Today News
امریکی فوج کی بحرالکاہل میں ایک کشتی پر بمباری؛ 3 افراد ہلاک
امریکی فوج نے ایک بار پھر بحرالکاہل میں منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ایک مشتبہ کشتی کو نشانہ بنایا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی فوجی کے ترجمان نے بتایا کہ یہ کشتی بحرالکاہل کے ایک ایسے حصے میں سرگرم تھی جہاں منشیات کی غیر قانونی ترسیل کے واقعات میں حالیہ عرصے کے دوران اضافہ دیکھا گیا۔
فوجی حکام نے بتایا کہ نشانہ بننے والی کشتی منشیات اسمگلنگ کے نیٹ ورک سے منسلک تھی اور مبینہ طور پر اسے ایسی تنظیمیں استعمال کر رہی تھیں جنہیں امریکا نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس فوجی کارروائی کے دوران کشتی کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ امریکی حملے میں 3 افراد ہلاک ہوگئے جن کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔
امریکی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ ستمبر 2025 سے بحرالکاہل اور ملحقہ سمندری راستوں میں انسدادِ منشیات آپریشنز تیزی سے جاری ہیں اور اسی دوران ایک کشتی کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سدرن کمانڈ نے بھی تصدیق کی ہے کہ یہ کارروائی جوائنٹ ٹاسک فورس سدرن اسپیئر کی جانب سے کی گئی۔ جس کا مقصد منشیات کی بین الاقوامی ترسیل روکنا اور مسلح نیٹ ورکس کو کمزور کرنا ہے۔
یاد رہے کہ بحرالکاہل میں کی جانے والی ان کارروائیوں میں تقریباً 150 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ درجنوں اسمگلنگ کشتیاں تباہ کی جا چکی ہیں۔
امریکی فوج کا دعویٰ ہے کہ ان اقدامات سے نہ صرف منشیات کی ترسیل متاثر ہوئی ہے بلکہ اس غیر قانونی کاروبار سے وابستہ گروہوں کی مالی معاونت کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
تاہم انسانی حقوق کے بعض حلقوں کی جانب سے ان کارروائیوں میں جانی نقصان پر تشویش کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ امریکی فوجی کارروائیوں میں قانون اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔
Today News
ایک گھنی چھاؤں، جو نہ رہی
جانے والے چلے جاتے ہیں اور پیچھے اپنی یادیں چھوڑ جاتے ہیں۔ ایسے ہی تھے مصطفی لاکھانی! ہمارے ہائی کورٹ بارکے سابق صدر مصطفیٰ لاکھانی، مورخہ 14 مئی کو انتقال ہوا۔ ان کی عمر لگ بھگ اٹھاسی برس تھی۔
ستر برس کی عمر تک یہ ہائی کورٹ کی سیڑھیوں سے اترتے اور چڑھتے رہے۔ انھوں نے کئی ادوار دیکھے، وہ تمام زمانے دیکھے جب کراچی پاکستان کا کیپٹل سٹی تھا، عدالتیں دیکھیں، جج دیکھے، وکلا اور آمریتیں دیکھیں اور جمہوریتیں بھی دیکھیں۔
