Connect with us

Today News

یو اے ای کے سفارت خانے کے فٹ بال گراؤنڈ میں رمضان فٹبال ٹورنامنٹ  کا آغاز

Published

on



متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے کے فٹ بال گراؤنڈ میں رمضان فٹ بال ٹورنامنٹ 2026ء کا آغاز ہو گیا۔

پاکستان میں متعین متحدہ عرب امارات کے سفیر سالم محمد الزعابی اسلام سفارتکاروں، حکام اور تماشائیوں کے ایک بڑے اجتماع کی موجودگی میں آغاز ہوا۔ افتتاحی تقریب میں کویت کے سفیر، لبنان کے سفیر، زمبابوے کے سفیر، ریاست ہائے متحدہ امریکا کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن، پاکستانی حکومت کے سینئر عہدیداران، سفارتی برادری کے ارکان اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔

یہ سالانہ ٹورنامنٹ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے دوران کھیلوں کی روح، ثقافتی تبادلے اور کمیونٹی کی شمولیت کو فروغ دینے کا ہدف رکھتا ہے۔متحدہ عرب امارات کے سفیر سالم محمد الزعابی کا کہنا ہے کہ رمضان کے مقدس مہینے میں ماہ  صیام کی برکتوں کے ساتھ جسمانی صحت بھی بہت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے سفارت خانے میں فٹ بال کے میچز کا انعقاد کیا جاتا ہے، اس میگا ایونٹ میں مخلتف سفارت خانوں کی فٹ بال کی ٹیمیں شرکت کرتی ہیں جو کہ دوستی کی علامت ہے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

جیسا کرو گے، ویسا بھرو گے، سلسلہ کب تک؟

Published

on


سیاست میں برداشت اور اعتدال کے لیے مشہور صدر آصف زرداری جو مفاہمت کے لیے مشہور ہیں نے پنجاب میں پیپلز پارٹی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیر اعظم کو یاد دلایا کہ سیاست پھولوں کی سیج نہیں ہوتی بلکہ اس میں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑتی ہیں، جیل جیل ہوتی ہے جہاں رویا دھویا نہیں جاتا بلکہ قید تو مردوں کی طرح برداشت کرنی چاہیے میں نے بھی 14 سال قید کارکنوں کے زور پر کاٹی۔ جیل میں پانی ہوتا ہے نہ دودھ۔ نیازی اپنے ٹائیگرز کی بات کرے وفاداری نہ ہو تو عہدہ نہیں رکھنا چاہیے۔ صدر مملکت نے اس موقع پر جیل میں قید سابق وزیر اعظم کو یاد دلایا کہ میری بہن کو بھی ان کی حکومت میں رات کے وقت پکڑا گیا تھا، اس وقت یاد نہیں آیا کہ برا وقت بھی آ سکتا ہے جو مکافات عمل کہلاتا ہے۔

آصف زرداری کو طویل عرصہ قید کاٹنے والا سیاستدان کہا جاتا ہے۔ انھوں نے ہمت سے قید کی مشکلات برداشت کی تھیں، کوئی واویلا نہیں کیا تھا اور ان کی فیملی نے بھی جیلوں کے باہر وہ کچھ نہیں کیا تھا جو بانی کی تین بہنیں مسلسل کر رہی ہیں اور بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بانی کی غیر سیاسی بہنیں اپنے بھائی کی قید پر سیاست چمکا رہی ہیں اور میڈیا میں آنے کے لیے غیر ذمے دارانہ بیان بازی بھی کر رہی ہیں اور ہر ہفتے ارکان اسمبلی اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کو اڈیالہ آنے کو کہتی ہیں مگر کوئی ان کی نہیں سنتا اور دس ہزار تو دور کی بات ایک ہزار افراد بھی جمع نہیں ہوتے اور ان کا مجوزہ دھرنا بھی چند گھنٹے بعد ہی ختم کر دیا جاتا ہے۔

حال ہی میں بانی کے تفصیلی طبی معائنے کے موقع پر پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کو جیل میں طبی معائنے کے وقت آنے کی دعوت دی گئی تھی مگر کوئی نہیں پہنچا اور بعد میں پی ٹی آئی نے طبی معائنہ مسترد کر دیا اور ان کی بہن علیمہ خان نے تشویش کا اظہار کیا کہ بانی کو الشفا آئی اسپتال منتقل نہیں کیا گیا اور سرکاری ڈاکٹروں کی 5 رکنی ٹیم نے اڈیالہ آ کر معائنہ کیا اور اس معائنے میں بانی کے کسی ذاتی معالج کو شامل نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے سرکاری ڈاکٹروں کی بنائی ہوئی میڈیکل رپورٹ بانی کی فیملی کے لیے قابل قبول نہیں ہوگی۔

صدر مملکت کے علاوہ بانی کی حکومت میں گرفتار کیے جانے والے متعدد مسلم لیگی رہنما بھی آئے دن خود پر گزرے ہوئے جیلوں کے واقعات بتاتے رہتے ہیں کہ اس وقت کے منتقم مزاج وزیر اعظم کے ایما پر ان کے ساتھ جیلوں میں نہایت ابتر سلوک کیا جاتا تھا اور ان اسیروں کی جیلوں میں حالت زار خود آج کا سابق وزیر اعظم دیکھ کر نہ صرف خوش ہوتا تھا بلکہ مزید سختیاں کراتا تھا اور دھمکیاں دیتا تھا۔ ماضی کے (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کے رہنما ہی نہیں بلکہ دونوں پارٹیوں کی قیادت کو بھی نیب کے ذریعے بے بنیاد مقدمات میں گرفتار کرا کر جیلوں میں رکھا جاتا۔ ان کے ساتھ غیر سیاسی و غیر انسانی سلوک کیا جاتا تھا۔ انھیں علاج کی وہ سہولتیں فراہم نہیں کی جاتی تھیں جو (ن) لیگ کی حکومت میں جیلوں میں بانی پی ٹی آئی اور پارٹی رہنماؤں کو حاصل ہیں۔

بعض وزیروں کے بقول بانی جیل میں وسیع جگہ میں رہ رہے ہیں جہاں انھیں ان کی پسند کا کھانا مل رہا ہے وہ وہاں واک اور ورزش کرتے ہیں اور وی وی آئی پی قید کاٹ رہے ہیں۔ بانی قید میں رہ کر اپنی بہنوں، پارٹی رہنماؤں اور وکیلوں سے ملاقات میں پارٹی کے لیے اہم ہدایات دیتے رہے۔ وزیر اعلیٰ تک انھوں نے جیل میں قید رہ کر تبدیل کرائے اور اپنی منفی سیاست کے ذریعے اپنی پارٹی سے دھرنے، احتجاج وغیرہ کراتے رہے جس پر حکومت نے پابندی لگائی۔ پاکستان میں بھٹو حکومت میں ان کے خلاف تحریک چلانے والے سیاستدانوں نے بھی سختیاں اور قید برداشت کی جس کے بعد جنرل ضیا الحق دور میں انھیں پھانسی کی سزا ہوئی جو ملک میں کسی وزیر اعظم کو دی گئی سب سے سخت سزا تھی۔

1988 کے بعد 1999 کے گیارہ سالوں میں بے نظیر بھٹو اور بے نظیر کے بعد میاں نواز شریف دو دو بار وزیر اعظم رہے اور دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف بھرپور نہ صرف انتقامی کارروائیاں کی تھیں اور مقدمات میں مخالفین کی گرفتاریاں بھی کرائی تھیں جس کے دوران دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف تحریک بھی چلائی جس کا بدلہ دونوں کو جنرل پرویز مشرف دور میں ملا اور دونوں کو جلاوطنی کے بعد اپنی غلطیوں کا احساس ہوا تو دونوں نے میثاق جمہوریت کیا جس کے بعد دونوں کی حکومتوں نے آرام سے پہلی بار اپنی اپنی مدت پوری کی تھی اور پکڑ دھکڑ اور انتقام سے گریز کرکے حکومت کی تھی۔

2018 میں پی ٹی آئی کے بانی نے اقتدار میں آ کر جنرل پرویز مشرف کی طرح دونوں سابق حکمران جماعتوں سے بھرپور انتقام لیا حالانکہ دونوں حکومتوں میں بانی کے خلاف کوئی پکڑ دھکڑ نہیں ہوئی تھی پھر بھی نہ جانے بانی نے پہلی بار اقتدار میں آ کر سابق حکمرانوں اور ان کے پارٹی رہنماؤں کی جو پکڑ دھکڑ اور دونوں سے سیاسی مخالفت کو دشمنی بنا دیا تھا جس کی سزا وہ آج خود جیل میں بھگت رہے ہیں۔

بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے سبق سیکھ لیا تھا جس کے بعد دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کی پہلے جیسی مخالف نہیں اور اتحادی ہیں اور دونوں کو اپنا دشمن سمجھنے والا جیل میں رہائی کے لیے واویلا کر رہا ہے مگر اپنے انداز حکمرانی کو درست سمجھ رہا ہے بلکہ اپنے 2018 کے محسنوں پر بھی دشمنوں کی طرح الزامات لگا رہا ہے اور اپنی منفی سیاست پر پشیمان بھی نہیں ہے۔ پی پی اور (ن) لیگ نے ایک دوسرے کے ساتھ جو کیا تھا اس کی سزا پا لی اس لیے جیسا کرو گے، ویسا بھرو گے کا سلسلہ ختم ہونا اشد ضروری ہے اور ماضی سے سبق سیکھنے کا متقاضی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

سرحد پار سے ہونے والی دہشتگردی کیلئے برداشت اپنی حد تک پہنچ چکی ہے، صدرمملکت

Published

on



صدرمملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کے لیے برداشت اپنی حد تک پہنچ چکی ہے اور پاکستان کی حالیہ کارروائیاں اپنے شہریوں کی دہشت گردی کے خلاف تحفظ کے لیے ہیں۔

ایوان صدر سے جاری اعلامیے کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کی حالیہ کارروائیاں سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف اپنے لوگوں کے تحفظ کے حق کی بنیاد پر کی گئی ہیں اور یہ کارروائیاں بارہا خبردار کرنے کے باوجود باز نہ آنے پر کی گئی ہیں۔

انہوں نے اپنے گزشتہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے عالمی برادری کو خبردار کیا تھا کہ جب دہشت گرد گروپس کو جگہ فراہم کی جائے گی، سہولت یا سرحد سے ماورا استثنیٰ دیا جائے گا تو اس کے نتائج دنیا بھر میں بے گناہ شہریوں کو بھگتنے پڑتے ہیں.

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو افغانستان کی صورت حال پر انتہائی تشویش ہے جہاں طالبان حکومت نے نائن الیون جیسی یا اس سے بھی بدتر حالات پیدا کیے ہیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ یہ انتہائی تشویش کا معاملہ ہے کہ کابل کی عبوری انتظامیہ، جس کو اقوام متحدہ کی جانب سے تسلیم نہیں کیا گیا ہے، نے دہشت گرد عناصر کو افغانستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے جو دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے جس میں انہوں نے افغانستان کی سرحد کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے کا وعدہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اینالیٹکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم کی حال ہی میں آنے والی رپورٹ نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کئی رکن ممالک نے بارہا رپورٹ کیا ہے کہ داعش خراسان، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، القاعدہ، مشرقی ترکستان موومنٹ، جماعت انصاراللہ، اتحادالمجاہدین پاکستان اور دیگر تنظیمیں افغانستان میں موجود ہیں اور چند گروپس بیرونی حملوں کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال کرتی ہیں۔

صدرمملکت نے کہا کہ اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ ان گروپس کی موجودگی اور سرگرمیاں پاکستان سمیت پڑوسی ممالک کے انتہائی شدید خطرات کا باعث ہیں۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ یہ افسوس ناک امر ہے کہ واضح طور پر خبردار کرنے اور بارہا رابطوں کے باوجود افغان حکام مذکورہ عناصر کے خلاف قابل قبول اور مصدقہ کارروائی کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایک وقت تک تحمل کا مظاہرہ کیا اور اپنا ردعمل سرحدی علاقوں کے قریب واقع دہشت گردوں کے ٹھکانوں تک محدود رکھا لیکن پاکستان کو مکمل معلومات ہیں کہ دہشت گردی کے مںصوبہ ساز، سہولت کار اور سربراہ کہاں موجود ہیں، اگر پاکستان کے اندر خون ریزی ہوتی ہے تو اس کے ذمہ داران محفوظ نہیں رہیں گے۔

آصف علی زرداری نے عزم دہرایا کہ پاکستان اپنے تمام ہمسائیوں کے ساتھ امن، استحکام اور تعاون پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے، امن انکار، دوغلاپن یا دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں نہ کرنے سے قائم نہیں ہوسکتا ہے۔

صدرمملکت نے کہا کہ پاکستانیوں کی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح اور ناقابل سمجھوتہ ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

پشین: سیکیورٹی فورسز نے حملے کا منصوبہ ناکام بنا دیا، 5 دہشتگرد ہلاک

Published

on



بلوچستان کے ضلع پشین میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر بروقت کارروائی کرتے ہوئے فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے ایک بڑے منصوبے کو ناکام بنا دیا اور 5 دہشت گردوں کو ہلاک اور ان کے قبضے سے اسلحہ اور بارود برآمد کرلیا۔

سیکورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد پولیس لائن اور کیڈٹ کالج پر حملے کی تیاری کر رہے تھے، تاہم ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 5 دہشت گرد مارے گئے اور آپریشن کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ، دھماکا خیز مواد، دستی بم اور نقشے بھی قبضے میں لیے گئے۔

سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ فتنۃ الخوارج کے دہشت گردوں نے پشین میں پولیس لائن اور کیڈٹ کالج پر دہشت گردی کے حملوں کی منصوبہ بندی کی ہے، اس اطلاع کی بنیاد پر سیکیورٹی فورسز نے پشین کیڈٹ کالج کے قریب ایک مکان کا گھیراؤ کیا جہاں دہشت گرد چھپے ہوئے تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ جیسے ہی سیکورٹی فورسز نے آپریشن شروع کیا تو دہشت گردوں نے شدید فائرنگ شروع کر دی، سیکیورٹی فورسز نے مؤثر انداز میں جواب دیا اور فائرنگ کا تبادلہ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا اور اس شدید جھڑپ کے نتیجے میں دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے آپریشن مکمل ہونے کے بعد مکان کی تلاشی لی تو وہاں سے جدید اسلحہ، دھماکا خیز مواد کی بھاری مقدار، دستی بم اور اہم مقامات کے نقشے برآمد ہوئے جو دہشت گردوں کے مذموم منصوبوں کی غمازی کر رہے تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی لاشیں اسپتال منتقل کر دی گئیں جہاں ان کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

سیکورٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ یہ دہشت گرد سیکیورٹی فورسز، پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گری (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں پر ماضی میں ہونے والے متعدد حملوں میں ملوث تھے، ان کی ہلاکت سے علاقے میں امن و امان کی صورت حال مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، جو ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور تیاری کی عکاسی کرتا ہے۔

بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی بہادری اور بروقت کارروائی نے ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر سیکیورٹی اداروں کو دیں تاکہ دہشت گردی کے خاتمے میں مدد مل سکے، مزید بتایا گیا کہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن مزید تیز کر دیا ہے تاکہ کوئی باقی ماندہ عناصر کو گرفتار کیا جا سکے۔



Source link

Continue Reading

Trending