Connect with us

Today News

تاریخی موقع؛ 47 سال بعد رجنی کانت اور کمل ہاسن پردۂ اسکرین پر ایک ساتھ جلوہ گر

Published

on


مداحوں کا طویل انتطار ختم ہوا۔ بھارتی فلم انڈسٹری کے دو سپر اسٹارز لیجنڈری رجنی کانت اور کمل ہاسن ایک ہی فلم میں اداکاری کے جوہر دکھائیں گے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق یہ تاریخی فلم معروف پروڈکشن ہاؤس ریڈ جائنٹ موویز بنانے جا رہی ہے اور ہدایت کار نیلسن دلیپ کمار ہیں جو اس وقت رجنی کانت کے ساتھ جیلر 2 پر بھی کام کر رہے ہیں۔

اس فلم کا نام اب تک فائنل نہیں ہوا ہے تاہم اسے ایک عارضی عنوان دونوں سپر اسٹارز کے ناموں کے پہلے پہلے حروف کو ملا کر  KHxRK دیا گیا ہے۔

ایک اور پیغام میں پروڈکشن ٹیم نے کہا کہ تاریخ شاذ و نادر ہی خود کو دہراتی ہے لیکن جب ایسا ہوتا ہے تو یہ نسلوں کے لیے ایک یادگار جشن بن جاتا ہے۔

یاد رہے کہ کمل ہاسن اور رجنی کانت اپنے کیریئر کے ابتدائی دور میں متعدد یادگار فلموں میں ایک ساتھ کام کر چکے ہیں۔ ان فلموں کو آج بھی تامل سنیما کے سنہری دور کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

فلم کی موسیقی معروف موسیقار انیرودھ روی چندر ترتیب دیں گے۔ فلم کی شوٹنگ، کہانی اور ریلیز کی تاریخ کے حوالے معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

 

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

بنگلہ دیش کی نئی حکومت خطرات کی زد میں

Published

on


پاکستان نے کبھی بنگلہ دیش کے معاملات میں کبھی مداخلت نہیں کی البتہ بھارت بنگلہ دیش کے معاملات میں مسلسل مداخلت کرتا رہا ہے چنانچہ شیخ مجیب الرحمن حکومت سے لے کر حسینہ واجد کی حکومت تک بنگلہ دیش میں جتنی بھی حکومتیں برسر اقتدار آئیں تمام ہی بھارت کے زیر اثر رہیں۔ البتہ خالدہ ضیا کی حکومت نے ضرور بھارت سے کچھ فاصلہ رکھا تھا، انھوں نے پاکستان سے بھی تعلقات قائم رکھے تھے۔

بھارت کی پہلی پسند عوامی لیگ ہی رہی ہے اور بھارت کی سرپرستی میں ہی حسینہ نے دوسری بار حکومت حاصل کرکے مسلسل 15 سال حکومت کی تھی۔

2009 سے 15 اگست 2024 تک یعنی مسلسل پورے 15 سال تک حکومت کرتی رہی۔ حالانکہ خالدہ ضیا کی بنگلہ دیشی نیشنلسٹ پارٹی کو ہر دفعہ عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل تھی مگر اس کی جیت کو ہر دفعہ شکست میں تبدیل کر دیا گیا۔

شاید اسی وجہ سے حسینہ کا طرز عمل بھی عوام کے ساتھ ہمدردانہ نہیں تھا، وہ دراصل بھارت کی پشت پناہی کی وجہ سے ایک سخت گیر ڈکٹیٹر بن گئی تھی۔

حقیقت یہ ہے کہ وہ عوامی مسائل کو پس پشت ڈال کر صرف بھارت کے مفادات کے لیے کام کر رہی تھی۔ اس نے بھارت کو ہر وہ رعایت دی جو عوام کو ہرگز قبول نہیں تھی۔

ملک کا کوئی بھی شعبہ ایسا نہیں تھا جس میں بھارتی مفادات کو مقدم نہ رکھا گیا ہو۔ حتیٰ کہ بھارت کو اپنی شمال مشرقی ریاستوں تک رسائی کے لیے اندرون ملک سے رسائی دے دی گئی ان ریاستوں میں امن قائم رکھنے میں بھی حسینہ نے بھارت کی مدد کی۔

حسینہ کی حکومت کا زوال دراصل وہاں سرکاری ملازمتوں میں مستحق نوجوانوں کے بجائے مکتی باہنی کی اولادوں کو ترجیح دینے سے شروع ہوا۔ عام لوگ سرکاری نوکریوں کے لیے مارے مارے پھر رہے تھے مگر حسینہ کی حکومت کو ان کی کوئی فکر نہیں تھی۔

بالآخر بے روزگار نوجوانوں نے حکومت کے خلاف احتجاج شروع کر دیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ احتجاج عوامی تحریک میں تبدیل ہو گیا کیونکہ عوام پہلے ہی حسینہ کی حکومت سے بے زار ہو چکے تھے چنانچہ آگے چل کر یہ احتجاج انقلاب کی شکل اختیار کر گیا اور حسینہ حکومت کو ہلا کر رکھ دیا۔

وہ اقتدار کو اپنے باپ کی میراث سمجھتی تھی، چنانچہ اس احتجاجی تحریک کو کچلنے کے لیے پولیس اور فوج کو احتجاجی عوام پر گولی چلانے کا حکم دے دیا جس سے سیکڑوں نوجوانوں کو ہلاک کر دیا گیا مگر اس ظلم سے احتجاجی تحریک میں مزید اضافہ ہو گیا اور حالات اتنے خراب ہوئے کہ حسینہ کو ڈھاکہ چھوڑ کر بھاگنا پڑا اور دلّی میں پناہ لینا پڑی۔

ادھر حسینہ کے ملک کو چھوڑنے کے بعد ایک عبوری حکومت قائم ہو گئی جس کے سربراہ نوبل انعام یافتہ محمد یونس مقرر ہوئے۔ انھوں نے عوامی مطالبے پر 12 فروری 2026 کو نئے انتخابات منعقد کرنے کا اعلان کر دیا۔

خوش قسمتی سے اب بنگلہ دیش میں عام انتخابات ساتھ خیریت کے مکمل ہو چکے ہیں۔ گوکہ ان انتخابات کو روکنے کے لیے حسینہ کی سرپرست مودی حکومت نے لاکھ روڑے اٹکائے مگر بنگلہ دیشی عوام نے ان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے کر بھارتی سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔ 

ان انتخابات میں حسینہ دور میں مشکلات کا شکار رہی، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے بھاری اکثریت سے جیت حاصل کر لی ہے۔ جماعت اسلامی کی بھی بہترین کارکردگی رہی ہے اور اس نے 77 سیٹیں حاصل کرکے بنگلہ دیش کی دوسری بڑی پارٹی کا درجہ حاصل کر لیا ہے۔

حسینہ کے دور میں ان دونوں پارٹیوں پر وہ ظلم کیا گیا کہ جیسا ظلم تو دشمن کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔ جماعت اسلامی کے کئی سرکردہ رہنماؤں کو 1971 کے سانحے کے وقت پاکستان کی حمایت میں بنگالیوں کے قتل کا مرتکب ہونے کے جھوٹے الزامات پر پھانسی دے دی گئی، مقصد صرف یہ تھا اس پارٹی کو ختم کر دیا جائے،کیونکہ بھارت کی یہی فرمائش تھی۔

ادھر بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی سربراہ خالدہ ضیا کو جھوٹے الزامات میں جیل میں رکھا گیا اور وہ جیل میں ہی سخت بیمار ہوگئی تھیں اور بعد میں انتقال کر گئیں۔

ان کے بیٹے طارق رحمان کو بھی جھوٹے الزامات لگا کر جیل میں رکھا گیا تھا، بعد میں جب ان کی رہائی ہوئی تو وہ لندن چلے گئے اور وہاں سے ہی پارٹی کے معاملات کو چلاتے رہے۔

وہ 17 سال حسینہ کے ظلم کی وجہ سے باہر رہے اور اپنی والدہ خالدہ ضیا کی وفات سے چند دن قبل ہی وطن واپس لوٹے تھے کہ ایسے میں انتخابات کی سرگرمیاں شروع ہو چکی تھیں۔

طارق رحمان نے اپنی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی انتخابی مہم کو عروج پر پہنچا کر اپنی مرحومہ والدہ کی کمی کو پورا کر دیا تھا اور انتخابات میں اکثریت حاصل کر کے اب خود کو وزیر اعظم بننے کا اہل ثابت کر دیا ہے۔

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور جماعت اسلامی نے عوام میں اپنی مقبولیت کا لوہا منوا لیا ہے۔ ان انتخابات میں ووٹنگ کا تناسب 60 فی صد سے زائد رہا۔

ان علاقوں کو جنھیں عوامی لیگ کا ووٹنگ حب کہا جاتا تھا وہاں سے بھی ان دونوں پارٹیوں نے بھرپور ووٹ حاصل کیے ہیں جس سے لگتا ہے اب مجیب کے خاندان کا بنگلہ دیش سے دیس نکالا ہوگیا ہے پھر عوامی لیگ کے رہنماؤں اورکارکنان کے بھارت بھاگ جانے سے بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کا صفایا ہوگیا ہے۔

عبوری حکومت کا قائم کردہ جوڈیشل ٹریبونل حسینہ کو عوامی احتجاج کے دنوں میں سیکڑوں شہریوں کو قتل کرنے کے جرم میں موت کی سزا دے چکا ہے۔

عبوری حکومت نے اس کے خلاف مقدمے کی کارروائی کے دوران اسے اپنا دفاع کرنے کے لیے وطن واپس آنے کی دعوت دی تھی مگر وہ نہیں آئی۔ عدالتی فیصلے کے بعد عبوری حکومت نے مودی سے اسے بنگلہ دیش بھیجنے کو کہا مگر مودی نے کوئی جواب نہیں دیا، شاید اس لیے کہ اسے پتا ہے کہ حسینہ واقعی قاتل ہے۔

بنگلہ دیشی عوام نے اب حسینہ کو اس کے ظالمانہ رویے اور بھارت نوازی کی وجہ سے بھلا دیا ہے۔ بہرحال اب بنگلہ دیش کی حکومت چلانے کی ساری ذمے داریاں طارق رحمان کے کندھوں پر آ گئی ہے، لگتا ہے وہ اپنے والد ضیا الرحمن اور والدہ خالدہ ضیا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ضرور کامیاب رہیں گے اور بنگلہ دیش کے پاکستان کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

البتہ اب بھارت کے لیے بہت پریشانیاں بڑھ گئی ہیں کیونکہ اس کی شمال مشرقی سیون سسٹرز کا مستقبل غیر یقینی ہو گیا ہے، وہاں آزادی کی تحاریک پہلے سے چل رہی ہیں اور اب چونکہ بھارت کو حسینہ کی مدد حاصل نہیں ہے جس کے سہارے وہ وہاں کی بغاوتوں کو ناکام بناتا رہا ہے، اب اسے ان ریاستوں کو ان کے حال پر چھوڑنا ہوگا۔

تاہم اس کے اروناچل پردیش کے عوام ضرور چین کا حصہ بن کر رہیں گے جنھیں بھارت نے زبردستی اپنا حصہ بنایا ہوا ہے لہٰذا مودی بنگلہ دیش کی نئی عوامی حکومت کو ناکام بنانے کے لیے ہر حربہ استعمال کر سکتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایک گھنی چھاؤں، جو نہ رہی

Published

on


جانے والے چلے جاتے ہیں اور پیچھے اپنی یادیں چھوڑ جاتے ہیں۔ ایسے ہی تھے مصطفی لاکھانی! ہمارے ہائی کورٹ بارکے سابق صدر مصطفیٰ لاکھانی، مورخہ 14 مئی کو انتقال ہوا۔ ان کی عمر لگ بھگ اٹھاسی برس تھی۔

