Today News
ورلڈکپ کوالیفائنگ راؤنڈ؛ ہاکی ٹیم کا تربیتی کیمپ ختم، کھلاڑیوں کی صدر پی ایچ ایف سے ملاقات متوقع
ورلڈ کپ کوالیفائنگ راؤنڈ کے لیے لاہور میں جاری قومی ہاکی ٹیم کا تربیتی کیمپ ختم ہوگیا۔کھلاڑی کل اسلام آباد میں فیڈریشن کے ایڈ ہاک صدر محی الدین وانی سے ملاقات کریں گے۔
نیشنل ہاکی اسٹیڈیم کی گراؤنڈ ٹو کیمپ میں 18 کھلاڑی شریک ہوئے، اولمپین خواجہ محمد جنید اور اظفر یعقوب نے کیمپ کی نگرانی کی ۔ کھلاڑیوں نے فٹنس میں بیتری کے لیے مختلف جسمانی مشقیں کیں۔کوچز نے کھلاڑیوں کو سکل ورک پر کام کروایا ۔
قومی ہاکی ٹیم اسلام آباد میں صدر پی ایچ ایف محی الدین وانی سے ملاقات کرے گی۔ ہیڈ کوچ خواجہ جنید کے مطابق ٹیم مسلسل ہاکی کھیلتے ہوئے آرہی ہے اس لیے امید ہے کوالیفائنگ راؤنڈ میں اچھا پرفارم کریں گے۔
کپتان عماد شکیل بٹ کا موقف تھا کہ ہمارا کسی سے کوئی اختلاف نہیں ہم نے ہاکی کھلاڑیوں کے حق کی بات کی ۔حکومت نے تمام معاملات حل کردیے ہیں، ورلڈ کپ کوالیفائنگ راؤنڈ کے ذریعے ورلڈ کپ میں کوالیفائی کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے ۔
Source link
Today News
پشاور پولیس کی کارروائی، افغان تاجر کو اغوا کرنے والا گینگ گرفتار، مغوی بازیاب
پشاور پولیس نے کپڑے کے افغان تاجر کو اغوا کرنے والے گینگ کو گرفتار کرکے مغوی تاجر کو بازیاب کرالیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق کارروائی شہید گلفت حسین پولیس نے کی جس میں مغوی تاجر نیاز ولی ولد یار محمد کو بازیاب کرایا گیا۔
اغوا کار گینگ سے حساس اداروں کے جعلی سروسز کارڈز، سیکیورٹی فورسز کی وردی، اسلحہ اور واردات میں استعمال ہوئی گاڑی بھی برآمد کر لی گئی۔
گرفتار ملزمان میں افتخار ولد مقرب خان سکنہ ورسک روڈ، محمد عمر ولد خان سید سکنہ لنڈی کوتل ضلع خیبر اور فرمان اللہ ولد گل نبی سکنہ ضلع چارسدہ شامل ہیں۔
ملزمان اپنے آپ کو سیکیورٹی فورسز کے اہلکار ظاہر کرکے افغان شہریوں کو اغواء کرکے تاوان وصول کرتے تھے۔
پولیس نے ملزمان کے خلاف اغواء برائے تاوان، جعلسازی، دہشت گردی، راہزنی اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے۔
Source link
Today News
ایف آئی اے کی انسانی اسمگلرز کیخلاف کارروائی، سب ایجنٹ اور 8 افغان باشندے گرفتار
ایف آئی اے نے انسانی اسمگلرز کے خلاف کارروائی کے دوران سب ایجنٹ اور 8 افغان باشندوں کو گرفتار کرلیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق اینٹی ہیومین ٹریفکنگ سرکل کوئٹہ نے کارروائی کے دوران سب ایجنٹ عرفان کو گرفتار کر لیا،کارروائی کے دوران 8 افغان باشندے بھی تحویل میں لے لیے گئے۔
گرفتار ملزم انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کا اہم کردار نکلا،مرکزی ملزمان گل بدین اور غمائی فرار ہوگئے،جن کی تلاش جاری ہے،ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزم کے موبائل سے واٹس ایپ چیٹس اور اہم شواہد برآمدہوئے،جس سےانسانی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے واضح ثبوت سامنے آگئے،اسمگلنگ میں استعمال ہونے والا رکشہ بھی ضبط کیاگیا۔
