Today News
ایف آئی اے کی انسانی اسمگلرز کیخلاف کارروائی، سب ایجنٹ اور 8 افغان باشندے گرفتار
ایف آئی اے نے انسانی اسمگلرز کے خلاف کارروائی کے دوران سب ایجنٹ اور 8 افغان باشندوں کو گرفتار کرلیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق اینٹی ہیومین ٹریفکنگ سرکل کوئٹہ نے کارروائی کے دوران سب ایجنٹ عرفان کو گرفتار کر لیا،کارروائی کے دوران 8 افغان باشندے بھی تحویل میں لے لیے گئے۔
گرفتار ملزم انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کا اہم کردار نکلا،مرکزی ملزمان گل بدین اور غمائی فرار ہوگئے،جن کی تلاش جاری ہے،ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزم کے موبائل سے واٹس ایپ چیٹس اور اہم شواہد برآمدہوئے،جس سےانسانی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے واضح ثبوت سامنے آگئے،اسمگلنگ میں استعمال ہونے والا رکشہ بھی ضبط کیاگیا۔
گرفتار ایجنٹ نے افغانستان میں موجود سہولت کاروں سے رابطوں کا بھی انکشاف کیا،افغانستان میں موجود تاج محمد اور کامل سے براہ راست روابط کی تصدیق کی، دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیےچھاپے مارے جارہے ہیں جبکہ ملزم سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔
Source link
Today News
گرلز ایجوکیشن کی بہتری کیلئے پالیسی سازی میں طالبات اور اساتذہ کو شامل کیا جائے!!
لڑکیوں کی تعلیم معاشرتی ترقی، خاندان کی خوشحالی اور نسل نو کی بہتر تربیت کے لیے ناگزیر ہے۔
تعلیم لڑکیوں کو خودمختار بناتی ہے، انہیں اپنے حقوق و فرائض سے آگاہ کرتی ہے اور بہتر فیصلے کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے جس سے ایک مضبوط اور باشعور معاشرہ تشکیل پاتا ہے لہٰذا لڑکیوں کی تعلیم کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ’’لڑکیوں کی تعلیم اور ٹیچرز ٹریننگ کی اہمیت‘‘ کے موضوع پر ایک خصوصی مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں حکومت اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے خیالات کا اظہارکیا۔ فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔
ڈاکٹر نشاط ریاض
(چیف ایگزیکٹیو ملالہ فنڈ پاکستان)
آبادی کے لحاظ سے پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے اور یہاں ملک کی 65 فیصد آبادی رہتی ہے۔ ملک میں نوجوانوں خصوصاََ 30 برس سے کم عمر افراد کی شرح زیادہ ہے جس میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہیں۔ یہ نوجوان ہمارا اثاثہ اور بڑی طاقت ہیں۔ ہمارے نوجوانوں کا ٹیلنٹ اور جذبہ کسی بھی ایٹمی طاقت سے زیادہ طاقتور ہے۔ قوموں کو بڑی قوت بننے میں صدیاں لگی ہیں۔ اس سفر میں انہوں نے جس طاقت کا استعمال کیا وہ تعلیم ہے۔ تعلیم میں سب سے اہم لرننگ ہے کہ نوجوانوں کو کیا سکھایا جائے، کس طرھ سکھایا جائے اوراس کیلئے ان سے متعلقہ اداروں کو کس طرح بہتر بنایا جائے۔ اداروں سے مراد صرف سکول، کالج یا یونیورسٹیز ہی نہیں بلکہ لرننگ کے وہ تمام مقامات ہیں جہاں بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت بھی کی جائے اور اس طرح ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو پاکستان کو آگے لے کر جاسکے۔ پنجاب کی بات کریں تو یہ صوبہ بہت ترقی کر رہا ہے۔ میں نے لاہور سے تعلیم حاصل کی اور جب بھی لاہور آتی ہوں تو ہر مرتبہ سرپرائز ملتا ہے۔ اس مرتبہ کا منظر یہ ہے کہ کھلی اور صاف ستھری سڑکیں ہیں، پھل اور سبزیوں کی ریڑھیاں ترتیب سے لگی ہوئی ہیں۔ مجھے سروسز ہسپتال جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں حیرت بھی ہوئی اور خوشی بھی کہ ہسپتال صاف، ڈاکٹرز ڈیوٹی پر موجود اور عام آدمی کو صحت کی بہترین سہولیات دی جا رہی ہیں۔ میں اس حوالے سے پنجاب کے عوام کو مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ ہمارے ’ڈی این اے‘ میں ٹیلنٹ ہے۔ ہماری بچیاں قابل ہیں لیکن یہاں سکولوں کی تعداد کم ہے۔ ورلڈ بینک کے معیار کے مطابق ایسے علاقے جہاں مسافت مشکل ہے، وہاں ہر 10 کلومیٹر پر ایک سکول ہونا چاہیے۔پنجاب کی تقسیم ود طرح سے ہے، ایک وسطی اور دوسرا جنوبی پنجاب، دونوں کے مسائل، وسائل اور سہولیات الگ الگ ہیں۔ سکول دور ہونے کی وجہ سے پرائمری سے سیکنڈری سطح تک بچیوں کی ڈراپ آؤٹ شرح زیادہ ہے۔ والدین کو یہ تشویش ہوتی ہے کہ راستہ محفوظ ہے یا نہیں، سکول میں خواتین اساتذہ ہیں یا نہیں، وہاں الگ واش رومز ہیں یا نہیں،اس کے علاوہ یونیفارم، کتابیں، ٹرانسپورٹ و دیگر اخراجات ان کی پہنچ میں ہیں یا نہیں۔ اسی طرح اگر سکول میں خاتون ٹیچر ہے تو کیا اس کے لیے ماحول سازگار ہے؟ اسے سہولیات میسر ہیں؟ اسے تحفظ حاصل ہے؟ اس کی ٹریننگ ہوئی ہے یا نہیں؟ میں دوسرے صوبوں میں ایسے ٹیچرز سے بھی ملی ہوں جن کی 20،20 سال سے ٹریننگ نہیں ہوئی۔ پنجاب ان صوبوں میں شامل نہیں ہے، یہاں ٹیچرز ٹریننگ ہو بھی رہی ہے اور بہتری کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ ہمارے سسٹم میں بہتری کی بہت گنجائش موجود ہے۔ صرف عمارت بنا دینا کافی نہیں ہے، اس کی روح تعلیمی نصاب، اساتذہ اور بچے ہیں۔ ہمیں ایجوکیشن ایکوسسٹم کی گروتھ پر کام کرنا ہے،ا س حوالے سے ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔ تعلیمی نصاب ایجوکیشن سسٹم کا اہم حصہ ہے، دیکھنا یہ ہے کہ نصاب کن کیلئے بنایا جا رہا ہے؟ جس دور میں ہم نے پڑھا اور جو بچے آج پڑھ رہے ہیں، اس میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ دنیا میں چائلڈ سائیکالوجی پر بہت کام ہوتا ہے، جن بچوں کیلئے نصاب بنایا جاتا ہے، ان کی نفسیات کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ کیا سوچتے ہیں، ان کی دلچسپی کیا ہے، ان کو کیا خوف ہے؟ اساتذہ، والدین ، بچے اور معاشرہ اہم سٹیک ہولڈرز ہیں ، تعلیمی نصاب بناتے وقت ان سے لازمی مشاورت کرنی چاہیے۔ عصر حاضر کا طالب علم استاد سے زیادہ ایڈوانس ہے، کیا اس حوالے سے ہمارا نصاب ’اپ گریڈ‘ہو رہا ہے؟ کیا ٹیچرز ٹریننگ ہو رہی ہے؟ کیا امتحانی نظام کو تبدیل کیا گیا؟ کیا اس سسٹم کو چلانے کیلئے گورننس اور جانچ پڑتال کا نظام بنایا گیا؟ افسوس ہے کہ یہ سب نہیں ہوا۔ پاکستان میں بہت زیادہ ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا ہے لیکن اس کا ہوتا کیا ہے کسی کوعلم نہیں۔ میرے نزدیک اس حوالے سے ایک سسٹم بننا چاہیے اور صرف وہ ڈیٹا اکٹھا کرنا چاہیے جس کی ضرورت ہو، یہ کریڈیبل ہو اور پھر اس کی روشنی میں اقدامات کیے جائیں۔ہر بچے کی تعلیم ، صحت اور ذہنی نشونما حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کا تعلیمی بجٹ صرف 4 فیصد ہے، اسے بڑھانا چاہیے۔ افسوس ہے کہ وزیراعظم کی طرف سے ایجوکیشن ایمرجنسی لگانے کے بعد بھی کچھ نہیں ہوا، حکومت کی کوشش کے باوجود معاملات ٹھیک نہیں ہو رہے۔ محکمہ تعلیم اکیلے کچھ نہیں کر سکتا، ادارے نے ایکسی لنس سکول تو بنا دیے لیکن اس کیلئے بڑے فنڈز اور پلاننگ چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ اداروں کے درمیان آپس میں روابط ہیں یا نہیں؟میرے نزدیک اداروں کے درمیان کووارڈینیشن کا بہترین میکنزم بنانا ہوگا۔ سکول صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ بچوں کی کردار سازی کیلئے بھی اہم ہوتے ہیں، وہاں بچوں کی لرننگ ہوتی ہے، سکولوں کو محفوظ بنانا چاہیے۔ بیرون ممالک میں سکولوں میں سائیکالوجسٹ باقاعدہ کام کرتے ہیں، ہمارے سرکاری سکولوں میں اس کا تصور نہیں ہے، تعلیمی نصاب بناتے وقت تمام سٹیک ہولڈرز کو شامل کرنا ہوگا۔
