Today News
سدے تیمان… اسرائیل کا گوانتانامو
7 اکتوبر 2023 ء حسین الزویدی کی شادی کا دن ہونا تھا۔ انہوں نے ایک بڑا ہال بک کر رکھا تھا، ڈھائی ہزار سے زائد دوستوں اور رشتے داروں کو مدعو کیا تھا اور دلہن کے لباس کی کرایہ فیس بھی ادا کر دی تھی۔ مگر نکاح کے بندھن میں بندھنے کے بجائے انہیں اور ان کی منگیتر کو غزہ کی پٹی کے انتہائی شمالی علاقے سے جان بچا کر بھاگنا پڑا۔ الزویدی اپنے خاندان کے ساتھ جبالیہ کے ایک اسکول میں جا پہنچے جو غزہ شہر کے قریب واقع ہے۔ بالآخر ایک ماہ بعد وہیں شادی ہوئی، نہ کوئی تقریب تھی اور نہ ہی دلہن کا لباس۔
اس کے ایک ماہ بعد الزویدی کے مطابق اسرائیلی فوج نے جب اس اسکول کا کنٹرول سنبھالا جہاں وہ پناہ لیے ہوئے تھے تو انہیں قیدی بنا لیا گیا۔ اسی سال 13 اکتوبر کو غزہ میں حماس اور اس سے منسلک گروہوں کے پاس موجود آخری بیس زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کے تبادلے کے تحت 22 ماہ قید میں رہنے کے بعد انہیں رہا کیا گیا۔
اب 26 سالہ الزویدی غزہ کی پٹی کے وسطی علاقے دیر البلح میں اپنے خاندان کے خیمے میں قیام پذیر ہیں۔ شمال میں واقع ان کے والدین کا گھر جنگ میں تباہ ہو چکا ۔ کئی رشتے دار شہید ہو چکے ہیں۔ تاہم الزویدی کو اس سب کا علم نہیں تھا۔ وہ کہتا ہے کہ یہ تباہی اور اپنے والدین اور بہن بھائیوں کو اس قدر کمزور اور لاغر حالت میں دیکھ کر وہ صدمے میں ہے۔ لیکن سب سے بڑھ کر وہ اب بھی اس اذیت سے ذہنی طور پر باہر نہیں آ سکا جو اس نے قید کے دوران برداشت کی۔کہتے ہیں:’’مجھے اکثر لگتا تھا کہ میں مر جاؤں گا۔ اور ہر دن میں خدا کا شکر ادا کرتا تھا کہ میں ابھی زندہ ہوں۔‘‘
قید میں لیے جانے کے بعد الزویدی کے مطابق انہیں اسرائیلی کیمپ، سدے تیمان لے جایا گیا جہاں انہوں نے ہاتھ بندھے ہوئے اور آنکھوں پر پٹی باندھ کر 18 دن گزارے ۔ انہیں اور دیگر قیدیوں کو بہت کم بیت الخلا استعمال کرنے کی اجازت دی جاتی تھی؛ زیادہ تر وقت انہیں وہیں بیٹھے بیٹھے حاجت پوری کرنا پڑتی ۔ انہیں لیٹنے کی اجازت نہیں تھی، بولنے کی اجازت نہیں تھی اور نہ ہی سر اٹھانے کی اجازت۔ رات کے وقت صرف پانچ گھنٹے سونے دیا جاتا تھا۔ ان کے بقول، انہیں بار بار مارا پیٹا جاتا تھا۔
سردی، بھوک اور بار بار تشدد
الزویدی کے مطابق کھانے میں صرف روٹی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا اور ڈبہ بند ٹونا مچھلی کا آدھا چمچ دیا جاتا تھا۔ گدّے بہت پتلے تھے اور کمبل بھی، حالانکہ جن ہالوں میں قیدیوں کو بند رکھا گیا تھا وہاں شدید سردی ہوتی تھی۔ الزویدی کا کہنا ہے کہ دیگر حراستی مراکز میں بھی انہیں بے رحمی سے پیٹا گیا۔ جب وہ چیچک (چکن پاکس) میں مبتلا ہوئے تو ایک طویل عرصے تک انہیں کوئی دوا نہیں دی گئی۔
وہ اسرائیلی قید کے بارے میں کہتا ہے’’ وہ کسی دوزخ سے کم نہ تھی جہاں مجھے شدید اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔‘‘ وہ اب بھی ڈراؤنے خواب دیکھتا ہے … اور جب وہ کھانا کھاتا ہے تو بے اختیار فرش پر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر آگے جھک جاتا ہے، جیسے اسے جیل میں کرنا پڑتا تھا۔
مغربی صحافیوں نے الزویدی کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کا جائزہ لیا ہے۔ حالیہ برسوں میں ان کی پوسٹوںسے عسکریت پسند گروہوں کے لیے ممکنہ ہمدردی کا اشارہ ملتا ہے۔ فیس بک پر انہوں نے کئی بار اپنی تصاویر اسالٹ رائفل کے ساتھ پوسٹ کیں ۔ بعض پوسٹوںمیں جنگجوؤں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ تاہم اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ وہ حماس کے رکن تھے۔ بہرحال ان میں سے کوئی بھی بات مہینوں تک جاری رہنے والے تشدد اور اذیت کو جائز قرار نہیں دے سکتی۔
حسین الزویدی ان تقریباً 1,700 فلسطینیوں میں سے ایک تھے جنہیں جنگ کے دوران غزہ سے گرفتار کیا گیا اور پچھلے سال ماہ اکتوبر کے وسط میں رہا کیا گیا۔ ان میں سے اکثریت عام شہریوں پر مشتمل تھی، جنہیں بغیر کسی الزام کے نام نہاد الزام ’’غیر باقاعدہ جنگجو‘‘ قرار دے کر قید کیا گیا۔ ان میں سے بہت سے الزویدی کی طرح بعد میں بھوک، بدسلوکی اور ناقابلِ برداشت قید کے حالات کی کہانیاں بیان کر چکے ہیں۔ ان کے بیانات بین الاقوامی میڈیا کی 2024 ء کے وسط سے کی گئی رپورٹنگ، نیز اسرائیلی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔
سدے تیمان حراستی کیمپ کو اب ’’اسرائیل کا گوانتانامو‘‘ کہا جانے لگا ہے۔ تاہم تشدد صرف نیگیو صحرا میں واقع اس فوجی کیمپ تک محدود نہیں بلکہ تقریباً تمام دیگر حراستی مراکز اور جیلوں میں بھی یہ عام نظر آتا ہے۔ اسرائیل اس الزام کی تردید کرتا ہے۔
