Connect with us

Today News

’ابھی تک ایک رن اسکور نہیں کیا‘، بھارتی کپتان کا ابھیشیک شرما سے متعلق بڑا بیان!

Published

on



بھارت کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان سوریا کمار یادو کا کہنا ہے کہ انہیں ان لوگوں کی فکر ہے جن کو ابھیشیک کی فارم کی فکر ہے۔

پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لوگ ابھیشیک کی فارم کے لیے اتنے فکرمند کیوں ہیں۔ وہ ان ٹیمیوں سے متعلق سوچتے ہیں جن کے خلاف ابھیشیک کھیلیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس نے ابھی تک ایک رن بھی اسکور نہیں کیا ہے۔ جب وہ اسکور کرتا ہے تو آپ دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔

بھارتی کپتان نے کہا کہ ایسا ہوتا ہے، یہ ٹیم اسپورٹس ہے۔ اب ٹیم کی ضرورت ہے کہ یہ لڑکا اپنی شناخت کے ساتھ کھیلے اور وہ ایسا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ٹھیک ہے، ہم وہاں کوور کرنے کے لیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس اس نے ٹیم کو کوور کیا، اب ہم اس کو کوور کریں گے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

امان اللہ نیئر شوکت : بچوں اور بڑوں کے پسندیدہ ادیب

Published

on


امان اللہ نیئر شوکت اپنی عاجزی و انکساری اور ملنساری کے وصف ہر عام و خاص میں مقبول ہیں۔ زندگی کے طویل سفر میں شہرت کی بلندیوں پر پہنچ کر بھی وہ اپنے وصف کے ساتھ کامیابیاں اورکامرانیاں سمیٹ رہے ہیں۔

کمال کی بات یہ ہے کہ خود کو بطور شاعر اور ادیب ہوتے ہوئے دوسرے اُبھرنے والے لکھاریوں کے لیے راہ ہموارکرنے اور ان کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ان کی بہترین رہنمائی کا فریضہ عبادت سمجھ کر ادا کر رہے ہیں۔

امان اللہ نیئر شوکت ایک محنتی اور دیانتدار آدمی ہے، ان کی تمام عمر محنت کرتے گزری، بچوں کی دنیا میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ، ضلع لیہ سے تعلق رکھنے والے امان اللہ نیئر شوکت پاکستان بننے سے چار سال قبل پیدا ہوئے۔

پانچ برس کی عمر میں والدین نے انھیں دینی اور مذہبی تعلیم حاصل کرنے کے لیے مسجد بھیجا۔ نماز اور قرآنِ مجید پڑھنا سیکھ لیا جس پر آج بھی پابند ہیں۔ لیہ کے ایک پرائمری اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی،گورنمنٹ ہائی اسکول سے دس جماعتیں نمایاں نمبروں سے پاس کیں۔

ان کے والد گرامی عبدالرحمن خان بلوچ مقامی پوسٹ آفس میں جنرل پوسٹ ماسٹر تھے۔ وہ شاعر بھی تھے اور پاک و ہند کے رسائل میں شاعری کرتے۔

انھوں نے پہلی مرتبہ نظم ’’ کھلونا ‘‘ لکھ کر اپنے والد کو دکھائی جس پر انھوں نے نوک پلک سنوارکر انڈیا کے ایک بچوں کے رسالہ ماہنامہ ’’جریدہ‘‘ میں بجھوا دی ۔

اس حوالے سے وہ بتاتے ہیں کہ ’’ اس نظم کی اشاعت پر میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا، یہ نظم میرے خاندانی نام امان اللہ خان بلوچ کے نام شائع ہوئی۔ ‘‘ ساٹھ کی دہائی کی بات ہے جب وہ حصولِ روزگار کے لیے اپنی ہمشیرہ کے پاس رہائش پذیر ہوئے اور مال روڈ پر الفلاح بلڈنگ میں بطور لفٹ آپریٹر سروس کر لی اور جلد ہی اپنی دوسری نظم لفٹ چلاتے ہوئے ’’ لفٹ کی سیر‘‘ لکھی جو بہت سے رسالوں میں شائع ہوئی۔

