Today News
زرخیز موتی – ایکسپریس اردو
مجھے اپنی فیلڈ کو سمجھنے کے لیے کم از کم دو سال لگے تھے۔ الیکٹرانکس میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن اس سے منسلک کوئی اور فیلڈ نہ تھی لہٰذا مجھے یہی لینا پڑا۔
مجبوری تھی پھر اس کو میں نے سمجھنا شروع کیا تو جا کر مجھے اس میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ پھر مجھے پتا چلا کہ میں نے اپنے آپ کو ہی کمتر سمجھا تھا میں تو بہت بہتر ہوں اور یہ بات مجھے فیلڈ میں اترنے سے پتا چلی ہے۔
جب تک ہم فیلڈ میں کسی کام کو لگن اور شوق سے نہیں کرتے تب تک ہمیں اس میں مزہ نہیں آتا ۔ کسی بھی اچھے سے اچھے کام کو بغیر دلچسپی اور بددلی سے کیا جائے تو وہ انسان کو کوئی خوشی نہیں دیتا۔ خوشی تب ہی حاصل ہوتی ہے جب کوئی بھی کام پورے شوق اور دل جمعی سے کیا جائے۔
’’کیا طالب علم اپنی پسند کی فیلڈ میں بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں؟‘‘
اس کی ایک مثال میری اپنی ایک کلاس فیلو تو نہیں، اسکول فیلو کی ہے اسے لٹریچر سے انتہا کی حد تک عشق تھا، اسکول میں وہ ایسی باتیں کرتی تھی کہ ہم کہتے تھے کہ بہن ذرا آسان زبان میں بات کرتاکہ دوسرے بھی آسانی سے سمجھ سکیں‘اتنی مشکل زبان میں بات کرو گی تو دوسروں کو خاک سمجھ آئے گی۔
بہرحال اس نے پہلی پوزیشن لی اور اس نے ڈگری لے کر گھر میں لا کر اپنے والدین کو پکڑائی اور کہا کہ یہ ڈگری حاصل کرنا آپ کا شوق تھا تو میں نے حاصل کر لی، اب میں وہ کروں گی جو میرا دل چاہتا تھا۔
لہٰذا اس نے وہ کام پروفیشنلی اختیار کیا، وہ کالج کے زمانے سے ہی بلاگز لکھتی تھی، پھر اس نے باہر کے میگزین کے لیے کام کرنا شروع کر دیا، وہی شوق جو وہ اسکول کے زمانے میں رکھتی تھی۔ اس کی زبان ایسی لٹرل تھی اور ایسا ہی وہ لکھتی تھی۔
’’کس یونیورسٹی سے پڑھا اس لڑکی نے؟‘‘ سوال پوچھا گیا تو جواب نے ششدر کر دیا۔ کراچی کی نمبر ون سرکاری انجینئرنگ یونیورسٹی۔
اسی کے سیکنڈ پوزیشن ہولڈر کی بات سنیں وہ بھی ہمارے اسکول کا ہی تھا (کراچی کا مایہ ناز اسکول جس کا نظام کئی اسکولوں میں رائج ہے) اسے سرکار کے محکمے میں نوکری ملی تھی، پھر اسے ایک انجینئرنگ کمپنی میں جاب ملی۔
اس نے فوراً سرکاری کنٹریکٹ کی جاب چھوڑ کر انجینئرنگ کمپنی میں نوکری اختیار کر لی۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک ٹاپر کو انجینئرنگ کی جاب ملی ہوگی، جی نہیں، اسے ٹیکنیکل سیلز میں جاب ملی ہے اور وہ کر رہا ہے۔
یہ تو حیران کن بات ہے کہ ہمارے یہاں کے ٹاپرز کو بھی اس طرح کی جابس کرنا پڑتی ہیں، لیکن ایسا کیوں ہے کہ بڑے سرکاری اداروں میں نااہلی، کرپشن کی باتیں سنتے ہیں، ایسے ذہین بچوں کے ساتھ ایسا سلوک سمجھ نہیں آتا۔
صرف یہی نہیں ایسے ایسے ذہین نوجوان کہ ان کے ٹیچرز ان سے گھبراتے ہیں۔ میں اپنے ایک سینئر کی بات بتاتا ہوں، وہ تین سال تک بے روزگار رہے، اب جا کر کہیں جاب کر رہے ہیں، وہ بھی ان کی اہلیت کے لائق نہیں۔
میں نے خود ان سے ایک مضمون پڑھا تھا، انھوں نے مجھے بہت اچھی طرح سمجھایا تھا، پھر انھوں نے مجھ سے کہا کہ تمہیں کون ٹیچر پڑھا رہا ہے، میں نے نام لیا تو انھوں نے مجھ سے کہا کہ ان سے اس ٹرم کا مطلب پوچھنا اور اگر وہ بتا دیں تو مجھے ضرور بتانا۔
اس ٹرم میں ایسا کیا تھا آخر؟
اس ٹرم میں ایسا کیا تھا، دراصل ان موصوف کو اس کا علم نہیں تھا اور اسی بات پر ان سے بحث ہوئی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انھیں فیل کردیا گیا۔ یہ صرف ان کے ساتھ ہی نہیں بلکہ اکثر طالب علموں کے ساتھ ہوتا ہے لیکن کیوں ہوتا ہے سوال یہ ہے۔
