Connect with us

Today News

پاک-نیوزی لینڈ میچ منسوخ، پاکستان کیلیے سیمی فائنل میں رسائی مشکل

Published

on



آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے سپر 8 (گروپ 2) کے افتتاحی میچ میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کا میچ بارش کے باعث منسوخ ہو گیا جس نے پاکستان کے لیے سیمی فائنل میں رسائی کو مزید مشکل بنا دیا۔

پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا لیکن بارش نے کھیل شروع ہونے ہی نہ دیا اور 9:05 بجے میچ منسوخ کر دیا گیا۔ اس صورت حال میں دونوں ٹیموں کو ایک-ایک پوائنٹ دیا گیا۔

اس نتیجے نے سپر 8 کے پوائنٹس ٹیبل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے کیونکہ گروپ میں انگلینڈ اور سری لنکا بھی شامل ہیں اور صرف ٹاپ دو ٹیمیں سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کریں گی۔

اب پاکستان کی سیمی فائنل میں جگہ بنانے کے امکانات کچھ اس طرح  ہیں کہ اگر پاکستان اپنے باقی دو میچ (انگلینڈ اور سری لنکا کے خلاف) جیت جاتا ہے تو اسے کل 5 پوائنٹس مل جائیں گے اور وہ سیمی فائنل میں جگہ بنا لے گا۔

ایک میچ جیتنے اور ایک ہارنے کی صورت میں پاکستان کا انحصار دیگر ٹیموں کے نتائج اور نیٹ رن ریٹ پر ہوگا۔ اگر پاکستان نے دونوں میچ ہارے تو پاکستان کے سیمی فائنل کے امکانات ختم ہو جائیں گے۔

اب تمام ٹیموں کے لیے ہر میچ اہم بن گیا ہے اور پاکستان کی قسمت اگلے میچوں اور دوسرے ٹیموں کے نتائج پر منحصر ہوگی۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایک ناقابل فراموش مہمان نوازی

Published

on


مہمان نوازی کے بارے میں آپ نے بہت ساری حکایتیں، کہانیاں اورواقعات سنے ہوں گے، ہم نے بھی پڑھے اورسنے ہیں لیکن ان میں بھی کبھی کبھی محیرالعقول اورمنفرد قسم کے واقعات بھی پیش آجاتے ہیں، مثلاً مشہورسخی اورمہمان نواز حاتم طائی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس مہمان آگئے تھے تو اس کے پاس کچھ بھی ان کی مہمان نوازی کرنے کے لیے نہیں تھا تو اس نے اپنا قیمتی اور واحد اثاثہ چہیتا گھوڑا ذبح کرڈالا تھا ۔

سعادت حسن منٹو نے مشورصحافی دیوان سنگھ مفتون کے بارے میں لکھا ہے کہ دیوان سنگھ مفتون اپنے وقت کا ایک بہت ہی بے باک اورنڈر صحافی تھا۔ ریاست کے نام سے ہفت روزہ نکالتاتھا اورہندوستان کی ریاستوں میں جو مظالم ہوتے تھے، ان پر لکھتا تھا اورہمیشہ مقدمات میں پھنسا رہتا تھا، اس نے اپنی خودنوشت ’’ناقابل فراموش‘‘ میں بڑے دلچسپ واقعات لکھے ہیں۔

منٹو لکھتا ہے کہ میں ایک مرتبہ اس کے پاس اس کے دفتر میں بیٹھا تھا جو اس کی رہائش گاہ بھی تھی اورخود ہی اپنا کھانا پینا تیار کرتا تھا کہ اچانک اس کا ایک مہمان آگیا۔

وہ مجھے الگ لے جاکر بولا، کچھ پیسے جیب میں ہیں؟اتفاقاً میں بھی اس وقت ’’کڑک‘‘ تھا، پھر اس نے اپنے چپراسی کو بلایا اورکہا کہ فلاں دکاندار سے جاکر بئیر کی دس بوتلیں لے آؤ ۔