گرفتار ایجنٹ نے افغانستان میں موجود سہولت کاروں سے رابطوں کا بھی انکشاف کیا،افغانستان میں موجود تاج محمد اور کامل سے براہ راست روابط کی تصدیق کی، دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیےچھاپے مارے جارہے ہیں جبکہ ملزم سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔
Source link
Today News
سدے تیمان… اسرائیل کا گوانتانامو
7 اکتوبر 2023 ء حسین الزویدی کی شادی کا دن ہونا تھا۔ انہوں نے ایک بڑا ہال بک کر رکھا تھا، ڈھائی ہزار سے زائد دوستوں اور رشتے داروں کو مدعو کیا تھا اور دلہن کے لباس کی کرایہ فیس بھی ادا کر دی تھی۔ مگر نکاح کے بندھن میں بندھنے کے بجائے انہیں اور ان کی منگیتر کو غزہ کی پٹی کے انتہائی شمالی علاقے سے جان بچا کر بھاگنا پڑا۔ الزویدی اپنے خاندان کے ساتھ جبالیہ کے ایک اسکول میں جا پہنچے جو غزہ شہر کے قریب واقع ہے۔ بالآخر ایک ماہ بعد وہیں شادی ہوئی، نہ کوئی تقریب تھی اور نہ ہی دلہن کا لباس۔
اس کے ایک ماہ بعد الزویدی کے مطابق اسرائیلی فوج نے جب اس اسکول کا کنٹرول سنبھالا جہاں وہ پناہ لیے ہوئے تھے تو انہیں قیدی بنا لیا گیا۔ اسی سال 13 اکتوبر کو غزہ میں حماس اور اس سے منسلک گروہوں کے پاس موجود آخری بیس زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کے تبادلے کے تحت 22 ماہ قید میں رہنے کے بعد انہیں رہا کیا گیا۔
اب 26 سالہ الزویدی غزہ کی پٹی کے وسطی علاقے دیر البلح میں اپنے خاندان کے خیمے میں قیام پذیر ہیں۔ شمال میں واقع ان کے والدین کا گھر جنگ میں تباہ ہو چکا ۔ کئی رشتے دار شہید ہو چکے ہیں۔ تاہم الزویدی کو اس سب کا علم نہیں تھا۔ وہ کہتا ہے کہ یہ تباہی اور اپنے والدین اور بہن بھائیوں کو اس قدر کمزور اور لاغر حالت میں دیکھ کر وہ صدمے میں ہے۔ لیکن سب سے بڑھ کر وہ اب بھی اس اذیت سے ذہنی طور پر باہر نہیں آ سکا جو اس نے قید کے دوران برداشت کی۔کہتے ہیں:’’مجھے اکثر لگتا تھا کہ میں مر جاؤں گا۔ اور ہر دن میں خدا کا شکر ادا کرتا تھا کہ میں ابھی زندہ ہوں۔‘‘
قید میں لیے جانے کے بعد الزویدی کے مطابق انہیں اسرائیلی کیمپ، سدے تیمان لے جایا گیا جہاں انہوں نے ہاتھ بندھے ہوئے اور آنکھوں پر پٹی باندھ کر 18 دن گزارے ۔ انہیں اور دیگر قیدیوں کو بہت کم بیت الخلا استعمال کرنے کی اجازت دی جاتی تھی؛ زیادہ تر وقت انہیں وہیں بیٹھے بیٹھے حاجت پوری کرنا پڑتی ۔ انہیں لیٹنے کی اجازت نہیں تھی، بولنے کی اجازت نہیں تھی اور نہ ہی سر اٹھانے کی اجازت۔ رات کے وقت صرف پانچ گھنٹے سونے دیا جاتا تھا۔ ان کے بقول، انہیں بار بار مارا پیٹا جاتا تھا۔
سردی، بھوک اور بار بار تشدد
الزویدی کے مطابق کھانے میں صرف روٹی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا اور ڈبہ بند ٹونا مچھلی کا آدھا چمچ دیا جاتا تھا۔ گدّے بہت پتلے تھے اور کمبل بھی، حالانکہ جن ہالوں میں قیدیوں کو بند رکھا گیا تھا وہاں شدید سردی ہوتی تھی۔ الزویدی کا کہنا ہے کہ دیگر حراستی مراکز میں بھی انہیں بے رحمی سے پیٹا گیا۔ جب وہ چیچک (چکن پاکس) میں مبتلا ہوئے تو ایک طویل عرصے تک انہیں کوئی دوا نہیں دی گئی۔
وہ اسرائیلی قید کے بارے میں کہتا ہے’’ وہ کسی دوزخ سے کم نہ تھی جہاں مجھے شدید اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔‘‘ وہ اب بھی ڈراؤنے خواب دیکھتا ہے … اور جب وہ کھانا کھاتا ہے تو بے اختیار فرش پر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر آگے جھک جاتا ہے، جیسے اسے جیل میں کرنا پڑتا تھا۔
مغربی صحافیوں نے الزویدی کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کا جائزہ لیا ہے۔ حالیہ برسوں میں ان کی پوسٹوںسے عسکریت پسند گروہوں کے لیے ممکنہ ہمدردی کا اشارہ ملتا ہے۔ فیس بک پر انہوں نے کئی بار اپنی تصاویر اسالٹ رائفل کے ساتھ پوسٹ کیں ۔ بعض پوسٹوںمیں جنگجوؤں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ تاہم اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ وہ حماس کے رکن تھے۔ بہرحال ان میں سے کوئی بھی بات مہینوں تک جاری رہنے والے تشدد اور اذیت کو جائز قرار نہیں دے سکتی۔
حسین الزویدی ان تقریباً 1,700 فلسطینیوں میں سے ایک تھے جنہیں جنگ کے دوران غزہ سے گرفتار کیا گیا اور پچھلے سال ماہ اکتوبر کے وسط میں رہا کیا گیا۔ ان میں سے اکثریت عام شہریوں پر مشتمل تھی، جنہیں بغیر کسی الزام کے نام نہاد الزام ’’غیر باقاعدہ جنگجو‘‘ قرار دے کر قید کیا گیا۔ ان میں سے بہت سے الزویدی کی طرح بعد میں بھوک، بدسلوکی اور ناقابلِ برداشت قید کے حالات کی کہانیاں بیان کر چکے ہیں۔ ان کے بیانات بین الاقوامی میڈیا کی 2024 ء کے وسط سے کی گئی رپورٹنگ، نیز اسرائیلی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔
سدے تیمان حراستی کیمپ کو اب ’’اسرائیل کا گوانتانامو‘‘ کہا جانے لگا ہے۔ تاہم تشدد صرف نیگیو صحرا میں واقع اس فوجی کیمپ تک محدود نہیں بلکہ تقریباً تمام دیگر حراستی مراکز اور جیلوں میں بھی یہ عام نظر آتا ہے۔ اسرائیل اس الزام کی تردید کرتا ہے۔
’’قیدیوں پر تشدد ریاستی پالیسی کا ایک دانستہ اور وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والا ہتھیار بن چکا ہے۔‘‘ یہ بات حال ہی میں متعدد اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی کمیٹی برائے انسدادِ تشدد کو پیش کی گئی ایک رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق’’یہ تشدد گرفتاری سے لے کر تفتیش اور قید تک، حراست کے پورے عمل میں ہوتا ہے۔‘‘
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اعلیٰ اسرائیلی حکام نے ان زیادتیوں کی منظوری دی، جبکہ عدالتی، انتظامی اور طبی نظام مداخلت کرنے میں ناکام رہے۔ رپورٹ کے مطابق قیدیوں کو اکثر طویل عرصے تک وکیلوں اور طبی سہولتوں تک رسائی سے محروم رکھا جاتا ہے۔ بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس نے حالیہ برسوں میں قیدیوں تک رسائی کی درخواست کی، مگر بے سود۔ اس وقت بھی اسرائیل 9,200 فلسطینیوں کو نام نہاد’’سیکیورٹی قیدیوں‘‘ کے طور پر حراست میں رکھے ہوئے ہے۔
لیکن معاملہ صرف تشدد تک محدود نہیں۔ اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم، فزیشنز فار ہیومن رائٹس (PHRI) نے عینی شاہدین کے بیانات، سرکاری ریکارڈز اور دیگر شواہد کا جائزہ لے کر جنگ کے آغاز سے اب تک 98 اموات کی دستاویز بندی کی ہے۔ پی ایچ آر آئی کے مطابق مرنے والوں میں سے دو تہائی سے زیادہ کا تعلق غزہ سے تھا، جبکہ باقی مغربی کنارے سے تھے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ 52 قیدی فوجی کیمپوں میں ہلاک ہوئے جن میں سے نصف سے زیادہ سدے تیمان میں جان سے گئے۔
اسرائیل کی تنظیم، پی ایچ آر آئی (Physicians for Human Rights) کی پچھلے سال شائع ہونے والی رپورٹ کے مصنفین میں شامل ناجی عباس کے مطابق، تنظیم نے دسمبر 2023 ء میں پہلی بار عدالتوں کے ذریعے قیدیوں سے متعلق معلومات طلب کیں۔ عباس کہتے ہیں:’’اس کے بعد ہمیں غیر رسمی طور پر بتایا گیا کہ سدے تیمان میں ہر ہفتے لوگ مر رہے ہیں۔‘‘
ان کے بقول، سات ماہ گزرنے کے بعد ہی فوج نے پہلی مرتبہ کسی عدد کا ذکر کیا۔’’اور آج تک وہ مزید معلومات جاری کرنے سے انکار کر رہی ہے، مثلاً یہ کہ اموات کی وجوہ کیا تھیں۔‘‘ عباس کہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں، اصل اموات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
تشدد اور بدسلوکی کے مراکز
پی ایچ آر آئی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیرِ قومی سلامتی، ایتامار بن گویر نے جیلوں میں قید کے حالات کو جان بوجھ کر مزید خراب کرنے کی پالیسی اپنائی، جسے’’اضافی سزا‘‘ کی ایک شکل قرار دیا گیا۔ یوں 7 اکتوبر 2023 ء کے دہشت گرد حملے کے بعد حراستی مراکز’’تشدد اور بدسلوکی کے مراکز‘‘ بن گئے، جہاں بنیادی انسانی حقوق معمول کے طور پر سلب کیے گئے۔اس میں قیدیوں کو طبی سہولتیں فراہم نہ کرنا اور ’’روزانہ کی بنیاد پر جسمانی تشدد کے وسیع پیمانے پر استعمال‘‘ شامل تھا۔
پی ایچ آر آئی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ ’’حراست میں فلسطینیوں کی ہلاکت ایک معمول بن چکی ہے۔‘‘
بارہ گھنٹے کرسی سے باندھ کر تشدد
ناجی عباس کے مطابق’’ان دس واقعات میں جہاں عدالت کے ذریعے کسی ڈاکٹر کو لاش کا معائنہ کرنے کی اجازت ملی، تقریباً تمام کیسز میں تشدد اور غفلت کے آثار پائے گئے۔‘‘تاہم چونکہ زیادہ تر معاملات میں مرنے والوں کے خاندانوں کو پوسٹ مارٹم کی دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں، اس لیے اموات کی درست وجوہ کا تعین عمومی طور پر ممکن نہیں ہو سکا۔
عباس شمالی اسرائیل کی مجیدو جیل میں پیش آنے والے ایک 33 سالہ قیدی کے واقعے کا حوالہ دیتے ہیں، جس کی پسلیاں اور سینے کی ہڈی ٹوٹ چکی تھیں۔ ساتھی قیدیوں کے مطابق ایک درجن سے زائد جیل محافظوں نے اسے کئی منٹ تک مارا پیٹا۔
رہا ہونے والے قیدی، حسین الزویدی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ تشدد نہ صرف سدے تیمان میں عام تھا بلکہ ان دیگر تین حراستی مراکز میں بھی جہاں انہیں رکھا گیا۔ ایک تفتیش کے دوران ان کے بقول تفتیش کرنے والوں نے انہیں 12 گھنٹے تک کرسی سے باندھے رکھا اور بار بار ان کے عضوِ تناسل پر مارا۔ اس کے بعد ان کا کہنا ہے، ان کے پیشاب میں خون آنے لگا۔وہ کہتے ہیں کہ خاص طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کے دوران انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ایک موقع پر ان کے مطابق، ایک ساتھی قیدی نے انہیں بتایا کہ اسے لاٹھی کے ذریعے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
الزویدی کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ایک قیدی کی موت اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ ان کے مطابق وہ نیگیو جیل میں تقریباً ستر سالہ ایک ریٹائرڈ فلسطینی استاد کے ساتھ کئی ماہ ایک ہی سیل میں رہے۔ ستمبر کے آخر میں جب ممکنہ جنگ بندی کی خبریں گردش کرنے لگیں تو قیدیوں نے خوشی منانا شروع کر دی، جس پر اسرائیلی فوجیوں نے انہیں مارا پیٹا اور ربڑ کی گولیوں سے فائرنگ کی۔
الزویدی کے مطابق بزرگ قیدی کے سر پر ضرب لگی اور وہ خون بہنے کے بعد بے ہوش ہو گئے۔ قیدیوں نے فوجیوں سے بار بار التجا کی کہ زخمی شخص کو ڈاکٹر کے پاس لے جایا جائے، مگر الزویدی کے بقول پورے دو دن گزر گئے تب جا کر انھیں سیل سے باہر لے جایا گیا۔’’وہ کبھی واپس نہیں لائے گئے اور ہمارے لیے یہ واضح تھا کہ وہ شہید ہو چکے۔‘‘
پی ایچ آر آئی کے محقق،ناجی عباس اس مخصوص واقعے سے واقف نہیں، تاہم وہ اسے ‘‘قابلِ اعتماد’’ قرار دیتے ہیں کیونکہ ’’ہم تشدد کے انداز اور اس کے بعد امداد فراہم نہ کیے جانے کے اسرائیلی رویّے سے بخوبی واقف ہیں۔’’
نظریں چرانا
حالیہ ماہ دسمبر کے اوائل میں غزہ میں قائم فلسطینی مرکز برائے انسانی حقوق (PCHR) نے قیدیوں کے خلاف ’’منظم عصمت دری اور جنسی تشدد‘‘ پر مبنی ایک رپورٹ شائع کی۔ دیگر زیادتیوں کے ساتھ اس میں ایک کیس میں لکڑی کی لاٹھی اور دوسرے میں بوتل کے ذریعے مقعد میں داخل کیے جانے کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ یہ بیانات ان رپورٹوں سے مطابقت رکھتے ہیں جو غزہ جنگ کے آغاز سے اب تک متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سامنے آ چکی ہیں۔
پچھلے سال ماہ مارچ میں اقوامِ متحدہ کے ماہر کمیشن کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان جرائم کی ’’تعدد، وسعت اور شدت‘‘ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ’’جنسی اور صنفی بنیادوں پر تشدد کو اسرائیل کی جانب سے تیزی سے جنگی طریق کار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔‘‘
عینی شاہدین کے بیانات اور دیگر شواہد ایک ہی نتیجے کی طرف اشارہ کرتے ہیں: تشدد مسلسل اور منظم ہے۔ اس کے باوجود اسرائیلی سیاست اور معاشرے کے بڑے حصے میں اس کی یا تو تردید کی جاتی ہے یا اسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اسرائیلی میڈیا شاذ و نادر ہی قیدیوں پر ہونے والے تشدد کی رپورٹنگ کرتا ہے، اور جب کرتا بھی ہے تو اسے عموماً انفرادی واقعات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اکثر غصّہ مجرموں کے بجائے ان لوگوں پر نکالا جاتا ہے جو ان زیادتیوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔
اس رویّے کی ایک واضح مثال وہ کیس ہے جس نے اسرائیل میں ایک بڑا اسکینڈل کھڑا کیا اور جس کے نتیجے میں ایک فوجی پراسیکیوٹر کو اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا۔ یہ معاملہ جولائی 2024 ء میں اس وقت سامنے آیا جب سدے تیمان سے ایک قیدی کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔ دیگر زخموں کے علاوہ ابتدا میں کہا گیا کہ اس کے ساتھ زیادتی کی گئی تھی۔ بعد ازاں یہ انکشاف ہوا کہ اسے ’’ایک نوکیلے آلے‘‘ کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں اس کے مقعد کو شدید نقصان پہنچا۔
پانچ ریزرو فوجیوں پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے اس قیدی کے ساتھ بدسلوکی کی اور اسے حراست میں رکھا۔ یہ افراد ایک خصوصی یونٹ سے تعلق رکھتے تھے جو سدے تیمان میں قیدیوں کی نگرانی کا ذمے دار تھا۔ کچھ ہی عرصے بعد دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اسرائیلیوں کے ایک ہجوم نے جس میں اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) کے ارکان بھی شامل تھے… پہلے سدے تیمان اور پھر ایک اور فوجی اڈے پر دھاوا بول دیا تاکہ ان ریزرو فوجیوں کو رہا کروایا جا سکے۔ وزیرِ سلامتی، ایتامار بن گویرنے ، جن کے ماتحت پولیس آتی ہے، مبینہ ملزمان کی گرفتاری کو ’’شرمناک سے کم نہیں‘‘ قرار دیا۔
ویڈیو لیک ریاستی معاملہ بن گیا
چند دن بعد ایک اسرائیلی ٹیلی ویژن چینل نے سدے تیمان کے اندر نصب نگرانی کیمروں کی فوٹیج نشر کی، جس میں مبینہ طور پر ایک فلسطینی قیدی کے ساتھ بدسلوکی دکھائی گئی تھی۔ تقریباً دو درجن فلسطینی قیدی نالی دار دھات کی باڑ اور خاردار تار کے پیچھے پیٹ کے بل لیٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ویڈیو میں فوجیوں کو ایک قیدی کو گھسیٹ کر لے جاتے اور پھر اسے دیوار کے ساتھ دباتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
وہ شخص ان کی طرف پیٹھ کیے کھڑا ہوتا ہے، جیسے اس کی تلاشی لی جا رہی ہو۔ اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے، وہ بڑی حد تک فوجیوں کی فساد کنٹرول ڈھالوں کے پیچھے چھپ جاتا ہے، جو نظر روکنے کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں۔ وہ شخص زمین پر گر پڑتا ہے۔ منظر سے ایسا لگتا ہے کہ اسے مارا یا لاتیں ماری جا رہی ہیں۔
اسرائیل میں اس ویڈیو کے بعد شروع ہونے والی بحث کا مرکز زیادہ تر یہ رہا کہ ویڈیو کس نے لیک کی، نہ کہ ان مناظر کا اصل مواد۔پچھلے سال نومبر کے اوائل میں ایک سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد ذمے دار شخص کا پتا چلایا گیا…اس کیس کی انچارج فوجی پراسیکیوٹر، یفیات تومر یروشلمی۔ انہوں نے یہ ویڈیو ایک صحافی تک پہنچانے کا انتظام کیا تھا۔ انہیں مختصر وقت کے لیے حراست میں لیا گیا اور تحقیقات تاحال جاری ہیں۔
فوجی پراسیکیوٹر نے بعد ازاں اپنے استعفے کے خط میں وضاحت کی، انہوں نے ویڈیو کی اشاعت کی منظوری اس لیے دی تاکہ ’’فوجی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف کی جانے والی جھوٹی پروپیگنڈا مہم کا جواب دیا جا سکے۔‘‘انہوں نے لکھا کہ قیدیوں میں ’’ دہشت گرد عناصر‘‘ شامل تھے، مگر اس سے یہ حقیقت تبدیل نہیں ہوتی کہ ان کے ساتھ بدسلوکی نہیں کی جا سکتی۔
بدقسمتی سے یہ بنیادی سمجھ … کہ کچھ اعمال ایسے ہیں جو بدترین قیدیوں کے خلاف بھی کبھی نہیں کیے جا سکتے ، اب سب کو قائل نہیں کرتی۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے لیک ہونے والی ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:’’یہ شاید اسرائیل کو اس کے قیام کے بعد درپیش سب سے سنگین عوامی اسکینڈل ہے۔‘‘اس کے وزیر دفاع نے فوجی پراسیکیوٹر پر ’’بلڈ لیبل‘‘ یعنی یہود دشمن اشتعال انگیزی کا الزام عائد کیا۔
اب اسرائیلی دائیں بازو میں فوجی پراسیکیوٹر کو غدار سمجھا جا رہا ہے — حالانکہ اس نے غزہ جنگ کے دوران دو برس تک فوج کا دفاع کیا، جس کے بعض پہلو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی تھے۔جس اسرائیلی صحافی کو یہ ویڈیوز لیک کی گئیں، اسے اس حد تک دھمکیاں دی گئیں کہ اطلاعات کے مطابق اس کے چینل نے اس کی حفاظت کے لیے باڈی گارڈز تعینات کر دیے ہیں۔وہ کہتا ہے ’’اپنے وطن میں مجھے تعریف کے بجائے ہمیں الزامات ملے اور شکریے کے بجائے موت کی دہمکیاں۔
اُدھر بدسلوکی کا شکار فلسطینی قیدی رہا ہو چکا ہے۔ اسے یرغمالیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت غزہ واپس بھیج دیا گیا، اور بظاہر تفتیش کاروں نے اس سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی۔ یہ رہائی غیر معمولی ہے کیونکہ ایسے شواہد موجود ہیں، اس کا تعلق حماس سے تھا اور ممکن ہے کہ وہ اسرائیل پر حملے میں بھی شامل رہا ہو۔ اسرائیلی حکومت اس سے قبل اس نوعیت کے قیدیوں کی رہائی دو ٹوک انداز میں مسترد کرتی رہی تھی۔
اسرائیل کے بڑے حصے میں ردِعمل یہ رہا ہے کہ یہ وڈیو لیک غداری کا عمل تھا، کسی بڑے جرم کو بے نقاب کرنے کے بجائے ایک دھوکہ۔اگر لیک ہی جرم تھا، تو لیک کرنے والا مجرم ٹھہرا اور ریپ کرنے والے ہیرو بن گئے۔ عملی طور پر یہی ہوا۔ جن پانچ فوجیوں پر بدسلوکی کے الزامات عائد کیے گئے، انہیں اسرائیل میں بہت سے لوگوں نے ہیرو کے طور پر پیش کیا۔ دوسری جانب لیک کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا گیا اور اسے بار بار دھمکیاں دی گئیں، زیادہ تر آن لائن۔
