Connect with us

Today News

کراچی؛ رینجرز کی کارروائی، لوٹ مار کی وارداتوں میں ملوث 5 ملزمان گرفتار

Published

on



رینجرز نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر چھاپہ مار کارروائی کے دوران مسافر بس میں جیب تراشی اور لوٹ مار کی متعدد وارداتوں میں ملوث 5 ملزمان کو گرفتار کرلیا اور ان کے قبضے سے موبائل فونز اور رقم بھی برآمد کرلی۔

ترجمان رینجرز کے مطابق بلدیہ ٹاؤن مواچھ موڑ کے قریب مسافر بس میں لوٹ مار کی اطلاع پر رینجرز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 5 ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر کے 4 موبائل فونز اور نقدی برآمد کرلی۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کا گروہ 10 سے 12 افراد پر مشتمل ہے جو پچھلے دو سال سے کراچی کے مختلف علاقوں سے موبائل فون چھیننے اور جیب تراشی کی متعدد وارداتوں میں ملوث ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ گرفتار ملزمان روزانہ کی بنیاد پر 5 سے 6 موبائل فونز چھین کر انھیں فروخت کے بعد رقم آپس میں تقسیم کرلیا کرتے تھے۔

ترجمان کے مطابق گرفتار ملزمان نے انکشاف کیا ہے کہ گرفتاری کی صورت میں پولیس کے معطل اہلکار انہیں چھڑوانے میں کردار ادا کرتے ہیں جس کے عوض اہلکاروں کو روزانہ کی بنیاد پر کچھ رقم فراہم کی جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان کو برآمد کیے جانے والے مسروقہ سامان کے ہمراہ مزید قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ماہِ رمضان اور غربت – ایکسپریس اردو

Published

on


رمضان المبارک کا مہینہ پورے عالم اسلام کے لیے خیر و برکت کا پیغام لاتا ہے۔ رمضان المبارک کے متعلق قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں نفس کی تطہیر اور پاکیزگی پر زور دیا گیا ہے۔

روزے کی روح کے مطابق ہمیں اپنے اعمال میں تقویٰ اور مال میں کمزور اور محروم لوگوں کو بھی شامل کرنا چاہیے۔ بھوک اور پیاس کی شدت یہ احساس دلاتی ہے کہ جو لوگ محرومیوں کے سبب اس کشٹ سے گزرتے ہیں ان پر کیا گزرتی ہوگی؟

اس اعتبار سے انفرادی عبادت کے ساتھ ساتھ رمضان المبارک دلوں میں دوسروں کے لیے گداز اور اپنے اعمال میں پاکیزگی کا آفاقی پیغام ہے۔

رمضان المبارک سے کچھ پہلے اور رمضان المبارک کے دوران بہت سے چیرٹی اور فلاحی اداروں کی طرف سے عطیات اور زکوٰۃ کی اپیلیں سامنے آتی ہیں۔

پاکستانی اس اعتبار سے قابل فخر قوم ہیں جس میں نامساعد حالات اور مشکلات کے باوجود بالعموم دوسروں کی مدد کا جذبہ نمایاں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ عالمی ورلڈ گیونگ رپورٹ کے مطابق بھی پاکستان ان ممالک میں سر فہرست ہے جو اپنے مال میں سے دوسروں کے لیے عطیات اور خیرات کی صورت حصہ نکالتے رہتے ہیں۔

حسن اتفاق ہے کہ رمضان المبارک کے آغاز پر پلاننگ کمیشن نے ملک میں غربت اور عدم مساوات رپورٹ کے نتائج پیش کیے ہیں، 2018/19 کے بعد کیے گئے ملک بھر میں غربت اور عدم مساوات پر مبنی اس سروے کے نتائج چونکا دینے والے ہیں۔

بظاہر سماجی استحکام کے نیچے عوام کی ایک کثیر تعداد انتہائی مشکل زندگی گزار رہی ہے۔ ستم یہ کہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی مشکلات میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت سات کروڑ افراد انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ گزشتہ سات سال کے دوران میں غربت کی شرح میں 32 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ غربت کی شرح 21.9 فیصد سے بڑھ کر 28.9 فیصد ہو گئی۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 11 سالوں کے دوران یہ غربت کی بلند ترین شرح ہے۔ سب سے خطرناک صورت حال دولت کی عدم مساوات ہے جو بڑھ کر 32.7 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