فاطمہ جناح کو دیکھا، جب ایم آر ڈی کی تحریک کا آغاز ہوا تو وہ کراچی ڈسٹرکٹ بار کے جنرل سیکریٹری تھے اور عبد الحفیظ لاکھو صدر تھے، جب لا کھو صاحب جیل چلے گئے تو بارکی تمام ذمے داریاں ان کے کندھوں پر آن پڑیں۔
انھوں نے تحریک میں اپنا خاطر خواہ حصہ ڈالا، جیلوں میں قید وکلاء کی دیکھ بھال کرنا، ان سے ملنا اور پھر ان کی ضمانت کی ذمے داریاں یہ تمام کام مصطفیٰ لاکھانی نے بہ طور جنرل سیکریٹری سر انجام دیے۔
2007 میں، مشرف دور میں وکلاء تحریک کا ایک معتبر نام وہی تھے ۔ اس شخص کے گرد بار میں ، ہر وقت وکیلوں کا گھیرا رہتا تھا، ان کے مسائل سننا ، ان کے حل ڈھونڈنا، یہ روایت ان کو ان کے استاد شرف فریدی سے ملی جو مسلسل آٹھ برس کراچی ہائی کورٹ بار کے صدر رہے، ایک انتہائی قابلِ احترام شخصیت تھے۔
وہ وکیلوں کے جیسے مسیحا مانے جاتے تھے، اگر ان کو یہ خبر ہو جاتی کہ کوئی وکیل مالی مشکلات سے دو چار ہے تو وہ خود فائلوں کے اندر رقم ڈال کران کے گھر تک پہنچا آتے اور ہر وقت اس بات کا تجسس کہ کوئی پریشان حال تو نہیں۔
مصطفیٰ لاکھانی اور شرف فریدی دونوں کے ہاں اولاد نہیں ہوئی۔ ہم جیسے ان کے بچے تھے اور ہائی کورٹ بار ان کا خاندان۔ مصطفیٰ لاکھانی صاحب ایک سادہ طبعیت اور فقیر منش انسان تھے۔
ان سے مجھے باپ کی سی شفقت ملتی تھی۔ جیسے میں ان کا سپاہی اور وہ میرے سالار۔ ایسا کبھی نہ ہوا کہ انھوں نے جیسا مجھے کرنے کے لیے کچھ کہا ہو اور وہ کام میں نے نہ کیا ہو۔
عاصمہ جہانگیر نے مجھے مصطفیٰ لاکھانی سے ملوایا، وہ انڈیپینڈنٹ لائرزگروپ (کراچی ) کے صدر تھے اور میں عاصمہ جہانگیر صاحبہ کو وکالت میں آنے سے پہلے ہی جانتا تھا، انسانی حقوق کے حوالے سے۔ پھر مصطفی لاکھانی ہم سے ایسے جدا ہوئے کہ پتا ہی نہیں چلا، یہی سیڑھیاں اترتے چڑھتے، نہ شوگرکی بیماری اور نہ ہی بلڈ پریشرکی، دبلے پتلے سے۔
پچھلی جمعرات کو بار میں آئے، خود اپنی گاڑی چلا کر، جمعہ کو بخار ہوا اور ہفتے کو صبح دس بجے انتقال کرگئے۔ ان کوکوئی بیماری نہ تھی اور جب جانے کا وقت آیا تو ایک ہلکے سے بخار سے چل بسے۔
ہلکا سا بخار سمجھ کر نہ ہی ڈاکٹر کے پاس گئے اور نہ ہی دوائی کھائی۔ اب صرف رہ گئیں ان کی یادیں، ان کی باتیں، ان کی محبتیں، ان کا ہنسنا اور ہنسانا۔ میری باتوں سے وہ بڑے محظوظ ہوتے۔
کئی بار مصروفیت کی باعث بار نہیں جاتا تھا لیکن پھر خیال آتا کہ بار جاکر ان سے مل آؤں، چند منٹوں کے لیے جاتا تھا اور ان سے یہ کہتا تھا کہ میں صرف آپ سے ملنے آیا ہوں۔
ان کے ہونے سے ایک تسلی رہتی تھی، چاہے کتنی ہی عمر ہو لیکن کبھی گماں نہیں ہوتا تھا کہ یہ اس طرح سے چلے جائیں گے۔ وہ ہر دلعزیز تھے۔ ان کے ادب میں سب لوگ کھڑے ہوجاتے تھے۔ ان کے احترام کی وجہ یہ تھی کہ وہ ایک با کردار انسان تھے۔
ان کو پرکھنے کا زاویہ ہی بدل گیا جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ پتا چلا کہ وہ تو ایک فرشتہ صفت انسان تھے۔ کوئی بری عادت ان میں نظر نہیں آتی۔ نہ ہی کبھی ان کے چہرے پر غصہ دیکھا۔ ہمارے وکلاء گروپ کی بیٹھک اکثر میرے چیمبر میں ہوتی ہے۔ وہ بہ طور چیئرمین میٹنگ کی صدارت کرتے تھے۔ ان جیسے لوگ اب شاید ہی ملیں۔
تھے کتنے اچھے لوگ کہ جن کو اپنے غم سے فرصت تھی
سب پوچھیں تھے احوال جوکوئی درد کا مارا گزرے تھا
وہ گجراتی میمن تھے۔ اپنے والد کے ساتھ 1948 میں ہجرت کی۔ ولبھ بھائی پٹیل اور ان کا گھر ایک ہی شہر میں نزدیک تھا۔ جب بٹوارہ ہوا تو ہندوستان میں ان کا رہنا ناممکن ہوا اور انھوں نے پاکستان ہجرت کی۔
ان کے والد جو خود بھی ایک وکیل تھے، ان سے ولبھ بھائی پٹیل کی نہیں بنتی تھی۔ وہ یہ بتاتے تھے کہ وہ ہندوستان سے اتنی عجلت میں نکلے کہ جہاز میں چڑھتے وقت ان کا تھیلا ان کے ہاتھ سے پھسل گیا اور ان کے پاس اتنا بھی وقت نہ تھا کہ وہ اس کو اٹھا سکتے۔
انھوں نے گجراتی میمن کمیونٹی اور اپنے خاندان کے حوالے سے ایک کتاب لکھی۔ پچھلے ہی برس ان کی زوجہ کا انتقال ہوا، ایک لمبی علالت کے بعد، وہ آفس سے جلدی گھر چلے جاتے، بیوی کی علالت کے باعث ہماری رات کی کسی دعوت میں نہیں آتے تھے اور ان کے انتقال کے بعد فوراً ہی اپنا گھر بھی تبدیل کر لیا۔ پھر وہ اپنے والد ین کے گھر منتقل ہوگئے اور وہیں ان کا انتقال ہوا۔
ایک گہرا تعلق رہنے کے بعد مصطفیٰ صاحب کا انتقال صرف میرا ذاتی دکھ نہیں بلکہ ایک ایسے فرد کا بچھڑنا ہے جس کا ہرکام مفادِ عامہ کے لیے تھا، قانون کی حکمرانی اور وکلا برادری کی بہبود کے لیے تھا۔
ستر سال سے ان کے نقوش اس عدالت کی سیڑھیوں، عدالت کے برآمدوں، بار روم میں موجود ہیں۔ زمانے کے بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھے انھوں نے۔ وہ مجھے اکثر کہتے تھے کہ’’ تم اپنے کالمز میںکراچی پرکم لکھتے ہو‘‘ اور میں ان کو کہتا تھا کہ ’’ میں ضرور لکھوں گا اور بہت لکھوں گا۔‘‘
مصطفی صاحب ہر تعصب سے بالا تر ہوکر بڑے فخر سے کہتے تھے کہ’’میں سندھی ہوں‘‘ نظریات کے حوالے سے ہم دونوں مختلف تھے ، ان کا جھکاؤ دائیں بازوکی سیاست کی طرف تھا جب کہ میں بائیں بازو کی سیاست کا حامی ہوں مگر انسانیت کے سبجیکٹ کی دیوار نہیں ہوتی وہ تو ہر خیال اور ہر سوچ میں پائی جاتی ہے۔
آج ہائی کورٹ بار ادھوری رہ گئی ہو جیسے۔ ایک ایسا خلاء جو بھر نہیں پائے گا۔ ہمیں ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔
آج ان کی یاد میں ہمیں اس بات کا عہد کرنا چاہیے کہ وکلاء کی جمہوریت کے لیے تحریک، انسانی حقوق کے لیے جدوجہد، عدلیہ کی آزادی کے بغیرکسی نسلی امتیازکے ایک ہوکر، آمریتی سوچ اور نظریے کے سامنے ڈٹ کرکھڑے ہونا ہے۔
جاتے جاتے وہ اپنی بے لوث محبتیں چھوڑگئے۔ ان کی یادیں خوشبو بن کرکئی زمانوں تک تازہ رہیں گی۔ آج سے پچاس سال پہلے میرے والد بھی اسی بار میں آتے تھے۔