ڈاکٹر نازیہ آصف
(ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لاہور)
لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے جب بات ہوتی ہے تو چند بنیادی مسائل بتائے جاتے ہیں جن میں سب سے بڑا مسئلہ لوگوں کا رویہ ہے وہ لڑکیوں کو پڑھانا نہیں چاہتے۔ غربت بھی ایک مسئلہ ہے جس کا بہانہ بنا کر والدین بچیوں کو سکول نہیں بھیجتے۔ اس کے علاوہ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ سرکاری سکولوں کی تعداد کم ہے۔ میں جب فیروزوالہ، شیخوپورہ میں تعینات تھی تو ایک د ن اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر آیا، اس نے مجھے پانچ برس عمر کی ایک بچی کی تصویر دکھائی جس کا ہاتھ اس کی ماں نے کوئلہ رکھ کر جلا دیا تھا۔ میں نے وجہ پوچھی تو پتا چلا کہ یہ آٹھ بہن بھائی ہیں، ماں کو طلاق ہوگئی، وہ میکے میں آگئی ہے، اس کے والد اپنے بچوں کے ساتھ اب اپنی بیٹی کے بچوں کو بھی پال رہے ہیں ۔ اس مزدور والد پر اب 15بچوں کی پرورش کا بوجھ پڑ گیا ہے۔ اس چھوٹی بچی نے چینی کھائی جس پر غربت اور حالات کی ستائی ماں نے اسے سزا دی ۔ ہم نے اس دن یہ فیصلہ کیا کہ سکول میں ایک بہترین ماحول فراہم کیا جائے تاکہ بچے سکول آئیں، اگر وہ نہیں بھی پڑھتے تو کم از کم یہاں محفوظ تو رہیں گے۔ ہمارے پاس شدید غریب گھرانوں کے بچے تعلیم کے لیے آتے ہیں، ان کے پاس یونیفارم، کتابیں، جوتے خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے، حکومت اور سول سوسائٹی ان کو سہولیات فراہم کرتی ہے۔ ہم تمام سماجی کارکنوں سے یہ گزارش کرتے ہیں کہ اپنے علاقے کے سرکاری سکولوں کا دورہ ضرور کریں۔ ان سکولوں میں وہ غریب بچے جا رہے ہیں جنہیں معاشرے اور ان کے گھر والوں نے رد کر دیا ہے، یہ بچے سکولوں میں وقت گزار رہے ہیں۔ حکومت کی طرف سے ’مار نہیں پیار‘ کا اقدام اچھا ہے۔ بچوں کو جب سکول میں پیار ملتا ہے تو وہ تعلیم کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ ہمارے اساتذہ صدقہ، زکوٰۃ بھی ان بچوں کو دیتے ہیں۔ یہ غریب بچے سرکاری سکولوں میں پڑھ کر بورڈ میں ٹاپ کرتے ہیں۔ ہمارے اساتذہ بہت محنت کرتے ہیں تاہم جہاں خرابیاں ہیں انہیں دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ایڈمنسٹریشن کی بات کریں تو وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے آنے سے پہلے محکمہ سکولز ایجوکیشن میں لیڈر شپ میں صرف 3 فیصد خواتین تھیں، اس وقت یہ تعداد 30 فیصد ہوگئی، یہ حوصلہ افزاء ہے۔ گجومتہ کے ایک سکول کے حوالے سے بچی نے خدشے کا اظہار کیا کہ پل نہ ہونے کی وجہ سے اس کے والد سکول سے ہٹا لیں گے، وزیراعلیٰ کی ہدایت پر وہاں پل تعمیر کیا جا رہا ہے۔ یہ پرائمری سکول کی بچی کا مطالبہ تھا جو وزیراعلیٰ کی طرف سے پورا کیا جا رہا ہے۔ اس سکول کی بچیاں آگے چل کر مزید پراعتماد ہوں گی اور معاشی مسائل پر آواز بھی اٹھائیں گی۔ گرلز ایجوکیشن کی بات کریں تو یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جنوبی پنجاب کی لڑکیاں محروم ہیں لیکن ہمارے اعداد و شمار اس سے مختلف ہیں۔