سروے کے مطابق پاکستان کو اس وقت بلند ترین بے روزگاری کی شرح کا بھی سامنا ہے جو 7.1 فیصد ہے۔ یوں غربت بھی 11 برسوں کی بلند ترین سطح پر اور دولت کی عدم مساوات گزشتہ 27 برسوں کی بلند ترین سطح پر ہے۔

غربت، عدم مساوات اور بے روزگاری بڑھنے کی وجوہات جانی پہچانی بتائی گئی ہیں کہ غربت میں اضافہ آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے ہوا کیونکہ اس پروگرام کے سبب حکومت کو بعض شعبوں کو دی جانے والی سبسڈی کو واپس لینا پڑا۔

ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں ریکارڈ کمی ہوئی۔ کرونا سمیت دیگر قدرتی آفات اور اقتصادی شرح نمو میں کمی نے غربت بڑھنے کی راہ ہموار کی۔

یہ خوفناک اقتصادی منظرنامہ گواہ ہے کہ حکومتوں کے لیے کار سرکار چلانا پہلی ترجیح ہے۔ عوامی فلاح کے لیے درکار پالیسیوں کی راہ میں اکثر آئی ایم کی شرائط سدراہ بن جاتی ہیں یا پھر خالی خزانے کی ویرانی کچھ کرنے نہیں دیتی۔

ایسے میں موجودہ حکومتی سوشل سیفٹی نیٹ پروگرام کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کے نان پرافٹ اور چیرٹی اداروں کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہو جاتا ہے۔ وہ خلا جسے ریاست مکمل طور پر پْر نہیں کر پاتی، منظم فلاحی ادارے اسے جزوی طور پر پورا کرتے ہیں۔

خاص طور پر صحت کے شعبے میں، جہاں سرکاری اسپتالوں پر بوجھ اور نجی علاج کی مہنگائی نے متوسط اور نچلے طبقے کو بے بس کر رکھا ہے۔

Charities Aid Foundation کی مرتب کردہ World Giving Report کے مطابق پاکستان مسلسل ان ممالک میں شامل ہے جہاں لوگ دل کھول کر عطیات دیتے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 60 فیصد سے زائد افراد نے سال کے دوران کسی نہ کسی صورت خیرات دی، جب کہ بہت نمایاں تعداد اجنبی کی مدد کرنے یا رضاکارانہ خدمات انجام دینے میں بھی پیش پیش رہی۔

اس پس منظر میں ہمارے ہاں وہ بے شمار فلاحی ادارے غنیمت اور قابل قدر ہیں جو زندگی کے مختلف شعبوں میں سالہاسال سے بے لوث خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔

زلزلے ہوں یا سیلاب، تعلیم ہو یا صحت، اپنے اپنے انداز اور بساط کے مطابق لا تعداد ادارے فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔

خوش قسمتی سے ہمارے ہاں درجنوں ایسے ادارے ہیں جنھوں نے اپنے انتظام اور ڈھانچے کو انتہائی منظم انداز میں تشکیل دیا ہے جس کے سبب یہ ادارے تسلسل اور اہتمام کے ساتھ اپنے اپنے شعبے میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

تعلیم کے میدان میں ٹی سی ایف، غزالی ایجوکیشن فاؤنڈیشن، ریڈ فاؤنڈیشن، الخدمت سمیت درجنوں ایسے ادارے ہیں جو لاکھوں بچوں کی تعلیم کا بندوبست کر رہے ہیں۔ صحت کے میدان میں انڈس اسپتال، ایس آئی یو ٹی، شوکت خانم میموریل اسپتال، گھرکی اسپتال، سندس فاؤنڈیشن سمیت بہت سے ادارے قابل قدر کام کر رہے ہیں۔

ایسے اداروں میں ایک قابل قدر نام چوہدری رحمت علی میموریل ٹرسٹ ٹاؤن شپ لاہور کا بھی ہے جس کے پانچ مختلف ادارے چار دہائیوں سے خدمت خلق میں مصروف ہیں۔

چوہدری رحمت علی اسپتال 40 سال سے لاکھوں مریضوں کی خدمت کر رہا ہے جہاں مستحق اور نادار مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے۔

سال 2025 کے دوران چوہدری رحمت علی اسپتال سے پونے تین لاکھ مریض مستفید ہوئے۔ چوہدری رحمت علی میموریل ٹرسٹ کے تین تعلیمی ادارے ہزاروں طلباء کو انتہائی کم قیمت اور مستحق اور نادار طلبہ کو وظائف کے ساتھ معیاری تعلیم مہیا کر رہے ہیں۔