دکاندار کے پا س اس کا کھاتہ چلتا تھا، چپراسی بوتلیں لے آیا تو دو بوتلیں تو ہم نے پی لیں ، شیشے کی گولی والی بوتلیں تھیں اورباقی غسل خانے میں بہاکر خالی کردیں، پھر چیراسی سے کہا کہ یہ بوتلیں لے جاکر کباڑی کو بیچ آؤ ، چپراسی ایک روپے فی یوتل بیچ کر آیا، تو دس روپے اس وقت بہت تھے، یوں مہمان کی تواضح اس طرح کرلی گئی۔

دوسرا واقعہ سائیں کبیر کا ہے ، سائیں کے بھی مہمان آگئے تھے اورگھر میں کچھ بھی نہ تھا ، سائیں نے بیوی سے کہا کہ فلاں دکاندار کے پاس جا اورکچھ ادھار لے آؤ۔بیوی گئی، سودا لے آئی اوردکاندار سے سائیں کے ساتھ رات کو آنے کا وعدہ کیا۔

مہمان کی تواضع ہوگئی لیکن شام کو سخت بارش ہوگئی، رات کو بارش تو رک گئی لیکن راستوں میں کیچڑ اورپانی بہت کھڑا ہوگیا تھا۔ بیوی جاتے ہوئے ڈر رہی تھی تو کبیر نے کہا جو وعدہ کیا ہے، نبھانا پڑے گا چنانچہ وہ بیوی کو پیٹھ پر دلاکر دکاندار کے گھر پہنچا، بیوی اندر چلی گئی تو دکاندار نے اس کے صاف اورسوکھے پیر دیکھ کر پوچھا، باہرراستوں میں کیچڑ اورپانی ہے، تمہارے پیر صاف کیسے ہیں؟

اس پر بیوی نے ساری بات بتائی کہ میرا شوہر مجھے پیٹھ پر بیٹھاکر لایا ہے کیوں کہ اسے وعدہ خلافی پسند نہیں تھی ،دکاندار سخت متاثر ہوگیا۔ بولا ، ایسے شخص کو تکلیف دینا اچھا نہیں ہے اور بغیر پیسے لیے انھیں باعزت رخصت کردیا ۔

لیکن اب جو واقعہ ہم سنانے والے ہیں، اگر وہ خود ہم پر گزرا نہ ہوتا اورکوئی دوسرا سناتا تو ہم ہرگز یقین نہ کرتے کیوں کہ سالہا سال گزرگئے ہیں لیکن اب بھی جب اس بارے میں سوچتے ہیں تو خیال آتا ہے کہ کیا واقعی ایسا ہوا تھا ؟ لیکن واقعی ایسا ہواتھا اورخود ہم پر ہی گزرا تھا اوروں کی روداد نہیں ۔

ریاست ’’دیر‘‘( ضلع دیر) کا ایک نوجوان تھا جو پشاورمیں پڑھتا تھا، دن کو کالج میں پڑھتا تھا اوررات کو ہمارے اخبار میں پروف ریڈنگ کرتا تھا ، ریاست دیر جہاں اردو خال خال کسی کو آتی ہوگی اور وہاں کا نوجوان اردو اخبار میں پروف ریڈنگ ؟

لیکن ہم نے مدد کی خاطر رکھ لیا تھا ، پروف ریڈنگ ہم زیادہ خود کرلیتے تھے،اسے ہمارے’’ دیر‘‘ کے ایک دوست نے ہمارے پاس بھیجا تھا ، پھر وہ تعلیم مکمل کرکے دیر میں کسی سرکاری پوسٹ پر فائز ہوگیا ،کئی سال بعد ہمارے ایک ٹھیکیدار دوست نے دعوت دی کہ میری بنائی ہوئی سڑک کاافتتاح ہورہا ہے ، آجاؤ، ہم گئے ، یہ دراصل دیر کو ایک اورعلاقے میدان سے منسلک کرنے کے لیے پہاڑوں میں ایک راستہ کھودا گیا جو براول بانڈہ سے گزرتی تھی ، سڑک کی پیمائش تو ٹھیکیدار اورسرکاری لوگ کرتے تھے، ہم سیر کی غرض سے ساتھ ہولیے ۔