سن ستر میں لاہور سے شائع ہونے والے رسالہ بچوں کا ڈائجسٹ میں مدیر اعلیٰ کی حیثیت سے 27 برس کام کیا اور اس سنہری دور میں بہت سے شاعروں اور ادیبوں کو متعارف کروایا۔

لاہور سے شائع ہونے والے بہت سے اخبارات میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کے صفحات کو ایڈیٹ بھی کروایا۔ اس کے علاوہ بہت سے رسالوں میں لکھا۔

جن میں قابل ذکر ان گنت رسالے شامل ہیں۔ ابصار عبدالعلیؒ ایک جگہ ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ’’ امان اللہ نیئر شوکت نے اپنی زندگی کے شب و روز ادب اطفال کی تخلیق اور بچوں کی ادبی صحافت کے فروغ کے لیے وقف کر رکھے ہیں۔

بچوں کے مقبول ادیب محترم مرزا ادیب کی طرح خاموشی اور خاکساری سے اپنی تخلیقی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی اپنے عمل کی طرف راغب کرتے رہتے ہیں۔

اس کا اندازہ ان کے رسالہ ’’بچوں کا پرستان‘‘ سے لگایا جا سکتا ہے جس میں انھیں مسلسل بچوں اور بڑوں کا تعاون حاصل ہے جس کی وجہ سے ’’بچوں کا پرستان‘‘ بچوں میں انتہائی مقبول ہے۔

امان اللہ نیئر شوکت ساٹھ سال سے بچوں کے ادب کی ترویج و اشاعت کے لیے مصروف عمل ہیں، یہ جس قدر ستائش کے مستحق ہیں ان کی اس قدر پذیرائی نہیں ہوئی البتہ کچھ اداروں نے ان کے فن کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔‘‘

امان اللہ نیئر شوکت جہاں چھوٹی سی عمر میں لکھنے کا آغازکیا اورکم عمری میں ہی انڈیا کے رسائل میں خود کو بطور ادیب منوایا، وہیں انھوں نے بڑوں کے لیے کہانیاں اور بچوں کے لیے شاعری بھی لکھی اور سب سے اہم بات ان کی حمدیہ و نعتیہ کلام ہے جسے لکھ کر وہ لطف محسوس کرتے ہیں۔

آج ان کے کریڈیٹ میں بہت سی چیزیں آ چکی ہیں جن میں ’’ دی بُک گروپ‘‘ کراچی والوں کی بچوں کے لیے ’’ جلیبیاں‘‘ کے نام سے اُردو کی درسی کتاب ساتویں جماعت کی شائع کی ہے جس میں پاک و ہند کے معروف شاعروں اور ادیبوں میں ان کا نام بھی شامل ہے۔

اُردو بازار کے ’’ اسکائی پبلی کیشنز‘‘ لاہور، راولپنڈی اور کراچی والوں نے وفاقی وزارتِ تعلیم حکومت پاکستان کے جدید نصاب کے مطابق جماعت اول، دوم اور سوم کے لیے ان کی اور ان کی صاحبزادی عائشہ عمران ممتاز سے کتابیں ’’ اسکائی میری اُردو‘‘ تیارکروائی ہیں، یہ کتب ملک بھر کے اسکولوں میں بچوں کو پڑھائی جا رہی ہیں، جب کہ تعلیمی نصاب کی ایک ساتویں جماعت کی کتاب میں بھی ان کی نظم شامل ہے۔

اس کے علاوہ مختلف اداروں کی جانب سے انھیں نقد کیش انعامات اور ایوارڈز سے بھی نوازا جا چکا ہے اور یہی ایوارڈز ان کے لیے کسی بھی ستارئہ امتیاز سے کم نہیں ہیں۔

امان اللہ نیئر شوکت کی مرتب اور تحریرکردہ کتب میں انوکھا سفر، سہیلی بوجھ پہیلی، صحابہ کرامؓ کی کہانیاں، ہنسنا منع نہیں، شہزادیوں کی کہانیاں، ایجادات، خوبصورت ملی نغمے اور ترانے، لطیفوں کا انسائیکلو پیڈیا، حضرت علیؓ کے سنہرے اقوال، عجائباتِ عالم، اخلاقی حکایتیں، جدید سائنسی معلومات و ایجادات شامل ہیں۔