رمضان کے اس بابرکت مہینے میں اپنی زکات اور عطیات کی تقسیم میں انفرادی مستحقین کے ساتھ ساتھ منظم اداروں کو بھی یاد رکھیے۔ تعیلم، صحت اور دیگر فلاحی کاموں میں مصروف دیگر اداروں کے ہمراہ چوہدری رحمت علی اسپتال ٹاؤن شپ لاہور بھی آپ کی توجہ کا طالب ہے تاکہ کوئی مریض محض وسائل کی کمی کے باعث علاج سے محروم نہ رہے۔

زکوٰۃ اور عطیات کے لیے چوہدری رحمت علی میموریل ٹرسٹ کے بینک اکاؤنٹ:زکوٰۃ: 201139351240202،بینک اسلامی پاکستان ،عطیات:21223312677636،نیشنل بنک پاکستان۔ قومیں صرف معاشی نمو سے نہیں، سماجی ہمدردی سے بھی مستحکم ہوتی ہیں۔

اگر ہم نے اپنی سخاوت کو حکمت کے ساتھ جوڑ لیا تو شاید آیندہ کسی رپورٹ میں غربت اور عدم مساوات کے اعداد و شمار کچھ بہتر دکھائی دیں۔
 





Source link

Continue Reading

Today News

ایک ناقابل فراموش مہمان نوازی

Published

on


مہمان نوازی کے بارے میں آپ نے بہت ساری حکایتیں، کہانیاں اورواقعات سنے ہوں گے، ہم نے بھی پڑھے اورسنے ہیں لیکن ان میں بھی کبھی کبھی محیرالعقول اورمنفرد قسم کے واقعات بھی پیش آجاتے ہیں، مثلاً مشہورسخی اورمہمان نواز حاتم طائی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس مہمان آگئے تھے تو اس کے پاس کچھ بھی ان کی مہمان نوازی کرنے کے لیے نہیں تھا تو اس نے اپنا قیمتی اور واحد اثاثہ چہیتا گھوڑا ذبح کرڈالا تھا ۔

سعادت حسن منٹو نے مشورصحافی دیوان سنگھ مفتون کے بارے میں لکھا ہے کہ دیوان سنگھ مفتون اپنے وقت کا ایک بہت ہی بے باک اورنڈر صحافی تھا۔ ریاست کے نام سے ہفت روزہ نکالتاتھا اورہندوستان کی ریاستوں میں جو مظالم ہوتے تھے، ان پر لکھتا تھا اورہمیشہ مقدمات میں پھنسا رہتا تھا، اس نے اپنی خودنوشت ’’ناقابل فراموش‘‘ میں بڑے دلچسپ واقعات لکھے ہیں۔

منٹو لکھتا ہے کہ میں ایک مرتبہ اس کے پاس اس کے دفتر میں بیٹھا تھا جو اس کی رہائش گاہ بھی تھی اورخود ہی اپنا کھانا پینا تیار کرتا تھا کہ اچانک اس کا ایک مہمان آگیا۔

وہ مجھے الگ لے جاکر بولا، کچھ پیسے جیب میں ہیں؟اتفاقاً میں بھی اس وقت ’’کڑک‘‘ تھا، پھر اس نے اپنے چپراسی کو بلایا اورکہا کہ فلاں دکاندار سے جاکر بئیر کی دس بوتلیں لے آؤ ۔

دکاندار کے پا س اس کا کھاتہ چلتا تھا، چپراسی بوتلیں لے آیا تو دو بوتلیں تو ہم نے پی لیں ، شیشے کی گولی والی بوتلیں تھیں اورباقی غسل خانے میں بہاکر خالی کردیں، پھر چیراسی سے کہا کہ یہ بوتلیں لے جاکر کباڑی کو بیچ آؤ ، چپراسی ایک روپے فی یوتل بیچ کر آیا، تو دس روپے اس وقت بہت تھے، یوں مہمان کی تواضح اس طرح کرلی گئی۔

دوسرا واقعہ سائیں کبیر کا ہے ، سائیں کے بھی مہمان آگئے تھے اورگھر میں کچھ بھی نہ تھا ، سائیں نے بیوی سے کہا کہ فلاں دکاندار کے پاس جا اورکچھ ادھار لے آؤ۔بیوی گئی، سودا لے آئی اوردکاندار سے سائیں کے ساتھ رات کو آنے کا وعدہ کیا۔