براول بانڈہ پہنچے توپتہ چلا کہ ہمارا پروف ریڈر وہاں کا تحصیلدارہے ، ریاست دیر تازہ تازہ پاکستان میں ضم ہوکر صوبہ سرحد کا حصہ بنائی گئی تھی، اس لیے وہاں صوبہ سرحد کے بندوبستی علاقوں اورریاستی دونوں قوانین ساتھ ساتھ چل رہے تھے اورتحصیل دار بہت بڑی چیز ہوا کرتا تھا، وہ ساری تحصیل کی انتطامیہ کاسربراہ ہوتا تھا ۔

ٹھیکیدار، سرکاری لوگ دو دن سڑک کی پیمائش کررہے تھے اورہم سیر میں مصروف تھے کہ بڑا خوبصورت علاقہ تھا۔ واپس آئے تو تحصیل دار نے ہمیں روک لیا کہ دوچار دن میرے ساتھ رہو، ہم پھسل گئے، اتنی بڑی توپ کے مہمان ہونے کے لالچ میں رہ گئے ۔

اورباقی لوگ دیر چلے گئے ،بہت بڑا محل نما بنگلہ تھا ،باغ تھا ، نوکروں اورسرکاری لوگوں کی ریل پیل تھی ، تحصیل دارکے لیے آنے والے تحائف دیکھ کر رشک ہونے لگا ، یہ وہ زمانہ تھا جب امریکا نے نیل آرمسٹرانگ کو چاند پربھیجا تھا، اس کی رننگ کمنٹری ہم نے ریڈیو پر دیرمیں ہی سنی تھی۔

پہلے دن شام کا کھانا ہم نے تحصیل دار کے ساتھ کھایا، دوسرے دن جاگے تو کافی انتظار کے بعدایک نوکر ہمیں ایک کمرے میں لے گیا جس میں ایک میلی دری پر سارے ملازم بیٹھے چائے پی رہے تھے اورسب کے ہاتھ میں ایک سوکھا رسک تھا، ہمیں بھی ایک پیالی کے ساتھ رسک ملا ،پھر باغ میں ایک چارپائی پر لیٹ گئے ۔

دوپہرکو ایک بھونڈے طریقے سے ابالے ہوئے ساگ کے ساتھ ایک روٹی ملی جو ہم نے اسی چارپائی پر بیٹھ کر کھائی ،تحصیل دار کا پوچھا تو دورے پر نکل گئے تھے ، شام کا کھانا بھی ویسے ہی کمرے میں نو کر نے کھلایا ۔

دوسری صبح چائے کے ساتھ رسک بھی نہیں ملا، تحصیل دار اس دن دورے پر نکل گئے ، یہ دن بھی باغ میں اسی چارپائی پر اسی طرح کاکھانا کھا کرگزارا، اس دن بھی تحصیل دار صاحب کاروئے تابان دکھائی نہیں دیا ، سب کچھ حسب معمول تھا ،دوسری صبح وہی ایک پیالی چائے نوش جان کی اورتحصیل دار کا دیدار نہیں ہوپایا تو اپنا بیگ اٹھایا، بس اڈے اورپھر دیر میں اپنے دوستوں کے ہاں پہنچے، اس کے بعد تحصیل دار سے کبھی ملاقلات نہیں ہوئی۔ 

کافی عرصے تک ہم سوچتے رہے کہ جب وہ پشاورمیں تھا تو کہیں ہم نے اسے کوئی آزار تو نہیں پہنچایا تھا جس کا انتقام اس نے اتنی توہین سے بھرپورمہمان نوازی کی صورت میں لیا ، کھانے پینے کی بات تو ایک طرف کردیجیے اگروہ غریب ہوتا تو ہم سوکھی روٹی اورپیاز بھی قبول کرلیتے بلکہ بھوکے رہ کر بھی خوش ہوتے لیکن اس نے تو ہمیں نوکروں کے حوالے کرکے ایک کوڑے لائق چیز سمجھا، کم ازکم رات کوتو دوچارباتیں کرنے کے لیے آسکتا تھا ،کوئی محکوم نہیں بااختیار حاکم تھا ۔

کچھ عرصے بعد پتہ چلا کہ شوگر کے عارضے نے اسے دوسری دنیا پہنچادیا، پھر ہم بھی اسے بھول گئے لیکن اب بھی اس کی وہ مہمان نوازی یاد آتی ہے تو سوچ میں پڑجاتے ہیں کہ کیاواقعی ایسا ہوا تھا؟ ہاں یہ تو میں بتانا بھول گیا کہ اس کاتعلق ایک پیشہ ورجدی پشتی بڑے خاندان سے تھا ۔





Source link

Continue Reading

Today News

افغانستان میں یکے بعد دیگرے فضائی حملے، ننگرہار اور پکتیکا میں شدت پسندوں کے ٹھکانے تباہ

Published

on



کابل:

افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان کے مشرقی صوبوں ننگرہار اور پکتیکا میں دہشت گرد عناصر کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی کارروائیاں کی گئی ہیں، جن کے نتیجے میں اہم انفرااسٹرکچر تباہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں جیٹ طیاروں نے دہشت گرد ٹھکانوں پر حملہ کیا، جہاں زوردار دھماکے کی آوازیں سنی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے استعمال میں آنے والی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا۔

افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ پکتیکا کے بعد صوبہ ننگرہار کے ضلع خوگیانی میں بھی فضائی کارروائی کی گئی، جہاں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملوں میں ممکنہ جانی نقصان کی معلومات سامنے نہیں آ سکی، تاہم مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کا ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ملکی معیشت اور اس کے مسائل

Published

on


پاکستان کی معیشت کے حوالے سے مختلف نوعیت کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ اگر گزرے دو تین برس کا جائزہ لیا جائے تو ملکی معیشت میں قدرے استحکام دیکھنے میں آ رہا ہے۔

معیشت کے دیوالیہ ہونے کی خبریں بند ہو چکی ہیں جب کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی بہتری دیکھنے میں آتی ہے۔ شرح سود میں بھی خاصی کمی واقع ہو چکی ہے۔

پاکستان پر عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بڑھا ہے۔ اگلے روز کی ایک خبر کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کی معیشت میں بہتری کا اعتراف کیا ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ مالی سال 2025میں پاکستان کی مالی کارکردگی مضبوط رہی اور جی ڈی پی کا 1.3فیصد بنیادی مالیاتی سرپلس حاصل کیا گیا ہے، یہ آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف کے مطابق ہے۔

یہ انکشاف آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک نے واشنگٹن میں ایک پریس بریفنگ میں کیا ہے۔انھوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ آئی ایم ایف کا وفد 25فروری سے پاکستان کا دورہ کرے گا، آئی ایم ایف کا یہ وفد اپنے دورے کے دوران توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت تیسرے جب کہ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے دوسرے جائزے پر بات چیت کرے گا۔

انھوں نے اعتراف کیا کہ ای ایف ایف کے تحت پاکستان کی پالیسیوں سے معیشت کو استحکام ملا، اصلاحات سے معاشی اعتماد میں اضافہ ہوا۔آئی ایم ایف نے ٹیکس نظام میں سادگی اور شفافیت بڑھانے کی سفارشات کی ہیں، سرکاری خریداری کی نظام میں شفافیت پرزوردیا ہے۔

پاکستان کے ٹیکس نظام میں اصلاحات وقت کی ضرورت ہے۔قوانین میں موجود پیچیدگیوں اور ابہام کا خاتمہ کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ اس وقت ٹیکس کا نظام بہت زیادہ پیچیدہ ہے۔

خصوصاً کم آمدنی والا ایسا طبقہ جو انکم ٹیکس کی سلیب کے تحت ٹیکس نیٹ میں آ جاتا ہے، اسے اپنا گوشوارہ جمع کروانے کے لیے وکیل کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ وہ یہ گوشوارہ خود سے تیار نہیں کر سکتا۔

اگر یہ سادہ ہو تو تنخواہ دار طبقہ اور چھوٹا دکاندار وکیل کی فیس دینے سے بچ سکتا ہے اور وہ خود ہی اپنا گوشوارہ تیار کر کے ایف بی آر کو بھجوا سکتا ہے۔

آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک نے بتایا کہ مالی سال 2025 میں مہنگائی کی شرح قابو میں رہی جب کہ مالی سال 2025میں ملک نے 14سال بعد پہلی مرتبہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس بھی ریکارڈ کیا۔

آئی ایم ایف پروگرام سے عالمی اداروں کا اعتماد بحال ہوا ہے، گورننس اینڈ کرپشن ڈائگناسٹک رپورٹ حال ہی میں شائع کی گئی، رپورٹ میں اصلاحات کی تجاویز شامل ہیں، ٹیکس پالیسی کو سادہ بنانا اہم ترین ٹیکس اصلاحات ہے۔

جیولی کوزیک کا مزید کہنا تھا کہ حال ہی میں گورننس اور کرپشن سے متعلق رپورٹ بھی جاری کی گئی ہے جس میں اصلاحات کی تجاویز شامل ہیں۔ ٹیکس نظام کو آسان بنانا اور سرکاری خریداری میں شفافیت بھی شامل ہے۔

 آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک کی باتیں حوصلہ افزا ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف پاکستانی حکومت کی معاشی ٹیم کی کارکردگی سے مطمئن ہے، البتہ آئی ایم ایف نے کئی معاملات میں اپنی سفارشات پیش کی ہیں جو کہ قابل غور ہونی چاہئیں۔

ادھر جمعہ کو سرکاری سروے رپورٹ سامنے آئی ہے۔ ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ یہ سروے رپورٹ وفاقی وزیرمنصوبہ بندی وترقی احسن اقبال نے جاری کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سات برسوں کے دوران لوگوں کی حقیقی آمدن اور اخراجات میں بڑی تنزلی دیکھی گئی ہے، پاکستان میں سات کروڑ افراد انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں جن کی آمدنی صرف 8,484 روپے تک ہے۔

سال2018-19ء سے 2024-25کے عرصہ کے دوران غربت میں32 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 2014  کے بعد یہ بلندترین شرح ہے جب غربت کی شرح 29.5 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ دولت کی عدم مساوات 32.7 تک پہنچ چکی ہے۔

اس سے قبل دولت کی عدم مساوات کی سب سے بلند شرح 1998 میں ریکارڈ کی گئی تھی جو31.1 فیصد تھی۔ پاکستان کو اس وقت 21 سال میں بیروگاری کی بلندترین شرح کا سامنا ہے جو 7.1 ہوچکی ہے۔

وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غربت میں اضافہ آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے ہوا کیونکہ اس پروگرام کے سبب حکومت کو بعض شعبوں کو دی جانے والے سبسڈیز کو واپس لینا پڑا ،جب کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدرمیں بھی گراوٹ آئی ۔

اس کے علاوہ کورونا سمیت دیگر قدرتی آفات اوراقتصادی شرح نمو میں کمی بھی غربت بڑھنے کی وجوہات ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 13 برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ غربت میں کمی کے رجحان کا پہیہ الٹا گھوما ہے اور اس کے برے اثرات حکومت کی پالیسیوں اور لوگوں کی سماجی ومعاشی زندگیوں پربھی نظر آئے ہیں۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ دیہی علاقوں میں غربت 28.2 فیصد سے بڑھ کر  36.2فیصد،شہری علاقوں میں یہ شرح 11 فیصد سے بڑھ کر17.4فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

صوبائی سطح پر پنجاب میں گزشتہ سات برسوں کے دوران غربت کی شرح 41 فیصد اضافے کے ساتھ 16.5سے بڑھ کر 23.3فیصد ،سندھ میں 24.5 فیصد سے بڑھ کر 32.6 فیصد،خیبرپختونخوا میں 28.7 فیصد سے بڑھ کر 35.3 فیصد جب کہ بلوچستان میں 42 فیصد سے 12.4 فیصد اضافے کے ساتھ 47 فیصد ہوچکی ہے۔

لوگوں کی حقیقی ماہانہ آمدنی جو 2019ء میں 35,454 روپے تھی گزشتہ مالی سال تک 12 فیصد کمی کے ساتھ گر کر31,127 روپے رہ گئی ہے۔