آپ ان کی قابلیت کے بارے میں ایسے اندازہ لگائیں کہ فلاں ( ایک نجی نامی گرامی یونیورسٹی) میں ان سے لوگ ہل جاتے ہیں۔
ہلنے کا مطلب؟ مطلب یہ کہ لوگ کنفیوژ ہو جاتے ہیں کہ اب یہ کوئی ایسا سوال نہ پوچھ لے کہ جس کا جواب ہمیں نہ آتا ہو۔ ایسے ذہین طالب علموں کو بھی جاب نہیں ملتی۔
اس کی کیا وجہ ہے؟ ( جواب مسکراہٹ کے ساتھ ملا)۔ اس لیے کہ جو انٹرویو لیتے ہیں انھیں بھی اپنی سیٹ بچانی ہوتی ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ باہر کی دنیا بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور ہم اور ہمارا سلیبس بہت پیچھے ہے۔
اب جو باہر کی دنیا کو فالو کرتا ہے کیونکہ بہت کچھ آپ کو انٹرنیٹ کے ذریعے مل جاتا ہے تو جن کے ذہن کو پالش ہونا ہی ہوتا ہے وہ ہو جاتے ہیں، ان کا معیار بڑھ جاتا ہے جب کہ ہمارے پڑھانے والے اپنے پرانے تعلیمی نظام اور سلیبس کو پڑھ کر آتے ہیں تو دونوں میں ٹکراؤ ہوتا ہے۔ کیا ایک ڈگری یافتہ نوجوان ایک اچھی نوکری کا اہل ہوتا ہے؟
بالکل ہوتا ہے بشرطیکہ اس نے عملی طور پر بھی کام کیا ہو، صرف رٹو طوطا اور لکیر کے فقیر بن کر آپ اچھی جی پی لے کر نمایاں ہو جاتے ہیں لیکن پڑھائی اور پریکٹیکل دو الگ الگ معیار ہیں، یہ ضرور ہے کہ اگر آپ پڑھائی میں اچھے ہیں اور اسے اپنے پریکٹیکل میں اپلائی کرتے ہیں تو کامیاب ہیں لیکن صرف کتابیں پڑھ لینا خاص کر سائنس اور ٹیکنیکل میدان میں کارگر نہیں۔
یہ ایک نوجوان کے خیالات تھے۔ ہمارے ہاں طالب علم کے ذہن کو نہیں دیکھتے کہ اس کا رجحان کس طرف ہے، وہ اپنے والدین کی خواہشات کے مطابق ہی فیلڈ اختیارکرتا ہے، پڑھتا ہے اس طرح ہم ناکارہ سسٹم تعمیر کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ہمارے یہاں اوسط درجے کی ذہانت والے لوگ ہر فیلڈ میں گھسے نظر آئیں گے۔
کچھ عرصہ قبل ایک صاحبہ اردو کے حوالے سے نظر آئیں، ان کی سرکاری ملازمت کے گریڈ کا کیا ہی کہیں لیکن جب ان کے املا کی عام سی غلطیاں دیکھیں تو دل پر ملال تھا۔ ایسا کیوں؟ انگریزی کے ٹیچر انگریزی تو کیا اردو بھی صحیح سے نہیں بول سکتے، اسی طرح اردو اور دوسرے مضامین کی کہانی ہے۔
ہم اوسط درجے کی ذہانت سے بھی گر گئے ہیں اور اپنی اس کرپشن پر رنجیدہ نہیں بلکہ بے باک ہو گئے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر ایک ہیرا تھے، جن کی ذہانت، قابلیت اور حب الوطنی جتنا بھی سراہا جائے کم ہے لیکن کیا ڈاکٹر عبدالقدیر کے بعد ہم ان جیسے ذہین پاکستانی کی تلاش ترک کردیں جو اپنے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
کیا ہم ایسا کر سکتے ہیں۔ ہمیں سوچنا ہوگا، کہیں ہم اپنے زرخیز ذہنوں کو ڈپریشن، مایوسی اور ناکامی کے کانٹوں میں الجھا کر ناشکری کے مرتکب تو نہیں ہو رہے؟
Today News
بولان، پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان مقابلہ، اے ایس آئی شہید، پولیس کا سرچ آپریشن جاری
بولان:
بلوچستان کے علاقے بولان میں کمبڑی پل کے قریب پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں پولیس کا ایک افسر شہید ہو گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق فائرنگ کے دوران شہید ہونے والے اہلکار کی شناخت محمد موسیٰ مستوئی کے نام سے ہوئی، جو اسسٹنٹ سب انسپکٹر کے عہدے پر تعینات تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلح ملزمان مبینہ طور پر ڈکیتی کی غرض سے علاقے میں موجود تھے، جن کی اطلاع پر پولیس نے کارروائی کی، تاہم ملزمان نے فائرنگ شروع کر دی جس سے مقابلہ شدت اختیار کر گیا۔