مہمان کی تواضع ہوگئی لیکن شام کو سخت بارش ہوگئی، رات کو بارش تو رک گئی لیکن راستوں میں کیچڑ اورپانی بہت کھڑا ہوگیا تھا۔ بیوی جاتے ہوئے ڈر رہی تھی تو کبیر نے کہا جو وعدہ کیا ہے، نبھانا پڑے گا چنانچہ وہ بیوی کو پیٹھ پر دلاکر دکاندار کے گھر پہنچا، بیوی اندر چلی گئی تو دکاندار نے اس کے صاف اورسوکھے پیر دیکھ کر پوچھا، باہرراستوں میں کیچڑ اورپانی ہے، تمہارے پیر صاف کیسے ہیں؟

اس پر بیوی نے ساری بات بتائی کہ میرا شوہر مجھے پیٹھ پر بیٹھاکر لایا ہے کیوں کہ اسے وعدہ خلافی پسند نہیں تھی ،دکاندار سخت متاثر ہوگیا۔ بولا ، ایسے شخص کو تکلیف دینا اچھا نہیں ہے اور بغیر پیسے لیے انھیں باعزت رخصت کردیا ۔

لیکن اب جو واقعہ ہم سنانے والے ہیں، اگر وہ خود ہم پر گزرا نہ ہوتا اورکوئی دوسرا سناتا تو ہم ہرگز یقین نہ کرتے کیوں کہ سالہا سال گزرگئے ہیں لیکن اب بھی جب اس بارے میں سوچتے ہیں تو خیال آتا ہے کہ کیا واقعی ایسا ہوا تھا ؟ لیکن واقعی ایسا ہواتھا اورخود ہم پر ہی گزرا تھا اوروں کی روداد نہیں ۔

ریاست ’’دیر‘‘( ضلع دیر) کا ایک نوجوان تھا جو پشاورمیں پڑھتا تھا، دن کو کالج میں پڑھتا تھا اوررات کو ہمارے اخبار میں پروف ریڈنگ کرتا تھا ، ریاست دیر جہاں اردو خال خال کسی کو آتی ہوگی اور وہاں کا نوجوان اردو اخبار میں پروف ریڈنگ ؟

لیکن ہم نے مدد کی خاطر رکھ لیا تھا ، پروف ریڈنگ ہم زیادہ خود کرلیتے تھے،اسے ہمارے’’ دیر‘‘ کے ایک دوست نے ہمارے پاس بھیجا تھا ، پھر وہ تعلیم مکمل کرکے دیر میں کسی سرکاری پوسٹ پر فائز ہوگیا ،کئی سال بعد ہمارے ایک ٹھیکیدار دوست نے دعوت دی کہ میری بنائی ہوئی سڑک کاافتتاح ہورہا ہے ، آجاؤ، ہم گئے ، یہ دراصل دیر کو ایک اورعلاقے میدان سے منسلک کرنے کے لیے پہاڑوں میں ایک راستہ کھودا گیا جو براول بانڈہ سے گزرتی تھی ، سڑک کی پیمائش تو ٹھیکیدار اورسرکاری لوگ کرتے تھے، ہم سیر کی غرض سے ساتھ ہولیے ۔

براول بانڈہ پہنچے توپتہ چلا کہ ہمارا پروف ریڈر وہاں کا تحصیلدارہے ، ریاست دیر تازہ تازہ پاکستان میں ضم ہوکر صوبہ سرحد کا حصہ بنائی گئی تھی، اس لیے وہاں صوبہ سرحد کے بندوبستی علاقوں اورریاستی دونوں قوانین ساتھ ساتھ چل رہے تھے اورتحصیل دار بہت بڑی چیز ہوا کرتا تھا، وہ ساری تحصیل کی انتطامیہ کاسربراہ ہوتا تھا ۔

ٹھیکیدار، سرکاری لوگ دو دن سڑک کی پیمائش کررہے تھے اورہم سیر میں مصروف تھے کہ بڑا خوبصورت علاقہ تھا۔ واپس آئے تو تحصیل دار نے ہمیں روک لیا کہ دوچار دن میرے ساتھ رہو، ہم پھسل گئے، اتنی بڑی توپ کے مہمان ہونے کے لالچ میں رہ گئے ۔