’’قیدیوں پر تشدد ریاستی پالیسی کا ایک دانستہ اور وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والا ہتھیار بن چکا ہے۔‘‘ یہ بات حال ہی میں متعدد اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی کمیٹی برائے انسدادِ تشدد کو پیش کی گئی ایک رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق’’یہ تشدد گرفتاری سے لے کر تفتیش اور قید تک، حراست کے پورے عمل میں ہوتا ہے۔‘‘
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اعلیٰ اسرائیلی حکام نے ان زیادتیوں کی منظوری دی، جبکہ عدالتی، انتظامی اور طبی نظام مداخلت کرنے میں ناکام رہے۔ رپورٹ کے مطابق قیدیوں کو اکثر طویل عرصے تک وکیلوں اور طبی سہولتوں تک رسائی سے محروم رکھا جاتا ہے۔ بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس نے حالیہ برسوں میں قیدیوں تک رسائی کی درخواست کی، مگر بے سود۔ اس وقت بھی اسرائیل 9,200 فلسطینیوں کو نام نہاد’’سیکیورٹی قیدیوں‘‘ کے طور پر حراست میں رکھے ہوئے ہے۔
لیکن معاملہ صرف تشدد تک محدود نہیں۔ اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم، فزیشنز فار ہیومن رائٹس (PHRI) نے عینی شاہدین کے بیانات، سرکاری ریکارڈز اور دیگر شواہد کا جائزہ لے کر جنگ کے آغاز سے اب تک 98 اموات کی دستاویز بندی کی ہے۔ پی ایچ آر آئی کے مطابق مرنے والوں میں سے دو تہائی سے زیادہ کا تعلق غزہ سے تھا، جبکہ باقی مغربی کنارے سے تھے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ 52 قیدی فوجی کیمپوں میں ہلاک ہوئے جن میں سے نصف سے زیادہ سدے تیمان میں جان سے گئے۔
اسرائیل کی تنظیم، پی ایچ آر آئی (Physicians for Human Rights) کی پچھلے سال شائع ہونے والی رپورٹ کے مصنفین میں شامل ناجی عباس کے مطابق، تنظیم نے دسمبر 2023 ء میں پہلی بار عدالتوں کے ذریعے قیدیوں سے متعلق معلومات طلب کیں۔ عباس کہتے ہیں:’’اس کے بعد ہمیں غیر رسمی طور پر بتایا گیا کہ سدے تیمان میں ہر ہفتے لوگ مر رہے ہیں۔‘‘
ان کے بقول، سات ماہ گزرنے کے بعد ہی فوج نے پہلی مرتبہ کسی عدد کا ذکر کیا۔’’اور آج تک وہ مزید معلومات جاری کرنے سے انکار کر رہی ہے، مثلاً یہ کہ اموات کی وجوہ کیا تھیں۔‘‘ عباس کہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں، اصل اموات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
تشدد اور بدسلوکی کے مراکز
پی ایچ آر آئی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیرِ قومی سلامتی، ایتامار بن گویر نے جیلوں میں قید کے حالات کو جان بوجھ کر مزید خراب کرنے کی پالیسی اپنائی، جسے’’اضافی سزا‘‘ کی ایک شکل قرار دیا گیا۔ یوں 7 اکتوبر 2023 ء کے دہشت گرد حملے کے بعد حراستی مراکز’’تشدد اور بدسلوکی کے مراکز‘‘ بن گئے، جہاں بنیادی انسانی حقوق معمول کے طور پر سلب کیے گئے۔اس میں قیدیوں کو طبی سہولتیں فراہم نہ کرنا اور ’’روزانہ کی بنیاد پر جسمانی تشدد کے وسیع پیمانے پر استعمال‘‘ شامل تھا۔
پی ایچ آر آئی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ ’’حراست میں فلسطینیوں کی ہلاکت ایک معمول بن چکی ہے۔‘‘
بارہ گھنٹے کرسی سے باندھ کر تشدد
ناجی عباس کے مطابق’’ان دس واقعات میں جہاں عدالت کے ذریعے کسی ڈاکٹر کو لاش کا معائنہ کرنے کی اجازت ملی، تقریباً تمام کیسز میں تشدد اور غفلت کے آثار پائے گئے۔‘‘تاہم چونکہ زیادہ تر معاملات میں مرنے والوں کے خاندانوں کو پوسٹ مارٹم کی دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں، اس لیے اموات کی درست وجوہ کا تعین عمومی طور پر ممکن نہیں ہو سکا۔
عباس شمالی اسرائیل کی مجیدو جیل میں پیش آنے والے ایک 33 سالہ قیدی کے واقعے کا حوالہ دیتے ہیں، جس کی پسلیاں اور سینے کی ہڈی ٹوٹ چکی تھیں۔ ساتھی قیدیوں کے مطابق ایک درجن سے زائد جیل محافظوں نے اسے کئی منٹ تک مارا پیٹا۔
رہا ہونے والے قیدی، حسین الزویدی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ تشدد نہ صرف سدے تیمان میں عام تھا بلکہ ان دیگر تین حراستی مراکز میں بھی جہاں انہیں رکھا گیا۔ ایک تفتیش کے دوران ان کے بقول تفتیش کرنے والوں نے انہیں 12 گھنٹے تک کرسی سے باندھے رکھا اور بار بار ان کے عضوِ تناسل پر مارا۔ اس کے بعد ان کا کہنا ہے، ان کے پیشاب میں خون آنے لگا۔وہ کہتے ہیں کہ خاص طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کے دوران انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ایک موقع پر ان کے مطابق، ایک ساتھی قیدی نے انہیں بتایا کہ اسے لاٹھی کے ذریعے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
الزویدی کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ایک قیدی کی موت اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ ان کے مطابق وہ نیگیو جیل میں تقریباً ستر سالہ ایک ریٹائرڈ فلسطینی استاد کے ساتھ کئی ماہ ایک ہی سیل میں رہے۔ ستمبر کے آخر میں جب ممکنہ جنگ بندی کی خبریں گردش کرنے لگیں تو قیدیوں نے خوشی منانا شروع کر دی، جس پر اسرائیلی فوجیوں نے انہیں مارا پیٹا اور ربڑ کی گولیوں سے فائرنگ کی۔
الزویدی کے مطابق بزرگ قیدی کے سر پر ضرب لگی اور وہ خون بہنے کے بعد بے ہوش ہو گئے۔ قیدیوں نے فوجیوں سے بار بار التجا کی کہ زخمی شخص کو ڈاکٹر کے پاس لے جایا جائے، مگر الزویدی کے بقول پورے دو دن گزر گئے تب جا کر انھیں سیل سے باہر لے جایا گیا۔’’وہ کبھی واپس نہیں لائے گئے اور ہمارے لیے یہ واضح تھا کہ وہ شہید ہو چکے۔‘‘
پی ایچ آر آئی کے محقق،ناجی عباس اس مخصوص واقعے سے واقف نہیں، تاہم وہ اسے ‘‘قابلِ اعتماد’’ قرار دیتے ہیں کیونکہ ’’ہم تشدد کے انداز اور اس کے بعد امداد فراہم نہ کیے جانے کے اسرائیلی رویّے سے بخوبی واقف ہیں۔’’
نظریں چرانا
حالیہ ماہ دسمبر کے اوائل میں غزہ میں قائم فلسطینی مرکز برائے انسانی حقوق (PCHR) نے قیدیوں کے خلاف ’’منظم عصمت دری اور جنسی تشدد‘‘ پر مبنی ایک رپورٹ شائع کی۔ دیگر زیادتیوں کے ساتھ اس میں ایک کیس میں لکڑی کی لاٹھی اور دوسرے میں بوتل کے ذریعے مقعد میں داخل کیے جانے کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ یہ بیانات ان رپورٹوں سے مطابقت رکھتے ہیں جو غزہ جنگ کے آغاز سے اب تک متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سامنے آ چکی ہیں۔
پچھلے سال ماہ مارچ میں اقوامِ متحدہ کے ماہر کمیشن کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان جرائم کی ’’تعدد، وسعت اور شدت‘‘ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ’’جنسی اور صنفی بنیادوں پر تشدد کو اسرائیل کی جانب سے تیزی سے جنگی طریق کار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔‘‘
عینی شاہدین کے بیانات اور دیگر شواہد ایک ہی نتیجے کی طرف اشارہ کرتے ہیں: تشدد مسلسل اور منظم ہے۔ اس کے باوجود اسرائیلی سیاست اور معاشرے کے بڑے حصے میں اس کی یا تو تردید کی جاتی ہے یا اسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اسرائیلی میڈیا شاذ و نادر ہی قیدیوں پر ہونے والے تشدد کی رپورٹنگ کرتا ہے، اور جب کرتا بھی ہے تو اسے عموماً انفرادی واقعات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اکثر غصّہ مجرموں کے بجائے ان لوگوں پر نکالا جاتا ہے جو ان زیادتیوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔
اس رویّے کی ایک واضح مثال وہ کیس ہے جس نے اسرائیل میں ایک بڑا اسکینڈل کھڑا کیا اور جس کے نتیجے میں ایک فوجی پراسیکیوٹر کو اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا۔ یہ معاملہ جولائی 2024 ء میں اس وقت سامنے آیا جب سدے تیمان سے ایک قیدی کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔ دیگر زخموں کے علاوہ ابتدا میں کہا گیا کہ اس کے ساتھ زیادتی کی گئی تھی۔ بعد ازاں یہ انکشاف ہوا کہ اسے ’’ایک نوکیلے آلے‘‘ کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں اس کے مقعد کو شدید نقصان پہنچا۔
پانچ ریزرو فوجیوں پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے اس قیدی کے ساتھ بدسلوکی کی اور اسے حراست میں رکھا۔ یہ افراد ایک خصوصی یونٹ سے تعلق رکھتے تھے جو سدے تیمان میں قیدیوں کی نگرانی کا ذمے دار تھا۔ کچھ ہی عرصے بعد دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اسرائیلیوں کے ایک ہجوم نے جس میں اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) کے ارکان بھی شامل تھے… پہلے سدے تیمان اور پھر ایک اور فوجی اڈے پر دھاوا بول دیا تاکہ ان ریزرو فوجیوں کو رہا کروایا جا سکے۔ وزیرِ سلامتی، ایتامار بن گویرنے ، جن کے ماتحت پولیس آتی ہے، مبینہ ملزمان کی گرفتاری کو ’’شرمناک سے کم نہیں‘‘ قرار دیا۔
ویڈیو لیک ریاستی معاملہ بن گیا
چند دن بعد ایک اسرائیلی ٹیلی ویژن چینل نے سدے تیمان کے اندر نصب نگرانی کیمروں کی فوٹیج نشر کی، جس میں مبینہ طور پر ایک فلسطینی قیدی کے ساتھ بدسلوکی دکھائی گئی تھی۔ تقریباً دو درجن فلسطینی قیدی نالی دار دھات کی باڑ اور خاردار تار کے پیچھے پیٹ کے بل لیٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ویڈیو میں فوجیوں کو ایک قیدی کو گھسیٹ کر لے جاتے اور پھر اسے دیوار کے ساتھ دباتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
وہ شخص ان کی طرف پیٹھ کیے کھڑا ہوتا ہے، جیسے اس کی تلاشی لی جا رہی ہو۔ اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے، وہ بڑی حد تک فوجیوں کی فساد کنٹرول ڈھالوں کے پیچھے چھپ جاتا ہے، جو نظر روکنے کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں۔ وہ شخص زمین پر گر پڑتا ہے۔ منظر سے ایسا لگتا ہے کہ اسے مارا یا لاتیں ماری جا رہی ہیں۔
اسرائیل میں اس ویڈیو کے بعد شروع ہونے والی بحث کا مرکز زیادہ تر یہ رہا کہ ویڈیو کس نے لیک کی، نہ کہ ان مناظر کا اصل مواد۔پچھلے سال نومبر کے اوائل میں ایک سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد ذمے دار شخص کا پتا چلایا گیا…اس کیس کی انچارج فوجی پراسیکیوٹر، یفیات تومر یروشلمی۔ انہوں نے یہ ویڈیو ایک صحافی تک پہنچانے کا انتظام کیا تھا۔ انہیں مختصر وقت کے لیے حراست میں لیا گیا اور تحقیقات تاحال جاری ہیں۔
فوجی پراسیکیوٹر نے بعد ازاں اپنے استعفے کے خط میں وضاحت کی، انہوں نے ویڈیو کی اشاعت کی منظوری اس لیے دی تاکہ ’’فوجی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف کی جانے والی جھوٹی پروپیگنڈا مہم کا جواب دیا جا سکے۔‘‘انہوں نے لکھا کہ قیدیوں میں ’’ دہشت گرد عناصر‘‘ شامل تھے، مگر اس سے یہ حقیقت تبدیل نہیں ہوتی کہ ان کے ساتھ بدسلوکی نہیں کی جا سکتی۔
بدقسمتی سے یہ بنیادی سمجھ … کہ کچھ اعمال ایسے ہیں جو بدترین قیدیوں کے خلاف بھی کبھی نہیں کیے جا سکتے ، اب سب کو قائل نہیں کرتی۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے لیک ہونے والی ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:’’یہ شاید اسرائیل کو اس کے قیام کے بعد درپیش سب سے سنگین عوامی اسکینڈل ہے۔‘‘اس کے وزیر دفاع نے فوجی پراسیکیوٹر پر ’’بلڈ لیبل‘‘ یعنی یہود دشمن اشتعال انگیزی کا الزام عائد کیا۔
اب اسرائیلی دائیں بازو میں فوجی پراسیکیوٹر کو غدار سمجھا جا رہا ہے — حالانکہ اس نے غزہ جنگ کے دوران دو برس تک فوج کا دفاع کیا، جس کے بعض پہلو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی تھے۔جس اسرائیلی صحافی کو یہ ویڈیوز لیک کی گئیں، اسے اس حد تک دھمکیاں دی گئیں کہ اطلاعات کے مطابق اس کے چینل نے اس کی حفاظت کے لیے باڈی گارڈز تعینات کر دیے ہیں۔وہ کہتا ہے ’’اپنے وطن میں مجھے تعریف کے بجائے ہمیں الزامات ملے اور شکریے کے بجائے موت کی دہمکیاں۔
اُدھر بدسلوکی کا شکار فلسطینی قیدی رہا ہو چکا ہے۔ اسے یرغمالیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت غزہ واپس بھیج دیا گیا، اور بظاہر تفتیش کاروں نے اس سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی۔ یہ رہائی غیر معمولی ہے کیونکہ ایسے شواہد موجود ہیں، اس کا تعلق حماس سے تھا اور ممکن ہے کہ وہ اسرائیل پر حملے میں بھی شامل رہا ہو۔ اسرائیلی حکومت اس سے قبل اس نوعیت کے قیدیوں کی رہائی دو ٹوک انداز میں مسترد کرتی رہی تھی۔
اسرائیل کے بڑے حصے میں ردِعمل یہ رہا ہے کہ یہ وڈیو لیک غداری کا عمل تھا، کسی بڑے جرم کو بے نقاب کرنے کے بجائے ایک دھوکہ۔اگر لیک ہی جرم تھا، تو لیک کرنے والا مجرم ٹھہرا اور ریپ کرنے والے ہیرو بن گئے۔ عملی طور پر یہی ہوا۔ جن پانچ فوجیوں پر بدسلوکی کے الزامات عائد کیے گئے، انہیں اسرائیل میں بہت سے لوگوں نے ہیرو کے طور پر پیش کیا۔ دوسری جانب لیک کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا گیا اور اسے بار بار دھمکیاں دی گئیں، زیادہ تر آن لائن۔
وسل بلوئرکو سزا دی جائے گی اور ریپ کرنے والے آزاد گھومیں گے… یہ اسرائیل کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر اس مکمل عدم احتساب کی عکاسی کرتا ہے جو اسرائیلی افواج کے جرائم کے حوالے سے موجود ہے۔ اسرائیلی آبادکار دہائیوں سے اس نظام سے فائدہ اٹھاتے آئے ہیں۔اس وڈیو لیک اسکینڈل کا وسیع تر پہلو یہ ہے کہ یفیات تومر یروشلمی کو مسلسل اس بات پر دباؤ کا سامنا رہا کہ وہ غزہ میں مبینہ طور پر کیے گئے اسرائیلی جرائم کی تحقیقات نہ کریں۔ انہوں نے ویڈیو اس مایوسی کے تحت لیک کی کہ اسرائیلی دائیں بازو کی جانب سے انہیں اپنا کام کرنے سے روکا جا رہا تھا۔
فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کی بدسلوکی اور جنسی تشدد ایک ایسا مسئلہ ہے جو شاذ و نادر ہی بین الاقوامی میڈیا کی توجہ حاصل کرتا ہے۔ اور جب کرتا بھی ہے تو اکثر اس کی شدت کم کر دی جاتی ہے اور یہ اسرائیلی دائیں بازو کے بیانیے کی بازگشت بن جاتا ہے۔ مثال کے طور پر شکایات کے بعد بی بی سی نے اپنی سرخی تبدیل کی، جو پہلے یہ تھی:’’ویڈیو لیک اسکینڈل پر اسرائیلی فوج کی سابق اعلیٰ وکیل گرفتار۔‘‘اور بعد میں ایسی سرخی رکھی گئی جس میں زیرِ حراست افراد کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کا حوالہ دیا گیا۔
بڑا مسئلہ یہ رہا ہے کہ اسرائیل قیدیوں اور زیرِ حراست افراد کے ساتھ کس طرح سلوک کرتا ہے … تشدد زدہ لاشیں، لاپتہ افراد، اور مردہ جسم ،ان سب کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔بین الاقوامی میڈیا اور سیاسی طبقے کا بڑا حصہ ایسی کوریج نمایاں نہیں کرنا چاہتا جو یہ ثابت کرے کہ اسرائیل کوئی جمہوری، قانون کی پاسداری کرنے والی مغربی ریاست نہیں ہے۔ میڈیا کے بڑے حلقے ایسی خبروں کو احتیاط سے تراشے گئے بیانیہ توڑنے والا سمجھتے ہیں: وحشی عرب مسلمان بمقابلہ مہذب اسرائیلی یہودی۔ جنسی تشدد اور اذیت اس بیانیے میں فٹ نہیں بیٹھتے، بالکل اسی طرح جیسے نسل کشی اور نسل پرستانہ نظام (اپارتھائیڈ) بھی فٹ نہیں بیٹھتے۔
سدے تیمان اسرائیل کا گوانتانامو ہے، اس کا ابو غریب۔ یہ ان تمام لوگوں کے لیے ایک ویک اپ کال ہے جو اب بھی کسی طرح اسرائیلی ریاست کو جمہوریت اور لبرل اقدار کا قلعہ سمجھتے ہیں، جبکہ حقیقت میں وہاں وحشت وعسکریت پسندی قیادت کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہے۔n
Today News
کراچی، رہائشی فلیٹس دھماکا، بم ڈسپوزل اسکواڈ کی تحقیقات میں اصل حقیقت سامنے آ گئی
کراچی:
شہر قائد کے علاقے نارتھ ناظم آباد کے رہائشی فلیٹس میں ہونے والے دھماکے کی تحقیقات مکمل کرلی گئی ہیں، جہاں بم ڈسپوزل اسکواڈ نے دھماکے کی اصل وجہ گیس لیکج قرار دے دی۔
بم ڈسپوزل اسکواڈ حکام کے مطابق جائے وقوعہ سے سلنڈر دھماکے کے کوئی شواہد نہیں ملے جبکہ متاثرہ فلیٹس میں کسی پھٹے ہوئے سلنڈر یا اس کے پرزے بھی نہیں ملے۔
انچارج بم ڈسپوزل اسکواڈ عابد کا کہنا ہے کہ گیس کے پائپ لفٹ کے قریب سے گزر رہے تھے، جس کے باعث شدید نوعیت کا دھماکہ ہوا اور لفٹ بھی گر گئی۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ممکنہ طور پر گھر میں گیس کا چولہا کھلا رہ گیا تھا اور اچانک گیس آنے سے فلیٹ میں گیس بھر گئی جس نے دھماکے کی شکل اختیار کرلی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز نارتھ ناظم آباد بلاک ای کے رہائشی اپارٹمنٹس میں دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی تھی جس کے نتیجے میں ایک بچہ جاں بحق جبکہ چار افراد زخمی ہوگئے تھے۔
Today News
اسکول – ایکسپریس اردو
لائل پور‘ ایک حد درجہ منظم شہر تھا۔ پچھلی صدی کی بات کر رہا ہوں۔ ساٹھ کی دہائی کی۔ اس کا بہترین اسکول ڈویژنل پبلک اسکول تھا۔ اس وقت کی صوبائی حکومت کا فیصلہ تھا کہ پنجاب کے بڑے شہروں میں بہترین اور جدید تعلیمی ادارے کھولے جائیں ‘ جواپنی جگہ بے مثال ہوں۔ لائل پور اس وقت صرف ضلع تھا، سرگودھا ڈویژن کا حصہ تھا، کمشنر سرگودھا میں بیٹھتا تھا۔ اس فرشتہ سیرت کمشنر کا نام یاد نہیں رہا، جس نے اس اسکول کو شروع کرنے کے لیے رات دن محنت کی تھی۔ آپ بیوروکریسی کو لاکھ برا بھلا کہیں مگر پاکستان کے ابتدائی دور کے سرکاری افسران حد درجہ محنتی اور دانشور تھے۔
جیسے یاد گار پاکستان کا منصوبہ بھی ‘ لاہور میں تعینات ایک سینئر افسر کے ذہن میں آیا۔ ابتدائی طور پر انھوںنے اس عظیم کام کو سرانجام دینے کے لیے عام لوگوں سے مالی تعاون کی درخواست بھی کی تھی۔ لائل پور اس وقت مانچسٹر آف پاکستان کہلاتا تھا۔ وجہ کپڑا بنانے کی ان گنت فیکٹریاں اور ملیں تھیں۔ بات اسکول کی ہو رہی تھی ۔ ابتدائی طور پر ‘ نئی بلڈنگ بننے کاانتظار کیا جارہا تھا۔ چنانچہ جیل روڈ پر ایک بڑی سی کوٹھی میں یہ کام شروع کیا گیا تھا۔ میرا داخلہ اس کوٹھی اسکول میں ہوا تھا۔ شاید پریپ یا پھر پہلی کلاس میں، اچھی طرح یاد نہیں، مگر ایک بات ضرور یاد ہے، وہ تھی پیریڈ ختم ہونے کے بعد گھنٹی کی پرجوش گونج۔ میری عمر ہو گی ، چار یا شاید پانچ برس۔ جناح کالونی سے محمد علی بھائی‘ سائیکل پر اسکول چھوڑنے اور لینے آتے تھے۔
محمد علی بہاری تھے اور کراچی سے بھاگ کر کسی ٹرین میں سوار ہو کر ‘ لائل پور پہنچ گئے۔ اس وقت بارہ یا پندرہ برس کے ہوں گے ۔ والد صاحب‘ کو کہیں مل گئے۔ پھر وہ ہمارے گھر کے فرد بن گئے۔ والد صاحب نے ہی انھیں 1978 میں سعودی عرب میں ایک دوست کے پاس بطور ڈرائیور بھجوا دیا۔ جہاں ‘ وہ پچیس تیس برس رہے۔ دو سال پہلے محمد علی کا کراچی میں انتقال ہوا۔ سعودی عرب میں طویل نوکری کی بدولت خاصے خوشحال ہو چکے تھے۔ بہر حال‘ اسکول آنے جانے کے لیے والد صاحب ‘ محمد علی بھائی کے سوا کسی پر بھی اعتبار نہیںکرتے تھے۔ کوئی بیس منٹ کا راستہ ہوتا تھا۔ جیل روڈ‘ کو ٹھنڈی سڑک بھی کہا جاتا تھا۔ چھوٹی سی سڑک کے گرد ‘ ان گنت ‘ ہرے بھرے درخت لگے ہوئے تھے۔
میری عادت تھی کہ دونوں اطراف کے درخت گنتا رہتا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد‘ گنتی ختم ہو جاتی تھی۔ اور پھر بھول بھی جاتا تھاکہ کتنے درخت تھے۔ جناب!لائل پور میں مختلف شاہراہوں پر درخت ہی درخت تھے۔ چھوٹی چھوٹی بیلیں نہیں‘ بلکہ بڑے بڑے زندہ درخت ‘ بالخصوص ایگریکلچر یونیورسٹی کے شروع ہوتے ہی معلوم پڑ جاتا تھا کہ واقعی زرعی یونیورسٹی ہے۔ وہاں سے تو خیر سبزے کی ایک ایسی قطار شروع ہو جاتی تھی جو اسکول کے سامنے تک موجود رہتی تھی۔ اس لیے کہ یونیورسٹی کا رقبہ‘ اس قدر زیادہ تھا کہ پرانے اسکول کی عمارت سے بھی آگے تک موجود تھا۔ میں اس وقت بالکل بچہ تھا ۔ مگر آج تک تمام تر جزئیات ذہن پر نقش ہیں۔
ایک دن ‘ کلاس ٹیچر نے کوئی دس بجے اعلان کیا کہ اسکول کی نئی عمارت مکمل ہو چکی ہے۔ آج تمام بچے اپنا نیا تعلیمی ادارہ دیکھنے جائیں گے۔ گرمیوں کا آغاز تھا۔ دھوپ زیادہ نہیں تھی ۔شاید اپریل ہو گا۔ تمام بچوں نے نیلی قمیض اور خاکی نیکر پہن رکھی تھی۔ تمام طلبا اور طالبات ‘ لائن بنا کر نئے اسکول کی طرف پیدل گئے تھے۔ کوئی دس بارہ منٹ کی مسافت تھی۔ جب نئے اسکول کی عمارت دیکھی تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اتنی شاندار‘ اتنی بڑی ‘ بڑے بڑے کھیل کے میدان‘ جن میں گھاس لگی ہوئی تھی۔ شاید یہ مغربی پاکستان کے کسی بھی اسکول سے بڑا معلوم ہوتا تھا۔ بہر حال جن جن سیاست دانوں اور سرکاری عمال نے اس طرح کے مایہ ناز اسکولوں کی داغ بیل رکھی تھی ‘ خدا ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ ان کی نیکی کا ثمر ان کی اولاد کو بھی ملتا رہے۔
چوہدری ارشد اور ثاقب رزاق نے مجھے چند برس پہلے‘ کچھ نام بتائے تھے کہ یہ وہ عظیم لوگ تھے جنھوں نے نئے اور سکہ بند اسکولوں کا جال بچھانے کا تہیہ کر رکھا تھا۔ مگر میں بھول گیا ہوں۔ ارشد اور ثاقب‘ دونوں میرے پریپ اسکول کے کلاس فیلو ہے۔ آج بھی ان سے گہری وابستگی موجود ہے۔ نئے اسکول میں ہم چند ہی دنوں میں منتقل ہو گئے۔ مگر ایسا لگتا تھا کہ ہم ہمیشہ سے نئے اسکول میں موجود تھے پھر پرانی کوٹھی کا خیال بھی کبھی نہیں آیا۔ نئے اسکول میں دو سیکشن تھے۔ جونیئر اور سینئر۔ لازم ہے کہ ہم جونیئر سیکشن میں تھے۔ ہیڈ مسٹرس حد درجہ شفیق مگر ڈسپلن کو قائم رکھنے والی خاتون تھیں۔ ان کا آفس جونیئر سیکشن کے شروع میں ہی تھا۔ ہاں‘ ایک واقعہ یاد آیا جس نے میری زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ پڑھائی میں بہت اچھا تھا مگر کافی شرارتی تھا۔ ایک دن‘ کلاس میں ایک بچے نے مجھ سے کسی بات پر لڑائی کی۔ اس نے مجھے ایک مکا مارا اور میرے دو دانت ٹوٹ گئے ۔ گھر جا کر کسی کو نہیں بتایا بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ پوچھا بھی کسی نے نہیں۔ میںنے کسی سے شکایت بھی نہیں کی۔ مگر پتہ نہیں کیسے‘ یہ بات کلاس ٹیچر کو معلوم ہو گئی۔
انھوں نے ہیڈ مسٹریس کو سارا واقعہ بتا دیا۔ میں ہر چیز سے بے خبر ‘ روزانہ ‘ کلاس میں آتا تھا۔ اور اسی ترتیب سے واپس چلا جاتا تھا۔ ایک دن چھٹی سے تھوڑا سا پہلے‘ مجھے ‘ ہیڈمسٹریس نے اپنے آفس میں بلوایا ۔ بچہ جس نے میرے دانت توڑے تھے ، وہ بھی موجود تھا۔ ہیڈمسٹریس کو پورا واقعہ معلوم تھا۔ انھوں نے ہم دونوںکو آفس کے باہر کھڑا کیا۔ اور مجھے حکم دیا کہ جس طاقت سے اس بچے نے میرے چہرے پر مکا مارا تھا، اسی قوت سے اس بچے کے چہرے پر مکا ماروں۔ میں گھبرا گیا۔ ہیڈمسٹریس نے دوبارہ حکم دیا کہ فوراً مکا ماروں۔ میں نے آہستہ سے ‘ اس طالب علم کے چہرے پر تھپڑ مارا۔ مگر ہیڈ مسٹریس نے پوری طاقت سے ‘ اس شرارتی بچے کے مونہہ پر چار پانچ طمانچے مارے۔ وہ بچہ رونے لگ گیا۔ ہم دونوں واپس کلاس میں آ گئے ۔ اب جو بات عرض کر رہا ہوں۔ شاید آپ کو یقین نہ آئے۔ وہ طالب علم‘ ہیڈمسٹریس کا بیٹا تھا۔ یہ بات مجھے کافی دنوں بعد معلوم ہوئی۔
تھوڑی دیر کے لیے سوچیئے کہ ہمارے مرد اور خواتین اساتذہ کتنے انصاف پسند اور عظیم لوگ تھے کہ اپنے بچوں کی غلطی کو بھی معاف کرنے سے گریزاں تھے۔ جناب ! حیرت ہوتی ہے ‘ کہ ایسے کمال انسان بھی ہمارے سماج میں موجود تھے۔ اب چاروں طرف دیکھتا ہوں تو عجیب سی مایوسی ہوتی ہے۔ نفسا نفسی‘ مال و زر کمانے کی دوڑ اور بگاڑ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ لوگ پہچانے ہی نہیں جاتے۔ لگتا ہے کہ ہم ایک ایسے جنگل میں رہ رہے ہیں، جہاں طاقتور درندہ ‘ کمزور جانوروں کے گوشت پر ضیافت کر رہا ہے۔ منافقت کا اتنا کثیف دھواں ہے کہ انسان کے اصلی چہرے ہی نظر نہیں آتے۔ دراصل ہمارا پورا سماج‘ اخلاقی مفلسی کا شکار ہے بلکہ قلاش ہو چکا ہے۔ نہ پچاس ساٹھ برس پہلے کی اقدار نظر آتی ہیں نہ وہ ہمدردی اور نہ ہی قناعت کی دولت۔ ہم نفسوں! زمانہ ہی بدل گیا ہے۔ آج‘ ماضی کی طرف نظر پڑے تو ایسے لگتا ہے کہ کوئی خواب ہے۔ چھ دہائیوں میں سب کچھ ہی الٹ پلٹ ہو گیا۔ اب تو ایسے لگتا ہے کہ کچھ بھی غلط نہیں رہا۔ اور شاید کچھ بھی صحیح نہیں موجود۔ دونوں گڈمڈ ہو چکے ہیں۔ اچھائی اور برائی کی ترتیب ختم ہو چکی ہے۔
بات اسکول کی ہو رہی تھی۔ جونیئر سیکشن میں جو بریک ہوتی تھی۔ اس میں ہم تمام بچے‘ میس جاتے تھے۔ جوجونیئر اور سینئر سیکشن کے درمیان میں تھا۔ وہاں لازم تھاکہ ہم دودھ کا ایک گلاس پئیں۔ ٹیچر نظر رکھتی تھی کہ کوئی بچہ بھی دودھ پیئے بغیر نہ جائے۔ مجھے‘ دودھ پینا کافی ناپسند تھا۔ مگر ٹیچر کی نگاہوں کے سامنے بچنا ناممکن تھا۔ اس لیے مجبوری میں ایک گلاس ضرور پینا پڑتا تھا۔ جس طرح لائن بنا کر ہم میس کی طرف جاتے تھے، اسی ترتیب سے واپس کلاس میں آ جاتے تھے۔ اور پھر تعلیم کا معمول شروع ہو جاتا تھا۔ بریک کے بعد شاید دو پریڈ ہی ہوتے تھے۔ ہمارا تمام نصاب انگریزی میں تھا ۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں پوری زندگی انگلش میڈیم اسکول اور کالجوں میں ہی زیر تعلیم رہا ہوں۔ اسکول کی ٹیچرز ‘ بچوں پر بہت محنت کرتی تھیں۔
شاید‘ انھیں کی جوتیوںکے طفیل زندگی میں کامیابی کی سیڑھی پر چڑھ پایا ہوں۔ مسز خان ابھی تک یاد ہیں۔ ساڑھی زیب تن فرمایا کرتی تھیں۔ مسز چوہدری جو بعد میں ہیڈمسٹریس کے عہدے پر فائز ہوئیں ۔ حددرجہ شفیق انسان تھیں۔ چہرے پرایک ملکوتی مسکراہٹ رہتی تھی۔ ان کے دونوں صاحبزادے ‘ اظہر اور عامر آج بھی میرے بہترین دوست ہیں۔ جونیئر سیکشن کے سامنے کھیل کا میدان بھی تھا۔ بریک میں بچوں کے غل غپاڑے سے ‘ ایک ہنگامہ مچا ہوتا تھا۔ پتہ نہیں اب میرے اسکول کے کیا حالات ہیں؟ گمان ہے کہ اچھے ہی ہوں گے۔ بہر حال مجھے تو سب کچھ خواب سا لگتا ہے۔ پتہ نہیں‘ خواب سے جاگ کیسے گیا؟
Today News
جیسا کرو گے، ویسا بھرو گے، سلسلہ کب تک؟
سیاست میں برداشت اور اعتدال کے لیے مشہور صدر آصف زرداری جو مفاہمت کے لیے مشہور ہیں نے پنجاب میں پیپلز پارٹی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیر اعظم کو یاد دلایا کہ سیاست پھولوں کی سیج نہیں ہوتی بلکہ اس میں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑتی ہیں، جیل جیل ہوتی ہے جہاں رویا دھویا نہیں جاتا بلکہ قید تو مردوں کی طرح برداشت کرنی چاہیے میں نے بھی 14 سال قید کارکنوں کے زور پر کاٹی۔ جیل میں پانی ہوتا ہے نہ دودھ۔ نیازی اپنے ٹائیگرز کی بات کرے وفاداری نہ ہو تو عہدہ نہیں رکھنا چاہیے۔ صدر مملکت نے اس موقع پر جیل میں قید سابق وزیر اعظم کو یاد دلایا کہ میری بہن کو بھی ان کی حکومت میں رات کے وقت پکڑا گیا تھا، اس وقت یاد نہیں آیا کہ برا وقت بھی آ سکتا ہے جو مکافات عمل کہلاتا ہے۔
آصف زرداری کو طویل عرصہ قید کاٹنے والا سیاستدان کہا جاتا ہے۔ انھوں نے ہمت سے قید کی مشکلات برداشت کی تھیں، کوئی واویلا نہیں کیا تھا اور ان کی فیملی نے بھی جیلوں کے باہر وہ کچھ نہیں کیا تھا جو بانی کی تین بہنیں مسلسل کر رہی ہیں اور بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بانی کی غیر سیاسی بہنیں اپنے بھائی کی قید پر سیاست چمکا رہی ہیں اور میڈیا میں آنے کے لیے غیر ذمے دارانہ بیان بازی بھی کر رہی ہیں اور ہر ہفتے ارکان اسمبلی اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کو اڈیالہ آنے کو کہتی ہیں مگر کوئی ان کی نہیں سنتا اور دس ہزار تو دور کی بات ایک ہزار افراد بھی جمع نہیں ہوتے اور ان کا مجوزہ دھرنا بھی چند گھنٹے بعد ہی ختم کر دیا جاتا ہے۔