وہ بھی کیا زمانے تھے 1950کی دہائی میں جب ذوالفقار علی بھٹو بھی یہاں وکالت کرتے تھے۔ میرے چچا جو بمبئی بورڈ کے گولڈ میڈلسٹ تھے، وہ بھی کریمنل کیسز کے بڑے وکیل تھے۔ میرے چچا اس دور میں ایک نوجوان وکیل تھے اور بھٹو صاحب ان کے آرگیومنٹ سننے عدالت میں آتے تھے۔
کراچی ہائی کورٹ کی تاریخی عمارت جوکہ سندھ کا ورثہ ہے،کراچی کی پہچان ہے،1923 میں بننا شروع ہوئی۔ جب سکھر بیراج کی تعمیر شروع ہوئی۔ تقریباً سات سال کے عرصے میں یعنی 1929 میں ہائی کورٹ کی عمارت کی تعمیر مکمل ہوئی، مگر آج بھی شاندار ہے۔
کتنے وکیل یہاں آئے اور اس دنیا سے رخصت ہوئے، مصطفی لاکھانی کی طرح۔
سب کہاں کچھ لالہ وگل میں نمایاں ہوگئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں
(غالب)
Today News
سیاسی تربیت اور طلبہ یونین
کبھی کبھی مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں کے وسیع سبزہ زاروں پر ایک عجیب سی خاموشی اُگ آئی ہے۔ یہ وہی کیمپس ہیں جہاں کبھی نعروں کی بازگشت ہوا کرتی تھی۔
جہاں بحث و مباحثہ صرف نصابی کتابوں تک محدود نہیں تھا بلکہ زندگی سیاست، انصاف اور مستقبل کے سوالات تک پھیلا ہوا تھا۔ آج جب میں طلبہ یونینوں کی معطلی پر نگاہ ڈالتی ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے ہم نے اپنی نئی نسل کے ہاتھ سے مکالمے کا حق ہی چھین لیا ہو۔
پاکستان کی تاریخ میں طلبہ سیاست کوئی حادثاتی مظہر نہیں تھی۔ قیامِ پاکستان سے پہلے برصغیر کی جامعات میں جو سیاسی شعور پروان چڑھا، اس نے آزادی کی تحریک کو جِلا بخشی۔
قیامِ پاکستان کے بعد بھی نوجوانوں نے اپنے عہد کے سوالوں سے منہ نہیں موڑا۔ 1950 کی دہائی میں ڈاؤ میڈیکل کالج کے چند نوجوانوں نے جب Democratic Students Federation کی بنیاد رکھی، وہ محض ایک تنظیم نہیں بلکہ ایک روایت کی داغ بیل ڈال رہے ہیں۔
یہ وہی ڈی ایس ایف تھی جس نے 1953 میں تعلیمی مسائل اور جمہوری حقوق کے لیے آواز بلند کی، لاٹھی چارج اور گولیوں کا سامنا کیا اور نوجوانوں کو یہ سکھایا کہ سیاست صرف اقتدار کا کھیل نہیں بلکہ اصولوں کی پاسداری کا نام بھی ہے۔
ڈی ایس ایف پر پابندی لگی، اس کے کارکن گرفتار ہوئے مگر خیال کو قید کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اسی فضا سے National Students Federation ابھری۔
این ایس ایف نے 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں جس فکری اور سیاسی تربیت کا ماحول پیدا کیا، وہ محض کیمپس کی چار دیواری تک محدود نہ رہا۔ اس ماحول سے ایسے نوجوان نکلے جنھوں نے بعد میں قومی سیاست، صحافت، ادب اور مزدور تحریکوں میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کے ہاں اختلاف رائے جرم نہیں تھا بلکہ سیکھنے کا وسیلہ تھا، وہ مارکس پڑھتے تھے، فیض کوگنگناتے تھے اور ساتھ ہی اپنے عہد کی زمینی حقیقتوں سے جڑے رہتے تھے۔
طلبہ یونینیں محض انتخابی پوسٹروں اور تقریری مقابلوں کا نام نہیں تھیں۔ وہ جمہوری تربیت گاہیں تھیں۔ وہاں ووٹ ڈالنے کا شعور پیدا ہوتا تھا۔ منشور لکھنے کی مشق ہوتی تھی، مخالف سے مکالمہ کرنا سکھایا جاتا تھا۔
اختلاف کو برداشت کرنے اور دلیل سے جواب دینے کی تربیت وہیں پروان چڑھتی تھی۔ یہی وہ نرسری تھی جہاں سے سیاسی بصیرت رکھنے والے رہنما نکلتے تھے۔
جب کوئی نوجوان کلاس روم سے نکل کر جلسے میں تقریر کرتا تھا تو وہ صرف نعرہ نہیں لگاتا تھا بلکہ اپنے اندر ایک اعتماد محسوس کرتا تھا کہ وہ اجتماعی فیصلوں کا حصہ بن سکتا ہے۔
1968 اور 1969 کی تحریک کو کون بھول سکتا ہے؟ ایوب آمریت کے خلاف جب ملک کے مختلف شہروں میں طلبہ سڑکوں پر نکلے تو ان کے ساتھ مزدور اور متوسط طبقہ بھی شامل ہوا۔
یہ اتحاد اچانک پیدا نہیں ہوا تھا، اس کے پیچھے برسوں کی تنظیم سازی مطالعہ اور مکالمہ تھا۔ یہی وہ دور تھا جب نوجوانوں نے آمریت کے ایوانوں کو یہ پیغام دیا کہ تاریخ کا پہیہ بند کمروں میں نہیں روکا جا سکتا۔
اس تحریک نے نہ صرف ایک آمرکو رخصت کیا بلکہ سیاست کے افق پر نئی سوچ کو بھی جنم دیا۔بدقسمتی سے ضیاء الحق کے دور میں طلبہ یونینز پر پابندی لگا دی گئی۔ دلیل یہ دی گئی کہ کیمپس میں تشدد بڑھ رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا تشدد کا حل جمہوری عمل کو معطل کرنا تھا؟ کیا ہمیں اصلاح کی طرف جانا چاہیے تھا یا مکمل خاموشی کی طرف؟ اس پابندی نے ایک پوری نسل کو سیاست کے ابتدائی تجربے سے محروم کردیا۔
جب آپ نوجوانوں سے منظم ہونے کا حق چھین لیتے ہیں تو وہ یا تو بے حسی کا شکار ہو جاتے ہیں یا پھر غیر منظم اور شدت پسند گروہوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔
آج کی یونیورسٹیوں میں طلبہ موجود ہیں، مسائل بھی موجود ہیں مگر اجتماعی آوازکمزور ہے۔ فیسوں میں اضافہ ہو، ہاسٹل کے مسائل ہوں یا نصاب کی فرسودگی زیادہ تر احتجاج سوشل میڈیا کی پوسٹ تک محدود رہ جاتا ہے۔
ڈیجیٹل دنیا نے اظہارکے نئے راستے ضرور دیے ہیں مگر اس میں وہ تربیتی عمل نہیں، جو ایک باقاعدہ یونین فراہم کرتی ہے۔ یونین کا انتخاب لڑنا، منشور بنانا، ساتھیوں کو قائل کرنا، یہ سب سیاسی پختگی کی سیڑھیاں ہیں۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے کئی رہنما طلبہ سیاست سے ابھرے۔ انھوں نے کیمپس میں تنظیم سازی سیکھی، جلسے منظم کیے، اختلاف کا سامنا کیا۔
یہی تجربہ بعد میں قومی سطح پر ان کے کام آیا، اگر آج ہمیں سیاست میں برداشت مکالمے اور نظریاتی سنجیدگی کی کمی محسوس ہوتی ہے تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے اس نرسری کو ویران کردیا ہے جہاں یہ اوصاف پنپتے تھے۔
یقینا ماضی مثالی نہیں تھا۔ طلبہ تنظیموں کے درمیان تصادم بھی ہوئے، اسلحہ بھی آیا اور بعض اوقات بیرونی سیاسی قوتوں نے کیمپس کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا، مگرکیا کسی ادارے کی خرابی اس کی مکمل نفی کا جواز بن سکتی ہے؟
جمہوریت کا حسن ہی یہ ہے کہ وہ غلطیوں سے سیکھتی ہے خود کو بہتر بناتی ہے، اگر ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل کرایا جاتا، اسلحے پر مکمل پابندی لگتی اور انتظامیہ غیر جانبدار رہتی تو شاید صورت حال مختلف ہوتی۔ایک ترقی پسند سماج اپنے نوجوانوں سے خوفزدہ نہیں ہوتا۔
وہ انھیں سوال کرنے، منظم ہونے اور اختلاف کرنے کا حق دیتا ہے،کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہی سوال کل کو سماجی انصاف برابری اور جمہوری استحکام کی بنیاد بنیں گے۔
جب ہم طلبہ یونینزکی بحالی کی بات کرتے ہیں تو دراصل ہم اس امید کی بات کر رہے ہوتے ہیں کہ ہماری سیاست دوبارہ نظریاتی سنجیدگی اور عوامی مسائل کی طرف لوٹے۔
مجھے یاد ہے کہ ایک زمانے میں یونیورسٹی کی دیواروں پر چسپاں پوسٹر محض کاغذ کے ٹکڑے نہیں ہوتے تھے وہ خوابوں کے منشور ہوتے تھے۔
ان خوابوں میں ایک زیادہ منصفانہ سماج کی تصویر ہوتی تھی۔ شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ان خوابوں کو دوبارہ جگہ دیں۔
طلبہ یونینز کی بحالی کوئی انقلابی نعرہ نہیں، یہ جمہوری تسلسل کی ایک کڑی ہے، اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں سیاسی بصیرت اخلاقی جرات اور اجتماعی شعور کے ساتھ آگے بڑھیں تو ہمیں ان کی آواز پر عائد یہ طویل خاموشی ختم کرنا ہوگی۔
Today News
کیا غزہ میں فوج بھیجنی چاہیے ؟
غزہ میں امن کے لیے قائم بورڈ آف پیس کے دو سربراہی اجلاس ہو گئے ہیں ۔ پاکستان کے وزیر اعظم میا ں شہباز شریف نے دونوں اجلاس میں شرکت کی ہے۔ پہلے اجلاس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی شریک تھے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کو غزہ میں اپنی فوجیں بھیجنی چاہیے۔ انڈونیشیا، مراکش سمیت متعدد مسلم ممالک غزہ میں فوج بھیجنے کا اعلان کر چکے ہیں۔
دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک انڈونیشیا کو غزہ میں تعینات ہونے والی عالمی فورس کا ڈپٹی کمانڈر بھی بنا دیا گیا ہے۔ پاکستان نے ابھی تک غزہ میں فوج بھیجنے کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا۔
اس لیے جب بھی بورڈ آف پیس کا اجلا س ہو تا ہے، قیاس آرائیاں شروع ہوجاتی ہیں کہ کیا اس اجلاس میں پاکستان فوج بھیجنے کا اعلان کر دے گا۔ کچھ دوست پراپیگنڈا بھی شروع کر دیتے ہیں۔
امریکی دباؤ کی بھی بات کی جاتی ہے۔ میری رائے میں اب یہ بات نہیں ہے کہ ہم پر فوج بھیجنے کا کوئی دباؤ ہے۔ جب سارے مسلم ممالک فوج بھیجنے کے لیے تیار ہیں، وہ اعلان کر رہے ہیں تو دباؤ کیوں ہوگا۔
دباؤ تو تب ہوگا جب کوئی مسلم ملک اس پر تیار نہ ہو جب کہ پاکستان ہی واحد آپشن ہو، اس لیے پاکستان پر دباؤ ڈالا جائے۔ پاکستان کی فوج پر اسرائیل کو تو سخت اعتراض ہے اور وہ تو کبھی نہیں چاہے گا کہ پاکستان کی فوج اس بین الا قوامی فورس کا حصہ بنے، باقی اسلامی ممالک کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کا مفاد کیا ہے؟ دوسر اہم سوال یہ ہے کہ غزہ کے مسلمانوں کا مفاد کیا ہے؟ ہمیں ان دونوں مفاد کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا ہوگا۔
سب سے پہلے پاکستان کے مفادکی بات کریں، پاکستان کا مفاد اسلامی ممالک کے ساتھ چلنے میں ہے یا ان سے الگ اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے میں ہے۔
ہمیں فلسطین کے معاملے میں اسلامی ممالک کے ساتھ چلنا چاہیے، مشترکہ فیصلے کرنے چاہیے۔ اس سے پہلے بھی آٹھ اسلامی ممالک فلسطین پر اکٹھے پریس ریلز جاری کرتے ہیں۔
مشترکہ موقف میں طاقت ہے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں غزہ میں فوج بھیجنے اور مسئلہ فلسطین میں پاکستان کو اسلامی ممالک کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چلنا چاہیے ۔
کوئی تنہا پالیسی نہیں بنانی چاہیے۔ جب سب بڑے اسلامی ممالک بورڈ آف پیس میں شامل ہو رہے تھے تو پاکستان کو بلا جھجھک بورڈ آف پیس میں شامل ہونا چاہیے تھا۔
اس کا پاکستان کو فائدہ ہوا ہے۔ ہم سینٹر اسٹیج پر موجود ہیں۔ انکار کرنے کی صورت میں ہم الگ بیٹھے ہوتے اور ہماری آواز کی کوئی اہمیت نہ ہوتی۔
جب پاکستان کے دوست اسلامی ممالک کو غزہ میں فوج بھیجنے پر کوئی ا عتراض نہیں تو ہمیں بھی کوئی اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔ جب وہ وہاں موجود ہوںگے تو مل کر ہی فیصلے ہوںگے۔
ہم کیوں سمجھتے ہیں کہ صرف ہم ہی فلسطین اور غزہ کے مفاد کے چوکیدا رہیں۔ اور باقی اسلامی ممالک غزہ اور فلسطین کے دشمن ہیں۔ ہم کیوں سمجھتے ہیں کہ باقی اسلامی ممالک کی افواج غزہ اور فلسطینیوں کے خلاف کام کریں گی، وہ وہاں اسرائیلی عزئم کی تکمیل کریں گی۔
ایسا نہیں ہے، سب مل کر ایک میز پر موجود ہوںگے تو ایک دوسرے کی طاقت ہوںگے۔ مل کر دباؤ بھی ختم کریں گے۔ مل کر فلسطین کی بہتر خدمت ہو سکتی ہے۔ اکیلا پاکستان فلسطین کی کیا خدمت کر سکتا ہے۔
آج جب پاکستان کوئی فیصلہ نہیں کر رہا توہم دنیا میں پاکستان کا مقام بلند نہیں کر رہے۔ بلکہ یہ سمجھا جا رہاہے کہ ہم فیصلہ سازی میں کمزور ہیں۔ آج دوست اسلامی ممالک دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان ہمارے ساتھ قدم سے قدم ملا کر نہیں چل رہا۔