وسل بلوئرکو سزا دی جائے گی اور ریپ کرنے والے آزاد گھومیں گے… یہ اسرائیل کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر اس مکمل عدم احتساب کی عکاسی کرتا ہے جو اسرائیلی افواج کے جرائم کے حوالے سے موجود ہے۔ اسرائیلی آبادکار دہائیوں سے اس نظام سے فائدہ اٹھاتے آئے ہیں۔اس وڈیو لیک اسکینڈل کا وسیع تر پہلو یہ ہے کہ یفیات تومر یروشلمی کو مسلسل اس بات پر دباؤ کا سامنا رہا کہ وہ غزہ میں مبینہ طور پر کیے گئے اسرائیلی جرائم کی تحقیقات نہ کریں۔ انہوں نے ویڈیو اس مایوسی کے تحت لیک کی کہ اسرائیلی دائیں بازو کی جانب سے انہیں اپنا کام کرنے سے روکا جا رہا تھا۔
فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کی بدسلوکی اور جنسی تشدد ایک ایسا مسئلہ ہے جو شاذ و نادر ہی بین الاقوامی میڈیا کی توجہ حاصل کرتا ہے۔ اور جب کرتا بھی ہے تو اکثر اس کی شدت کم کر دی جاتی ہے اور یہ اسرائیلی دائیں بازو کے بیانیے کی بازگشت بن جاتا ہے۔ مثال کے طور پر شکایات کے بعد بی بی سی نے اپنی سرخی تبدیل کی، جو پہلے یہ تھی:’’ویڈیو لیک اسکینڈل پر اسرائیلی فوج کی سابق اعلیٰ وکیل گرفتار۔‘‘اور بعد میں ایسی سرخی رکھی گئی جس میں زیرِ حراست افراد کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کا حوالہ دیا گیا۔
بڑا مسئلہ یہ رہا ہے کہ اسرائیل قیدیوں اور زیرِ حراست افراد کے ساتھ کس طرح سلوک کرتا ہے … تشدد زدہ لاشیں، لاپتہ افراد، اور مردہ جسم ،ان سب کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔بین الاقوامی میڈیا اور سیاسی طبقے کا بڑا حصہ ایسی کوریج نمایاں نہیں کرنا چاہتا جو یہ ثابت کرے کہ اسرائیل کوئی جمہوری، قانون کی پاسداری کرنے والی مغربی ریاست نہیں ہے۔ میڈیا کے بڑے حلقے ایسی خبروں کو احتیاط سے تراشے گئے بیانیہ توڑنے والا سمجھتے ہیں: وحشی عرب مسلمان بمقابلہ مہذب اسرائیلی یہودی۔ جنسی تشدد اور اذیت اس بیانیے میں فٹ نہیں بیٹھتے، بالکل اسی طرح جیسے نسل کشی اور نسل پرستانہ نظام (اپارتھائیڈ) بھی فٹ نہیں بیٹھتے۔
سدے تیمان اسرائیل کا گوانتانامو ہے، اس کا ابو غریب۔ یہ ان تمام لوگوں کے لیے ایک ویک اپ کال ہے جو اب بھی کسی طرح اسرائیلی ریاست کو جمہوریت اور لبرل اقدار کا قلعہ سمجھتے ہیں، جبکہ حقیقت میں وہاں وحشت وعسکریت پسندی قیادت کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہے۔n
-
Tech2 weeks ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech1 week ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Entertainment1 week ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech2 weeks ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Tech1 week ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Tech6 days ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Business2 weeks ago
Pre-Ramazan hikes in essential commodities’ prices pinching consumers
-
Entertainment2 weeks ago
Heartbreaking Moment as Army Martyr’s Father Faints Receiving Son’s Belongings