Today News
سیاسی تربیت اور طلبہ یونین
کبھی کبھی مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں کے وسیع سبزہ زاروں پر ایک عجیب سی خاموشی اُگ آئی ہے۔ یہ وہی کیمپس ہیں جہاں کبھی نعروں کی بازگشت ہوا کرتی تھی۔
جہاں بحث و مباحثہ صرف نصابی کتابوں تک محدود نہیں تھا بلکہ زندگی سیاست، انصاف اور مستقبل کے سوالات تک پھیلا ہوا تھا۔ آج جب میں طلبہ یونینوں کی معطلی پر نگاہ ڈالتی ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے ہم نے اپنی نئی نسل کے ہاتھ سے مکالمے کا حق ہی چھین لیا ہو۔
پاکستان کی تاریخ میں طلبہ سیاست کوئی حادثاتی مظہر نہیں تھی۔ قیامِ پاکستان سے پہلے برصغیر کی جامعات میں جو سیاسی شعور پروان چڑھا، اس نے آزادی کی تحریک کو جِلا بخشی۔
قیامِ پاکستان کے بعد بھی نوجوانوں نے اپنے عہد کے سوالوں سے منہ نہیں موڑا۔ 1950 کی دہائی میں ڈاؤ میڈیکل کالج کے چند نوجوانوں نے جب Democratic Students Federation کی بنیاد رکھی، وہ محض ایک تنظیم نہیں بلکہ ایک روایت کی داغ بیل ڈال رہے ہیں۔
یہ وہی ڈی ایس ایف تھی جس نے 1953 میں تعلیمی مسائل اور جمہوری حقوق کے لیے آواز بلند کی، لاٹھی چارج اور گولیوں کا سامنا کیا اور نوجوانوں کو یہ سکھایا کہ سیاست صرف اقتدار کا کھیل نہیں بلکہ اصولوں کی پاسداری کا نام بھی ہے۔
ڈی ایس ایف پر پابندی لگی، اس کے کارکن گرفتار ہوئے مگر خیال کو قید کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اسی فضا سے National Students Federation ابھری۔
این ایس ایف نے 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں جس فکری اور سیاسی تربیت کا ماحول پیدا کیا، وہ محض کیمپس کی چار دیواری تک محدود نہ رہا۔ اس ماحول سے ایسے نوجوان نکلے جنھوں نے بعد میں قومی سیاست، صحافت، ادب اور مزدور تحریکوں میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کے ہاں اختلاف رائے جرم نہیں تھا بلکہ سیکھنے کا وسیلہ تھا، وہ مارکس پڑھتے تھے، فیض کوگنگناتے تھے اور ساتھ ہی اپنے عہد کی زمینی حقیقتوں سے جڑے رہتے تھے۔
طلبہ یونینیں محض انتخابی پوسٹروں اور تقریری مقابلوں کا نام نہیں تھیں۔ وہ جمہوری تربیت گاہیں تھیں۔ وہاں ووٹ ڈالنے کا شعور پیدا ہوتا تھا۔ منشور لکھنے کی مشق ہوتی تھی، مخالف سے مکالمہ کرنا سکھایا جاتا تھا۔
اختلاف کو برداشت کرنے اور دلیل سے جواب دینے کی تربیت وہیں پروان چڑھتی تھی۔ یہی وہ نرسری تھی جہاں سے سیاسی بصیرت رکھنے والے رہنما نکلتے تھے۔
جب کوئی نوجوان کلاس روم سے نکل کر جلسے میں تقریر کرتا تھا تو وہ صرف نعرہ نہیں لگاتا تھا بلکہ اپنے اندر ایک اعتماد محسوس کرتا تھا کہ وہ اجتماعی فیصلوں کا حصہ بن سکتا ہے۔
1968 اور 1969 کی تحریک کو کون بھول سکتا ہے؟ ایوب آمریت کے خلاف جب ملک کے مختلف شہروں میں طلبہ سڑکوں پر نکلے تو ان کے ساتھ مزدور اور متوسط طبقہ بھی شامل ہوا۔
یہ اتحاد اچانک پیدا نہیں ہوا تھا، اس کے پیچھے برسوں کی تنظیم سازی مطالعہ اور مکالمہ تھا۔ یہی وہ دور تھا جب نوجوانوں نے آمریت کے ایوانوں کو یہ پیغام دیا کہ تاریخ کا پہیہ بند کمروں میں نہیں روکا جا سکتا۔