واقعے کے بعد ایس ایس پی کچھی معاذالرحمان کی قیادت میں پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی۔
پولیس کے مطابق فرار ہونے والے ڈاکوؤں کا تعاقب جاری ہے جبکہ واقعے کی مزید تفتیش بھی کی جا رہی ہے۔
Today News
کراچی، مومن آباد میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار
کراچی:
شہرِ قائد کراچی کے علاقے مومن آباد سیکٹر 10 الفتح کالونی میں پولیس اور مسلح ڈاکوؤں کے درمیان مبینہ مقابلہ ہوا، جس کے نتیجے میں موٹرسائیکل سوار دونوں ملزمان زخمی حالت میں گرفتار کر لیے گئے۔
ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی کے مطابق پولیس نے کارروائی کے دوران دو طرفہ فائرنگ کا سامنا کیا، تاہم مؤثر حکمت عملی کے باعث ملزمان کو فرار ہونے سے روک لیا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کی شناخت روشن اور شکیل عرف بھورا کے ناموں سے ہوئی ہے۔
ملزمان کے قبضے سے غیر قانونی اسلحہ بمعہ ایمونیشن، چلیدہ خولز، دو موبائل فونز، نقدی رقم برآمد کر لی گئی ہے۔
Today News
ایران اور امریکا کشیدگی، نتائج کیا ہوں گے؟
ایران اور امریکا کی کشیدگی تاحال جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر فوجی دباؤ بڑھاتے ہوئے مزید ایک بحری بیڑہ خلیج فارس کی جانب روانہ کیا ہے اور اس بات کا اظہا ر انھوں نے گزشتہ دنوں میڈیا کے نمائندوں کے سوالوں کے جواب میں بھی کیا تھا۔
اس تمام تر صورتحال میں ایک سوال بہت اہم ہے اور وہ یہ ہے کہ کیا امریکا اس جنگ کے نتائج کو بھگت پائے گا؟ اگر امریکا ایران پر حملہ بھی کر لے توکیا ایران کو اس قدر نقصان پہنچا پائے گا کہ جو امریکا کے اہداف ہیں؟ یا پھر یہ کہ ایران کے مقابلے میں امریکا کو متعدد نقصانات ہوں گے؟
اسی طرح یہ بات بھی بہت اہمیت اختیارکرتی چلی جا رہی ہے کہ امریکا کو اس کشیدگی سے نکلنے کے لیے کیا کوئی Face Saving مل سکتی ہے؟
اور یہ کس نوعیت کی ہوسکتی ہے۔ اس تمام تر صورتحال میں اسرائیل کی جانب سے ایران کو کیا پیغام بھیجا گیا ہے اور امریکا نے کیا پیغام دیا ہے، یہ ساری باتیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
یہ صورتحال بتا رہی ہے کہ خطے کی ایک نئی صف بندی یا ترتیب ہونے جا رہی ہے۔ اب اگر امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے تو پھر کیا امریکا اس کے نتائج کو برداشت کرنے کی قابلیت رکھتا ہے۔
حال ہی میں سابق برطانوی سفارت کار اور انٹیلی جنس افسر Alastair Crooke نے اپنے حالیہ تجزیے میں، جو جریدہ Geopolitika میں شائع ہوا، ایک نہایت اہم نکتہ اٹھایا ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ ایران کو حالیہ ہفتوں میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے دو مختلف نوعیت کی پیش کشیں کی گئیں، مگر تہران نے دونوں کو مسترد کردیا۔ کروک کے مطابق یہ انکار محض سفارتی ردِعمل نہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن میں تبدیلی کی علامت ہے۔
کروک کے مطابق امریکا کی جانب سے ایک محدود فوجی کارروائی کی تجویز سامنے آئی، جس میں ایران سے بھی محدود اورکنٹرولڈ جواب کی توقع رکھی گئی تھی تاکہ تصادم کو ایک منظم سطح پر رکھا جا سکے۔
تاہم تہران نے اس تصورکو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کا حملہ مکمل جنگ کے آغاز کے مترادف ہوگا۔یہ موقف ایران کی دفاعی حکمت عملی کا عکاس ہے جسے برسوں سے ڈیٹرنس کی بنیاد پر استوارکیا گیا ہے۔
