Connect with us

Today News

بنگلہ دیش کی نئی حکومت خطرات کی زد میں

Published

on


پاکستان نے کبھی بنگلہ دیش کے معاملات میں کبھی مداخلت نہیں کی البتہ بھارت بنگلہ دیش کے معاملات میں مسلسل مداخلت کرتا رہا ہے چنانچہ شیخ مجیب الرحمن حکومت سے لے کر حسینہ واجد کی حکومت تک بنگلہ دیش میں جتنی بھی حکومتیں برسر اقتدار آئیں تمام ہی بھارت کے زیر اثر رہیں۔ البتہ خالدہ ضیا کی حکومت نے ضرور بھارت سے کچھ فاصلہ رکھا تھا، انھوں نے پاکستان سے بھی تعلقات قائم رکھے تھے۔

بھارت کی پہلی پسند عوامی لیگ ہی رہی ہے اور بھارت کی سرپرستی میں ہی حسینہ نے دوسری بار حکومت حاصل کرکے مسلسل 15 سال حکومت کی تھی۔

2009 سے 15 اگست 2024 تک یعنی مسلسل پورے 15 سال تک حکومت کرتی رہی۔ حالانکہ خالدہ ضیا کی بنگلہ دیشی نیشنلسٹ پارٹی کو ہر دفعہ عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل تھی مگر اس کی جیت کو ہر دفعہ شکست میں تبدیل کر دیا گیا۔

شاید اسی وجہ سے حسینہ کا طرز عمل بھی عوام کے ساتھ ہمدردانہ نہیں تھا، وہ دراصل بھارت کی پشت پناہی کی وجہ سے ایک سخت گیر ڈکٹیٹر بن گئی تھی۔

حقیقت یہ ہے کہ وہ عوامی مسائل کو پس پشت ڈال کر صرف بھارت کے مفادات کے لیے کام کر رہی تھی۔ اس نے بھارت کو ہر وہ رعایت دی جو عوام کو ہرگز قبول نہیں تھی۔

ملک کا کوئی بھی شعبہ ایسا نہیں تھا جس میں بھارتی مفادات کو مقدم نہ رکھا گیا ہو۔ حتیٰ کہ بھارت کو اپنی شمال مشرقی ریاستوں تک رسائی کے لیے اندرون ملک سے رسائی دے دی گئی ان ریاستوں میں امن قائم رکھنے میں بھی حسینہ نے بھارت کی مدد کی۔

حسینہ کی حکومت کا زوال دراصل وہاں سرکاری ملازمتوں میں مستحق نوجوانوں کے بجائے مکتی باہنی کی اولادوں کو ترجیح دینے سے شروع ہوا۔ عام لوگ سرکاری نوکریوں کے لیے مارے مارے پھر رہے تھے مگر حسینہ کی حکومت کو ان کی کوئی فکر نہیں تھی۔

بالآخر بے روزگار نوجوانوں نے حکومت کے خلاف احتجاج شروع کر دیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ احتجاج عوامی تحریک میں تبدیل ہو گیا کیونکہ عوام پہلے ہی حسینہ کی حکومت سے بے زار ہو چکے تھے چنانچہ آگے چل کر یہ احتجاج انقلاب کی شکل اختیار کر گیا اور حسینہ حکومت کو ہلا کر رکھ دیا۔

وہ اقتدار کو اپنے باپ کی میراث سمجھتی تھی، چنانچہ اس احتجاجی تحریک کو کچلنے کے لیے پولیس اور فوج کو احتجاجی عوام پر گولی چلانے کا حکم دے دیا جس سے سیکڑوں نوجوانوں کو ہلاک کر دیا گیا مگر اس ظلم سے احتجاجی تحریک میں مزید اضافہ ہو گیا اور حالات اتنے خراب ہوئے کہ حسینہ کو ڈھاکہ چھوڑ کر بھاگنا پڑا اور دلّی میں پناہ لینا پڑی۔

ادھر حسینہ کے ملک کو چھوڑنے کے بعد ایک عبوری حکومت قائم ہو گئی جس کے سربراہ نوبل انعام یافتہ محمد یونس مقرر ہوئے۔ انھوں نے عوامی مطالبے پر 12 فروری 2026 کو نئے انتخابات منعقد کرنے کا اعلان کر دیا۔

خوش قسمتی سے اب بنگلہ دیش میں عام انتخابات ساتھ خیریت کے مکمل ہو چکے ہیں۔ گوکہ ان انتخابات کو روکنے کے لیے حسینہ کی سرپرست مودی حکومت نے لاکھ روڑے اٹکائے مگر بنگلہ دیشی عوام نے ان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے کر بھارتی سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔ 

ان انتخابات میں حسینہ دور میں مشکلات کا شکار رہی، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے بھاری اکثریت سے جیت حاصل کر لی ہے۔ جماعت اسلامی کی بھی بہترین کارکردگی رہی ہے اور اس نے 77 سیٹیں حاصل کرکے بنگلہ دیش کی دوسری بڑی پارٹی کا درجہ حاصل کر لیا ہے۔

حسینہ کے دور میں ان دونوں پارٹیوں پر وہ ظلم کیا گیا کہ جیسا ظلم تو دشمن کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔ جماعت اسلامی کے کئی سرکردہ رہنماؤں کو 1971 کے سانحے کے وقت پاکستان کی حمایت میں بنگالیوں کے قتل کا مرتکب ہونے کے جھوٹے الزامات پر پھانسی دے دی گئی، مقصد صرف یہ تھا اس پارٹی کو ختم کر دیا جائے،کیونکہ بھارت کی یہی فرمائش تھی۔

ادھر بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی سربراہ خالدہ ضیا کو جھوٹے الزامات میں جیل میں رکھا گیا اور وہ جیل میں ہی سخت بیمار ہوگئی تھیں اور بعد میں انتقال کر گئیں۔

ان کے بیٹے طارق رحمان کو بھی جھوٹے الزامات لگا کر جیل میں رکھا گیا تھا، بعد میں جب ان کی رہائی ہوئی تو وہ لندن چلے گئے اور وہاں سے ہی پارٹی کے معاملات کو چلاتے رہے۔

وہ 17 سال حسینہ کے ظلم کی وجہ سے باہر رہے اور اپنی والدہ خالدہ ضیا کی وفات سے چند دن قبل ہی وطن واپس لوٹے تھے کہ ایسے میں انتخابات کی سرگرمیاں شروع ہو چکی تھیں۔

طارق رحمان نے اپنی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی انتخابی مہم کو عروج پر پہنچا کر اپنی مرحومہ والدہ کی کمی کو پورا کر دیا تھا اور انتخابات میں اکثریت حاصل کر کے اب خود کو وزیر اعظم بننے کا اہل ثابت کر دیا ہے۔

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور جماعت اسلامی نے عوام میں اپنی مقبولیت کا لوہا منوا لیا ہے۔ ان انتخابات میں ووٹنگ کا تناسب 60 فی صد سے زائد رہا۔

ان علاقوں کو جنھیں عوامی لیگ کا ووٹنگ حب کہا جاتا تھا وہاں سے بھی ان دونوں پارٹیوں نے بھرپور ووٹ حاصل کیے ہیں جس سے لگتا ہے اب مجیب کے خاندان کا بنگلہ دیش سے دیس نکالا ہوگیا ہے پھر عوامی لیگ کے رہنماؤں اورکارکنان کے بھارت بھاگ جانے سے بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کا صفایا ہوگیا ہے۔

عبوری حکومت کا قائم کردہ جوڈیشل ٹریبونل حسینہ کو عوامی احتجاج کے دنوں میں سیکڑوں شہریوں کو قتل کرنے کے جرم میں موت کی سزا دے چکا ہے۔

عبوری حکومت نے اس کے خلاف مقدمے کی کارروائی کے دوران اسے اپنا دفاع کرنے کے لیے وطن واپس آنے کی دعوت دی تھی مگر وہ نہیں آئی۔ عدالتی فیصلے کے بعد عبوری حکومت نے مودی سے اسے بنگلہ دیش بھیجنے کو کہا مگر مودی نے کوئی جواب نہیں دیا، شاید اس لیے کہ اسے پتا ہے کہ حسینہ واقعی قاتل ہے۔

بنگلہ دیشی عوام نے اب حسینہ کو اس کے ظالمانہ رویے اور بھارت نوازی کی وجہ سے بھلا دیا ہے۔ بہرحال اب بنگلہ دیش کی حکومت چلانے کی ساری ذمے داریاں طارق رحمان کے کندھوں پر آ گئی ہے، لگتا ہے وہ اپنے والد ضیا الرحمن اور والدہ خالدہ ضیا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ضرور کامیاب رہیں گے اور بنگلہ دیش کے پاکستان کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

البتہ اب بھارت کے لیے بہت پریشانیاں بڑھ گئی ہیں کیونکہ اس کی شمال مشرقی سیون سسٹرز کا مستقبل غیر یقینی ہو گیا ہے، وہاں آزادی کی تحاریک پہلے سے چل رہی ہیں اور اب چونکہ بھارت کو حسینہ کی مدد حاصل نہیں ہے جس کے سہارے وہ وہاں کی بغاوتوں کو ناکام بناتا رہا ہے، اب اسے ان ریاستوں کو ان کے حال پر چھوڑنا ہوگا۔

تاہم اس کے اروناچل پردیش کے عوام ضرور چین کا حصہ بن کر رہیں گے جنھیں بھارت نے زبردستی اپنا حصہ بنایا ہوا ہے لہٰذا مودی بنگلہ دیش کی نئی عوامی حکومت کو ناکام بنانے کے لیے ہر حربہ استعمال کر سکتا ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

نعتیہ کلام لکھنے والے شاعر سید سلمان گیلانی انتقال کرگئے

Published

on



معروف نعتیہ شاعر اور برجستہ مزاحیہ شعر کہنے والے سلمان گیلانی طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے۔

تفصیلات کے مطابق سید سلمان گیلانی اسپتال میں زیر علاج تھے جہاں آج وہ 74 برس کی عمر میں خالق حقیقی سے جاملے۔

سید سلمان گیلانی کو نعتیہ کلام لکھنے کی وجہ سے شاعر ختم نبوت ﷺ کا لقب بھی ملا جبکہ اُن کے والد سید امین گیلانی تحریک ختم نبوت کے متحرک رہنماؤں میں شامل تھے۔

جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سید امین گیلانی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے ناقابل تلافی نقصان قرار دے دیا۔



Source link

Continue Reading

Today News

رمضان ، طلبہ کی مشکلات اور تعلیم میں توازن

Published

on


رمضان المبارک صرف عبادت اور روزوں کا مہینہ نہیں بلکہ صبر، برداشت، ہمدردی اور معاشرتی تربیت کا بھی مقدس وقت ہے۔ ایک اسلامی معاشرے میں رمضان کی اہمیت صرف عبادت میں نہیں بلکہ روزمرہ کے معمولات، تعلیمی نظام اور سماجی رویوں میں بھی محسوس کی جاتی ہے۔

گھروں کی روایات بدل جاتی ہیں، سحری اور افطار کے اوقات معمولات پر اثر ڈالتے ہیں، اور بچوں کے لیے یہ مہینہ خوشی اور روحانی سکون کا سبب بنتا ہے۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام خصوصاً نجی سیکنڈری اسکول رمضان کی ضرورتوں اور بچوں کے حالات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

اس وقت ملک کے کئی اسکولوں میں رمضان کے دوران امتحانات اور صبح سویرے کے اوقات کار جاری ہیں، جو بچوں اور والدین دونوں کے لیے ذہنی اور جسمانی دباؤ کا سبب بنتے ہیں۔

بچے رات کے وقت عبادات، تراویح اور سحری میں حصہ لیتے ہیں، جس کے باعث دیر سے سوتے ہیں۔ صبح امتحان یا کلاس کے لیے جلدی اٹھنا ان کے لیے ایک مشکل مرحلہ بن جاتا ہے۔

نتیجتاً نہ صرف ان کی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ تعلیمی کارکردگی بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔ والدین اکثر پریشانی کے عالم میں بچوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ یا تو روزہ چھوڑیں یا امتحان کے لیے دیر سے جا کر تھکان سہیں۔

تعلیم کا مقصد صرف نصاب مکمل کرنا نہیں بلکہ صحت مند اور متوازن شخصیت کی تربیت بھی ہے، اگر طالب علم ذہنی دباؤ، نیند کی کمی اور جسمانی تھکن کا شکار ہو تو تعلیم کے نتائج متاثر ہوتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی مسلم ممالک رمضان میں اسکول کے اوقات کم یا دیر سے شروع کر دیتے ہیں تاکہ طلبہ عبادت، صحت اور تعلیم کے درمیان توازن قائم رکھ سکیں۔

چند ہفتے قبل موسمِ سرما میں طلبہ کی سہولت کے لیے سندھ کے وزیر تعلیم سردار شاہ نے اسکول کے اوقات صبح نو بجے مقرر کیے تھے، جسے والدین، اساتذہ اور طلبہ نے سراہا۔

یہ قدم اس بات کا ثبوت تھا کہ اگر پالیسی ساز طلبہ کی فلاح اور آسانی کو ترجیح دیں تو مثبت تبدیلی ممکن ہے۔ اسی سوچ کو رمضان میں بھی اپنانے کی ضرورت ہے۔

خصوصاً رمضان میں دیر سے اسکول شروع کرنا (صبح 10 یا 11 بجے) ایک عملی اور متوازن حل ہے۔ اس سے بچے مکمل نیند لے سکیں گے، روزے کے دوران جسمانی توانائی برقرار رہے گی اور عبادات میں بھی شریک رہ سکیں گے۔

امتحانی شیڈول کو مختصر کرنا یا نصف دن کے اوقات مقرر کرنا بھی ایک متوازن حل ہے۔

اساتذہ بھی روزے کی حالت میں تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ طویل اوقات کار ان کی کارکردگی متاثر کرتے ہیں، جس کا براہ راست اثر طلبہ پر پڑتا ہے۔

اصلاح نہ صرف بچوں کے لیے بلکہ پورے تعلیمی ماحول کے لیے ضروری ہے۔ والدین، اساتذہ اور سماجی کارکن اس بات پر متفق ہیں کہ بچوں کی صحت اور ذہنی سکون کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔

آج کے بچے ہی کل کا مستقبل ہیں، اگر ہم ان کی جسمانی توانائی اور ذہنی سکون کو نظر انداز کریں گے تو مستقبل کی بنیاد کمزور ہوگی۔

نجی اسکولوں کی طرف سے اکثر کہا جاتا ہے کہ تعلیمی سال مکمل کرنا ضروری ہے اور امتحانات ملتوی نہیں کیے جا سکتے۔

مگر کیا واقعی یہ ممکن نہیں کہ رمضان کے دوران امتحانات یا کلاسز کے اوقات کو مؤخر کیا جائے؟ کم از کم صبح دیر سے شروع کرنا اور روزانہ کے دورانیے کو نصف دن رکھنا نہ صرف بچوں کی صحت بلکہ تعلیم کے معیار کے لیے بھی مفید ہے۔

یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ رمضان میں صرف بچے ہی نہیں بلکہ اساتذہ بھی روزے کی حالت میں کام کرتے ہیں۔

طویل اوقات کار اور سخت امتحانی شیڈول ان کی تدریسی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے، جس کا براہ راست اثر بچوں کی تعلیمی کارکردگی پر پڑتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ گورنمنٹ آف سندھ رمضان المبارک کے لیے واضح اور یکساں پالیسی ترتیب دے۔

نجی و سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے ایسے اصول وضع کیے جائیں جس کے تحت دیر سے اسکول کا آغاز، مختصر اوقات اور امتحانات کے مناسب شیڈول کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ اقدام نہ صرف طلبہ بلکہ پورے سماج کے لیے مثبت پیغام ہوگا۔

رمضان ہمیں صبر، برداشت اور دوسروں کی مشکلات سمجھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر ہم اپنے ہی بچوں کی نیند، صحت اور ذہنی سکون کو نظر انداز کریں تو رمضان کی اصل روح سے دور ہو جائیں گے۔ بچوں کی خوشی، صحت اور تعلیم میں توازن ہی اسلام کے اصولوں کے مطابق ہے۔

تعلیمی پالیسی بنانے والوں کے لیے یہ بہترین موقع ہے کہ وہ ایک ایسا فیصلہ کریں جو نہ صرف طلبہ بلکہ پورے معاشرے کے لیے مثال بنے۔

اسکول کے اوقات میں نرمی، امتحانات کے شیڈول میں تبدیلی اور طلبہ کے لیے سہولتیں فراہم کرنا کمزوری نہیں بلکہ ایک ذمے دار ریاست کی پہچان ہے۔آخر میں کہنا چاہتی ہوں کہ رمضان کو بچوں کے لیے امتحان نہیں بلکہ آسانی، تربیت اور رحمت کا مہینہ بنایا جانا چاہیے۔ جب بچے خوش، صحت مند اور مطمئن ہوں گے تو تعلیم اور معاشرہ دونوں مضبوط ہوں گے۔





Source link

Continue Reading

Today News

بیرونی قرضوں، واجبات کا حجم 138 ارب ڈالر سے تجاوز، سود کی ادائیگی میں 84 فیصد اضافہ

Published

on



اسلام آباد:

پاکستان کے ذمے بیرونی قرضوں اور واجبات کا حجم 138 ارب ڈالر سے تجاوزکر گیا، گزشتہ تین برسوں میں قرضوں پر سود کی ادائیگی84 فیصد تک بڑھ گئی، حجم1.91ارب ڈالر سے بڑھکر 3.59 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان بیرونی قرضوں پر8 فیصد تک شرح سے سود ادا کر رہا ہے،ان میں آئی ایم ایف، عالمی بینک،اے ڈی بی، کمرشل بینکوں کے قرضے شامل ہیں۔

حکام کے مطابق گزشتہ مالی سال سود سمیت قرضوں کی واپسی کی مد میں 13.32ارب  ڈالر ادا کئے گئے، خالص بیرونی قرضوں میں گزشتہ سال1.71ارب ڈالر اضافہ ہوا، 11.44ارب  ڈالر قرض لیا،9.73 ارب ڈالر اصل رقم واپس کی، 3 ارب ڈالرکمرشل قرضہ جس میں 32.70 کروڑ ڈالرسود شامل ہے ادا کیا۔

آئی ایم ایف کو 58کروڑ سود سمیت 2.10 ارب ڈالر، نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کی مد میں 18.8کروڑ ڈالرسود سمیت 1.56ارب ڈالر، اے ڈی بی کو61.5 کروڑ سود سمیت 1.54ارب ڈالر،عالمی بینک کو 41.9کروڑ سود سمیت 1.25ارب ڈالر، سعودیہ کو3.3 کروڑ سود سمیت 81 کروڑ ڈالر ادا کئے،  سعودی سیف ڈیپازٹس پر 20.3کروڑ ڈالرسود ادا کیا۔

حکام کے مطابق گزشتہ مالی سال یورو بانڈ کے 50 کروڑ ڈالر،چین کو سیف ڈیپازٹس پر23.9 کروڑ سود سمیت 40 کروڑ ڈالر، جرمنی کو 10.7 کروڑ، فرانس کو 24 کروڑ ڈالرادا کئے گئے،اسلامی ترقیاتی بینک کا 27.70 کروڑڈالر قرضہ واپس کیا گیا۔





Source link

Continue Reading

Trending