ان کی اولین شعری مجموعہ زیرِ تکمیل ہے۔ انھوں نے ایسی بچوں کے لیے شاعری لکھی ہے جو بچوں کے لیے سبق آموز اور اصلاحی پہلو سے لبریز ہے کسی بھی شعر پر ندامت نہیں ہوتی، بلکہ ان کی شاعری کو بچوں کے ساتھ ساتھ بڑے بھی ذوق و شوق کے ساتھ پڑھتے ہیں۔

ان کی شریکِ ہم سفر خود بھی ان کی نثر نگاری کو پڑھ کر ’’ بچوں کا پرستان‘‘ میں لکھتی رہیں۔ جن کی رحلت 2025 ء میں ہوئی۔ ان کی بیٹی عائشہ عمران ممتاز جو بچوں کی معروف شاعرہ اور ادیبہ ہیں۔

ان کی کہانیاں اور نظمیں بھی بہت سے ادبی رسائل میں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ ان کی شادی ملتان کے شہزادے عمران ممتاز سے ہوئی ہے جو خود بھی بہت عمدہ کہانی کار اور ہنس مکھ نوجوان ہے اور بچوں کے لیے ملتان سے ’’ کرن کرن روشنی‘‘ کے نام سے رسالہ شائع کرتے ہیں۔

ان کی کتاب’’ نورِ عالم ‘‘ پر انھیں’’ صدارتی ایوارڈ‘‘ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ امان اللہ نیئر شوکت کی خواہش ہے کہ میری وفات کے بعد ’’ بچوں کا پرستان ‘‘ کی بھاگ دوڑ میری بیٹی عائشہ عمران ممتاز سنبھالیں گی اور ملک و قوم کی خدمت کریں گی۔

’’بچوں کا پرستان‘‘ یہ رسالہ عرصہ پندرہ سال سے شائع ہو رہا ہے اور پاک و ہند کے بے شمار شہروں اور ملکوں میں اسی فیصد بچے اور بڑے اس کو پڑھتے ہیں جس طرح بچے اور بڑے آج تک ’’عینک والا جن‘‘ ڈرامہ نہیں بھولیں یقینا اسی طرح ’’ بچوں کا پرستان‘‘ پڑھنا بھی نہیں بھولیں گے۔

امان اللہ نیئر شوکت نے جس لگن کے ساتھ ’’ بچوں کا پرستان‘‘ کی اشاعت کا سلسلہ برقرار رکھتے ہوئے طویل عرصہ بچوں کا ادب تخلیق کیا، اس کی نظیر کم کم ہی دکھائی دیتی ہے۔ اپنی جدوجہد کا خلاصہ اپنے ہی خیال میں کچھ اس طرح سے بیان کرتے ہیں کہ:

کام سے ہے دوستی محنت سے ہے بس میرا شعار

کاہلی سے بھاگتا ہوں مجھ کو محنت سے ہے پیار

امان اللہ نیئر شوکت کی ہارر کہانیاں ان دنوں ماہنامہ ’’ ڈر‘‘ کراچی میں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ ان ہارر کہانیوں کو تخلیق کرنے کا خیال انھیں اُس وقت آیا جب وہ ’’ بچوں کا ڈائجسٹ‘‘ میں ڈراؤنی اور پُراسرار کہانیاں لکھا کرتے تھے۔

ان کی کہانیوں کے موضوع بڑے ہی دلچسپ ہوتے ہیں جو پڑھنے والوں کو دیر تک اپنے آثار میں جکڑے ہوئے رکھتے ہیں۔ بچے پھولوں کی طرح ہوتے ہیں لیکن آج کے جدید دور میں یہ پھول کتاب اور رسالے پڑھنے کی اہمیت کوکم اور موبائل فون کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔

جس سے ان پھول جیسے بچوں کے اخلاق کو بگاڑ کے رکھ دیا ہے، اسی وجہ سے رسالے بچے نہ خریدتے ہیں اور نہ پڑھتے ہیں اور یہ ہمارے لیے ایک بہت بڑا المیہ ہے۔

امان اللہ نیئر شوکت موجودہ کتب بینی کے فروغ کو خسارے میں دیکھ کر رنجیدہ ہیں۔ امان اللہ نیئر شوکت سے میری دوستی کی بنیاد بچوں کے معروف ادیب ابصار عبد العلی نے رکھی۔ جس کا سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔

امان اللہ نیئر شوکت کی کہانیاں اور شاعری کسی قیمتی اثاثہ سے کم نہیں ہے۔ جہاں بہت سے لوگ ہم نے کھو دیے ہیں، وہیں آج امان اللہ نیئر شوکت کے جیسے چند نمایاں چہرے موجود ہیں اُن کی قدر و قیمت کو جانتے ہوئے اُن کی صحبت اختیارکریں میرے اس شعر کے مصداق:

بڑوں کی جب سے صحبت میں مجھے سونپا گیا ہے

مجھے مٹی سے وہ سونا بناتے جا رہے ہیں





Source link

Continue Reading

Today News

نفرت ایک گمان – ایکسپریس اردو

Published

on


نفرت ایک چھوٹا سا لفظ ہے جسے اس دنیا کے زیادہ تر انسان اپنے وجود میں پالنے کے دعویدار ہیں۔ ہر ایک انسان کو لگتا ہے کہ وہ اپنے اطراف میں موجود بیشمار افراد میں سے کئیوں سے شدید نفرت کرتا ہے جنھوں نے زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر اُس کے ساتھ زیادتی کا ارتکاب کیا ہوتا ہے۔

فقط چار حروف پر مشتمل لفظِ نفرت اپنے اندر خطرناک اثرات سموئے ہوئے ہے بشرطیکہ وہ اصل میں اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ انسان کی ذات میں سرایت کر چکا ہو۔

دراصل جس احساس کو اکثر انسان نفرت سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ اُن کا گمان ہوتا ہے۔ نفرت کوئی معمولی جذبہ انسانی نہیں ہے جو بات بے بات ہر دوسرے شخص کو کسی نہ کسی فرد سے ہو جائے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ نفرت کرنا عام انسان کے بس کا کام نہیں ہے، دوسرا اس کو کرنے کے جواز کی شدت جہنم کی آگ کی تپش سے برائے نام ہی کم ہونا لازم و ملزوم ہے۔

ہستیِ انسانی اپنے اندرون دہکنے والے جس لاوے کو نفرت کا نام دے رہی ہوتی ہے وہ اصل میں شدید غصے کا احساس ہوتا ہے جو اُس کو ایذا پہنچانے والے لوگوں پر آنا جائز امر ہے۔

عموماً افراد کا غصہ آتش فشاں پہاڑ کی مانند ہوتا ہے، اچانک پھٹا، اپنے اندر کا لاوا باہر نکالا پھر آخر میں شانت، اس کے برعکس نفرت کرنے والا فرد اپنے دل کی ساری بھڑاس نکال دے بھی تو وہ ختم نہیں ہوتی ہے بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہتی ہے۔

نفرت کرنا بڑا دل گردے کا کام ہے کیونکہ یہ سب سے پہلے انسان سے اُس کی ذات کی نفی کا مطالبہ کرتی ہے، نفرت کا الاؤ انسان میں سے انسانیت کو مکمل طور پر اُکھاڑ پھینکتا ہے پھر اُس کے اندر ہمدردی، رحم، معاف کرنے کا حوصلہ اور دل میں وسعت پیدا کرنے کا جذبہ کچھ باقی نہیں رہتا ہے۔

ایک بار جو انسان نفرت کے جہاں میں داخل ہو جاتا ہے پھر وہاں سے باہر نکلنے کا راستہ اُس کو ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا ہے اور اُس کا وجود اس کی دلدلی سطح میں دھنستا چلا جاتا ہے۔

انسان کو چکنی مٹی سے خلق کیا گیا ہے، سادہ مٹی اور چکنی مٹی کے درمیان نمی کا فرق ہے اور نمی میں آب یعنی پانی کا عنصر پایا جاتا ہے اور پانی کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے۔ 

اس پیرائے میں دیکھا جائے تو انسانی ذات میں نفرت کی جگہ بنتی نہیں ہے، جب  کہ شیطان کو چونکہ آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور وہ انسان کو خود سے کمتر و حقیر سمجھ کر اُس سے روزِ اوّل سے نفرت پالے ہوئے ہے تو آگ کا یہ کھیل شیطان کی شیطانیت کے ہی عین مطابق ہے۔