ایرانی قیادت کا موقف رہا ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن یکطرفہ نہیں رہ سکتا اور کسی بھی جارحیت کا جواب وسیع تر دائرے میں دیا جائے گا۔
کروک نے اپنے مقالے میں یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے بھی کچھ ثالثوں کے ذریعے ایران کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اسرائیل ممکنہ امریکی حملے میں براہِ راست شریک نہیں ہوگا اور ایران سے بھی اسرائیل کو نشانہ نہ بنانے کی درخواست کی گئی، مگر ایران کا جواب سخت تھا، اگر فوجی کارروائی ہوئی تو اسرائیل براہِ راست ہدف ہوگا۔
اس تناظر میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہوکی حکومت کو داخلی اور خارجی سطح پر ایک پیچیدہ صورتحال کا سامنا ہے۔ اسرائیل کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اس امر سے آگاہ ہے کہ ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ کا مطلب صرف دو ریاستوں کا تصادم نہیں، بلکہ پورے خطے میں محاذوں کا کھل جانا ہوسکتا ہے۔
اسی طرح عرب ریاستوں سے متعلق ایران کے موقف کے بارے میں یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ایران نے خلیجی اور عرب ممالک کو بھی واضح طور پر آگاہ کیا کہ اگر ان کی سرزمین یا فضائی حدود کسی حملے کے لیے استعمال ہوئیں تو انھیں بھی جنگ کا فریق سمجھا جائے گا۔
یہ پیغام دراصل خطے میں امریکی عسکری موجودگی کے تناظر میں دیا گیا، جہاں متعدد اڈے موجود ہیں۔ معروف امریکی ماہرِ سیاسیات John Mearsheimer کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن اب روایتی اتحادوں سے ہٹ کرریجنل ڈیٹرنس نیٹ ورک کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں کسی ایک ملک پر حملہ پورے بلاک کو متحرک کر سکتا ہے۔
اس صورتحال نے بھی عرب ممالک کی حکومتوں کو مجبورکیا ہے کہ وہ امریکا کو ایران پر فوجی کارروائی سے دور رکھیں۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کو بھیجے گئے پیغامات اور پیشکش کو دیکھنے کے بعد یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب میں غیر یقینی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔
امریکا، جس کی قیادت اس وقت Donald Trump کے ہاتھ میں ہے، ایک ایسی حکمت عملی تلاش کر رہا ہے جس میں طاقت کا مظاہرہ بھی ہو اور مکمل جنگ سے بھی بچا جا سکے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ آسان جنگوں کا دور ختم ہو چکا ہے۔
افغانستان اور عراق کے تجربات نے امریکی عسکری حکمت عملی پر گہرے سوالات اٹھائے ہیں۔ ایران جیسے ملک کے ساتھ تصادم فوری، محدود یا کنٹرولڈ نہیں رہ سکتا۔
ایران نے پہلے دن سے واضح کر رکھا ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت کو برداشت نہیں کرے گا۔دوسری طرف ایران کے بارے میں عالمی منظرنامہ پر ماہرین کا ماننا ہے کہ حالیہ مختصر مگر شدید کشیدگی (یعنی 12 روزہ جنگ) کے بعد ایران ایک نسبتاً مضبوط اسٹرٹیجک پوزیشن میں کھڑا ہے۔
ایرانی قیادت نے یہ تاثر قائم کیا ہے کہ وہ نہ صرف دباؤ قبول کرنے کو تیار نہیں بلکہ مستقبل کے فریم ورک میں اپنی شرائط منوانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔
بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ تبدیلی صرف عسکری نہیں بلکہ نفسیاتی اور سفارتی سطح پر بھی نمایاں ہے۔
