پورا نظام ہے۔

سوال اب فرد پر نہیں، بلکہ اس نظام پر ہے جس نے ترقی، آزادی اور مساوات کے دعوے کرتے ہوئے انسانیت کو شرمسارکیا۔

مغرب کی بلند و بالا اخلاقی عمارتیں جب زمیں بوس ہوتی ہیں تو ان کی دھول دور دور تک اڑتی ہے اور آج کل ’ ایپسٹین فائلز‘ کی صورت میں یہی گرد پوری دنیا کے ایوانوں میں بیٹھی دکھائی دے رہی ہے۔ مغرب نے ہمیشہ تین بڑے نعروں پر اپنی برتری کی بنیاد رکھی۔

آزادی، ترقی اور مساوات۔ لیکن ایپسٹین کیس نے ثابت کردیا ہے کہ یہ ستون محض ریت کی دیواریں تھیں۔

مغرب، خاص طور پر امریکا اور برطانیہ، نے صدیوں سے خود کو روشن خیالی کا علم بردار قرار دیا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ عقل و دانش کی روشنی میں انسانیت کو ایک بہتر مستقبل کی طرف لے جا رہے ہیں، مگر ایپسٹین فائل نے اس دعوے کی نہ صرف دھجیاں بکھیر دی ہیں، بلکہ ایک مرتبہ پھر یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ یہ روشن خیالی محض ایک ہے۔

یہ کیسا نظام ہے جہاں 1996 میں پہلی بار ایک نوجوان لڑکی نے ایف بی آئی کے سامنے جنسی زیادتی کا الزام لگایا، مگر اس کی آواز کو سننے والا کوئی نہ تھا؟

یہ کیسا نظام ہے جہاں 2008 میں ایک مجرم کو صرف 13 ماہ کی سزا ہوئی اور وہ بھی اس شرط پرکہ وہ دن میں 12 گھنٹے باہرگزار سکتا ہے؟ یہ کیسا نظام ہے جہاں 2019 میں اس مجرم کو جیل میں مردہ پایا گیا اور قتل یا خودکشی کے حالات آج تک ایک معمہ بنے ہوئے ہیں؟

یہ صرف بدقسمتی نہیں یہ نظام کا دیا ہوا تحفہ ہے۔ امریکی محکمہ انصاف، ایف بی آئی اور عدلیہ کا وہ عظیم الشان ڈھانچہ جس پر دنیا کو ناز تھا، ایک درجن سے زائد مرتبہ ناکام ہوا۔

اس ناکامی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک ہزار سے زائد متاثرین کو اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کو سہنا پڑا۔ آپ دیکھیں حالیہ دستاویزات میں بھی سیکڑوں ناموں کو خفیہ رکھا گیا ہے، کیوں؟

کانگریس کے دو اراکین تھامس میسی اور روکھنہ کو جب خود جا کر محکمہ انصاف کے دفاتر کا معائنہ کرنا پڑا تو پتہ چلا کہ کم ازکم چھ افراد کے نام جان بوجھ کر چھپائے گئے تھے۔ کیا یہ ہی انصاف ہے؟ اسے ہی شفافیت کہتے ہیں؟

اب ذرا مغرب کے ان ترقی یافتہ معاشروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں، جنھوں نے اپنے آپ کو انسانیت کا امام کہلوایا۔ ایڈلمین ٹرسٹ بیرومیٹر 2025 کے مطابق، صرف 30 فیصد امریکی شہری اپنے روشن مستقبل پر یقین رکھتے ہیں، جب  کہ کئی نسبتاً غیر ترقی یافتہ ممالک میں یہ تناسب 70 فیصد تک ہے۔

فرانس میں صرف 9 فیصد، جرمنی میں 14 فیصد اور برطانیہ میں 17 فیصد لوگوں کو اپنے مستقبل پر بھروسہ ہے۔کیا یہ وہی ممالک نہیں، جو دنیا کو جمہوریت، آزادی اور مساوات کا درس دیتے ہیں؟

اعداد و شمار مزید بھیانک حقائق پیش کرتے ہیں۔ امریکا اور برطانیہ میں شیر خوار بچوں کی اموات کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے جب  کہ ترقی پذیر ممالک میں یہ مسلسل گر رہی ہے۔

امریکا اور برطانیہ میں متوقع عمر میں کمی واقع ہوئی ہے۔ نیویارک اور واشنگٹن کے امیر ترین طبقے میں تو لوگ 100 سال بھی جی رہے ہیں، مگر سفید فام غریب طبقے میں مردوں کی متوقع عمر بہ مشکل 60 سال ہے۔