13ویں صدی کے عظیم فارسی صوفی، شاعر، عالم اور فلسفی مولانا جلال الدین بلخی (جنھیں عموماً دنیا رُومی کے نام سے جانتی ہے) کے نزدیک انسان کا قلب وہ مقدس مقام ہے جہاں پروردگارِ عالم کا نور جلوہ گر ہوتا ہے۔

مولانا رُومی کہتے تھے، ’’ مقدس اور پاک مقام (خدا) کو اپنے اندر تلاش کرو، کیونکہ وہ تمھارے دل میں ہے‘‘ اُن کے نزدیک دل عقل کی حدود سے آزاد ہے۔

مولانا رُومی کی تعلیمات چونکہ عشقِ حقیقی، محبت اور انسانیت پر مشتمل ہے اور جیسے کہ حقیقی معرفت ’’ عقل‘‘ کی بجائے ’’ عشق‘‘ سے حاصل ہوتی ہے اور عشق کا تعلق انسانی قلب سے ہے لہٰذا اُن کے مطابق، دل کو برائیوں سے پاک کرنا ضروری ہے تاکہ وہ خالقِ انسانی کی تجلیات کا آئینہ بن سکے کیونکہ دل سیاہ ہو تو ظاہری علم یا اعمال بیکار ہیں۔

فرمانِ رُومی ہے، ’’جس دل میں مخلوقِ خدا کے لیے محبت ہے، وہی دل عظمت کی بلندیوں کو چھو سکتا ہے اور انسانیت سے محبت، ذاتِ خداوند تک پہنچنے کا خوبصورت راستہ ہے۔‘‘

بقولِ رُومی انسان کے دل میں خدا بستا ہے، اب یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ جہاں خدا بسے وہاں منفی کیفیت ’’ نفرت‘‘ جسے رُومی انسان کے لیے زہر سمجھتے تھے وہ کیسے موجود رہ سکتی ہے؟

خالق نے انسان کو بہت چاہ سے تخلیق کیا ہے، انسان سے سب سے زیادہ محبت وہی ذاتِ عظیم کرتی ہے، جب خلق کی بنیاد محبت ہے پھر اُس کے وجود میں نفرت کے موجود رہنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔

اگر انسان کو واقعی کسی دوسرے انسان سے نفرت ہو تو وہ اُس کی تکلیف پر تڑپ اُٹھے گا نہ اُس پر کڑا وقت آنے پر اپنی ساری منفی کیفیات کو بالائے طاق رکھ کر مدد کے لیے دوڑ پڑے گا۔

انسان ایک انتہائی جذباتی مخلوق ہے جو غصہ انتہا کے درجے پر کرتی ہے کہ خود ہی اُس کیفیت کو نفرت کا چوغہ پہنا بیٹھتی ہے لیکن جب محبت، رحم اور ترس کرنے پر آئے تو ماضی کی ہر تلخ بات اور یاد کو ایسے بھولا دیتی ہے جیسے کہ وہ کبھی رونما ہوئی ہی نہ ہو۔

انسان سچے، پرُ خلوص اور محبت کی چاشنی سے گوندھے رشتوں کے درمیان اپنی زندگی کا لطف اُٹھانا بے حد پسند کرتا ہے، اُس کے اطراف میں موجود افراد میں سے جب کوئی اُس کی زندگی کے پُر کیف رنگوں سے چھیڑ چھاڑ کرتا ہے تو وہ شدید غصے کے احساس میں ایسا کرنے والے کو اپنی زندگی سے بیدخل کر دیتا ہے۔

مگر نفرت نہیں کر پاتا کیونکہ نفرت کرنا انسان کی گھٹی میں نہیں ہے بس کیونکہ انسان فطرتاً نادان ہے اس لیے وہ اپنے اندر جنم لینے والے ہر منفی احساس کی انتہا کو نفرت کا نام دے کر شیطان بننے کی بھدی اداکاری کر رہا ہوتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ماہِ رمضان اور غربت – ایکسپریس اردو