میں سمجھتا ہوں فلسطینی بھی پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ فیصلے کی اس گھڑی میں ہم کوئی درست فیصلہ نہیں کر رہے ہیں۔ ہم نہ توا سلامی دنیا کے ساتھ چل رہے ہیں اور نہ ہی فلسطینیوں کے ساتھ چل رہے ہیں۔
پاکستان کی فوج کئی شعبوں میں غزہ میں مدد کر سکتی ہے۔ میڈیکل کور کے ڈاکٹر جا سکتے ہیں۔ انجیئرنگ کو ر وہاں کی تعمیر میں مدد کر سکتی ہے۔ کمیونیکیشن کے شعبے میں پاک فوج مدد کر سکتی ہے۔ لیکن جانا تو چاہیے۔
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ نہ جانے سے کیا فائدہ حاصل ہوگا؟ایک لمحہ کے لیے یہ سوچیں کہ غزہ میں تعینات کثیرالملکی فوج نے امن قائم کر دیا۔ غزہ کی تعمیر نو گئی۔ پھر سوچیں پاکستان کہاں کھڑ اہوگا۔
ہم یہی کہیں گے کہ ہم نے بہترین موقع کھو دیا۔ ہمیں اس فورس کا بھی حصہ ہونا چاہیے تھا۔جب فلسطینی سب مسلم ممالک کا شکریہ اد اکر رہے ہوںگے تو پاکستان کا نام نہیں ہوگا۔ یہی کہا جا ئے گا کہ پاکستان فیصلہ نہیں کر سکا۔ ہم خدشات کا شکار رہے۔
اگر فرض کر لیں کہ کچھ غلط ہو جاتا۔ تو ہم اکیلے تھوڑی ہوںگے۔ ایسے میں سب اسلامی ملک جو بھی فیصلہ کریں گے ، ہم بھی وہی فیصلہ کریں گے۔
ہم یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ باقی سب اسلامی ممالک تو فلسطینیوں کے خلاف فیصلہ کر لیں گے، صرف ہم نہیں کریں گے۔ ہمیں یہ یقین کرنا ہوگا کہ سب مسلمان ممالک فلسطین اور فلسطینیوں کے ساتھ اتنے ہی مخلص ہیں جتنے ہم ہیں۔
باقی اسلامی ممالک کو شک سے دیکھنے کی کوئی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اگر دیکھا جائے تو باقی ممالک نے فلسطین کے لیے ماضی میں پاکستان سے زیادہ عملی جدو جہد کی ہے۔ ہم ان کے کردار کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اس لیے کسی بھی مشکل میں مل کر ہی فیصلہ ہوگا۔ سولو فلائٹ میں کوئی فائدہ نہیں ، مل کر چلنے میں ہی فائدہ ہے۔
پاکستان محمود عباس کی فلسطین حکومت کو مانتا ہے۔ یہاں محمود عباس کی حکومت کا سفارتخانہ ہے۔ ہم نے کبھی حماس کا سفارتخانہ نہیں کھولا۔
ہمیں اپنی پالیسی جا ری رکھنی ہے۔ ہم واضح کر رہے ہیں کہ ہم حماس کو غیرمسلح کرنے کے عمل کا حصہ نہیں ہوں گے۔ اس لیے اب وقت فیصلے کا ہے، اب مزید تاخیر درست نہیں۔
-
Tech2 weeks ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech1 week ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Tech2 weeks ago
Apple iPhone 17e Release Date: Just Days Away, New Report Claims
-
Entertainment1 week ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech1 week ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Sports2 weeks ago
How PSL has reignited the passion for cricket in Hyderabad