لوگوں کے ماہانہ اخراجات 31,711 روپے سے گرکر 29,980 روپے ہوگئے ہیں۔اسی طرح پنجاب میں دولت کی عدم مساوات 28.4 فیصد سے بڑھ کر32 فیصد ،سندھ میں 29.7  فیصد سے بڑھ کر 35.9 فیصد،خیبرپختونخوا میں 24.8 فیصد سے بڑھ کر 29.4 فیصد جب کہ بلوچستان میں21 فیصد سے بڑھ کر 26.5 فیصد ہوچکی ہے۔

لیبرمارکیٹ کا بھی برا حال ہے،بڑے پیمانے کی صنعتوںکی پیداوار کورونا وبا کی پہلے کی سطح پر رکی ہوئی ہے جہاں سے اب روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہورہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر لوگوں کی آمدنی میں کوئی اضافہ بھی ہوا ہے تو مہنگائی نے اسے ختم کردیا ہے ۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملکی معیشت میں حالیہ بہتری کا بھی لوگوں کی عام زندگیوں پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا کیونکہ مہنگائی کی بلند شرح،توانائی کی بڑھتی قیمتوں،روپے کی شرح مبادلہ گرنے ،بھاری ٹیکسوں خاص طور پربراہ راست لگنے والے ٹیکسوں نے لوگوں کی زندگیوں پر بڑے اثرات مرتب کیے ہیں۔

اس سے لوگوں کے لیے اپنے ضروری اخراجات پورے کرنے مشکل ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی قوت خرید جواب دے گئی ہے۔احسن اقبال نے غربت بڑھنے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے مزید کہا کہ پہلی بارتو2018 میں اقتصادی ترقی کا سفر متاثر ہوا اس کے بعد 2022 میں ملکی معیشت کریش کرگئی ۔

ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے غربت ختم نہیں ہوسکتی ،اس کے لیے ہمیں معاشی گروتھ اور دولت کی پیدا واریت کی طرف جانا ہوگا۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ بیروزگاری اور کم پیداواریت سے غربت بڑھی ہے،صرف 90 لاکھ پاکستانی جو بیرون ملک مقیم ہیں 40 ارب ڈالر سالانہ زرمبادلہ بھیج رہے ہیں باقی24 کروڑ کی آبادی 40 ارب ڈالر کے برابر ایکسپورٹ کے بھی قابل نہیں۔

جب ان سے ملکی معیشت کی بدحالی میں وفاقی حکومت کے کردارکے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا ہمیں پہلے تین سال تو پی ٹی آئی کی تباہی کے اثرات دور کرنے میں ہی لگے ہیں۔

انھیں امید ہے کہ اب اگلے مرحلے پر ہم اقتصادی شرح نمو بڑھانے اور غربت کی شرح میں کمی لانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

انھوں نے موجودہ آئی ایم ایف پروگرام سے قبل ازوقت نکلنے کی باتوں کو مسترد کردیا اور کہا کو حکومت زراعت او رآئی ٹی سیکٹرز کو فروغ دے کرمشکلات سے نکل سکتی ہے۔

حکومت کی طرف سے شروع کی گئی اصلاحات نے غربت کے خاتمے کی بنیاد رکھ دی ہے لیکن اس صورتحال سے نکلنے کے لیے ہمیں پائیدارروزگارکی ترقی ،حقیقی آمدنی کو بحال کرنے سماجی تحفظ کی طرف جانا ہوگا۔

پاکستان میں گراس روٹ لیول پر جو معاشی مسائل نظر آ رہے ہیں، ان کی وجوہات میں ایک وجہ غیرپیداواری اخراجات میں اضافہ ہونا بھی شامل ہے۔

دوسری طرف خیبرپختونخوا خصوصاً سابقہ فاٹا کا ایریا، بلوچستان، اندرون سندھ اور جنوبی پنجاب سے وفاقی ٹیکسوں کی وصولی نہ ہونے کے برابر ہے۔

اس کے علاوہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں وفاقی اخراجات میں بہت زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔ غربت کی شرح میں کمی کے لیے صوبائی حکومتوں کو بھی اپنے حصے کا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending