Today News
مشی خان نے گھریلو مسائل بیان کرنے پر مشہور انفلوئنسر ڈاکٹر نبیہہ کو جھڑک دیا
اداکارہ اور ٹی وی میزبان مشی خان نے سسرال اور شوہر کی جانب سے اذیت دینے کا انکشاف کرنے والی اداکارہ ڈاکٹر نبیہہ کے انکشافات کو پاگل پن قرار دیتے ہوئے میزبان کو بھی جھڑک دیا اور ایسے معاملات گھروں کے اندر حل کرنے کا مشورہ دیا۔
ڈاکٹر نبیہہ نے گزشتہ روز مشہور اداکارہ فضاعلی کے پروگرام میں انکشاف کیا تھا کہ ان کی شادی ٹھیک نہیں چل رہی ہے، اپنے سسرال کے ساتھ مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا تھا کہ انہیں مینٹل ٹارچر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
حارث کھوکھر نے اس بیان کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ تنگ نظری میں مبتلا ہے اور شکی مزاج خاتون ہیں۔
مشی خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر ڈاکٹرنبیہہ کے ٹی وی شو پر کیے گئے انکشافات کو پاگل اور ٹی وی پر دکھایا جانے والا مواد بھی فضول قرار دے دیا۔
انہوں نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ‘یہ کیا ٹرینڈ چل رہا ہے، ابھی رمضان المبارک کا اتنا پاک مہینہ شروع ہوا ہے اور ٹیلی ویژن کھولیں تو آپ کو اس طرح کے شوز دیکھنے کو ملتے ہیں، جس میں اپنے ذاتی مسائل جو ذاتی گھر کے مسائل ہیں، یوں عوام میں لا کر اس طرح بات کرنا اور اس کو ڈرامائی انداز دینا اور ایسے ظاہر کرنا جیسے پتا نہیں اللہ معاف کرے کیا ہوگیا’۔
مشی خان نے کہا کہ ‘ڈاکٹر صاحبہ پلیز آپ اپنے گھریلو معاملات ہیں اس کو ٹی وی پر لا کر اس طرح عوامی میدان میں لا کر آپ نے عجیب حالت بنائی ہے اور رمضان میں اس طرح کے شوز کی ایسی کلپس ہیں، پلیز آپ لوگ خیال کریں’۔
انہوں نے کہا کہ ‘میزبان کو بھی خیال کرنا چاہیےکہ اتنے پاک مہینے میں اس طرح کی چیزیں آن ایئر کرنا انتہائی بری بات ہے، آپ لوگوں کو اپنے گھریلو مسائل گھر میں سلجھانے چاہئیں’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ایک ایک طرف بیان دے رہا ہے اور دوسرا ایک اور بیان دے رہا ہے، اب ہمارے ٹیلی ویژن میں رمضان نشریات کا یہ اسٹینڈرڈ ہوگیا ہے، یہ دیکھنے کو مل رہا ہے، چینل کے مالک کو بھی خیال کرنا چاہیے، اس طرح کا مواد کیوں اور کیسے نشر کیا گیا جب لوگ بیٹھ کر ٹی وی دیکھ رہے ہوتے ہیں’۔
مشی خان نے کہا کہ ‘ہمیں شرمندہ ہونا چاہیے کہ یہ معیار ہوگیا ہے اور اس طرح کا پاگل پن والا مواد پیش کر رہے ہیں’۔
View this post on Instagram
یاد رہے کہ ڈاکٹر نبیہہ نے چند ماہ قبل اپنے پرانے دوست حارث کھوکھر کے ساتھ شادی کی تھی، جس کو میڈیا میں بھرپور کوریج ملی اور کئی انٹرویوز بھی دیے تھے جبکہ شادی سے قبل ان کے مردوں کے حمایت میں دیے گئے بیانات بھی وائرل ہوئے تھے۔
مشی خان کا بیان سوشل میڈیا میں زیربحث
سوشل میڈیا پر مشی خان کے بیان پر صارفین نے بھی اظہار خیال کیا اور کسی نے کہا کہ فضا ایک اداکارہ ہیں اور نبیہہ ایک اوور ایکٹر ہیں، دوسرے نے کہا آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں، اب رمضان ٹرانسمیشن ایک ڈراما ہے اور یہ ریٹنگ کا معاملہ ہے۔
ایک خاتون نے لکھا کہ میں ڈر گئی تھی یہ ہو رہا ہے، بس اللہ ایسے لوگوں کو ہدایت دے، ایک اور صارف نے کہا ہاں لیکن عام لوگ کون سے معصوم ہیں، ہر گھر کی کہانی ہے، دو سال تک سب کو یہی سامنا کرنا ہوتا ہے، ابھی تو صرف دو ماہ ہوئے ہیں۔
انسٹاگرام پر صارفین نے کہا کہ بالکل اپنا بہت تماشا بنایا خود ہی، خاص طور پر فضا علی اوور ایکٹنگ کر کے اور تماشا بنا رہی ہے۔
Today News
جیسا کرو گے، ویسا بھرو گے، سلسلہ کب تک؟
سیاست میں برداشت اور اعتدال کے لیے مشہور صدر آصف زرداری جو مفاہمت کے لیے مشہور ہیں نے پنجاب میں پیپلز پارٹی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیر اعظم کو یاد دلایا کہ سیاست پھولوں کی سیج نہیں ہوتی بلکہ اس میں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑتی ہیں، جیل جیل ہوتی ہے جہاں رویا دھویا نہیں جاتا بلکہ قید تو مردوں کی طرح برداشت کرنی چاہیے میں نے بھی 14 سال قید کارکنوں کے زور پر کاٹی۔ جیل میں پانی ہوتا ہے نہ دودھ۔ نیازی اپنے ٹائیگرز کی بات کرے وفاداری نہ ہو تو عہدہ نہیں رکھنا چاہیے۔ صدر مملکت نے اس موقع پر جیل میں قید سابق وزیر اعظم کو یاد دلایا کہ میری بہن کو بھی ان کی حکومت میں رات کے وقت پکڑا گیا تھا، اس وقت یاد نہیں آیا کہ برا وقت بھی آ سکتا ہے جو مکافات عمل کہلاتا ہے۔
آصف زرداری کو طویل عرصہ قید کاٹنے والا سیاستدان کہا جاتا ہے۔ انھوں نے ہمت سے قید کی مشکلات برداشت کی تھیں، کوئی واویلا نہیں کیا تھا اور ان کی فیملی نے بھی جیلوں کے باہر وہ کچھ نہیں کیا تھا جو بانی کی تین بہنیں مسلسل کر رہی ہیں اور بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بانی کی غیر سیاسی بہنیں اپنے بھائی کی قید پر سیاست چمکا رہی ہیں اور میڈیا میں آنے کے لیے غیر ذمے دارانہ بیان بازی بھی کر رہی ہیں اور ہر ہفتے ارکان اسمبلی اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کو اڈیالہ آنے کو کہتی ہیں مگر کوئی ان کی نہیں سنتا اور دس ہزار تو دور کی بات ایک ہزار افراد بھی جمع نہیں ہوتے اور ان کا مجوزہ دھرنا بھی چند گھنٹے بعد ہی ختم کر دیا جاتا ہے۔
حال ہی میں بانی کے تفصیلی طبی معائنے کے موقع پر پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کو جیل میں طبی معائنے کے وقت آنے کی دعوت دی گئی تھی مگر کوئی نہیں پہنچا اور بعد میں پی ٹی آئی نے طبی معائنہ مسترد کر دیا اور ان کی بہن علیمہ خان نے تشویش کا اظہار کیا کہ بانی کو الشفا آئی اسپتال منتقل نہیں کیا گیا اور سرکاری ڈاکٹروں کی 5 رکنی ٹیم نے اڈیالہ آ کر معائنہ کیا اور اس معائنے میں بانی کے کسی ذاتی معالج کو شامل نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے سرکاری ڈاکٹروں کی بنائی ہوئی میڈیکل رپورٹ بانی کی فیملی کے لیے قابل قبول نہیں ہوگی۔
صدر مملکت کے علاوہ بانی کی حکومت میں گرفتار کیے جانے والے متعدد مسلم لیگی رہنما بھی آئے دن خود پر گزرے ہوئے جیلوں کے واقعات بتاتے رہتے ہیں کہ اس وقت کے منتقم مزاج وزیر اعظم کے ایما پر ان کے ساتھ جیلوں میں نہایت ابتر سلوک کیا جاتا تھا اور ان اسیروں کی جیلوں میں حالت زار خود آج کا سابق وزیر اعظم دیکھ کر نہ صرف خوش ہوتا تھا بلکہ مزید سختیاں کراتا تھا اور دھمکیاں دیتا تھا۔ ماضی کے (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کے رہنما ہی نہیں بلکہ دونوں پارٹیوں کی قیادت کو بھی نیب کے ذریعے بے بنیاد مقدمات میں گرفتار کرا کر جیلوں میں رکھا جاتا۔ ان کے ساتھ غیر سیاسی و غیر انسانی سلوک کیا جاتا تھا۔ انھیں علاج کی وہ سہولتیں فراہم نہیں کی جاتی تھیں جو (ن) لیگ کی حکومت میں جیلوں میں بانی پی ٹی آئی اور پارٹی رہنماؤں کو حاصل ہیں۔
بعض وزیروں کے بقول بانی جیل میں وسیع جگہ میں رہ رہے ہیں جہاں انھیں ان کی پسند کا کھانا مل رہا ہے وہ وہاں واک اور ورزش کرتے ہیں اور وی وی آئی پی قید کاٹ رہے ہیں۔ بانی قید میں رہ کر اپنی بہنوں، پارٹی رہنماؤں اور وکیلوں سے ملاقات میں پارٹی کے لیے اہم ہدایات دیتے رہے۔ وزیر اعلیٰ تک انھوں نے جیل میں قید رہ کر تبدیل کرائے اور اپنی منفی سیاست کے ذریعے اپنی پارٹی سے دھرنے، احتجاج وغیرہ کراتے رہے جس پر حکومت نے پابندی لگائی۔ پاکستان میں بھٹو حکومت میں ان کے خلاف تحریک چلانے والے سیاستدانوں نے بھی سختیاں اور قید برداشت کی جس کے بعد جنرل ضیا الحق دور میں انھیں پھانسی کی سزا ہوئی جو ملک میں کسی وزیر اعظم کو دی گئی سب سے سخت سزا تھی۔
1988 کے بعد 1999 کے گیارہ سالوں میں بے نظیر بھٹو اور بے نظیر کے بعد میاں نواز شریف دو دو بار وزیر اعظم رہے اور دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف بھرپور نہ صرف انتقامی کارروائیاں کی تھیں اور مقدمات میں مخالفین کی گرفتاریاں بھی کرائی تھیں جس کے دوران دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف تحریک بھی چلائی جس کا بدلہ دونوں کو جنرل پرویز مشرف دور میں ملا اور دونوں کو جلاوطنی کے بعد اپنی غلطیوں کا احساس ہوا تو دونوں نے میثاق جمہوریت کیا جس کے بعد دونوں کی حکومتوں نے آرام سے پہلی بار اپنی اپنی مدت پوری کی تھی اور پکڑ دھکڑ اور انتقام سے گریز کرکے حکومت کی تھی۔
2018 میں پی ٹی آئی کے بانی نے اقتدار میں آ کر جنرل پرویز مشرف کی طرح دونوں سابق حکمران جماعتوں سے بھرپور انتقام لیا حالانکہ دونوں حکومتوں میں بانی کے خلاف کوئی پکڑ دھکڑ نہیں ہوئی تھی پھر بھی نہ جانے بانی نے پہلی بار اقتدار میں آ کر سابق حکمرانوں اور ان کے پارٹی رہنماؤں کی جو پکڑ دھکڑ اور دونوں سے سیاسی مخالفت کو دشمنی بنا دیا تھا جس کی سزا وہ آج خود جیل میں بھگت رہے ہیں۔
بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے سبق سیکھ لیا تھا جس کے بعد دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کی پہلے جیسی مخالف نہیں اور اتحادی ہیں اور دونوں کو اپنا دشمن سمجھنے والا جیل میں رہائی کے لیے واویلا کر رہا ہے مگر اپنے انداز حکمرانی کو درست سمجھ رہا ہے بلکہ اپنے 2018 کے محسنوں پر بھی دشمنوں کی طرح الزامات لگا رہا ہے اور اپنی منفی سیاست پر پشیمان بھی نہیں ہے۔ پی پی اور (ن) لیگ نے ایک دوسرے کے ساتھ جو کیا تھا اس کی سزا پا لی اس لیے جیسا کرو گے، ویسا بھرو گے کا سلسلہ ختم ہونا اشد ضروری ہے اور ماضی سے سبق سیکھنے کا متقاضی ہے۔
Today News
سرحد پار سے ہونے والی دہشتگردی کیلئے برداشت اپنی حد تک پہنچ چکی ہے، صدرمملکت
صدرمملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کے لیے برداشت اپنی حد تک پہنچ چکی ہے اور پاکستان کی حالیہ کارروائیاں اپنے شہریوں کی دہشت گردی کے خلاف تحفظ کے لیے ہیں۔
ایوان صدر سے جاری اعلامیے کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کی حالیہ کارروائیاں سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف اپنے لوگوں کے تحفظ کے حق کی بنیاد پر کی گئی ہیں اور یہ کارروائیاں بارہا خبردار کرنے کے باوجود باز نہ آنے پر کی گئی ہیں۔
انہوں نے اپنے گزشتہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے عالمی برادری کو خبردار کیا تھا کہ جب دہشت گرد گروپس کو جگہ فراہم کی جائے گی، سہولت یا سرحد سے ماورا استثنیٰ دیا جائے گا تو اس کے نتائج دنیا بھر میں بے گناہ شہریوں کو بھگتنے پڑتے ہیں.
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو افغانستان کی صورت حال پر انتہائی تشویش ہے جہاں طالبان حکومت نے نائن الیون جیسی یا اس سے بھی بدتر حالات پیدا کیے ہیں۔
صدر مملکت نے کہا کہ یہ انتہائی تشویش کا معاملہ ہے کہ کابل کی عبوری انتظامیہ، جس کو اقوام متحدہ کی جانب سے تسلیم نہیں کیا گیا ہے، نے دہشت گرد عناصر کو افغانستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے جو دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے جس میں انہوں نے افغانستان کی سرحد کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے کا وعدہ کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اینالیٹکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم کی حال ہی میں آنے والی رپورٹ نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کئی رکن ممالک نے بارہا رپورٹ کیا ہے کہ داعش خراسان، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، القاعدہ، مشرقی ترکستان موومنٹ، جماعت انصاراللہ، اتحادالمجاہدین پاکستان اور دیگر تنظیمیں افغانستان میں موجود ہیں اور چند گروپس بیرونی حملوں کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال کرتی ہیں۔
صدرمملکت نے کہا کہ اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ ان گروپس کی موجودگی اور سرگرمیاں پاکستان سمیت پڑوسی ممالک کے انتہائی شدید خطرات کا باعث ہیں۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ یہ افسوس ناک امر ہے کہ واضح طور پر خبردار کرنے اور بارہا رابطوں کے باوجود افغان حکام مذکورہ عناصر کے خلاف قابل قبول اور مصدقہ کارروائی کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایک وقت تک تحمل کا مظاہرہ کیا اور اپنا ردعمل سرحدی علاقوں کے قریب واقع دہشت گردوں کے ٹھکانوں تک محدود رکھا لیکن پاکستان کو مکمل معلومات ہیں کہ دہشت گردی کے مںصوبہ ساز، سہولت کار اور سربراہ کہاں موجود ہیں، اگر پاکستان کے اندر خون ریزی ہوتی ہے تو اس کے ذمہ داران محفوظ نہیں رہیں گے۔
آصف علی زرداری نے عزم دہرایا کہ پاکستان اپنے تمام ہمسائیوں کے ساتھ امن، استحکام اور تعاون پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے، امن انکار، دوغلاپن یا دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں نہ کرنے سے قائم نہیں ہوسکتا ہے۔
صدرمملکت نے کہا کہ پاکستانیوں کی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح اور ناقابل سمجھوتہ ہے۔
Source link
Today News
پشین: سیکیورٹی فورسز نے حملے کا منصوبہ ناکام بنا دیا، 5 دہشتگرد ہلاک
بلوچستان کے ضلع پشین میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر بروقت کارروائی کرتے ہوئے فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے ایک بڑے منصوبے کو ناکام بنا دیا اور 5 دہشت گردوں کو ہلاک اور ان کے قبضے سے اسلحہ اور بارود برآمد کرلیا۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد پولیس لائن اور کیڈٹ کالج پر حملے کی تیاری کر رہے تھے، تاہم ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 5 دہشت گرد مارے گئے اور آپریشن کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ، دھماکا خیز مواد، دستی بم اور نقشے بھی قبضے میں لیے گئے۔
سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ فتنۃ الخوارج کے دہشت گردوں نے پشین میں پولیس لائن اور کیڈٹ کالج پر دہشت گردی کے حملوں کی منصوبہ بندی کی ہے، اس اطلاع کی بنیاد پر سیکیورٹی فورسز نے پشین کیڈٹ کالج کے قریب ایک مکان کا گھیراؤ کیا جہاں دہشت گرد چھپے ہوئے تھے۔
ذرائع نے بتایا کہ جیسے ہی سیکورٹی فورسز نے آپریشن شروع کیا تو دہشت گردوں نے شدید فائرنگ شروع کر دی، سیکیورٹی فورسز نے مؤثر انداز میں جواب دیا اور فائرنگ کا تبادلہ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا اور اس شدید جھڑپ کے نتیجے میں دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے آپریشن مکمل ہونے کے بعد مکان کی تلاشی لی تو وہاں سے جدید اسلحہ، دھماکا خیز مواد کی بھاری مقدار، دستی بم اور اہم مقامات کے نقشے برآمد ہوئے جو دہشت گردوں کے مذموم منصوبوں کی غمازی کر رہے تھے۔
ذرائع نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی لاشیں اسپتال منتقل کر دی گئیں جہاں ان کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
سیکورٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ یہ دہشت گرد سیکیورٹی فورسز، پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گری (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں پر ماضی میں ہونے والے متعدد حملوں میں ملوث تھے، ان کی ہلاکت سے علاقے میں امن و امان کی صورت حال مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، جو ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور تیاری کی عکاسی کرتا ہے۔
بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی بہادری اور بروقت کارروائی نے ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر سیکیورٹی اداروں کو دیں تاکہ دہشت گردی کے خاتمے میں مدد مل سکے، مزید بتایا گیا کہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن مزید تیز کر دیا ہے تاکہ کوئی باقی ماندہ عناصر کو گرفتار کیا جا سکے۔
Source link
-
Tech2 weeks ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech1 week ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Entertainment1 week ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech2 weeks ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Tech1 week ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Tech6 days ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Business2 weeks ago
Pre-Ramazan hikes in essential commodities’ prices pinching consumers
-
Tech2 weeks ago
5 Satellite Internet Firms Are Ready, But Pakistan’s Regulators Are Not