ستر برس کی عمر تک یہ ہائی کورٹ کی سیڑھیوں سے اترتے اور چڑھتے رہے۔ انھوں نے کئی ادوار دیکھے، وہ تمام زمانے دیکھے جب کراچی پاکستان کا کیپٹل سٹی تھا، عدالتیں دیکھیں، جج دیکھے، وکلا اور آمریتیں دیکھیں اور جمہوریتیں بھی دیکھیں۔

فاطمہ جناح کو دیکھا، جب ایم آر ڈی کی تحریک کا آغاز ہوا تو وہ کراچی ڈسٹرکٹ بار کے جنرل سیکریٹری تھے اور عبد الحفیظ لاکھو صدر تھے، جب لا کھو صاحب جیل چلے گئے تو بارکی تمام ذمے داریاں ان کے کندھوں پر آن پڑیں۔

انھوں نے تحریک میں اپنا خاطر خواہ حصہ ڈالا، جیلوں میں قید وکلاء کی دیکھ بھال کرنا، ان سے ملنا اور پھر ان کی ضمانت کی ذمے داریاں یہ تمام کام مصطفیٰ لاکھانی نے بہ طور جنرل سیکریٹری سر انجام دیے۔

2007 میں، مشرف دور میں وکلاء تحریک کا ایک معتبر نام وہی تھے ۔ اس شخص کے گرد بار میں ، ہر وقت وکیلوں کا گھیرا رہتا تھا، ان کے مسائل سننا ، ان کے حل ڈھونڈنا، یہ روایت ان کو ان کے استاد شرف فریدی سے ملی جو مسلسل آٹھ برس کراچی ہائی کورٹ بار کے صدر رہے، ایک انتہائی قابلِ احترام شخصیت تھے۔

وہ وکیلوں کے جیسے مسیحا مانے جاتے تھے، اگر ان کو یہ خبر ہو جاتی کہ کوئی وکیل مالی مشکلات سے دو چار ہے تو وہ خود فائلوں کے اندر رقم ڈال کران کے گھر تک پہنچا آتے اور ہر وقت اس بات کا تجسس کہ کوئی پریشان حال تو نہیں۔

مصطفیٰ لاکھانی اور شرف فریدی دونوں کے ہاں اولاد نہیں ہوئی۔ ہم جیسے ان کے بچے تھے اور ہائی کورٹ بار ان کا خاندان۔ مصطفیٰ لاکھانی صاحب ایک سادہ طبعیت اور فقیر منش انسان تھے۔

ان سے مجھے باپ کی سی شفقت ملتی تھی۔ جیسے میں ان کا سپاہی اور وہ میرے سالار۔ ایسا کبھی نہ ہوا کہ انھوں نے جیسا مجھے کرنے کے لیے کچھ کہا ہو اور وہ کام میں نے نہ کیا ہو۔

عاصمہ جہانگیر نے مجھے مصطفیٰ لاکھانی سے ملوایا، وہ انڈیپینڈنٹ لائرزگروپ (کراچی ) کے صدر تھے اور میں عاصمہ جہانگیر صاحبہ کو وکالت میں آنے سے پہلے ہی جانتا تھا، انسانی حقوق کے حوالے سے۔ پھر مصطفی لاکھانی ہم سے ایسے جدا ہوئے کہ پتا ہی نہیں چلا، یہی سیڑھیاں اترتے چڑھتے، نہ شوگرکی بیماری اور نہ ہی بلڈ پریشرکی، دبلے پتلے سے۔

پچھلی جمعرات کو بار میں آئے، خود اپنی گاڑی چلا کر، جمعہ کو بخار ہوا اور ہفتے کو صبح دس بجے انتقال کرگئے۔ ان کوکوئی بیماری نہ تھی اور جب جانے کا وقت آیا تو ایک ہلکے سے بخار سے چل بسے۔