اس تحریک نے نہ صرف ایک آمرکو رخصت کیا بلکہ سیاست کے افق پر نئی سوچ کو بھی جنم دیا۔بدقسمتی سے ضیاء الحق کے دور میں طلبہ یونینز پر پابندی لگا دی گئی۔ دلیل یہ دی گئی کہ کیمپس میں تشدد بڑھ رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا تشدد کا حل جمہوری عمل کو معطل کرنا تھا؟ کیا ہمیں اصلاح کی طرف جانا چاہیے تھا یا مکمل خاموشی کی طرف؟ اس پابندی نے ایک پوری نسل کو سیاست کے ابتدائی تجربے سے محروم کردیا۔
جب آپ نوجوانوں سے منظم ہونے کا حق چھین لیتے ہیں تو وہ یا تو بے حسی کا شکار ہو جاتے ہیں یا پھر غیر منظم اور شدت پسند گروہوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔
آج کی یونیورسٹیوں میں طلبہ موجود ہیں، مسائل بھی موجود ہیں مگر اجتماعی آوازکمزور ہے۔ فیسوں میں اضافہ ہو، ہاسٹل کے مسائل ہوں یا نصاب کی فرسودگی زیادہ تر احتجاج سوشل میڈیا کی پوسٹ تک محدود رہ جاتا ہے۔
ڈیجیٹل دنیا نے اظہارکے نئے راستے ضرور دیے ہیں مگر اس میں وہ تربیتی عمل نہیں، جو ایک باقاعدہ یونین فراہم کرتی ہے۔ یونین کا انتخاب لڑنا، منشور بنانا، ساتھیوں کو قائل کرنا، یہ سب سیاسی پختگی کی سیڑھیاں ہیں۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے کئی رہنما طلبہ سیاست سے ابھرے۔ انھوں نے کیمپس میں تنظیم سازی سیکھی، جلسے منظم کیے، اختلاف کا سامنا کیا۔
یہی تجربہ بعد میں قومی سطح پر ان کے کام آیا، اگر آج ہمیں سیاست میں برداشت مکالمے اور نظریاتی سنجیدگی کی کمی محسوس ہوتی ہے تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے اس نرسری کو ویران کردیا ہے جہاں یہ اوصاف پنپتے تھے۔
یقینا ماضی مثالی نہیں تھا۔ طلبہ تنظیموں کے درمیان تصادم بھی ہوئے، اسلحہ بھی آیا اور بعض اوقات بیرونی سیاسی قوتوں نے کیمپس کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا، مگرکیا کسی ادارے کی خرابی اس کی مکمل نفی کا جواز بن سکتی ہے؟
جمہوریت کا حسن ہی یہ ہے کہ وہ غلطیوں سے سیکھتی ہے خود کو بہتر بناتی ہے، اگر ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل کرایا جاتا، اسلحے پر مکمل پابندی لگتی اور انتظامیہ غیر جانبدار رہتی تو شاید صورت حال مختلف ہوتی۔ایک ترقی پسند سماج اپنے نوجوانوں سے خوفزدہ نہیں ہوتا۔
وہ انھیں سوال کرنے، منظم ہونے اور اختلاف کرنے کا حق دیتا ہے،کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہی سوال کل کو سماجی انصاف برابری اور جمہوری استحکام کی بنیاد بنیں گے۔
جب ہم طلبہ یونینزکی بحالی کی بات کرتے ہیں تو دراصل ہم اس امید کی بات کر رہے ہوتے ہیں کہ ہماری سیاست دوبارہ نظریاتی سنجیدگی اور عوامی مسائل کی طرف لوٹے۔
مجھے یاد ہے کہ ایک زمانے میں یونیورسٹی کی دیواروں پر چسپاں پوسٹر محض کاغذ کے ٹکڑے نہیں ہوتے تھے وہ خوابوں کے منشور ہوتے تھے۔
ان خوابوں میں ایک زیادہ منصفانہ سماج کی تصویر ہوتی تھی۔ شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ان خوابوں کو دوبارہ جگہ دیں۔
طلبہ یونینز کی بحالی کوئی انقلابی نعرہ نہیں، یہ جمہوری تسلسل کی ایک کڑی ہے، اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں سیاسی بصیرت اخلاقی جرات اور اجتماعی شعور کے ساتھ آگے بڑھیں تو ہمیں ان کی آواز پر عائد یہ طویل خاموشی ختم کرنا ہوگی۔
Today News
بیرونی قرضوں، واجبات کا حجم 138 ارب ڈالر سے تجاوز، سود کی ادائیگی میں 84 فیصد اضافہ
اسلام آباد:
پاکستان کے ذمے بیرونی قرضوں اور واجبات کا حجم 138 ارب ڈالر سے تجاوزکر گیا، گزشتہ تین برسوں میں قرضوں پر سود کی ادائیگی84 فیصد تک بڑھ گئی، حجم1.91ارب ڈالر سے بڑھکر 3.59 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان بیرونی قرضوں پر8 فیصد تک شرح سے سود ادا کر رہا ہے،ان میں آئی ایم ایف، عالمی بینک،اے ڈی بی، کمرشل بینکوں کے قرضے شامل ہیں۔
حکام کے مطابق گزشتہ مالی سال سود سمیت قرضوں کی واپسی کی مد میں 13.32ارب ڈالر ادا کئے گئے، خالص بیرونی قرضوں میں گزشتہ سال1.71ارب ڈالر اضافہ ہوا، 11.44ارب ڈالر قرض لیا،9.73 ارب ڈالر اصل رقم واپس کی، 3 ارب ڈالرکمرشل قرضہ جس میں 32.70 کروڑ ڈالرسود شامل ہے ادا کیا۔
آئی ایم ایف کو 58کروڑ سود سمیت 2.10 ارب ڈالر، نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کی مد میں 18.8کروڑ ڈالرسود سمیت 1.56ارب ڈالر، اے ڈی بی کو61.5 کروڑ سود سمیت 1.54ارب ڈالر،عالمی بینک کو 41.9کروڑ سود سمیت 1.25ارب ڈالر، سعودیہ کو3.3 کروڑ سود سمیت 81 کروڑ ڈالر ادا کئے، سعودی سیف ڈیپازٹس پر 20.3کروڑ ڈالرسود ادا کیا۔
حکام کے مطابق گزشتہ مالی سال یورو بانڈ کے 50 کروڑ ڈالر،چین کو سیف ڈیپازٹس پر23.9 کروڑ سود سمیت 40 کروڑ ڈالر، جرمنی کو 10.7 کروڑ، فرانس کو 24 کروڑ ڈالرادا کئے گئے،اسلامی ترقیاتی بینک کا 27.70 کروڑڈالر قرضہ واپس کیا گیا۔
Today News
کروڑوں ڈالرز قرض کو دھچکا، میڈیکل کمپلیکس کی زمین متنازع نکلی
اسلام آباد:
حکومت پاکستان کا چینی مارکیٹ میں پہلی بار پانڈا بانڈ کے ذریعے 25 کروڑ ڈالر قرض حاصل کرنیکا منصوبہ انتظامی اورقانونی رکاوٹوں کے باعث تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق 2 منصوبوں کیلیے غلط مقامات کے انتخاب نے معاملے کو پیچیدہ بنادیا،جن میں 76کروڑڈالر مالیت کاجناح میڈیکل کمپلیکس بھی شامل ہے۔
پاکستان کمزورکریڈٹ ریٹنگ کے باعث براہِ راست چینی قرض مارکیٹ میں داخل نہیں ہوسکتا،حکومت نے ایشین ڈیولپمنٹ بینک اورایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی کریڈٹ گارنٹی حاصل کی ہے،تاہم ان اداروں نے شرط عائدکی ہے کہ قرض صرف ماحول دوست اورگرین منصوبوں پر خرچ ہوگا۔
ذرائع کے مطابق آزادکشمیر میں ٹیلی میٹری منصوبے کے ایک مقام پر اعتراضات سامنے آئے،جسے بعد ازاں بھارت کے اعتراض پر فہرست سے نکال دیاگیا۔
بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی پالیسی کے تحت متنازع علاقوں میں فنڈنگ نہیں کی جاسکتی۔ادھر جناح میڈیکل کمپلیکس کیلیے اسلام آبادکے سیکٹر ایچ16 میں مختص زمین پر نجی ملکیت کے دعوے سامنے آئے،جس پر ضامن اداروں نے تحفظات ظاہرکیے۔
وزیراعظم نے جولائی 2024 میں منصوبے کاسنگِ بنیادرکھاتھا، تاہم بعد ازاں زمین کے واجبات کے دعوے سامنے آنے پر حکومت کومقام تبدیل کرناپڑا،منصوبہ اب سیکٹر ایچ11منتقل کر دیاگیا۔
ذرائع کاکہناہے کہ مجموعی 25 کروڑڈالرمیں سے تقریباً 15کروڑ 20 لاکھ ڈالر دومنصوبوں پر خرچ کیے جانے تھے،جن میں 76.5ملین ڈالر انڈس بیسن کے 26 مقامات پرریئل ٹائم ڈسچارج مانیٹرنگ سسٹم کی تنصیب کیلیے مختص تھے،جبکہ 76 ملین ڈالر جناح میڈیکل کمپلیکس کیلیے رکھے گئے تھے۔
ذرائع نے بتایاکہ وزارتِ خزانہ کے اندر بھی اختلافات پائے جاتے ہیں،ایکسٹرنل فنانس ونگ نے قرض کے معاہدوں،انڈررائٹرز اور چینی قانونی مشیروں کی تقرری کے طریقہ کار پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہاکہ بیوروکریسی کومکمل طور پر اعتمادمیں نہیں لیاگیا۔
ذرائع کے مطابق وزارتِ خزانہ اب متبادل مالی ذرائع کی تلاش میں ہے اورغیر ملکی بینکوں سے اضافی قرض پر بات چیت جاری ہے،جن میں 60 کروڑڈالرکاقرض بھی شامل ہے،جو برطانوی بینک سے حاصل کیاجارہاہے۔
Today News
سعودی عرب میں یوم تاسیس کا رنگا رنگ آغاز، 300 سالہ تاریخ کے جشن میں شہر جگمگا اٹھے
ریاض:
سعودی عرب میں یوم تاسیس کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا، جہاں دارالحکومت ریاض سمیت مختلف شہروں کی بلند و بالا عمارتوں کو قومی رنگوں سے سجا دیا گیا اور فضاء جشن کے نعروں سے گونج اٹھی۔
سعودی شہری پہلی سعودی ریاست کے قیام کے 300 سال مکمل ہونے پر تاریخی دن کو بھرپور جوش و خروش سے منا رہے ہیں جبکہ ملک بھر میں ثقافتی پروگرامز، موسیقی اور عوامی تقریبات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
اس دن کو باقاعدہ قومی سطح پر منانے کی منظوری شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے 2022 میں دی تھی۔
تاریخی طور پر پہلی سعودی ریاست کی بنیاد امام محمد بن سعود نے 1744 میں رکھی جس کی یاد میں ہر سال یوم تاسیس منایا جاتا ہے۔
حکومت کی جانب سے آج سرکاری تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ ملک بھر میں خصوصی شوز، ثقافتی مظاہرے اور موسیقی کی محافل جاری ہیں جہاں سعودی فنکار اور نوجوان بڑی تعداد میں شریک ہو کر قومی تاریخ کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔
-
Tech2 weeks ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech1 week ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Entertainment1 week ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech2 weeks ago
Apple iPhone 17e Release Date: Just Days Away, New Report Claims
-
Tech1 week ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Sports2 weeks ago
How PSL has reignited the passion for cricket in Hyderabad