Published

on


رمضان المبارک کا مہینہ پورے عالم اسلام کے لیے خیر و برکت کا پیغام لاتا ہے۔ رمضان المبارک کے متعلق قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں نفس کی تطہیر اور پاکیزگی پر زور دیا گیا ہے۔

روزے کی روح کے مطابق ہمیں اپنے اعمال میں تقویٰ اور مال میں کمزور اور محروم لوگوں کو بھی شامل کرنا چاہیے۔ بھوک اور پیاس کی شدت یہ احساس دلاتی ہے کہ جو لوگ محرومیوں کے سبب اس کشٹ سے گزرتے ہیں ان پر کیا گزرتی ہوگی؟

اس اعتبار سے انفرادی عبادت کے ساتھ ساتھ رمضان المبارک دلوں میں دوسروں کے لیے گداز اور اپنے اعمال میں پاکیزگی کا آفاقی پیغام ہے۔

رمضان المبارک سے کچھ پہلے اور رمضان المبارک کے دوران بہت سے چیرٹی اور فلاحی اداروں کی طرف سے عطیات اور زکوٰۃ کی اپیلیں سامنے آتی ہیں۔

پاکستانی اس اعتبار سے قابل فخر قوم ہیں جس میں نامساعد حالات اور مشکلات کے باوجود بالعموم دوسروں کی مدد کا جذبہ نمایاں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ عالمی ورلڈ گیونگ رپورٹ کے مطابق بھی پاکستان ان ممالک میں سر فہرست ہے جو اپنے مال میں سے دوسروں کے لیے عطیات اور خیرات کی صورت حصہ نکالتے رہتے ہیں۔

حسن اتفاق ہے کہ رمضان المبارک کے آغاز پر پلاننگ کمیشن نے ملک میں غربت اور عدم مساوات رپورٹ کے نتائج پیش کیے ہیں، 2018/19 کے بعد کیے گئے ملک بھر میں غربت اور عدم مساوات پر مبنی اس سروے کے نتائج چونکا دینے والے ہیں۔

بظاہر سماجی استحکام کے نیچے عوام کی ایک کثیر تعداد انتہائی مشکل زندگی گزار رہی ہے۔ ستم یہ کہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی مشکلات میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت سات کروڑ افراد انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ گزشتہ سات سال کے دوران میں غربت کی شرح میں 32 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ غربت کی شرح 21.9 فیصد سے بڑھ کر 28.9 فیصد ہو گئی۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 11 سالوں کے دوران یہ غربت کی بلند ترین شرح ہے۔ سب سے خطرناک صورت حال دولت کی عدم مساوات ہے جو بڑھ کر 32.7 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

سروے کے مطابق پاکستان کو اس وقت بلند ترین بے روزگاری کی شرح کا بھی سامنا ہے جو 7.1 فیصد ہے۔ یوں غربت بھی 11 برسوں کی بلند ترین سطح پر اور دولت کی عدم مساوات گزشتہ 27 برسوں کی بلند ترین سطح پر ہے۔

غربت، عدم مساوات اور بے روزگاری بڑھنے کی وجوہات جانی پہچانی بتائی گئی ہیں کہ غربت میں اضافہ آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے ہوا کیونکہ اس پروگرام کے سبب حکومت کو بعض شعبوں کو دی جانے والی سبسڈی کو واپس لینا پڑا۔

ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں ریکارڈ کمی ہوئی۔ کرونا سمیت دیگر قدرتی آفات اور اقتصادی شرح نمو میں کمی نے غربت بڑھنے کی راہ ہموار کی۔

یہ خوفناک اقتصادی منظرنامہ گواہ ہے کہ حکومتوں کے لیے کار سرکار چلانا پہلی ترجیح ہے۔ عوامی فلاح کے لیے درکار پالیسیوں کی راہ میں اکثر آئی ایم کی شرائط سدراہ بن جاتی ہیں یا پھر خالی خزانے کی ویرانی کچھ کرنے نہیں دیتی۔

ایسے میں موجودہ حکومتی سوشل سیفٹی نیٹ پروگرام کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کے نان پرافٹ اور چیرٹی اداروں کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہو جاتا ہے۔ وہ خلا جسے ریاست مکمل طور پر پْر نہیں کر پاتی، منظم فلاحی ادارے اسے جزوی طور پر پورا کرتے ہیں۔