حال ہی میں بانی کے تفصیلی طبی معائنے کے موقع پر پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کو جیل میں طبی معائنے کے وقت آنے کی دعوت دی گئی تھی مگر کوئی نہیں پہنچا اور بعد میں پی ٹی آئی نے طبی معائنہ مسترد کر دیا اور ان کی بہن علیمہ خان نے تشویش کا اظہار کیا کہ بانی کو الشفا آئی اسپتال منتقل نہیں کیا گیا اور سرکاری ڈاکٹروں کی 5 رکنی ٹیم نے اڈیالہ آ کر معائنہ کیا اور اس معائنے میں بانی کے کسی ذاتی معالج کو شامل نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے سرکاری ڈاکٹروں کی بنائی ہوئی میڈیکل رپورٹ بانی کی فیملی کے لیے قابل قبول نہیں ہوگی۔
صدر مملکت کے علاوہ بانی کی حکومت میں گرفتار کیے جانے والے متعدد مسلم لیگی رہنما بھی آئے دن خود پر گزرے ہوئے جیلوں کے واقعات بتاتے رہتے ہیں کہ اس وقت کے منتقم مزاج وزیر اعظم کے ایما پر ان کے ساتھ جیلوں میں نہایت ابتر سلوک کیا جاتا تھا اور ان اسیروں کی جیلوں میں حالت زار خود آج کا سابق وزیر اعظم دیکھ کر نہ صرف خوش ہوتا تھا بلکہ مزید سختیاں کراتا تھا اور دھمکیاں دیتا تھا۔ ماضی کے (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کے رہنما ہی نہیں بلکہ دونوں پارٹیوں کی قیادت کو بھی نیب کے ذریعے بے بنیاد مقدمات میں گرفتار کرا کر جیلوں میں رکھا جاتا۔ ان کے ساتھ غیر سیاسی و غیر انسانی سلوک کیا جاتا تھا۔ انھیں علاج کی وہ سہولتیں فراہم نہیں کی جاتی تھیں جو (ن) لیگ کی حکومت میں جیلوں میں بانی پی ٹی آئی اور پارٹی رہنماؤں کو حاصل ہیں۔
بعض وزیروں کے بقول بانی جیل میں وسیع جگہ میں رہ رہے ہیں جہاں انھیں ان کی پسند کا کھانا مل رہا ہے وہ وہاں واک اور ورزش کرتے ہیں اور وی وی آئی پی قید کاٹ رہے ہیں۔ بانی قید میں رہ کر اپنی بہنوں، پارٹی رہنماؤں اور وکیلوں سے ملاقات میں پارٹی کے لیے اہم ہدایات دیتے رہے۔ وزیر اعلیٰ تک انھوں نے جیل میں قید رہ کر تبدیل کرائے اور اپنی منفی سیاست کے ذریعے اپنی پارٹی سے دھرنے، احتجاج وغیرہ کراتے رہے جس پر حکومت نے پابندی لگائی۔ پاکستان میں بھٹو حکومت میں ان کے خلاف تحریک چلانے والے سیاستدانوں نے بھی سختیاں اور قید برداشت کی جس کے بعد جنرل ضیا الحق دور میں انھیں پھانسی کی سزا ہوئی جو ملک میں کسی وزیر اعظم کو دی گئی سب سے سخت سزا تھی۔
1988 کے بعد 1999 کے گیارہ سالوں میں بے نظیر بھٹو اور بے نظیر کے بعد میاں نواز شریف دو دو بار وزیر اعظم رہے اور دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف بھرپور نہ صرف انتقامی کارروائیاں کی تھیں اور مقدمات میں مخالفین کی گرفتاریاں بھی کرائی تھیں جس کے دوران دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف تحریک بھی چلائی جس کا بدلہ دونوں کو جنرل پرویز مشرف دور میں ملا اور دونوں کو جلاوطنی کے بعد اپنی غلطیوں کا احساس ہوا تو دونوں نے میثاق جمہوریت کیا جس کے بعد دونوں کی حکومتوں نے آرام سے پہلی بار اپنی اپنی مدت پوری کی تھی اور پکڑ دھکڑ اور انتقام سے گریز کرکے حکومت کی تھی۔
2018 میں پی ٹی آئی کے بانی نے اقتدار میں آ کر جنرل پرویز مشرف کی طرح دونوں سابق حکمران جماعتوں سے بھرپور انتقام لیا حالانکہ دونوں حکومتوں میں بانی کے خلاف کوئی پکڑ دھکڑ نہیں ہوئی تھی پھر بھی نہ جانے بانی نے پہلی بار اقتدار میں آ کر سابق حکمرانوں اور ان کے پارٹی رہنماؤں کی جو پکڑ دھکڑ اور دونوں سے سیاسی مخالفت کو دشمنی بنا دیا تھا جس کی سزا وہ آج خود جیل میں بھگت رہے ہیں۔
بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے سبق سیکھ لیا تھا جس کے بعد دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کی پہلے جیسی مخالف نہیں اور اتحادی ہیں اور دونوں کو اپنا دشمن سمجھنے والا جیل میں رہائی کے لیے واویلا کر رہا ہے مگر اپنے انداز حکمرانی کو درست سمجھ رہا ہے بلکہ اپنے 2018 کے محسنوں پر بھی دشمنوں کی طرح الزامات لگا رہا ہے اور اپنی منفی سیاست پر پشیمان بھی نہیں ہے۔ پی پی اور (ن) لیگ نے ایک دوسرے کے ساتھ جو کیا تھا اس کی سزا پا لی اس لیے جیسا کرو گے، ویسا بھرو گے کا سلسلہ ختم ہونا اشد ضروری ہے اور ماضی سے سبق سیکھنے کا متقاضی ہے۔
-
Tech2 weeks ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech1 week ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Entertainment1 week ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech2 weeks ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Tech1 week ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Tech6 days ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Business2 weeks ago
Pre-Ramazan hikes in essential commodities’ prices pinching consumers
-
Tech2 weeks ago
5 Satellite Internet Firms Are Ready, But Pakistan’s Regulators Are Not