ہلکا سا بخار سمجھ کر نہ ہی ڈاکٹر کے پاس گئے اور نہ ہی دوائی کھائی۔ اب صرف رہ گئیں ان کی یادیں، ان کی باتیں، ان کی محبتیں، ان کا ہنسنا اور ہنسانا۔ میری باتوں سے وہ بڑے محظوظ ہوتے۔

کئی بار مصروفیت کی باعث بار نہیں جاتا تھا لیکن پھر خیال آتا کہ بار جاکر ان سے مل آؤں، چند منٹوں کے لیے جاتا تھا اور ان سے یہ کہتا تھا کہ میں صرف آپ سے ملنے آیا ہوں۔

ان کے ہونے سے ایک تسلی رہتی تھی، چاہے کتنی ہی عمر ہو لیکن کبھی گماں نہیں ہوتا تھا کہ یہ اس طرح سے چلے جائیں گے۔ وہ ہر دلعزیز تھے۔ ان کے ادب میں سب لوگ کھڑے ہوجاتے تھے۔ ان کے احترام کی وجہ یہ تھی کہ وہ ایک با کردار انسان تھے۔

ان کو پرکھنے کا زاویہ ہی بدل گیا جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ پتا چلا کہ وہ تو ایک فرشتہ صفت انسان تھے۔ کوئی بری عادت ان میں نظر نہیں آتی۔ نہ ہی کبھی ان کے چہرے پر غصہ دیکھا۔ ہمارے وکلاء گروپ کی بیٹھک اکثر میرے چیمبر میں ہوتی ہے۔ وہ بہ طور چیئرمین میٹنگ کی صدارت کرتے تھے۔ ان جیسے لوگ اب شاید ہی ملیں۔

تھے کتنے اچھے لوگ کہ جن کو اپنے غم سے فرصت تھی

سب پوچھیں تھے احوال جوکوئی درد کا مارا گزرے تھا

 وہ گجراتی میمن تھے۔ اپنے والد کے ساتھ 1948 میں ہجرت کی۔ ولبھ بھائی پٹیل اور ان کا گھر ایک ہی شہر میں نزدیک تھا۔ جب بٹوارہ ہوا تو ہندوستان میں ان کا رہنا ناممکن ہوا اور انھوں نے پاکستان ہجرت کی۔

ان کے والد جو خود بھی ایک وکیل تھے، ان سے ولبھ بھائی پٹیل کی نہیں بنتی تھی۔ وہ یہ بتاتے تھے کہ وہ ہندوستان سے اتنی عجلت میں نکلے کہ جہاز میں چڑھتے وقت ان کا تھیلا ان کے ہاتھ سے پھسل گیا اور ان کے پاس اتنا بھی وقت نہ تھا کہ وہ اس کو اٹھا سکتے۔

انھوں نے گجراتی میمن کمیونٹی اور اپنے خاندان کے حوالے سے ایک کتاب لکھی۔ پچھلے ہی برس ان کی زوجہ کا انتقال ہوا، ایک لمبی علالت کے بعد، وہ آفس سے جلدی گھر چلے جاتے، بیوی کی علالت کے باعث ہماری رات کی کسی دعوت میں نہیں آتے تھے اور ان کے انتقال کے بعد فوراً ہی اپنا گھر بھی تبدیل کر لیا۔ پھر وہ اپنے والد ین کے گھر منتقل ہوگئے اور وہیں ان کا انتقال ہوا۔

ایک گہرا تعلق رہنے کے بعد مصطفیٰ صاحب کا انتقال صرف میرا ذاتی دکھ نہیں بلکہ ایک ایسے فرد کا بچھڑنا ہے جس کا ہرکام مفادِ عامہ کے لیے تھا، قانون کی حکمرانی اور وکلا برادری کی بہبود کے لیے تھا۔

ستر سال سے ان کے نقوش اس عدالت کی سیڑھیوں، عدالت کے برآمدوں، بار روم میں موجود ہیں۔ زمانے کے بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھے انھوں نے۔ وہ مجھے اکثر کہتے تھے کہ’’ تم اپنے کالمز میںکراچی پرکم لکھتے ہو‘‘ اور میں ان کو کہتا تھا کہ ’’ میں ضرور لکھوں گا اور بہت لکھوں گا۔‘‘

مصطفی صاحب ہر تعصب سے بالا تر ہوکر بڑے فخر سے کہتے تھے کہ’’میں سندھی ہوں‘‘ نظریات کے حوالے سے ہم دونوں مختلف تھے ، ان کا جھکاؤ دائیں بازوکی سیاست کی طرف تھا جب کہ میں بائیں بازو کی سیاست کا حامی ہوں مگر انسانیت کے سبجیکٹ کی دیوار نہیں ہوتی وہ تو ہر خیال اور ہر سوچ میں پائی جاتی ہے۔

آج ہائی کورٹ بار ادھوری رہ گئی ہو جیسے۔ ایک ایسا خلاء جو بھر نہیں پائے گا۔ ہمیں ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔

آج ان کی یاد میں ہمیں اس بات کا عہد کرنا چاہیے کہ وکلاء کی جمہوریت کے لیے تحریک، انسانی حقوق کے لیے جدوجہد، عدلیہ کی آزادی کے بغیرکسی نسلی امتیازکے ایک ہوکر، آمریتی سوچ اور نظریے کے سامنے ڈٹ کرکھڑے ہونا ہے۔

جاتے جاتے وہ اپنی بے لوث محبتیں چھوڑگئے۔ ان کی یادیں خوشبو بن کرکئی زمانوں تک تازہ رہیں گی۔ آج سے پچاس سال پہلے میرے والد بھی اسی بار میں آتے تھے۔

وہ بھی کیا زمانے تھے 1950کی دہائی میں جب ذوالفقار علی بھٹو بھی یہاں وکالت کرتے تھے۔ میرے چچا جو بمبئی بورڈ کے گولڈ میڈلسٹ تھے، وہ بھی کریمنل کیسز کے بڑے وکیل تھے۔ میرے چچا اس دور میں ایک نوجوان وکیل تھے اور بھٹو صاحب ان کے آرگیومنٹ سننے عدالت میں آتے تھے۔

کراچی ہائی کورٹ کی تاریخی عمارت جوکہ سندھ کا ورثہ ہے،کراچی کی پہچان ہے،1923 میں بننا شروع ہوئی۔ جب سکھر بیراج کی تعمیر شروع ہوئی۔ تقریباً سات سال کے عرصے میں یعنی 1929 میں ہائی کورٹ کی عمارت کی تعمیر مکمل ہوئی، مگر آج بھی شاندار ہے۔

کتنے وکیل یہاں آئے اور اس دنیا سے رخصت ہوئے، مصطفی لاکھانی کی طرح۔

سب کہاں کچھ لالہ وگل میں نمایاں ہوگئیں

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں

(غالب)





Source link

Continue Reading

Today News

سیاسی تربیت اور طلبہ یونین

Published

on


کبھی کبھی مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں کے وسیع سبزہ زاروں پر ایک عجیب سی خاموشی اُگ آئی ہے۔ یہ وہی کیمپس ہیں جہاں کبھی نعروں کی بازگشت ہوا کرتی تھی۔

جہاں بحث و مباحثہ صرف نصابی کتابوں تک محدود نہیں تھا بلکہ زندگی سیاست، انصاف اور مستقبل کے سوالات تک پھیلا ہوا تھا۔ آج جب میں طلبہ یونینوں کی معطلی پر نگاہ ڈالتی ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے ہم نے اپنی نئی نسل کے ہاتھ سے مکالمے کا حق ہی چھین لیا ہو۔

پاکستان کی تاریخ میں طلبہ سیاست کوئی حادثاتی مظہر نہیں تھی۔ قیامِ پاکستان سے پہلے برصغیر کی جامعات میں جو سیاسی شعور پروان چڑھا، اس نے آزادی کی تحریک کو جِلا بخشی۔

قیامِ پاکستان کے بعد بھی نوجوانوں نے اپنے عہد کے سوالوں سے منہ نہیں موڑا۔ 1950 کی دہائی میں ڈاؤ میڈیکل کالج کے چند نوجوانوں نے جب Democratic Students Federation کی بنیاد رکھی، وہ محض ایک تنظیم نہیں بلکہ ایک روایت کی داغ بیل ڈال رہے ہیں۔

یہ وہی ڈی ایس ایف تھی جس نے 1953 میں تعلیمی مسائل اور جمہوری حقوق کے لیے آواز بلند کی، لاٹھی چارج اور گولیوں کا سامنا کیا اور نوجوانوں کو یہ سکھایا کہ سیاست صرف اقتدار کا کھیل نہیں بلکہ اصولوں کی پاسداری کا نام بھی ہے۔

ڈی ایس ایف پر پابندی لگی، اس کے کارکن گرفتار ہوئے مگر خیال کو قید کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اسی فضا سے National Students Federation ابھری۔

این ایس ایف نے 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں جس فکری اور سیاسی تربیت کا ماحول پیدا کیا، وہ محض کیمپس کی چار دیواری تک محدود نہ رہا۔ اس ماحول سے ایسے نوجوان نکلے جنھوں نے بعد میں قومی سیاست، صحافت، ادب اور مزدور تحریکوں میں اہم کردار ادا کیا۔

ان کے ہاں اختلاف رائے جرم نہیں تھا بلکہ سیکھنے کا وسیلہ تھا، وہ مارکس پڑھتے تھے، فیض کوگنگناتے تھے اور ساتھ ہی اپنے عہد کی زمینی حقیقتوں سے جڑے رہتے تھے۔

طلبہ یونینیں محض انتخابی پوسٹروں اور تقریری مقابلوں کا نام نہیں تھیں۔ وہ جمہوری تربیت گاہیں تھیں۔ وہاں ووٹ ڈالنے کا شعور پیدا ہوتا تھا۔ منشور لکھنے کی مشق ہوتی تھی، مخالف سے مکالمہ کرنا سکھایا جاتا تھا۔

اختلاف کو برداشت کرنے اور دلیل سے جواب دینے کی تربیت وہیں پروان چڑھتی تھی۔ یہی وہ نرسری تھی جہاں سے سیاسی بصیرت رکھنے والے رہنما نکلتے تھے۔

جب کوئی نوجوان کلاس روم سے نکل کر جلسے میں تقریر کرتا تھا تو وہ صرف نعرہ نہیں لگاتا تھا بلکہ اپنے اندر ایک اعتماد محسوس کرتا تھا کہ وہ اجتماعی فیصلوں کا حصہ بن سکتا ہے۔

1968 اور 1969 کی تحریک کو کون بھول سکتا ہے؟ ایوب آمریت کے خلاف جب ملک کے مختلف شہروں میں طلبہ سڑکوں پر نکلے تو ان کے ساتھ مزدور اور متوسط طبقہ بھی شامل ہوا۔

یہ اتحاد اچانک پیدا نہیں ہوا تھا، اس کے پیچھے برسوں کی تنظیم سازی مطالعہ اور مکالمہ تھا۔ یہی وہ دور تھا جب نوجوانوں نے آمریت کے ایوانوں کو یہ پیغام دیا کہ تاریخ کا پہیہ بند کمروں میں نہیں روکا جا سکتا۔

اس تحریک نے نہ صرف ایک آمرکو رخصت کیا بلکہ سیاست کے افق پر نئی سوچ کو بھی جنم دیا۔بدقسمتی سے ضیاء الحق کے دور میں طلبہ یونینز پر پابندی لگا دی گئی۔ دلیل یہ دی گئی کہ کیمپس میں تشدد بڑھ رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا تشدد کا حل جمہوری عمل کو معطل کرنا تھا؟ کیا ہمیں اصلاح کی طرف جانا چاہیے تھا یا مکمل خاموشی کی طرف؟ اس پابندی نے ایک پوری نسل کو سیاست کے ابتدائی تجربے سے محروم کردیا۔