خاص طور پر صحت کے شعبے میں، جہاں سرکاری اسپتالوں پر بوجھ اور نجی علاج کی مہنگائی نے متوسط اور نچلے طبقے کو بے بس کر رکھا ہے۔

Charities Aid Foundation کی مرتب کردہ World Giving Report کے مطابق پاکستان مسلسل ان ممالک میں شامل ہے جہاں لوگ دل کھول کر عطیات دیتے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 60 فیصد سے زائد افراد نے سال کے دوران کسی نہ کسی صورت خیرات دی، جب کہ بہت نمایاں تعداد اجنبی کی مدد کرنے یا رضاکارانہ خدمات انجام دینے میں بھی پیش پیش رہی۔

اس پس منظر میں ہمارے ہاں وہ بے شمار فلاحی ادارے غنیمت اور قابل قدر ہیں جو زندگی کے مختلف شعبوں میں سالہاسال سے بے لوث خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔

زلزلے ہوں یا سیلاب، تعلیم ہو یا صحت، اپنے اپنے انداز اور بساط کے مطابق لا تعداد ادارے فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔

خوش قسمتی سے ہمارے ہاں درجنوں ایسے ادارے ہیں جنھوں نے اپنے انتظام اور ڈھانچے کو انتہائی منظم انداز میں تشکیل دیا ہے جس کے سبب یہ ادارے تسلسل اور اہتمام کے ساتھ اپنے اپنے شعبے میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

تعلیم کے میدان میں ٹی سی ایف، غزالی ایجوکیشن فاؤنڈیشن، ریڈ فاؤنڈیشن، الخدمت سمیت درجنوں ایسے ادارے ہیں جو لاکھوں بچوں کی تعلیم کا بندوبست کر رہے ہیں۔ صحت کے میدان میں انڈس اسپتال، ایس آئی یو ٹی، شوکت خانم میموریل اسپتال، گھرکی اسپتال، سندس فاؤنڈیشن سمیت بہت سے ادارے قابل قدر کام کر رہے ہیں۔

ایسے اداروں میں ایک قابل قدر نام چوہدری رحمت علی میموریل ٹرسٹ ٹاؤن شپ لاہور کا بھی ہے جس کے پانچ مختلف ادارے چار دہائیوں سے خدمت خلق میں مصروف ہیں۔

چوہدری رحمت علی اسپتال 40 سال سے لاکھوں مریضوں کی خدمت کر رہا ہے جہاں مستحق اور نادار مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے۔

سال 2025 کے دوران چوہدری رحمت علی اسپتال سے پونے تین لاکھ مریض مستفید ہوئے۔ چوہدری رحمت علی میموریل ٹرسٹ کے تین تعلیمی ادارے ہزاروں طلباء کو انتہائی کم قیمت اور مستحق اور نادار طلبہ کو وظائف کے ساتھ معیاری تعلیم مہیا کر رہے ہیں۔

رمضان کے اس بابرکت مہینے میں اپنی زکات اور عطیات کی تقسیم میں انفرادی مستحقین کے ساتھ ساتھ منظم اداروں کو بھی یاد رکھیے۔ تعیلم، صحت اور دیگر فلاحی کاموں میں مصروف دیگر اداروں کے ہمراہ چوہدری رحمت علی اسپتال ٹاؤن شپ لاہور بھی آپ کی توجہ کا طالب ہے تاکہ کوئی مریض محض وسائل کی کمی کے باعث علاج سے محروم نہ رہے۔

زکوٰۃ اور عطیات کے لیے چوہدری رحمت علی میموریل ٹرسٹ کے بینک اکاؤنٹ:زکوٰۃ: 201139351240202،بینک اسلامی پاکستان ،عطیات:21223312677636،نیشنل بنک پاکستان۔ قومیں صرف معاشی نمو سے نہیں، سماجی ہمدردی سے بھی مستحکم ہوتی ہیں۔

اگر ہم نے اپنی سخاوت کو حکمت کے ساتھ جوڑ لیا تو شاید آیندہ کسی رپورٹ میں غربت اور عدم مساوات کے اعداد و شمار کچھ بہتر دکھائی دیں۔
 





Source link

Continue Reading

Trending