اس وقت لاہور، راولپنڈی اور فیصل آباد جیسے ترقی یافتہ شہروں کی بچیوں کو سکول جانے میں زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان علاقوں میں کافی عرصے سے سرکاری سکولز نہیں بنائے گئے البتہ نجی سکولز موجود ہیں۔ ان علاقوں کے لوگ اپنی معاشی کمزوری کی وجہ سے لڑکیوں کو سکول نہیں بھیجتے لیکن بہانہ یہ بناتے ہیں کہ ہمارے خاندان میں لڑکیوں کو پڑھانے کا رواج نہیں ہے۔ ہمارے ہاں سرکاری سکولوں کی تعداد کم ہے۔ لاہور کی آبادی کے تناسب سے یہاں 5 ہزار سکولوں کی ضرورت ہے لیکن صرف 1 ہزار سکول موجود ہیں۔نجی سکول بچیوں کو تعلیم دے رہے ہیں لیکن ان کو یہ فائدہ حاصل ہے کہ ان کے مقابلے میں کوئی سرکاری سکول نہیں ہے۔ حکومت پنجاب کا ’زیور تعلیم‘ پروگرام ہے جس میں جنوبی پنجاب کے اضلاع کی بچیوں کو ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے۔ اس وظیفے کا رزلٹ یہ ہے کہ تونسہ، ڈی جی خان کے ٹاپ کرنے والے بچے بڑے میڈکل کالجز، انجینئرنگ یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ لاہور سب کا ہے لیکن لاہور کا کون ہے؟ لاہور کے بچے ان بہترین یونیورسٹیوں میں نہیں ملتے۔ یہ بچے برسوں سے اچھے سرکاری سکولوں سے محروم ہیں اور والدین نجی سکولوں میں بچے پڑھانے پر مجبور ہیں ۔ لاہور کے ارد گرد بھی بہت غربت ہے، یہاں کی لڑکیوں کو بھی تعلیمی سکالرشپ ملنی چاہیے۔ اسی طرح کے مسائل دیگر ترقی یافتہ شہروںکے بھی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے نت کلاں لاہور، جو نوری نت کا گاؤں ہے ، وہاں سکول تعمیر کروایا ، وہاں کے ایک زمیندار نے کہا کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک، یہ اس گاؤں کا پہلا سکول ہے۔ رحیم یار خان کی آبادی 44لاکھ ہے، وہاں 2700 سرکاری سکولز ہیں لیکن لاہور جس کی آبادی ڈیڑھ کروڑ ہے، یہاں ایک ہزار سکول ہیں۔پرائمری کی سطح پر ڈراپ آؤٹ کی شرح بہت زیادہ ہے، اس کی وجہ مڈل اور سیکنڈری سکولز کی کمی ہے۔ زیور تعلیم پروگرام صوبہ پنجاب کے تمام علاقوں میں ہونا چاہیے۔ حکومت چائلڈ فرینڈلی سکولز بنانے پر کام کر رہی ہے۔ بچے، بچیوں کیلئے علیحدہ ٹائلٹ اورجنسی ہراسمنٹ سے پاک ماحول بنایا فراہم کیا جا رہا ہے۔ سکولوں میں سائیکالوجسٹ کی تعیناتی پر کام جاری ہے، نواز شریف سینٹر آف ایکسی لنس میں تعیناتی ہوچکی ہے۔ سکولوں کے اساتذہ کو لائسنس جاری کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
اقبال حیدر بٹ
(سی ای او یوتھ ٹیوب )
پنجاب میں بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے لوگوں میں رجحان پیدا ہوا ہے لیکن دوسری طرف ان کی تعلیم کا دائرہ کار بہت کم ہے۔ اس میں خط غربت سے نیچے رہنے والے شامل افراد شامل ہی نہیں ہیں جبکہ امراء نجی سکولوں میں اپنی بچیوں کی تعلیم پر خرچ کر رہے ہیں۔ نجی تعلیمی اداروں میں ہونے والے اخراجات مجموعی طور پر حکومت کے تعلیمی بجٹ سے زیادہ ہیں۔ اس وقت سوال یہ ہے کہ غریب بچیوں کی تعلیم کیسے ممکن ہوگی؟ ہمارے نظام تعلیم کے مسائل پیچیدہ ہیں لہٰذا سکولوں کی حالت زار اور ایجوکیشن سسٹم کو بہتر بنانے کیلئے خواتین ہیڈ ٹیچرز کی ایجنسی بنانے اور ان کے آپس کے تعلق کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا بھر میں پبلک پالیسی بیوروکریٹک ہونے کی وجہ سے سست روی کا شکار ہوتی ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم شدید سست روی کا شکار ہیں۔ آرڈر کے ذریعے جس طرح معاملات چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس کا زیادہ فائدہ نہیں ہوگا۔ اگر ایجنسی بنا کر ہیڈ ٹیچرز کو آپس میں مل بیٹھنے ، بات چیت کرنے اور بہتری لانے کے مواقع ملیں تو اس کے اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔ ہم ایجوکیشن سیکٹر اور کمیونٹی کے روابط کو بہتر بنانے کیلئے کام کر رہے ہیں۔ہم نے گزشتہ دنوں ایک ڈائیلاگ کا اہتمام کیا تاکہ مسائل کو حل کرنے ایک دوسرے کے تجربے سے سیکھا جاسکے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سکولوں میں پڑھنے والی بچیاں بہت قابل ہیں۔ ہمارا ادارہ بچیوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔ ان کیلئے تقاریر، سوشل میڈیا ریلز اورکوئز مقابلے کروائے گئے جن میں 100 سے زائد سکولوں کی طالبات نے حصہ لیا اور ان کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ ہمارے ملک کی لڑکیوں میں بہت پوٹینشل ہے، اگر انہیں سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو یہ دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کر سکتی ہیں۔
مزمل مجید
(پروگرام آفیسر یوتھ ٹیوب )
یہ عمومی رائے ہے کہ سرکاری سکولوں کی بچیوں میں خود اعتمادی نہیں ہوتی جو بالکل غلط ہے۔ دور جدید میں اس طرح کے تصورات کو توڑنا بہت ضروری ہے۔ اس حوالے سے سرکاری سکولوں کی بچیوں نے خود سوشل میڈا ریلز بنائیں اور بتایا کہ وہ کسی سے کم نہیں ہیں۔ ہم اس پراجیکٹ کے ذریعے سرکاری سکولوں کی طالبات کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ہم انہیں پالیسی ڈائیلاگ کے کیلئے پنجاب اسمبلی بھی لے کر گئے اور وہاں ان کی تجاویز اور آراء سن کر حیرانی ہوئی کہ وہ بچیاں باشعور ہیں، اپنی رائے رکھتی ہیں جو زمینی حقائق اور ان کے تجربے اور مسائل کے حوالے سے ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے تعلیم کو کلاس روم تک محدود کر دیا جس سے ٹیلنٹ ضائع ہو جاتا ہے۔ ہمارے تعلیمی نظام میں کتاب اور رٹہ پر توجہ دی جاتی ہے، جدید تقاضوں پر عمل نہیں کیا جاتا۔ ہم نے طالبات کا ٹیلنٹ دنیا کے سامنے لانے کیلئے گرلز ایجوکیشن فیسٹیول کروایا۔اس فیسٹیول میں پنجاب بھر سے طالبات نے مختلف مقابلوں میں اتنا شاندار ٹیلنٹ دیکھایا کہ مقابلوں کے ججز کیلئے فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا۔ سرکاری سکولوں کی بچیوں میں بہت پوٹینشل موجود ہے،اگر انہیں آگے بڑھنے کیلئے سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو وہ بہت آگے جاسکتی ہیں۔ بدقسمتی سے یہاں عملی طور پر جدید طریقے استعمال نہیں کیے جاتے، عصر حاضر میں سوشل میڈیا کا کردار بہت اہم ہے، اگر اس کا مثبت استعمال کیا جائے تو بہت فائدہ ہوسکتا ہے۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز ہیں جن میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ٹک ٹاک ہے۔ پاکستان میں 25 ملین سے زائد ٹک ٹاک صارفین ہیں لیکن وہاں تعلیم کے حوالے سے مواد بہت کم ہے، ہمیں اس پر کام کرنا چاہیے تاکہ دیہی علاقوں کے لوگوں کو بھی شعور اور آگاہی مل سکے، خصوصاََ لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے آگاہی اورذہن سازی کیلئے سوشل میڈیا کو استعمال کیا جائے۔ ڈیجیٹل میڈیا وقت کی ضرورت ہے، یہ طلبہ اور اساتذہ دونوں کیلئے ہی اہم ہے لہٰذا ٹیچرز کی سوشل میڈیا ٹریننگ لازمی کروائی جائے۔ n
Today News
کراچی، رہائشی فلیٹس دھماکا، بم ڈسپوزل اسکواڈ کی تحقیقات میں اصل حقیقت سامنے آ گئی
کراچی:
شہر قائد کے علاقے نارتھ ناظم آباد کے رہائشی فلیٹس میں ہونے والے دھماکے کی تحقیقات مکمل کرلی گئی ہیں، جہاں بم ڈسپوزل اسکواڈ نے دھماکے کی اصل وجہ گیس لیکج قرار دے دی۔
بم ڈسپوزل اسکواڈ حکام کے مطابق جائے وقوعہ سے سلنڈر دھماکے کے کوئی شواہد نہیں ملے جبکہ متاثرہ فلیٹس میں کسی پھٹے ہوئے سلنڈر یا اس کے پرزے بھی نہیں ملے۔
انچارج بم ڈسپوزل اسکواڈ عابد کا کہنا ہے کہ گیس کے پائپ لفٹ کے قریب سے گزر رہے تھے، جس کے باعث شدید نوعیت کا دھماکہ ہوا اور لفٹ بھی گر گئی۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ممکنہ طور پر گھر میں گیس کا چولہا کھلا رہ گیا تھا اور اچانک گیس آنے سے فلیٹ میں گیس بھر گئی جس نے دھماکے کی شکل اختیار کرلی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز نارتھ ناظم آباد بلاک ای کے رہائشی اپارٹمنٹس میں دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی تھی جس کے نتیجے میں ایک بچہ جاں بحق جبکہ چار افراد زخمی ہوگئے تھے۔
Today News
اسکول – ایکسپریس اردو
لائل پور‘ ایک حد درجہ منظم شہر تھا۔ پچھلی صدی کی بات کر رہا ہوں۔ ساٹھ کی دہائی کی۔ اس کا بہترین اسکول ڈویژنل پبلک اسکول تھا۔ اس وقت کی صوبائی حکومت کا فیصلہ تھا کہ پنجاب کے بڑے شہروں میں بہترین اور جدید تعلیمی ادارے کھولے جائیں ‘ جواپنی جگہ بے مثال ہوں۔ لائل پور اس وقت صرف ضلع تھا، سرگودھا ڈویژن کا حصہ تھا، کمشنر سرگودھا میں بیٹھتا تھا۔ اس فرشتہ سیرت کمشنر کا نام یاد نہیں رہا، جس نے اس اسکول کو شروع کرنے کے لیے رات دن محنت کی تھی۔ آپ بیوروکریسی کو لاکھ برا بھلا کہیں مگر پاکستان کے ابتدائی دور کے سرکاری افسران حد درجہ محنتی اور دانشور تھے۔
جیسے یاد گار پاکستان کا منصوبہ بھی ‘ لاہور میں تعینات ایک سینئر افسر کے ذہن میں آیا۔ ابتدائی طور پر انھوںنے اس عظیم کام کو سرانجام دینے کے لیے عام لوگوں سے مالی تعاون کی درخواست بھی کی تھی۔ لائل پور اس وقت مانچسٹر آف پاکستان کہلاتا تھا۔ وجہ کپڑا بنانے کی ان گنت فیکٹریاں اور ملیں تھیں۔ بات اسکول کی ہو رہی تھی ۔ ابتدائی طور پر ‘ نئی بلڈنگ بننے کاانتظار کیا جارہا تھا۔ چنانچہ جیل روڈ پر ایک بڑی سی کوٹھی میں یہ کام شروع کیا گیا تھا۔ میرا داخلہ اس کوٹھی اسکول میں ہوا تھا۔ شاید پریپ یا پھر پہلی کلاس میں، اچھی طرح یاد نہیں، مگر ایک بات ضرور یاد ہے، وہ تھی پیریڈ ختم ہونے کے بعد گھنٹی کی پرجوش گونج۔ میری عمر ہو گی ، چار یا شاید پانچ برس۔ جناح کالونی سے محمد علی بھائی‘ سائیکل پر اسکول چھوڑنے اور لینے آتے تھے۔
محمد علی بہاری تھے اور کراچی سے بھاگ کر کسی ٹرین میں سوار ہو کر ‘ لائل پور پہنچ گئے۔ اس وقت بارہ یا پندرہ برس کے ہوں گے ۔ والد صاحب‘ کو کہیں مل گئے۔ پھر وہ ہمارے گھر کے فرد بن گئے۔ والد صاحب نے ہی انھیں 1978 میں سعودی عرب میں ایک دوست کے پاس بطور ڈرائیور بھجوا دیا۔ جہاں ‘ وہ پچیس تیس برس رہے۔ دو سال پہلے محمد علی کا کراچی میں انتقال ہوا۔ سعودی عرب میں طویل نوکری کی بدولت خاصے خوشحال ہو چکے تھے۔ بہر حال‘ اسکول آنے جانے کے لیے والد صاحب ‘ محمد علی بھائی کے سوا کسی پر بھی اعتبار نہیںکرتے تھے۔ کوئی بیس منٹ کا راستہ ہوتا تھا۔ جیل روڈ‘ کو ٹھنڈی سڑک بھی کہا جاتا تھا۔ چھوٹی سی سڑک کے گرد ‘ ان گنت ‘ ہرے بھرے درخت لگے ہوئے تھے۔