جب آپ نوجوانوں سے منظم ہونے کا حق چھین لیتے ہیں تو وہ یا تو بے حسی کا شکار ہو جاتے ہیں یا پھر غیر منظم اور شدت پسند گروہوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔

آج کی یونیورسٹیوں میں طلبہ موجود ہیں، مسائل بھی موجود ہیں مگر اجتماعی آوازکمزور ہے۔ فیسوں میں اضافہ ہو، ہاسٹل کے مسائل ہوں یا نصاب کی فرسودگی زیادہ تر احتجاج سوشل میڈیا کی پوسٹ تک محدود رہ جاتا ہے۔

ڈیجیٹل دنیا نے اظہارکے نئے راستے ضرور دیے ہیں مگر اس میں وہ تربیتی عمل نہیں، جو ایک باقاعدہ یونین فراہم کرتی ہے۔ یونین کا انتخاب لڑنا، منشور بنانا، ساتھیوں کو قائل کرنا، یہ سب سیاسی پختگی کی سیڑھیاں ہیں۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے کئی رہنما طلبہ سیاست سے ابھرے۔ انھوں نے کیمپس میں تنظیم سازی سیکھی، جلسے منظم کیے، اختلاف کا سامنا کیا۔

یہی تجربہ بعد میں قومی سطح پر ان کے کام آیا، اگر آج ہمیں سیاست میں برداشت مکالمے اور نظریاتی سنجیدگی کی کمی محسوس ہوتی ہے تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے اس نرسری کو ویران کردیا ہے جہاں یہ اوصاف پنپتے تھے۔

یقینا ماضی مثالی نہیں تھا۔ طلبہ تنظیموں کے درمیان تصادم بھی ہوئے، اسلحہ بھی آیا اور بعض اوقات بیرونی سیاسی قوتوں نے کیمپس کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا، مگرکیا کسی ادارے کی خرابی اس کی مکمل نفی کا جواز بن سکتی ہے؟

جمہوریت کا حسن ہی یہ ہے کہ وہ غلطیوں سے سیکھتی ہے خود کو بہتر بناتی ہے، اگر ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل کرایا جاتا، اسلحے پر مکمل پابندی لگتی اور انتظامیہ غیر جانبدار رہتی تو شاید صورت حال مختلف ہوتی۔ایک ترقی پسند سماج اپنے نوجوانوں سے خوفزدہ نہیں ہوتا۔

وہ انھیں سوال کرنے، منظم ہونے اور اختلاف کرنے کا حق دیتا ہے،کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہی سوال کل کو سماجی انصاف برابری اور جمہوری استحکام کی بنیاد بنیں گے۔

جب ہم طلبہ یونینزکی بحالی کی بات کرتے ہیں تو دراصل ہم اس امید کی بات کر رہے ہوتے ہیں کہ ہماری سیاست دوبارہ نظریاتی سنجیدگی اور عوامی مسائل کی طرف لوٹے۔

مجھے یاد ہے کہ ایک زمانے میں یونیورسٹی کی دیواروں پر چسپاں پوسٹر محض کاغذ کے ٹکڑے نہیں ہوتے تھے وہ خوابوں کے منشور ہوتے تھے۔

ان خوابوں میں ایک زیادہ منصفانہ سماج کی تصویر ہوتی تھی۔ شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ان خوابوں کو دوبارہ جگہ دیں۔

طلبہ یونینز کی بحالی کوئی انقلابی نعرہ نہیں، یہ جمہوری تسلسل کی ایک کڑی ہے، اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں سیاسی بصیرت اخلاقی جرات اور اجتماعی شعور کے ساتھ آگے بڑھیں تو ہمیں ان کی آواز پر عائد یہ طویل خاموشی ختم کرنا ہوگی۔





Source link

Continue Reading

Trending