Connect with us

Today News

پاکستانی ایتھلیٹ اشراق نذیر یونان میں الپائن کلب آف پاکستان کا ایمبیسڈر مقرر

Published

on



پاکستانی ایتھلیٹ اشراق نذیر کو یونان میں الپائن کلب آف پاکستان کا ایمبیسڈر مقرر کر دیا گیا۔

 اسلام آباد میں الپائن کلب آف پاکستان کے ہیڈ آفس میں میجر جنرل عرفان ارشد، صدر الپائن کلب، نے یونان میں مقیم پاکستانی  ایتھلیٹ اشراق نذیر کو یونان میں الپائن کلب آف پاکستان کا ایمبیسڈر مقرر کیا۔

اس ملاقات میں پاکستان میں پہاڑی اور ایڈونچر ٹورازم کے فروغ، بین الاقوامی تعلقات اور یورپ میں کوہ پیمائی کے مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

الپائن کلب آف پاکستان کے صدر میجر جنرل عرفان ارشد خان نے کہا کہ پاکستان دنیا کے بلند ترین اور حیرت انگیز پہاڑوں کا حامل ملک ہے، لیکن ان کا عالمی سطح پر تعارف کم ہے، اور ان چھپے ہوئے خزانوں کو دنیا کے سامنے لانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

 انہوں نے زور دیا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ملک کے سیاحتی سفیر بن کر اس حسن کو اجاگر کر سکتے ہیں۔ اشراق نذیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ یونان اور یورپ میں پاکستان کے پہاڑی سیاحت کے مواقع کو اجاگر کریں گے اور ملک کا مثبت تشخص دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایران اور امریکا کشیدگی، نتائج کیا ہوں گے؟

Published

on


ایران اور امریکا کی کشیدگی تاحال جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر فوجی دباؤ بڑھاتے ہوئے مزید ایک بحری بیڑہ خلیج فارس کی جانب روانہ کیا ہے اور اس بات کا اظہا ر انھوں نے گزشتہ دنوں میڈیا کے نمائندوں کے سوالوں کے جواب میں بھی کیا تھا۔

اس تمام تر صورتحال میں ایک سوال بہت اہم ہے اور وہ یہ ہے کہ کیا امریکا اس جنگ کے نتائج کو بھگت پائے گا؟ اگر امریکا ایران پر حملہ بھی کر لے توکیا ایران کو اس قدر نقصان پہنچا پائے گا کہ جو امریکا کے اہداف ہیں؟ یا پھر یہ کہ ایران کے مقابلے میں امریکا کو متعدد نقصانات ہوں گے؟

اسی طرح یہ بات بھی بہت اہمیت اختیارکرتی چلی جا رہی ہے کہ امریکا کو اس کشیدگی سے نکلنے کے لیے کیا کوئی Face Saving مل سکتی ہے؟

اور یہ کس نوعیت کی ہوسکتی ہے۔ اس تمام تر صورتحال میں اسرائیل کی جانب سے ایران کو کیا پیغام بھیجا گیا ہے اور امریکا نے کیا پیغام دیا ہے، یہ ساری باتیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔

یہ صورتحال بتا رہی ہے کہ خطے کی ایک نئی صف بندی یا ترتیب ہونے جا رہی ہے۔ اب اگر امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے تو پھر کیا امریکا اس کے نتائج کو برداشت کرنے کی قابلیت رکھتا ہے۔

حال ہی میں سابق برطانوی سفارت کار اور انٹیلی جنس افسر Alastair Crooke نے اپنے حالیہ تجزیے میں، جو جریدہ Geopolitika میں شائع ہوا، ایک نہایت اہم نکتہ اٹھایا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ ایران کو حالیہ ہفتوں میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے دو مختلف نوعیت کی پیش کشیں کی گئیں، مگر تہران نے دونوں کو مسترد کردیا۔ کروک کے مطابق یہ انکار محض سفارتی ردِعمل نہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن میں تبدیلی کی علامت ہے۔

کروک کے مطابق امریکا کی جانب سے ایک محدود فوجی کارروائی کی تجویز سامنے آئی، جس میں ایران سے بھی محدود اورکنٹرولڈ جواب کی توقع رکھی گئی تھی تاکہ تصادم کو ایک منظم سطح پر رکھا جا سکے۔

تاہم تہران نے اس تصورکو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کا حملہ مکمل جنگ کے آغاز کے مترادف ہوگا۔یہ موقف ایران کی دفاعی حکمت عملی کا عکاس ہے جسے برسوں سے ڈیٹرنس کی بنیاد پر استوارکیا گیا ہے۔

ایرانی قیادت کا موقف رہا ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن یکطرفہ نہیں رہ سکتا اور کسی بھی جارحیت کا جواب وسیع تر دائرے میں دیا جائے گا۔

کروک نے اپنے مقالے میں یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے بھی کچھ ثالثوں کے ذریعے ایران کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اسرائیل ممکنہ امریکی حملے میں براہِ راست شریک نہیں ہوگا اور ایران سے بھی اسرائیل کو نشانہ نہ بنانے کی درخواست کی گئی، مگر ایران کا جواب سخت تھا، اگر فوجی کارروائی ہوئی تو اسرائیل براہِ راست ہدف ہوگا۔

اس تناظر میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہوکی حکومت کو داخلی اور خارجی سطح پر ایک پیچیدہ صورتحال کا سامنا ہے۔ اسرائیل کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اس امر سے آگاہ ہے کہ ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ کا مطلب صرف دو ریاستوں کا تصادم نہیں، بلکہ پورے خطے میں محاذوں کا کھل جانا ہوسکتا ہے۔

اسی طرح عرب ریاستوں سے متعلق ایران کے موقف کے بارے میں یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ایران نے خلیجی اور عرب ممالک کو بھی واضح طور پر آگاہ کیا کہ اگر ان کی سرزمین یا فضائی حدود کسی حملے کے لیے استعمال ہوئیں تو انھیں بھی جنگ کا فریق سمجھا جائے گا۔

یہ پیغام دراصل خطے میں امریکی عسکری موجودگی کے تناظر میں دیا گیا، جہاں متعدد اڈے موجود ہیں۔ معروف امریکی ماہرِ سیاسیات John Mearsheimer کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن اب روایتی اتحادوں سے ہٹ کرریجنل ڈیٹرنس نیٹ ورک کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں کسی ایک ملک پر حملہ پورے بلاک کو متحرک کر سکتا ہے۔

اس صورتحال نے بھی عرب ممالک کی حکومتوں کو مجبورکیا ہے کہ وہ امریکا کو ایران پر فوجی کارروائی سے دور رکھیں۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کو بھیجے گئے پیغامات اور پیشکش کو دیکھنے کے بعد یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب میں غیر یقینی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔

امریکا، جس کی قیادت اس وقت Donald Trump کے ہاتھ میں ہے، ایک ایسی حکمت عملی تلاش کر رہا ہے جس میں طاقت کا مظاہرہ بھی ہو اور مکمل جنگ سے بھی بچا جا سکے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ آسان جنگوں کا دور ختم ہو چکا ہے۔

افغانستان اور عراق کے تجربات نے امریکی عسکری حکمت عملی پر گہرے سوالات اٹھائے ہیں۔ ایران جیسے ملک کے ساتھ تصادم فوری، محدود یا کنٹرولڈ نہیں رہ سکتا۔

ایران نے پہلے دن سے واضح کر رکھا ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت کو برداشت نہیں کرے گا۔دوسری طرف ایران کے بارے میں عالمی منظرنامہ پر ماہرین کا ماننا ہے کہ حالیہ مختصر مگر شدید کشیدگی (یعنی 12 روزہ جنگ) کے بعد ایران ایک نسبتاً مضبوط اسٹرٹیجک پوزیشن میں کھڑا ہے۔

ایرانی قیادت نے یہ تاثر قائم کیا ہے کہ وہ نہ صرف دباؤ قبول کرنے کو تیار نہیں بلکہ مستقبل کے فریم ورک میں اپنی شرائط منوانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔

بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ تبدیلی صرف عسکری نہیں بلکہ نفسیاتی اور سفارتی سطح پر بھی نمایاں ہے۔

معروف عرب تجزیہ کار ماہر امور فلسطین اور غرب ایشیاء عبد الباری عطوان نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ایران اور امریکا کشیدگی میں اس وقت امریکا جنگ شروع کرنے سے پہلے ہی جنگ میں شکست کھا چکا ہے اور جوکچھ اب ہو رہا ہے، وہ سب نفسیاتی جنگ حصہ ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ایران نے یہ جنگ بغیر جنگ کے ہی جیت لی ہے۔

دنیا بھر میں ماہرین کا ایران کے بارے میں یہ تجزیہ کرنا کہ ایران مستحکم پوزیشن میں ہے۔ اس عنوان سے ایران کی حکمت عملی اور اب تک سفارتی سطح پر بہترین اقدامات کے ساتھ ساتھ خطے میں موجود امریکی فوجوں کا ایرانی ہدف ہونا بھی شامل ہے۔

خطے میں امریکی افواج کی بڑے پیمانے پر موجودگی، سخت بیانات اور بحری و فضائی نقل و حرکت نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے، اگرکوئی محدود جھڑپ وسیع تصادم میں تبدیل ہوتی ہے تو اس میں بڑی طاقتوں کے شامل ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے، جس کے بعد حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں۔

برطانوی مورخ اور مشرقِ وسطیٰ کے ماہر David Hearst کے مطابق مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسے موڑ پرکھڑا ہے، جہاںغلط اندازہ (miscalculation) کسی بڑے تصادم کو جنم دے سکتا ہے۔

اس تمام تر صورتحال میں امریکا کے پاس نکلنے کے راستے کم ہیں۔ چاہتے ہوئے بھی امریکی صدر اب ایران پر حملہ کا حکم نہیں دے سکتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ جنگ صرف امریکا اور ایران کے درمیان نہیں بلکہ ایک خطے کی بری جنگ میں تبدیل ہو جائے گی اور اس میں سب سے زیاد ہ جانی و مالی نقصان بھی امریکا کو اٹھانا ہو گا۔

آج امریکا اور اسرائیل کے لیے اصل مسئلہ طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ بڑھتے ہوئے تصادم کے دائرے سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا ہے۔ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اس مرحلے پر خطے میں فیصلہ کن عنصر ایران کا رد عمل اور اس کی حکمت عملی ہے۔

یہ صورتحال اس مفروضے کو تقویت دیتی ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن یکطرفہ نہیں رہا۔ اب ہر قدم کا حساب ہے، ہرکارروائی کا ردعمل متوقع ہے اور ہر فیصلہ ممکنہ طور پر ایک بڑی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی اور اسرائیلی شرائط کو مسترد کرنا محض سفارتی ضد نہیں بلکہ ایک وسیع تر اسٹرٹیجک پیغام ہے۔

یعنی ایران نے خطے کے تمام ممالک کے لیے بھی یہ راستہ کھول دیا ہے کہ خطے کا مستقبل اب یکطرفہ فیصلوں سے طے نہیں ہوگا۔ مشرقِ وسطیٰ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں جنگ کا خطرہ حقیقی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک نئے توازنِ طاقت کا امکان بھی موجود ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا بڑی طاقتیں اس نئے توازن کو قبول کریں گی یا خطہ ایک اور بڑے تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے؟ بہرصورت اگر جنگ شروع ہوتی ہے یا شروع ہوئے بغیر ختم ہوتی ہے، دونوں صورتوں میں خطے میں طاقت کا توازن امریکا کے حق میں نہیں رہے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی کی خاموش چیخیں – ایکسپریس اردو

Published

on


کراچی کبھی خاموش شہر نہیں رہا۔ یہ ہمیشہ ٹریفک کے شور، بازاروں کی چیخ و پکار،کارخانوں کی گونج اور پاکستان کو دنیا سے جوڑنے والی بندرگاہوں کی سست رفتاری سے بھر رہی ہے۔

یہ ایک ایسا شہر ہے جو سانس لیتا ہے اور جدوجہد کی زندگی گزارتا ہے، لیکن اب فضا میں ایک انجانی خاموشی چھائی ہوئی ہے۔

یہ امن یا استحکام کی خاموشی نہیں ہے، بلکہ دبے درد کی خاموشی ہے، وہ خاموش چیخ ہے جو سنائی نہیں دے گی بلکہ اندر سے محسوس کی جائے گی۔ پاکستان کا معاشی ستون کراچی ہے۔

یہ سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرتا ہے، صنعتی توسیع کرتا ہے، لاکھوں لوگوں کو روزگار فراہم کرتا ہے اور قومی تجارت کو سپورٹ کرتا ہے۔

وہ آنکھوں میں امید لیے اس شہر میں آتے ہیں اور لوگ ملک کے کونے کونے سے اس شہرکی طرف اس امنگ کے ساتھ ہجرت کرتے ہیں کہ یہ شہر انھیں ایک موقع اور وقار فراہم کرے گا۔

روز گار کے وسیع مواقع نے نہ صرف مزدوروں کو کراچی کی جانب راغب کیا بلکہ سرمایہ کاروں کو بھی اپنی طرف کھینچا۔ سرمایہ کار کو بھی یہاں ترقی اور خوشحالی کے مواقع ملے جس سے کراچی شہر ترقی کی دوڑ میں آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا۔

سرمایہ کاری کے اس عمل سے کراچی سے ریونیو بھی خوب ملنے لگا۔ بندرگاہ ہونے کے ناطے ملک بھر میں تاجروں نے بھی اپنے مال کی درآمد اور برآمد کے لیے کراچی کا رخ کیا۔ جس سے کراچی میں کاروبار بڑھا۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ کراچی ہی ہے جس کی طرف توجہ نہیں دی گئی حالانکہ یہ ملک کی معیشت کا دل ہے اور اس میں باوقار زندگی گزارنے کے لیے بنیادی ضروریات کا فقدان ہے۔ بجلی، پانی اور گیس انسانوں کی بنیادی ضروریات ہیں، جوکہ کراچی والوں میں روزمرہ کی لڑائی بن چکی ہے۔

شدید گرمیوں میں طویل عرصے تک بلیک آؤٹ گھروں کو تندور بنا دیتا ہے۔ بچے تعلیم حاصل نہیں کر پاتے،کیونکہ صبح کے وقت گیس نہیں ہوتی اور وہ خالی پیٹ اسکول جاتے ہیں۔ پانی جو زندگی ہے اور اب نلکوں سے باہر نہیں آتا۔

اسے اعلیٰ قیمتوں پر فروخت کیا جاتا ہے۔ اس طرح ٹینکر مافیا کا کاروبار خوب پھل پھول رہا ہے۔ گیس کی کمی بھی گھریلو زندگی کو مزید مفلوج کرنے کا باعث بنی ہے۔

کچن خاموش اور چولہے ٹھنڈے اور لوگوں کے پاس غیر محفوظ اور مہنگے سلنڈر استعمال کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

بات یہ ہے کہ ایک میگا سٹی کے شہری اس طرح کی اذیتیں کب تک برداشت کر سکتے ہیں؟ شہر میں جذباتی نقصان اس کے جسمانی ڈھانچے سے ظاہر ہوتا ہے۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، اجڑی ہوئی گلیاں اورکھلے گٹر ہمیشہ بے دھیان رہ جاتے ہیں۔

وہ محض پریشانیوں سے زیادہ ہیں۔ وہ خاموش قاتل ہیں اور وہ ایک کے بعد ایک سال جانیں چھین رہے ہیں۔ نقل و حمل کا نیٹ ورک بڑا، غیر محفوظ اور غیر موثر ہے اور روزانہ سفر کرنا آسان نہیں ہے۔

تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال جیسے کسی بھی ترقی پسند معاشرے کے ستون بھی شدید متاثر ہوتے ہیں۔ ریاست کے زیر انتظام اسکولوں میں کرپشن عروج پر ہے، تعلیم یافتہ اور ماہر اساتذہ کی شدید کمی ہے۔

اس کے برعکس، پرائیویٹ اسکول جن کے پاس بہتر سہولیات ہیں وہ بڑھتی ہوئی فیسوں کے لیے ناقابل رسائی ہیں۔ والدین کے پاس اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کا وژن ہوتا ہے لیکن مہنگائی اور معاشی تنگی ان بچوں کی امیدوں کا گلا گھونٹ رہی ہے۔

اسی طرح سرکاری اسپتالوں کی تعداد زیادہ نہیں ہے اور فنڈزکی کمی ہے اور پرائیویٹ سیکٹر کی جانب سے فراہم کی جانے والی صحت کی خدمات کا معیار عام شہری کے لیے ناقابل رسائی ہے۔ آج مہنگائی عوام کی سب سے خوفناک دشمن ہے۔

صرف ایک بنیادی گروسری ایک عیش و آرام کی چیز بن گئی ہے کیونکہ کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ اجرتوں میں اضافہ نہیں ہو رہا ہے اور اخراجات بڑھ رہے ہیں۔

جو لوگ حقوق، انصاف اور ترقی کی بات کرتے تھے اب ان کو زندہ رہنے کی فکر ہے، اگلا کھانا کیسے کھائیں، اگلے بل کی ادائیگی، اسکول کی فیس۔

ان سب معاشرتی مصائب خاموش نفسیاتی عوارض میں مبتلا کردیا ہے۔ عوام تھک چکے ہیں اور پر تشدد ہونے کے بجائے خاموشی کو ترجیح دے رہے ہیں تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ! کراچی خاموش کیوں ہے؟

کیا اس کے لوگ تھک چکے ہیں؟ کیا وہ نا امید ہیں؟ یا وہ روزمرہ کے چکر میں اتنے پھنسے ہوئے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ نظام کو چیلنج کرنے کا مطلب جوئے شیر لانا ہے۔ یہاں بحران یہ خاموشی ہے۔

خاموشی اس وقت ہوتی ہے جب لوگوں کو لگتا ہے کہ ان کی آوازوں کا کوئی فائدہ نہیں ہے، وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی سنی یا دیکھی نہیں جا رہی ہے اور یہ خاموشی اس لیے خطرناک ہے کہ جب یہ سوچ موجود ہے کہ فیصلے عوام کی منظوری کے بغیر ہوں گے، ناانصافی ایک معمول ہوگا اور غفلت کی پالیسی ہوگی۔

کراچی کی چیخ و پکار اس شہرکے لیے مخصوص نہیں، وہ پورے پاکستان میں گونجتے ہیں۔

وہ بنجر پانی کے پائپوں میں اندھیروں میں ڈوبے ہوئے گھروں میں ان کی جیبوں میں جن میں کچھ بھی نہیں ہے اور مہنگائی سے دب رہے ہیں۔

تاریخ جانتی ہے کہ کوئی بھی چیز ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں رہ سکتی۔ جب دباؤ بہت زیادہ ہوتا ہے، تو چیخیں نکلتی ہیں اور یہ بھی، یا تو پرسکون یا غصے کے انداز میں ظاہر ہوتے ہیں

یہ خاموشی بیداری، بولنا بدنظمی نہیں ہے۔

سوال پوچھنے میں بے عزتی کی کوئی بات نہیں۔ بنیادی حقوق مانگنا بغاوت نہیں ہے۔ یہ ایک زندہ اور باشعور قوم کے اشارے ہیں۔کراچی کوکسی بھی قسم کے انتشار یا نفرت کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اتحاد، ذمے داری اور احتساب کی ضرورت ہے۔

کراچی اٹھنے کی صورت میں پاکستان طاقتور ہوگا۔ کراچی بولتا ہے تو پورے ملک میں سنا جاتا ہے۔ یہ شہر بے جان نہیں، یہ زندہ ہے، مضبوط اور سخت ہے۔ اس نے محض اپنی آواز کو دبایا ہے۔

اب یہ قوم پر منحصر ہے کہ وہ اس آواز کو واپس لے۔ کراچی کی چیخیں خاموش ہیں لیکن پھر بھی سننے کی ضرورت ہے۔ اب یہ بات نہیں کہ حالات اتنے سنجیدہ کیوں ہیں، لیکن سوال صرف یہ ہے کہ ہم کب تک خاموش رہیں گے۔