میری عادت تھی کہ دونوں اطراف کے درخت گنتا رہتا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد‘ گنتی ختم ہو جاتی تھی۔ اور پھر بھول بھی جاتا تھاکہ کتنے درخت تھے۔ جناب!لائل پور میں مختلف شاہراہوں پر درخت ہی درخت تھے۔ چھوٹی چھوٹی بیلیں نہیں‘ بلکہ بڑے بڑے زندہ درخت ‘ بالخصوص ایگریکلچر یونیورسٹی کے شروع ہوتے ہی معلوم پڑ جاتا تھا کہ واقعی زرعی یونیورسٹی ہے۔ وہاں سے تو خیر سبزے کی ایک ایسی قطار شروع ہو جاتی تھی جو اسکول کے سامنے تک موجود رہتی تھی۔ اس لیے کہ یونیورسٹی کا رقبہ‘ اس قدر زیادہ تھا کہ پرانے اسکول کی عمارت سے بھی آگے تک موجود تھا۔ میں اس وقت بالکل بچہ تھا ۔ مگر آج تک تمام تر جزئیات ذہن پر نقش ہیں۔
ایک دن ‘ کلاس ٹیچر نے کوئی دس بجے اعلان کیا کہ اسکول کی نئی عمارت مکمل ہو چکی ہے۔ آج تمام بچے اپنا نیا تعلیمی ادارہ دیکھنے جائیں گے۔ گرمیوں کا آغاز تھا۔ دھوپ زیادہ نہیں تھی ۔شاید اپریل ہو گا۔ تمام بچوں نے نیلی قمیض اور خاکی نیکر پہن رکھی تھی۔ تمام طلبا اور طالبات ‘ لائن بنا کر نئے اسکول کی طرف پیدل گئے تھے۔ کوئی دس بارہ منٹ کی مسافت تھی۔ جب نئے اسکول کی عمارت دیکھی تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اتنی شاندار‘ اتنی بڑی ‘ بڑے بڑے کھیل کے میدان‘ جن میں گھاس لگی ہوئی تھی۔ شاید یہ مغربی پاکستان کے کسی بھی اسکول سے بڑا معلوم ہوتا تھا۔ بہر حال جن جن سیاست دانوں اور سرکاری عمال نے اس طرح کے مایہ ناز اسکولوں کی داغ بیل رکھی تھی ‘ خدا ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ ان کی نیکی کا ثمر ان کی اولاد کو بھی ملتا رہے۔
چوہدری ارشد اور ثاقب رزاق نے مجھے چند برس پہلے‘ کچھ نام بتائے تھے کہ یہ وہ عظیم لوگ تھے جنھوں نے نئے اور سکہ بند اسکولوں کا جال بچھانے کا تہیہ کر رکھا تھا۔ مگر میں بھول گیا ہوں۔ ارشد اور ثاقب‘ دونوں میرے پریپ اسکول کے کلاس فیلو ہے۔ آج بھی ان سے گہری وابستگی موجود ہے۔ نئے اسکول میں ہم چند ہی دنوں میں منتقل ہو گئے۔ مگر ایسا لگتا تھا کہ ہم ہمیشہ سے نئے اسکول میں موجود تھے پھر پرانی کوٹھی کا خیال بھی کبھی نہیں آیا۔ نئے اسکول میں دو سیکشن تھے۔ جونیئر اور سینئر۔ لازم ہے کہ ہم جونیئر سیکشن میں تھے۔ ہیڈ مسٹرس حد درجہ شفیق مگر ڈسپلن کو قائم رکھنے والی خاتون تھیں۔ ان کا آفس جونیئر سیکشن کے شروع میں ہی تھا۔ ہاں‘ ایک واقعہ یاد آیا جس نے میری زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ پڑھائی میں بہت اچھا تھا مگر کافی شرارتی تھا۔ ایک دن‘ کلاس میں ایک بچے نے مجھ سے کسی بات پر لڑائی کی۔ اس نے مجھے ایک مکا مارا اور میرے دو دانت ٹوٹ گئے ۔ گھر جا کر کسی کو نہیں بتایا بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ پوچھا بھی کسی نے نہیں۔ میںنے کسی سے شکایت بھی نہیں کی۔ مگر پتہ نہیں کیسے‘ یہ بات کلاس ٹیچر کو معلوم ہو گئی۔
انھوں نے ہیڈ مسٹریس کو سارا واقعہ بتا دیا۔ میں ہر چیز سے بے خبر ‘ روزانہ ‘ کلاس میں آتا تھا۔ اور اسی ترتیب سے واپس چلا جاتا تھا۔ ایک دن چھٹی سے تھوڑا سا پہلے‘ مجھے ‘ ہیڈمسٹریس نے اپنے آفس میں بلوایا ۔ بچہ جس نے میرے دانت توڑے تھے ، وہ بھی موجود تھا۔ ہیڈمسٹریس کو پورا واقعہ معلوم تھا۔ انھوں نے ہم دونوںکو آفس کے باہر کھڑا کیا۔ اور مجھے حکم دیا کہ جس طاقت سے اس بچے نے میرے چہرے پر مکا مارا تھا، اسی قوت سے اس بچے کے چہرے پر مکا ماروں۔ میں گھبرا گیا۔ ہیڈمسٹریس نے دوبارہ حکم دیا کہ فوراً مکا ماروں۔ میں نے آہستہ سے ‘ اس طالب علم کے چہرے پر تھپڑ مارا۔ مگر ہیڈ مسٹریس نے پوری طاقت سے ‘ اس شرارتی بچے کے مونہہ پر چار پانچ طمانچے مارے۔ وہ بچہ رونے لگ گیا۔ ہم دونوں واپس کلاس میں آ گئے ۔ اب جو بات عرض کر رہا ہوں۔ شاید آپ کو یقین نہ آئے۔ وہ طالب علم‘ ہیڈمسٹریس کا بیٹا تھا۔ یہ بات مجھے کافی دنوں بعد معلوم ہوئی۔
تھوڑی دیر کے لیے سوچیئے کہ ہمارے مرد اور خواتین اساتذہ کتنے انصاف پسند اور عظیم لوگ تھے کہ اپنے بچوں کی غلطی کو بھی معاف کرنے سے گریزاں تھے۔ جناب ! حیرت ہوتی ہے ‘ کہ ایسے کمال انسان بھی ہمارے سماج میں موجود تھے۔ اب چاروں طرف دیکھتا ہوں تو عجیب سی مایوسی ہوتی ہے۔ نفسا نفسی‘ مال و زر کمانے کی دوڑ اور بگاڑ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ لوگ پہچانے ہی نہیں جاتے۔ لگتا ہے کہ ہم ایک ایسے جنگل میں رہ رہے ہیں، جہاں طاقتور درندہ ‘ کمزور جانوروں کے گوشت پر ضیافت کر رہا ہے۔ منافقت کا اتنا کثیف دھواں ہے کہ انسان کے اصلی چہرے ہی نظر نہیں آتے۔ دراصل ہمارا پورا سماج‘ اخلاقی مفلسی کا شکار ہے بلکہ قلاش ہو چکا ہے۔ نہ پچاس ساٹھ برس پہلے کی اقدار نظر آتی ہیں نہ وہ ہمدردی اور نہ ہی قناعت کی دولت۔ ہم نفسوں! زمانہ ہی بدل گیا ہے۔ آج‘ ماضی کی طرف نظر پڑے تو ایسے لگتا ہے کہ کوئی خواب ہے۔ چھ دہائیوں میں سب کچھ ہی الٹ پلٹ ہو گیا۔ اب تو ایسے لگتا ہے کہ کچھ بھی غلط نہیں رہا۔ اور شاید کچھ بھی صحیح نہیں موجود۔ دونوں گڈمڈ ہو چکے ہیں۔ اچھائی اور برائی کی ترتیب ختم ہو چکی ہے۔
بات اسکول کی ہو رہی تھی۔ جونیئر سیکشن میں جو بریک ہوتی تھی۔ اس میں ہم تمام بچے‘ میس جاتے تھے۔ جوجونیئر اور سینئر سیکشن کے درمیان میں تھا۔ وہاں لازم تھاکہ ہم دودھ کا ایک گلاس پئیں۔ ٹیچر نظر رکھتی تھی کہ کوئی بچہ بھی دودھ پیئے بغیر نہ جائے۔ مجھے‘ دودھ پینا کافی ناپسند تھا۔ مگر ٹیچر کی نگاہوں کے سامنے بچنا ناممکن تھا۔ اس لیے مجبوری میں ایک گلاس ضرور پینا پڑتا تھا۔ جس طرح لائن بنا کر ہم میس کی طرف جاتے تھے، اسی ترتیب سے واپس کلاس میں آ جاتے تھے۔ اور پھر تعلیم کا معمول شروع ہو جاتا تھا۔ بریک کے بعد شاید دو پریڈ ہی ہوتے تھے۔ ہمارا تمام نصاب انگریزی میں تھا ۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں پوری زندگی انگلش میڈیم اسکول اور کالجوں میں ہی زیر تعلیم رہا ہوں۔ اسکول کی ٹیچرز ‘ بچوں پر بہت محنت کرتی تھیں۔
شاید‘ انھیں کی جوتیوںکے طفیل زندگی میں کامیابی کی سیڑھی پر چڑھ پایا ہوں۔ مسز خان ابھی تک یاد ہیں۔ ساڑھی زیب تن فرمایا کرتی تھیں۔ مسز چوہدری جو بعد میں ہیڈمسٹریس کے عہدے پر فائز ہوئیں ۔ حددرجہ شفیق انسان تھیں۔ چہرے پرایک ملکوتی مسکراہٹ رہتی تھی۔ ان کے دونوں صاحبزادے ‘ اظہر اور عامر آج بھی میرے بہترین دوست ہیں۔ جونیئر سیکشن کے سامنے کھیل کا میدان بھی تھا۔ بریک میں بچوں کے غل غپاڑے سے ‘ ایک ہنگامہ مچا ہوتا تھا۔ پتہ نہیں اب میرے اسکول کے کیا حالات ہیں؟ گمان ہے کہ اچھے ہی ہوں گے۔ بہر حال مجھے تو سب کچھ خواب سا لگتا ہے۔ پتہ نہیں‘ خواب سے جاگ کیسے گیا؟
-
Tech2 weeks ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech1 week ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Entertainment1 week ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech2 weeks ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Tech1 week ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Tech6 days ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Business2 weeks ago
Pre-Ramazan hikes in essential commodities’ prices pinching consumers
-
Tech2 weeks ago
5 Satellite Internet Firms Are Ready, But Pakistan’s Regulators Are Not