معروف عرب تجزیہ کار ماہر امور فلسطین اور غرب ایشیاء عبد الباری عطوان نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ایران اور امریکا کشیدگی میں اس وقت امریکا جنگ شروع کرنے سے پہلے ہی جنگ میں شکست کھا چکا ہے اور جوکچھ اب ہو رہا ہے، وہ سب نفسیاتی جنگ حصہ ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ایران نے یہ جنگ بغیر جنگ کے ہی جیت لی ہے۔
دنیا بھر میں ماہرین کا ایران کے بارے میں یہ تجزیہ کرنا کہ ایران مستحکم پوزیشن میں ہے۔ اس عنوان سے ایران کی حکمت عملی اور اب تک سفارتی سطح پر بہترین اقدامات کے ساتھ ساتھ خطے میں موجود امریکی فوجوں کا ایرانی ہدف ہونا بھی شامل ہے۔
خطے میں امریکی افواج کی بڑے پیمانے پر موجودگی، سخت بیانات اور بحری و فضائی نقل و حرکت نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے، اگرکوئی محدود جھڑپ وسیع تصادم میں تبدیل ہوتی ہے تو اس میں بڑی طاقتوں کے شامل ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے، جس کے بعد حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں۔
برطانوی مورخ اور مشرقِ وسطیٰ کے ماہر David Hearst کے مطابق مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسے موڑ پرکھڑا ہے، جہاںغلط اندازہ (miscalculation) کسی بڑے تصادم کو جنم دے سکتا ہے۔
اس تمام تر صورتحال میں امریکا کے پاس نکلنے کے راستے کم ہیں۔ چاہتے ہوئے بھی امریکی صدر اب ایران پر حملہ کا حکم نہیں دے سکتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ جنگ صرف امریکا اور ایران کے درمیان نہیں بلکہ ایک خطے کی بری جنگ میں تبدیل ہو جائے گی اور اس میں سب سے زیاد ہ جانی و مالی نقصان بھی امریکا کو اٹھانا ہو گا۔
آج امریکا اور اسرائیل کے لیے اصل مسئلہ طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ بڑھتے ہوئے تصادم کے دائرے سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا ہے۔ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اس مرحلے پر خطے میں فیصلہ کن عنصر ایران کا رد عمل اور اس کی حکمت عملی ہے۔
یہ صورتحال اس مفروضے کو تقویت دیتی ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن یکطرفہ نہیں رہا۔ اب ہر قدم کا حساب ہے، ہرکارروائی کا ردعمل متوقع ہے اور ہر فیصلہ ممکنہ طور پر ایک بڑی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی اور اسرائیلی شرائط کو مسترد کرنا محض سفارتی ضد نہیں بلکہ ایک وسیع تر اسٹرٹیجک پیغام ہے۔
یعنی ایران نے خطے کے تمام ممالک کے لیے بھی یہ راستہ کھول دیا ہے کہ خطے کا مستقبل اب یکطرفہ فیصلوں سے طے نہیں ہوگا۔ مشرقِ وسطیٰ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں جنگ کا خطرہ حقیقی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک نئے توازنِ طاقت کا امکان بھی موجود ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا بڑی طاقتیں اس نئے توازن کو قبول کریں گی یا خطہ ایک اور بڑے تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے؟ بہرصورت اگر جنگ شروع ہوتی ہے یا شروع ہوئے بغیر ختم ہوتی ہے، دونوں صورتوں میں خطے میں طاقت کا توازن امریکا کے حق میں نہیں رہے گا۔
-
Tech2 weeks ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech1 week ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Tech2 weeks ago
Apple iPhone 17e Release Date: Just Days Away, New Report Claims
-
Entertainment1 week ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech1 week ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Sports2 weeks ago
How PSL has reignited the passion for cricket in Hyderabad