Source link

Continue Reading

Today News

امان اللہ نیئر شوکت : بچوں اور بڑوں کے پسندیدہ ادیب

Published

on


امان اللہ نیئر شوکت اپنی عاجزی و انکساری اور ملنساری کے وصف ہر عام و خاص میں مقبول ہیں۔ زندگی کے طویل سفر میں شہرت کی بلندیوں پر پہنچ کر بھی وہ اپنے وصف کے ساتھ کامیابیاں اورکامرانیاں سمیٹ رہے ہیں۔

کمال کی بات یہ ہے کہ خود کو بطور شاعر اور ادیب ہوتے ہوئے دوسرے اُبھرنے والے لکھاریوں کے لیے راہ ہموارکرنے اور ان کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ان کی بہترین رہنمائی کا فریضہ عبادت سمجھ کر ادا کر رہے ہیں۔

امان اللہ نیئر شوکت ایک محنتی اور دیانتدار آدمی ہے، ان کی تمام عمر محنت کرتے گزری، بچوں کی دنیا میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ، ضلع لیہ سے تعلق رکھنے والے امان اللہ نیئر شوکت پاکستان بننے سے چار سال قبل پیدا ہوئے۔

پانچ برس کی عمر میں والدین نے انھیں دینی اور مذہبی تعلیم حاصل کرنے کے لیے مسجد بھیجا۔ نماز اور قرآنِ مجید پڑھنا سیکھ لیا جس پر آج بھی پابند ہیں۔ لیہ کے ایک پرائمری اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی،گورنمنٹ ہائی اسکول سے دس جماعتیں نمایاں نمبروں سے پاس کیں۔

ان کے والد گرامی عبدالرحمن خان بلوچ مقامی پوسٹ آفس میں جنرل پوسٹ ماسٹر تھے۔ وہ شاعر بھی تھے اور پاک و ہند کے رسائل میں شاعری کرتے۔

انھوں نے پہلی مرتبہ نظم ’’ کھلونا ‘‘ لکھ کر اپنے والد کو دکھائی جس پر انھوں نے نوک پلک سنوارکر انڈیا کے ایک بچوں کے رسالہ ماہنامہ ’’جریدہ‘‘ میں بجھوا دی ۔

اس حوالے سے وہ بتاتے ہیں کہ ’’ اس نظم کی اشاعت پر میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا، یہ نظم میرے خاندانی نام امان اللہ خان بلوچ کے نام شائع ہوئی۔ ‘‘ ساٹھ کی دہائی کی بات ہے جب وہ حصولِ روزگار کے لیے اپنی ہمشیرہ کے پاس رہائش پذیر ہوئے اور مال روڈ پر الفلاح بلڈنگ میں بطور لفٹ آپریٹر سروس کر لی اور جلد ہی اپنی دوسری نظم لفٹ چلاتے ہوئے ’’ لفٹ کی سیر‘‘ لکھی جو بہت سے رسالوں میں شائع ہوئی۔

سن ستر میں لاہور سے شائع ہونے والے رسالہ بچوں کا ڈائجسٹ میں مدیر اعلیٰ کی حیثیت سے 27 برس کام کیا اور اس سنہری دور میں بہت سے شاعروں اور ادیبوں کو متعارف کروایا۔

لاہور سے شائع ہونے والے بہت سے اخبارات میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کے صفحات کو ایڈیٹ بھی کروایا۔ اس کے علاوہ بہت سے رسالوں میں لکھا۔

جن میں قابل ذکر ان گنت رسالے شامل ہیں۔ ابصار عبدالعلیؒ ایک جگہ ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ’’ امان اللہ نیئر شوکت نے اپنی زندگی کے شب و روز ادب اطفال کی تخلیق اور بچوں کی ادبی صحافت کے فروغ کے لیے وقف کر رکھے ہیں۔

بچوں کے مقبول ادیب محترم مرزا ادیب کی طرح خاموشی اور خاکساری سے اپنی تخلیقی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی اپنے عمل کی طرف راغب کرتے رہتے ہیں۔

اس کا اندازہ ان کے رسالہ ’’بچوں کا پرستان‘‘ سے لگایا جا سکتا ہے جس میں انھیں مسلسل بچوں اور بڑوں کا تعاون حاصل ہے جس کی وجہ سے ’’بچوں کا پرستان‘‘ بچوں میں انتہائی مقبول ہے۔

امان اللہ نیئر شوکت ساٹھ سال سے بچوں کے ادب کی ترویج و اشاعت کے لیے مصروف عمل ہیں، یہ جس قدر ستائش کے مستحق ہیں ان کی اس قدر پذیرائی نہیں ہوئی البتہ کچھ اداروں نے ان کے فن کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔‘‘

امان اللہ نیئر شوکت جہاں چھوٹی سی عمر میں لکھنے کا آغازکیا اورکم عمری میں ہی انڈیا کے رسائل میں خود کو بطور ادیب منوایا، وہیں انھوں نے بڑوں کے لیے کہانیاں اور بچوں کے لیے شاعری بھی لکھی اور سب سے اہم بات ان کی حمدیہ و نعتیہ کلام ہے جسے لکھ کر وہ لطف محسوس کرتے ہیں۔

آج ان کے کریڈیٹ میں بہت سی چیزیں آ چکی ہیں جن میں ’’ دی بُک گروپ‘‘ کراچی والوں کی بچوں کے لیے ’’ جلیبیاں‘‘ کے نام سے اُردو کی درسی کتاب ساتویں جماعت کی شائع کی ہے جس میں پاک و ہند کے معروف شاعروں اور ادیبوں میں ان کا نام بھی شامل ہے۔

اُردو بازار کے ’’ اسکائی پبلی کیشنز‘‘ لاہور، راولپنڈی اور کراچی والوں نے وفاقی وزارتِ تعلیم حکومت پاکستان کے جدید نصاب کے مطابق جماعت اول، دوم اور سوم کے لیے ان کی اور ان کی صاحبزادی عائشہ عمران ممتاز سے کتابیں ’’ اسکائی میری اُردو‘‘ تیارکروائی ہیں، یہ کتب ملک بھر کے اسکولوں میں بچوں کو پڑھائی جا رہی ہیں، جب کہ تعلیمی نصاب کی ایک ساتویں جماعت کی کتاب میں بھی ان کی نظم شامل ہے۔

اس کے علاوہ مختلف اداروں کی جانب سے انھیں نقد کیش انعامات اور ایوارڈز سے بھی نوازا جا چکا ہے اور یہی ایوارڈز ان کے لیے کسی بھی ستارئہ امتیاز سے کم نہیں ہیں۔

امان اللہ نیئر شوکت کی مرتب اور تحریرکردہ کتب میں انوکھا سفر، سہیلی بوجھ پہیلی، صحابہ کرامؓ کی کہانیاں، ہنسنا منع نہیں، شہزادیوں کی کہانیاں، ایجادات، خوبصورت ملی نغمے اور ترانے، لطیفوں کا انسائیکلو پیڈیا، حضرت علیؓ کے سنہرے اقوال، عجائباتِ عالم، اخلاقی حکایتیں، جدید سائنسی معلومات و ایجادات شامل ہیں۔

ان کی اولین شعری مجموعہ زیرِ تکمیل ہے۔ انھوں نے ایسی بچوں کے لیے شاعری لکھی ہے جو بچوں کے لیے سبق آموز اور اصلاحی پہلو سے لبریز ہے کسی بھی شعر پر ندامت نہیں ہوتی، بلکہ ان کی شاعری کو بچوں کے ساتھ ساتھ بڑے بھی ذوق و شوق کے ساتھ پڑھتے ہیں۔

ان کی شریکِ ہم سفر خود بھی ان کی نثر نگاری کو پڑھ کر ’’ بچوں کا پرستان‘‘ میں لکھتی رہیں۔ جن کی رحلت 2025 ء میں ہوئی۔ ان کی بیٹی عائشہ عمران ممتاز جو بچوں کی معروف شاعرہ اور ادیبہ ہیں۔

ان کی کہانیاں اور نظمیں بھی بہت سے ادبی رسائل میں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ ان کی شادی ملتان کے شہزادے عمران ممتاز سے ہوئی ہے جو خود بھی بہت عمدہ کہانی کار اور ہنس مکھ نوجوان ہے اور بچوں کے لیے ملتان سے ’’ کرن کرن روشنی‘‘ کے نام سے رسالہ شائع کرتے ہیں۔

ان کی کتاب’’ نورِ عالم ‘‘ پر انھیں’’ صدارتی ایوارڈ‘‘ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ امان اللہ نیئر شوکت کی خواہش ہے کہ میری وفات کے بعد ’’ بچوں کا پرستان ‘‘ کی بھاگ دوڑ میری بیٹی عائشہ عمران ممتاز سنبھالیں گی اور ملک و قوم کی خدمت کریں گی۔

’’بچوں کا پرستان‘‘ یہ رسالہ عرصہ پندرہ سال سے شائع ہو رہا ہے اور پاک و ہند کے بے شمار شہروں اور ملکوں میں اسی فیصد بچے اور بڑے اس کو پڑھتے ہیں جس طرح بچے اور بڑے آج تک ’’عینک والا جن‘‘ ڈرامہ نہیں بھولیں یقینا اسی طرح ’’ بچوں کا پرستان‘‘ پڑھنا بھی نہیں بھولیں گے۔

امان اللہ نیئر شوکت نے جس لگن کے ساتھ ’’ بچوں کا پرستان‘‘ کی اشاعت کا سلسلہ برقرار رکھتے ہوئے طویل عرصہ بچوں کا ادب تخلیق کیا، اس کی نظیر کم کم ہی دکھائی دیتی ہے۔ اپنی جدوجہد کا خلاصہ اپنے ہی خیال میں کچھ اس طرح سے بیان کرتے ہیں کہ:

کام سے ہے دوستی محنت سے ہے بس میرا شعار

کاہلی سے بھاگتا ہوں مجھ کو محنت سے ہے پیار

امان اللہ نیئر شوکت کی ہارر کہانیاں ان دنوں ماہنامہ ’’ ڈر‘‘ کراچی میں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ ان ہارر کہانیوں کو تخلیق کرنے کا خیال انھیں اُس وقت آیا جب وہ ’’ بچوں کا ڈائجسٹ‘‘ میں ڈراؤنی اور پُراسرار کہانیاں لکھا کرتے تھے۔

ان کی کہانیوں کے موضوع بڑے ہی دلچسپ ہوتے ہیں جو پڑھنے والوں کو دیر تک اپنے آثار میں جکڑے ہوئے رکھتے ہیں۔ بچے پھولوں کی طرح ہوتے ہیں لیکن آج کے جدید دور میں یہ پھول کتاب اور رسالے پڑھنے کی اہمیت کوکم اور موبائل فون کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔

جس سے ان پھول جیسے بچوں کے اخلاق کو بگاڑ کے رکھ دیا ہے، اسی وجہ سے رسالے بچے نہ خریدتے ہیں اور نہ پڑھتے ہیں اور یہ ہمارے لیے ایک بہت بڑا المیہ ہے۔

امان اللہ نیئر شوکت موجودہ کتب بینی کے فروغ کو خسارے میں دیکھ کر رنجیدہ ہیں۔ امان اللہ نیئر شوکت سے میری دوستی کی بنیاد بچوں کے معروف ادیب ابصار عبد العلی نے رکھی۔ جس کا سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔

امان اللہ نیئر شوکت کی کہانیاں اور شاعری کسی قیمتی اثاثہ سے کم نہیں ہے۔ جہاں بہت سے لوگ ہم نے کھو دیے ہیں، وہیں آج امان اللہ نیئر شوکت کے جیسے چند نمایاں چہرے موجود ہیں اُن کی قدر و قیمت کو جانتے ہوئے اُن کی صحبت اختیارکریں میرے اس شعر کے مصداق:

بڑوں کی جب سے صحبت میں مجھے سونپا گیا ہے

مجھے مٹی سے وہ سونا بناتے جا رہے ہیں





Source link

Continue Reading

Trending