اورباقی لوگ دیر چلے گئے ،بہت بڑا محل نما بنگلہ تھا ،باغ تھا ، نوکروں اورسرکاری لوگوں کی ریل پیل تھی ، تحصیل دارکے لیے آنے والے تحائف دیکھ کر رشک ہونے لگا ، یہ وہ زمانہ تھا جب امریکا نے نیل آرمسٹرانگ کو چاند پربھیجا تھا، اس کی رننگ کمنٹری ہم نے ریڈیو پر دیرمیں ہی سنی تھی۔

پہلے دن شام کا کھانا ہم نے تحصیل دار کے ساتھ کھایا، دوسرے دن جاگے تو کافی انتظار کے بعدایک نوکر ہمیں ایک کمرے میں لے گیا جس میں ایک میلی دری پر سارے ملازم بیٹھے چائے پی رہے تھے اورسب کے ہاتھ میں ایک سوکھا رسک تھا، ہمیں بھی ایک پیالی کے ساتھ رسک ملا ،پھر باغ میں ایک چارپائی پر لیٹ گئے ۔

دوپہرکو ایک بھونڈے طریقے سے ابالے ہوئے ساگ کے ساتھ ایک روٹی ملی جو ہم نے اسی چارپائی پر بیٹھ کر کھائی ،تحصیل دار کا پوچھا تو دورے پر نکل گئے تھے ، شام کا کھانا بھی ویسے ہی کمرے میں نو کر نے کھلایا ۔

دوسری صبح چائے کے ساتھ رسک بھی نہیں ملا، تحصیل دار اس دن دورے پر نکل گئے ، یہ دن بھی باغ میں اسی چارپائی پر اسی طرح کاکھانا کھا کرگزارا، اس دن بھی تحصیل دار صاحب کاروئے تابان دکھائی نہیں دیا ، سب کچھ حسب معمول تھا ،دوسری صبح وہی ایک پیالی چائے نوش جان کی اورتحصیل دار کا دیدار نہیں ہوپایا تو اپنا بیگ اٹھایا، بس اڈے اورپھر دیر میں اپنے دوستوں کے ہاں پہنچے، اس کے بعد تحصیل دار سے کبھی ملاقلات نہیں ہوئی۔ 

کافی عرصے تک ہم سوچتے رہے کہ جب وہ پشاورمیں تھا تو کہیں ہم نے اسے کوئی آزار تو نہیں پہنچایا تھا جس کا انتقام اس نے اتنی توہین سے بھرپورمہمان نوازی کی صورت میں لیا ، کھانے پینے کی بات تو ایک طرف کردیجیے اگروہ غریب ہوتا تو ہم سوکھی روٹی اورپیاز بھی قبول کرلیتے بلکہ بھوکے رہ کر بھی خوش ہوتے لیکن اس نے تو ہمیں نوکروں کے حوالے کرکے ایک کوڑے لائق چیز سمجھا، کم ازکم رات کوتو دوچارباتیں کرنے کے لیے آسکتا تھا ،کوئی محکوم نہیں بااختیار حاکم تھا ۔

کچھ عرصے بعد پتہ چلا کہ شوگر کے عارضے نے اسے دوسری دنیا پہنچادیا، پھر ہم بھی اسے بھول گئے لیکن اب بھی اس کی وہ مہمان نوازی یاد آتی ہے تو سوچ میں پڑجاتے ہیں کہ کیاواقعی ایسا ہوا تھا؟ ہاں یہ تو میں بتانا بھول گیا کہ اس کاتعلق ایک پیشہ ورجدی پشتی بڑے خاندان سے تھا ۔





Source link

Continue Reading

Today News

افغانستان میں یکے بعد دیگرے فضائی حملے، ننگرہار اور پکتیکا میں شدت پسندوں کے ٹھکانے تباہ

Published

on



کابل:

افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان کے مشرقی صوبوں ننگرہار اور پکتیکا میں دہشت گرد عناصر کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی کارروائیاں کی گئی ہیں، جن کے نتیجے میں اہم انفرااسٹرکچر تباہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں جیٹ طیاروں نے دہشت گرد ٹھکانوں پر حملہ کیا، جہاں زوردار دھماکے کی آوازیں سنی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے استعمال میں آنے والی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا۔

افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ پکتیکا کے بعد صوبہ ننگرہار کے ضلع خوگیانی میں بھی فضائی کارروائی کی گئی، جہاں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملوں میں ممکنہ جانی نقصان کی معلومات سامنے نہیں آ سکی، تاہم مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کا ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending