Today News
آسٹریلوی سلیکٹرز کو اسمتھ کی توہین کا مرتکب قرار دے دیا گیا
آسٹریلوی سلیکٹرز کو سینیئر بلے باز اسٹیون اسمتھ کی توہین کا مرتکب قرار دیا جانے لگا ہے۔
سینیئر بیٹر کو بگ بیش میں عمدہ کارکردگی کے باوجود پہلے تو ورلڈکپ اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا، بعد میں بطور کور بھیجا گیا۔
باقاعدہ طور پر وہ سری لنکا کے خلاف اہم ترین میچ سے قبل اسکواڈ کا حصہ بنے، جس میں شکست کے بعد آسٹریلوی ٹیم کے سپر 8 میں جانے کا امکان ختم ہوگیا۔
جمعہ کو آسٹریلیا نے عمان کے خلاف اپنا آخری گروپ میچ کھیلا مگر اس میں بھی اسمتھ کو نہیں کھلایا گیا، بطور متبادل 2 اوورز کے دوران ان سے باؤنڈری کے قریب فیلڈنگ کروائی گئی۔ اس دوان بھی انہوں نے صرف ایک کام فیلڈ میں کسی ساتھی کھلاڑی کا گرا ہوا ٹاول اٹھاکر باؤنڈری سے باہر اچھالنے کی صورت میں کیا۔
شائقین سوشل میڈیا پر سلیکٹرز کی جانب سے اس سلوک کو اسمتھ کی توہین قرار دے رہے ہیں۔
Source link
Today News
کینڈین شہری لاہور سے اغوا
لاہور میں کینڈین شہریت کا حامل ایک شخص اغوا ہوگیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق کینڈین شہری حمزہ احمد ریسرچ ورک کے لیے لاہور آیا تھا۔ حمزہ احمد اپنے دوست کے گھر ڈیفنس فیز 10 میں رہائش پذیر تھا۔
پولیس نے حمزہ احمد کے دوست یوسف رشید کے بیان پر اغواکاری کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔
مقدمے میں مدعی کا کہنا ہے کہ حمزہ احمد 13 فروری کو پاکستان پہنچا تھا۔ حمزہ احمد نجی کمپنی کی کیب بک کرکے باہر گیا مگر واپس نہیں لوٹا۔
ڈی آئی جی آپریشن لاہور محمد فیصل کامران نے کہا ہے کہ کیس پر تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔
Today News
ملک میں رجسٹرڈ آبادی کتنی ہے؟ نادرا نے سالانہ رپورٹ جاری کردی
نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے مطابق ملک کی 97 فیصد آبادی سرکاری طور پر رجسٹرڈ ہے۔
قومی شناختی نظام میں تقریباً 98.3 فیصد بالغ آبادی کی رجسٹریشن مکمل ہونے کے باوجود تقریباً 1.7 فیصد بالغ افراد نے ابھی تک شناختی کارڈ نہیں بنوایا۔بالغ ہونے کے باوجود شناختی کارڈ نہ بنوانے والے شہریوں میں زیادہ تر تعداد خواتین کی ہے اور بعض ایسے اضلاع جہاں مقامی حکومت کے اداروں سے پیدائش کی سول دستاویزات بنوانے والوں کی تعداد کم ہےوہاں شناختی کارڈ نہ بنوانے والوں میں مرد اور خواتین دونوں شامل ہیں۔
نادرا مقامی حکومت کی جانب سے جاری کردہ کمپیوٹرائزڈ پیدائش کے سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر پہلی بار رجسٹریشن کرتا ہے۔
اس کی غیرموجودگی ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر سامنے آئی ہے۔ سال 2025 کی سالانہ رپورٹ کی تیاری کے دوران نادرا نے ادارۂ شماریات پاکستان، الیکشن کمیشن آف پاکستان، قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں، قومی کمیشن برائے بہبودِ اطفال و ترقی اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر گزشتہ 10 برس کے رجسٹریشن کے اعداد و شمار کا تفصیلی تجزیہ کیااس تجزیے میں آبادی کے رجحانات، مختلف اضلاع اور اصناف کے درمیان فرق کا جائزہ لے کراس خلاء کے اسباب کی نشاندہی کی گئی اور اصلاحی اقدامات تجویز کیے گئے۔
ان سفارشات کی روشنی میں وفاقی وزیر برائے داخلہ و انسدادِ منشیات نے ایک منظم اور قانونی بنیاد پر مبنی سہولت متعارف کرانے کی ہدایت جاری کی، جس کی منظوری بعد ازاں نادرا اتھارٹی بورڈ نے بھی دے دی۔
اسی تناظر میں نادرا نے پہلی بار رجسٹریشن کے لیے ایک مخصوص سہولت متعارف کرائی ہے جو 31 دسمبر 2026 تک مؤثر رہے گی۔ اس طریقۂ کار کے تحت ایسے افراد جن کے پاس مقامی حکومت کا کمپیوٹرائزڈ پیدائش سرٹیفکیٹ دستیاب نہ ہو، انہیں تصدیق کی شرائط پوری ہونے پر کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ جاری کیا جا سکے گا۔
یہ سہولت نادرا آرڈیننس اور قومی شناختی کارڈ کے مروجہ قواعد و ضوابط کی ان شقوں کے تحت دی جا رہی ہے جو نادرا کو رجسٹریشن میں اضافے کی غرض سے مخصوص حالات میں متبادل تصدیقی طریقہ کار کے ذریعے قومی شناختی کارڈ جاری کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔
اس سہولت کے تحت شناختی کارڈ صرف ان افراد کو جاری کیا جائے گا جن کی شناخت نادرا کے موجودہ ریکارڈ کی بنیاد پر متعین کی جا سکے اور پہلے سے رجسٹرڈ خاندان کے قریبی افراد کی لازمی بائیومیٹرک تصدیق مکمل ہو جائے۔
اٹھارہ سال یا اس سے زائد عمر کی شادی شدہ خاتون کے لیے مقامی حکومت کا مستند نکاح نامہ، والدین میں سے کسی ایک کا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ ، شوہر کا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ ، اور والدین میں سے کسی ایک اور شوہر کی بائیو میٹرک شناخت کی تصدیق لازمی ہو گی۔
اٹھارہ سال یا اس سے زائد عمر کی غیر شادی شدہ خاتون کے لیے والدین میں سے کسی ایک کا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ اور شناختی کارڈ کے حامل والد یا والدہ کی بائیو میٹرک شناخت کی تصدیق لازمی ہو گی۔
چوبیس سال سے زائد عمر کے مرد درخواست گزار کے لیے ضروری ہو گا کہ والدین میں سے کسی ایک کے پاس کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ موجود ہو اور کم از کم ایک بہن یا بھائی بھی رجسٹرڈ ہو، جبکہ والدین میں سے کسی ایک کی بائیو میٹرک شناخت کی تصدیق لازمی ہو گی۔
اگر کسی درخواست گذار کے والد اور والدہ دونوں یا شوہر وفات پا چکے ہوں لیکن ان کا ریکارڈ نادرا میں موجود ہو تو مجاز افسر ریکارڈ کی بنیاد پر جانچ کے بعد بائیو میٹرک کی تصدیق سے استثنیٰ دے سکتا ہے۔
محدود مدت کی یہ سہولت تصدیق کے ان مراحل کی تکمیل سے مشروط ہو گی۔ مزید سہولت کے لیے اس طریقۂ کار کے تحت نارمل کیٹیگری میں نان اسمارٹ شناختی کارڈ کسی فیس کے بغیر جاری کیا جائے گا۔
قومی شناختی نظام میں اندراج کے بعد ولدیت، تاریخِ پیدائش اور جائے پیدائش ناقابلِ تنسیخ اور ناقابلِ تبدیلی ہوں گے۔ نادرا کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ رجسٹریشن کے وقت تمام معلومات کی درستی کو یقینی بنائیں۔ ان شرائط پر پورا اترنے والے اہل درخواست گزار مقررہ مدت ختم ہونے سے پہلے قریبی نادرا رجسٹریشن مرکز سے اپنا شناختی کارڈ بنوائیں۔
Today News
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے صوبے کے پانچ نئے اضلاع میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کے قیام کی منظوری دے دی
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبے کے پانچ نئے اضلاع میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹس (CPUs) کے قیام کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد صوبے بھر میں یونٹس کی تعداد بڑھ کر 24 ہو جائے گی۔
اس اہم فیصلے کے تحت خیبرپختونخوا چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن کے لیے مجموعی طور پر 119.86 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق 57 ملین روپے ’’گڈ گورننس روڈ میپ‘‘ کے تحت نئے یونٹس کے قیام پر خرچ کیے جائیں گے جبکہ 62.86 ملین روپے موجودہ یونٹس کو مضبوط بنانے، خالی آسامیوں پر تقرریوں اور سروس ڈیلیوری بہتر بنانے کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ نئے چائلڈ پروٹیکشن یونٹس مانسہرہ، شانگلہ، مالاکنڈ، ڈیرہ اسماعیل خان اور نوشہرہ میں قائم کیے جائیں گے۔
سیکرٹری محکمہ سماجی بہبود نذر حسین شاہ نے اس اقدام کو بچوں کے تحفظ کے نظام میں ایک سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ چائلڈ پروٹیکشن یونٹس خطرے سے دوچار بچوں کی نشاندہی، رجسٹریشن، بحالی اور معاشرے میں دوبارہ انضمام کا مرکزی ادارہ ہیں۔
ان کے مطابق قانون کے تحت ہر ضلع میں یونٹ کا قیام لازمی ہے اور حکومت مرحلہ وار تمام اضلاع تک اس نظام کو توسیع دے گی۔
چیف چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن اعجاز محمد خان نے بتایا کہ فنڈز کے اجراء کے بعد ای ٹی ای اے کے ذریعے میرٹ پر بھرتیوں کا عمل جلد شروع کیا جائے گا تاکہ نئے یونٹس کو فوری طور پر فعال کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ہر یونٹ میں چائلڈ پروٹیکشن آفیسر، سوشل کیس ورکر اور ماہرِ نفسیات تعینات ہوں گے جو بچوں کو مکمل کیس مینجمنٹ اور قانونی معاونت فراہم کریں گے۔
حکام کے مطابق چائلڈ پروٹیکشن یونٹس نہ صرف متاثرہ بچوں کو فوری امداد فراہم کریں گے بلکہ عوامی آگاہی، کمیونٹی کی شمولیت اور نچلی سطح پر چائلڈ پروٹیکشن کمیٹیوں کے قیام کے ذریعے بچوں کو تشدد، استحصال اور زیادتی سے بچانے کے لیے جامع نظام تشکیل دیں گے
-
Tech2 weeks ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech1 week ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Entertainment1 week ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech1 week ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Tech5 days ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Entertainment2 weeks ago
Heartbreaking Moment as Army Martyr’s Father Faints Receiving Son’s Belongings
-
Entertainment1 week ago
Sharpasand Episode 37 – Viewers React to Sanam Slapping Fida