شراب، منشیات اور موٹاپے کی وبا نے اس تباہی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ امریکا میں 16 سے 24 سال کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد فوج میں بھرتی ہونے کے قابل نہیں ہے، کیونکہ وہ جسمانی طور پر صحت مند نہیں ہیں۔ یہ وہ قوم ہے جو دنیا پر فوجی تسلط کی خواہاں ہے۔

ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ایپسٹین کا یہ پورا نیٹ ورک اخلاقی اقدار کے مکمل فقدان کی عکاسی کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جن ملحدین نے اپنی زندگیوں کو اس قدر آلودہ کر لیا کہ ان کی اپنی تنہائیاں بے راہ روی سے پاک نہ رہ سکیں، وہ مذہب پر سوال اٹھانے کے حق دار کیسے ٹھہرے؟

رچرڈ ڈاکنز جیسے نام نہاد روشن خیال مفکرین نے برسوں سے مذہب کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مذہب انسان کو جکڑتا ہے، اس کی عقل کو پائمال کرتا ہے اور اسے عدم برداشت کا خوگر بنا دیتا ہے، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

’’ جدید الحاد کے سب سے بڑے وکیل ریچرڈ ڈاکنز سے جب پوچھا گیا کہ اگرکائنات میں کوئی ’’ اخلاقی مطلق‘‘ نہیں تو اچھے برے کی تمیزکیسے ہوگی؟ تو ان کا سرد جواب تھا کہ کائنات میں نہ کوئی خیر ہے نہ شر، بس ایک بے رحم بے حسی ہے۔

یہ اعتراف دراصل ایپسٹین جیسے درندوں کے لیے ایک فکری جواز فراہم کرتا ہے، اگر اخلاقیات محض ایک ’ انسانی ایجاد‘ ہیں، تو پھر اس نظام پر اعتراض کیسے کیا جا سکتا ہے جو طاقتور کو اپنی مرضی کی اخلاقیات ایجاد کرنے کی چھوٹ دیتا ہے؟ ‘‘

یہ کوئی اتفاق نہیں کہ دوستوفسکی نے کہا تھا ’’ اگر خدا نہیں ہے تو سب کچھ جائز ہے‘‘ ایپسٹین فائل اس جملے کی عملی تفسیر ہے۔ یہ وہ منطق ہے جس نے ہزاروں بچیوں کو ایک شیطان کے حوالے کردیا۔ یہ وہ فلسفہ ہے جس نے امریکی محکمہ انصاف کو بتایا کہ ’’ مسٹر ایپسٹین کے ساتھ پارٹی کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔‘‘

آج مغربی نظام عدل پر اعتماد کا بحران طاری ہے۔ بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے سینئر فیلو ڈیرل ویسٹ کہتے ہیں کہ ’’ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مزید تفتیش نہیں ہوگی، مزید فردِ جرم عائد نہیں کی جائے گی، لیکن برے رویے کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ لوگ اس طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہیں۔‘‘

یہ سوال صرف ایپسٹین تک محدود نہیں۔ یہ سوال پورے نظام سے ہے۔ یہ وہ نظام ہے جس نے 1996 سے 2019 تک آنکھیں بند رکھیں۔ یہ وہ نظام ہے جس نے ایک غیر قانونی معاہدے کے تحت مجرم کو بچایا۔

یہ وہ نظام ہے جس نے حالیہ دستاویزات میں بھی طاقتوروں کے نام چھپائے… اور… اور یہ تاریخ کا وہ بدترین نظام ہے جہاں ایپسٹین جیسے افراد کا وجود و نمو ممکن ہے، وہ نظام جس نے مجرموں کو پروان چڑھایا، ان کی حفاظت کی اور آج بھی ان کے نام چھپا کر انسانیت کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ طاقت ہی اصل سچ ہے۔ سوال فرد پر نہیں، نظام پر ہے اور یہ نظام پوری انسانیت کے لیے ننگِ عظیم ہے۔

یہ ہی وہ لمحہ ہے جب ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ہم اس نظام کو قبول کریں گے جہاں اخلاقیات کا کوئی مطلق نہیں، جہاں ’’ سب کچھ جائز‘‘ ہے، یا پھر ہم اس راستے پر واپس جائیں گے جہاں انسانیت کی فلاح کے لیے اخلاقی اقدارکا احترام ضروری ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending