Today News
جیسا کرو گے، ویسا بھرو گے، سلسلہ کب تک؟
سیاست میں برداشت اور اعتدال کے لیے مشہور صدر آصف زرداری جو مفاہمت کے لیے مشہور ہیں نے پنجاب میں پیپلز پارٹی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیر اعظم کو یاد دلایا کہ سیاست پھولوں کی سیج نہیں ہوتی بلکہ اس میں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑتی ہیں، جیل جیل ہوتی ہے جہاں رویا دھویا نہیں جاتا بلکہ قید تو مردوں کی طرح برداشت کرنی چاہیے میں نے بھی 14 سال قید کارکنوں کے زور پر کاٹی۔ جیل میں پانی ہوتا ہے نہ دودھ۔ نیازی اپنے ٹائیگرز کی بات کرے وفاداری نہ ہو تو عہدہ نہیں رکھنا چاہیے۔ صدر مملکت نے اس موقع پر جیل میں قید سابق وزیر اعظم کو یاد دلایا کہ میری بہن کو بھی ان کی حکومت میں رات کے وقت پکڑا گیا تھا، اس وقت یاد نہیں آیا کہ برا وقت بھی آ سکتا ہے جو مکافات عمل کہلاتا ہے۔
آصف زرداری کو طویل عرصہ قید کاٹنے والا سیاستدان کہا جاتا ہے۔ انھوں نے ہمت سے قید کی مشکلات برداشت کی تھیں، کوئی واویلا نہیں کیا تھا اور ان کی فیملی نے بھی جیلوں کے باہر وہ کچھ نہیں کیا تھا جو بانی کی تین بہنیں مسلسل کر رہی ہیں اور بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بانی کی غیر سیاسی بہنیں اپنے بھائی کی قید پر سیاست چمکا رہی ہیں اور میڈیا میں آنے کے لیے غیر ذمے دارانہ بیان بازی بھی کر رہی ہیں اور ہر ہفتے ارکان اسمبلی اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کو اڈیالہ آنے کو کہتی ہیں مگر کوئی ان کی نہیں سنتا اور دس ہزار تو دور کی بات ایک ہزار افراد بھی جمع نہیں ہوتے اور ان کا مجوزہ دھرنا بھی چند گھنٹے بعد ہی ختم کر دیا جاتا ہے۔
حال ہی میں بانی کے تفصیلی طبی معائنے کے موقع پر پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کو جیل میں طبی معائنے کے وقت آنے کی دعوت دی گئی تھی مگر کوئی نہیں پہنچا اور بعد میں پی ٹی آئی نے طبی معائنہ مسترد کر دیا اور ان کی بہن علیمہ خان نے تشویش کا اظہار کیا کہ بانی کو الشفا آئی اسپتال منتقل نہیں کیا گیا اور سرکاری ڈاکٹروں کی 5 رکنی ٹیم نے اڈیالہ آ کر معائنہ کیا اور اس معائنے میں بانی کے کسی ذاتی معالج کو شامل نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے سرکاری ڈاکٹروں کی بنائی ہوئی میڈیکل رپورٹ بانی کی فیملی کے لیے قابل قبول نہیں ہوگی۔
صدر مملکت کے علاوہ بانی کی حکومت میں گرفتار کیے جانے والے متعدد مسلم لیگی رہنما بھی آئے دن خود پر گزرے ہوئے جیلوں کے واقعات بتاتے رہتے ہیں کہ اس وقت کے منتقم مزاج وزیر اعظم کے ایما پر ان کے ساتھ جیلوں میں نہایت ابتر سلوک کیا جاتا تھا اور ان اسیروں کی جیلوں میں حالت زار خود آج کا سابق وزیر اعظم دیکھ کر نہ صرف خوش ہوتا تھا بلکہ مزید سختیاں کراتا تھا اور دھمکیاں دیتا تھا۔ ماضی کے (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کے رہنما ہی نہیں بلکہ دونوں پارٹیوں کی قیادت کو بھی نیب کے ذریعے بے بنیاد مقدمات میں گرفتار کرا کر جیلوں میں رکھا جاتا۔ ان کے ساتھ غیر سیاسی و غیر انسانی سلوک کیا جاتا تھا۔ انھیں علاج کی وہ سہولتیں فراہم نہیں کی جاتی تھیں جو (ن) لیگ کی حکومت میں جیلوں میں بانی پی ٹی آئی اور پارٹی رہنماؤں کو حاصل ہیں۔
بعض وزیروں کے بقول بانی جیل میں وسیع جگہ میں رہ رہے ہیں جہاں انھیں ان کی پسند کا کھانا مل رہا ہے وہ وہاں واک اور ورزش کرتے ہیں اور وی وی آئی پی قید کاٹ رہے ہیں۔ بانی قید میں رہ کر اپنی بہنوں، پارٹی رہنماؤں اور وکیلوں سے ملاقات میں پارٹی کے لیے اہم ہدایات دیتے رہے۔ وزیر اعلیٰ تک انھوں نے جیل میں قید رہ کر تبدیل کرائے اور اپنی منفی سیاست کے ذریعے اپنی پارٹی سے دھرنے، احتجاج وغیرہ کراتے رہے جس پر حکومت نے پابندی لگائی۔ پاکستان میں بھٹو حکومت میں ان کے خلاف تحریک چلانے والے سیاستدانوں نے بھی سختیاں اور قید برداشت کی جس کے بعد جنرل ضیا الحق دور میں انھیں پھانسی کی سزا ہوئی جو ملک میں کسی وزیر اعظم کو دی گئی سب سے سخت سزا تھی۔
1988 کے بعد 1999 کے گیارہ سالوں میں بے نظیر بھٹو اور بے نظیر کے بعد میاں نواز شریف دو دو بار وزیر اعظم رہے اور دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف بھرپور نہ صرف انتقامی کارروائیاں کی تھیں اور مقدمات میں مخالفین کی گرفتاریاں بھی کرائی تھیں جس کے دوران دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف تحریک بھی چلائی جس کا بدلہ دونوں کو جنرل پرویز مشرف دور میں ملا اور دونوں کو جلاوطنی کے بعد اپنی غلطیوں کا احساس ہوا تو دونوں نے میثاق جمہوریت کیا جس کے بعد دونوں کی حکومتوں نے آرام سے پہلی بار اپنی اپنی مدت پوری کی تھی اور پکڑ دھکڑ اور انتقام سے گریز کرکے حکومت کی تھی۔
2018 میں پی ٹی آئی کے بانی نے اقتدار میں آ کر جنرل پرویز مشرف کی طرح دونوں سابق حکمران جماعتوں سے بھرپور انتقام لیا حالانکہ دونوں حکومتوں میں بانی کے خلاف کوئی پکڑ دھکڑ نہیں ہوئی تھی پھر بھی نہ جانے بانی نے پہلی بار اقتدار میں آ کر سابق حکمرانوں اور ان کے پارٹی رہنماؤں کی جو پکڑ دھکڑ اور دونوں سے سیاسی مخالفت کو دشمنی بنا دیا تھا جس کی سزا وہ آج خود جیل میں بھگت رہے ہیں۔
بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے سبق سیکھ لیا تھا جس کے بعد دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کی پہلے جیسی مخالف نہیں اور اتحادی ہیں اور دونوں کو اپنا دشمن سمجھنے والا جیل میں رہائی کے لیے واویلا کر رہا ہے مگر اپنے انداز حکمرانی کو درست سمجھ رہا ہے بلکہ اپنے 2018 کے محسنوں پر بھی دشمنوں کی طرح الزامات لگا رہا ہے اور اپنی منفی سیاست پر پشیمان بھی نہیں ہے۔ پی پی اور (ن) لیگ نے ایک دوسرے کے ساتھ جو کیا تھا اس کی سزا پا لی اس لیے جیسا کرو گے، ویسا بھرو گے کا سلسلہ ختم ہونا اشد ضروری ہے اور ماضی سے سبق سیکھنے کا متقاضی ہے۔
Today News
ایک اور رسوائی بھارت کے گلے پڑ گئی، میچ سے قبل جاری کردہ پرومو شکست کے بعد ڈیلیٹ
آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے سپر 8 مرحلے میں جنوبی افریقا نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے بھارت کو 76 رنز سے شکست دے دی، جس کے بعد میچ سے پہلے جاری کیا گیا بھارتی براڈکاسٹر کا طنزیہ پرومو الٹا اس کے گلے پڑ گیا۔
میچ سے قبل نشر کیے گئے اشتہار میں جنوبی افریقا کو کمزور جبکہ بھارت کو برتری کی علامت کے طور پر دکھایا گیا تھا۔
پرومو میں کپ کیک کے استعارے کے ذریعے بھارتی ٹیم کی جیت کو یقینی قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ تاریخ ایک بار پھر دہرائی جائے گی اور جنوبی افریقا کو شکست ہوگی۔
ofcourse they’ve decided to delete the tweet but @StarSportsIndia deserves this humiliation. if they had an iota of integrity, they would issue an apology to South Africa. unbridled arrogance. the game always finds a way to humble those who think they are bigger than the game 🙏🏽 pic.twitter.com/3QCM3DFw1u
— CaniZ (@caniyaar) February 22, 2026
تاہم میدان میں صورتحال یکسر مختلف رہی۔ جنوبی افریقا نے نہ صرف بھارت کو بڑے مارجن سے ہرایا بلکہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں رنز کے اعتبار سے ٹیم انڈیا کو اس کی بدترین شکست بھی دے دی۔
میچ کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے بھارتی براڈکاسٹر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں متنازع پرومو خاموشی سے ڈیلیٹ کر دیا گیا۔
کرکٹ شائقین کا کہنا ہے کہ قبل از وقت دعوے اور طنزیہ مہمات اکثر ٹیموں کے لیے دباؤ کا باعث بنتی ہیں، جبکہ جنوبی افریقا نے اپنی کارکردگی سے ثابت کر دیا کہ میدان میں نتیجہ صرف کھیل ہی طے کرتا ہے۔
Today News
سید سلمان گیلانی اور ارشد خرم مرحوم
‘ فاروق صاحب!خیریت تو ہے؟’
یہ ارشد خرم تھے۔ ‘تکبیر’کی کاپی پیسٹ کرتے کرتے انھوں نے نظر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور فکر مندی سے سوال کیا۔ کاپی اخبار کی ہو یا ہفت روزے کی، اس کا بھیجنا چیلنج سے کم نہیں ہوتا۔ مرحوم و مغفور خالد ایم اسحاق ایڈووکیٹ اسے درد زہ سے تشبیہ دیا کرتے تھے۔ ‘ تکبیر’ کا دفتر اس وقت اسی کیفیت سے دوچار تھا اور کاپی انچارج کی حیثیت سے معاملات میرے ہاتھ میں تھے۔ عین اس وقت جب تقریباً نصف کام باقی تھا، یوں محسوس ہوا جیسے میرا چہرہ اور کان تپ اٹھے ہوں۔ ایسی کیفیت بخار میں ہوتی ہے لیکن یہ بخار نہیں تھا۔ ارشد خرم نے فٹا( اسکیل)ایک طرف رکھا، قلم کان پر اڑسا اور آنکھیں نچاتے ہوئے اختر ملہی، محبوب اور دیگر ساتھیوں کو پکار کر کہا:
‘ حسن دے لشکارے ویکھو اوئے۔’
ارشد دوستوں کے دکھ درد میں شریک ہونے اور ضرورت کے وقت آگے بڑھ کر تعاون کرنے والے تھے لیکن کبھی ان کے لہجے میں طنز کی گہری کاٹ بھی ہوتی جسے سن کر ان کا مخاطب عام طور پر کٹ کر رہ جاتا۔ ارشد خرم کے تبصرے نے مجھے بھی لحظہ بھر کے لیے پریشان کیا لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے میرا شک یقین میں بدل دیا کہ میرا چہرہ اور کان سرخ ہو رہے ہیں۔ میں نے بے اختیار اپنے کان چھوئے جو بری طرح تپ رہے تھے۔ میں نے اس بارے میں کہا کچھ نہیں البتہ فٹا اٹھا کر ارشد کو دیتے ہوئے کہا کہ بھائی جی! باتیں مت بنا، جلدی جلدی کام نمٹا۔’
‘ فاروق صاحب!یہ بی پی کے آثار ہیں، بہتر ہے کہ کچھ آرام کر لیں۔’
ارشد خرم نے اب فکر مندی سے کہا۔ یہ پہلی بار ہو گی جب میں نے بلڈ پریشر کی کیفیت محسوس کی ہو گی۔ میں نے کہا:
‘ بی پی کو چھوڑیں، کام جلدی جلدی نمٹائیں، رات بیت رہی ہے۔’
ارشد نے کام کی طرف توجہ کرنے کے بہ جائے کاپی لپیٹ کر ایک طرف رکھی اور ساتھ رکھے فون کا ڈائیل گھما دیا۔ دوسری طرف فون جس نے اٹھایا ہو گا، اسے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب!ہمارے باس کی طبیعت خراب ہو رہی ہے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ ان کا بی پی شوٹ کر گیا ہے۔ جلدی پہنچیں۔’
بلڈ پریشر کی حشر سامانیوں سے میں واقف تھا لیکن یہ مجھے بھی پریشان کر سکتا ہے، اس بارے میں؛ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا لیکن تھوڑی دیر کے بعد استھیسکوپ(stethoscope) سنبھالے ہوئے ایک صاحب دفتر میں داخل ہوئے اور مجھے ٹوٹیاں لگانے کے بعد انھوں نے ارشد خرم کے خدشے کی تصدیق کر دی تو میرے ہوش اڑ گئے۔ میرے سر پر کاپی بھیجنے کی فکر سوار تھی، رات بیت رہی تھی، اس پر بلڈ پریشر کا حملہ جس کا مزہ میں پہلی بار چکھ رہا تھا۔ دفتر میں میرے سوا اور کوئی سینئر نہیں تھا، میری وجہ سے کام رک جاتا تو پرچے کی پروڈکشن، پرنٹنگ اور سرکیولیشن کا سارا نظام الاوقات متاثر ہو جاتا۔ میں ابھی اسی فکر میں غلطاں تھا کہ اپنے دوست ڈاکٹر کا فراہم کیا کیپسول انھوں نے میرے ہاتھ میں دیا اور کہا کہ اسے زبان تلے پھوڑ کر صوفے پر آنکھیں بند کر کے لیٹ جائیں۔ کام کی پروا نہ کریں۔ آپ نے جو چیزیں تیار کر رکھی ہیں، انھیں میں آپ کی ہدایت کے مطابق تیار کر دوں گا۔ تھوڑی دیر کے بعد جب آپ کی طبیعت بہتر ہو گی، اطمینان سے چیک کر لیجیے گا۔ ارشد خرم کے مزاج کے ہر پہلو سے ہم لوگ واقف تھے لیکن ان کی شخصیت کا یہ پہلو پہلی بار ہمارے سامنے آیا اور دلوں میں گھر کر گیا۔
1994 میں خوش نصیبی نے دستک دی اور ہم شہید محمد صلاح الدین کی قیادت میں حرمین شریفین کے سفر پر روانہ ہوئے۔ یہ صرف سعادت کا سفر نہیں تھا، اس کا تعلق روزگار سے بھی تھا۔ اس زمانے میں سعودی عرب کی حکومت حج کے دنوں میں مختلف زبانوں میں روزنامہ اخبار شائع کیا کرتی تھی جس کی ذمے داری مملکت کے کسی بڑے اخبار کو سونپی جاتی۔ ریاض ڈیلی کو جس برس یہ ذمے داری ملتی وہ اس کام کے لیے صلاح الدین صاحب سے رابطہ کیا کرتا۔ اس برس جن لوگوں کے نام کا قرعہ نکلا، ان میں مخدومی اطہر ہاشمی مرحوم کے علاوہ تین دیگر صحافی بھی شامل تھے جن میں ان سطور کا لکھنے والا بھی شامل تھا جب کہ ڈیزائنر اور خطاط کی حیثیت سے ارشد خرم بھی شریک سفر تھے۔
سفر انسان کی خوبیاں اور خامیاں سب کھول کر رکھ دیتا ہے، اس سفر میں بھی یہی ہوا۔ بہت سے ہم سفروں کے مزاج کے بہت سے گوشے عریاں ہوئے، ان میں ظاہر ہے کہ ارشد بھی شامل تھے۔ ضرورت کے وقت ساتھیوں کے کام آنا اور ان کے لیے اپنا حق بھی چھوڑ دینا۔ سارے کام کرنے والے اور اکٹھا رہنے والے اکثر ایسے ہی ہوتے ہیں، ارشد بھی مختلف نہ تھے۔ اس لیے اس سفر کی ایسی کوئی خاص بات میری یادداشت میں محفوظ نہیں جو بات یادداشت میں محفوظ ہے، وہ بالکل مختلف اور حیران کن ہے۔
ریاض میں ہماری رہائش فائیو اسٹار ہوٹل میں تھی، روزمرہ کے اخراجات کے لیے ریاض ڈیلی نے خاصی معقول رقم ہمیں دے رکھی تھی۔ اس لیے میرے سمیت بیشتر ہم سفروں کی جیبوں میں سوراخ ہو گئے۔ یہ دیکھ کر ارشد کڑھتے اور ٹوکتے۔ کوئی ان کی سنتا، کوئی نہ سنتا۔ انھیں معلوم تھا کہ میرے گھر والوں نے میری شادی کا فیصلہ کر رکھا ہے جو اس سفر کے فوراً بعد طے تھی۔ وہ مجھے خاص طور پر احتیاط کا مشورہ دیتے۔
ریاض کے بعد ہمیں مدینہ شریف جانا تھا۔ کوئی دن جاتے ہیں کہ ہم حضور ﷺ کی بستی میں ہوں گے، آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضری ہو گی، آپ جن گلی کوچوں اور راستوں سے گزرے، ان راستوں سے ہمارا گزر بھی ہو گا، اس خیال سے سارے مسافرہی جذباتی تھے، ارشد بھی، ادھر کوئی بات ہوتی، ارشد کی آنکھیں چھلک پڑتیں۔ جذب کی کیفیت بھی اس سے ملتی جلتی ہی ہو گی۔ تصوف میں صرف جذب نہیں اس کے ساتھ ہوشیاری بھی مطلوب ہے۔ ہم مسافروں میں صرف ارشد ہی تھے جن کے اوسان اس کیفیت میں بھی بحال تھے۔ ہمارا خیال تھا کہ قسمت ہمیں شہر نبی میں لائی ہے تو کیوں نہ ہم یہیں کے ہو کر رہ جائیں، اس کی مٹی میں مٹی بن جائیں۔ یہ صرف ارشد تھے جنھوں نے ہمیں اس کیفیت سے نکالا اور بتایا کہ یہاں جو تم نے کمایا ہے، یہ سب تمھارا نہیں، اس میں بہت سا حق گھر والوں کا بھی ہے لہٰذا جذبے کے ساتھ حقیقت کو پیش رکھنا بھی لازم ہے۔ یہی سبب تھا کہ ہم جو یہاں ہفتہ، دس دن بلکہ اس سے بھی زیادہ رہنے کے درپے تھے، چار روز میں ہی بہ چشم تر بلکہ ارشد کو کوستے ہوئے یہاں سے کوچ کر گئے۔ ممکن ہے کہ ارشد ہماری باتوں سے دکھی ہوئے ہوں لیکن اس وقت قبلہ ہاشمی صاحب بروئے کار آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف ارشد ہے جس کے اضطراب نے تمھاری پیاس بڑھا دی ہے۔ اس رمز کو کوئی سمجھا کوئی نہ سمجھا البتہ ارشد کے سرخ و سپید چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔ یہ واقعہ گزرے زمانہ بیت گیا لیکن وہ مسکراتا ہوا چہرہ آج بھی میرے سامنے ہے۔
سید سلمان گیلانی
سید سلمان گیلانی اللہ کو پیارے ہوئے۔ان سے براہ راست یاد اللہ نہ تھی لیکن ان کی دل نشیں شخصیت کے اثرات دور دور تک پھیلے ہوئے تھے۔ چند برس ہوتے ہیں ، برادرم علامہ عبد الستار عاصم کے ذریعے ان سے رابطہ ہوا۔ ملاقات تو نہ ہو سکی لیکن دل قریب ہو گئے۔وہ دین دار شخصیت تھے۔ ہمارے یہاں دین سے تعلق کا ایک مطلب بنی نوع انسان سے بیزاری بھی سمجھا جاتا ہے لیکن سید صاحب کی باغ و بہار شخصیت میں پاکیزہ فطرت کے تمام رنگ تھے۔ ہمارے یہاں شاعرانہ ترنم کے چند خاص انداز ہیں لیکن سید صاحب نے اس ترنم کو نیا آہنگ دیا جس کی بنیادیں محراب و منبر میں رکھی گئیں۔اللہ تعالی ان کی آیندہ منزلیں آسان فرمائے اور انھیں اعلی علیین میں جگہ عطا فرمائے ۔
Today News
کوہاٹ، لیڈی ڈاکٹر نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے جاں بحق، ینگ ڈاکٹرز کا آج سے ہڑتال کا اعلان
کوہاٹ:
ڈسٹرکٹ اسپتال میں ڈیوٹی مکمل کرکے گھر جانے والی لیڈی ڈاکٹر مہوش کو نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔
صدر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کوہاٹ کے مطابق ڈاکٹر مہوش ایوننگ ڈیوٹی کے بعد رکشے میں گھر جا رہی تھیں کہ اسپتال کے قریب مسلح ملزمان نے ان پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہوگئیں۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹے خدمات انجام دینے والے طبی عملے کو مناسب سکیورٹی فراہم نہیں کی جا رہی، جس پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
واقعے کے خلاف ردعمل دیتے ہوئے ینگ ڈاکٹرز نے آج سے کوہاٹ کے تمام سرکاری اسپتالوں میں ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ آئندہ مرحلے میں ہڑتال کو صوبائی سطح تک پھیلانے کا بھی عندیہ دیا گیا ہے۔
-
Tech2 weeks ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech1 week ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Entertainment1 week ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech2 weeks ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Tech1 week ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Tech6 days ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Business2 weeks ago
Pre-Ramazan hikes in essential commodities’ prices pinching consumers
-
Entertainment2 weeks ago
Heartbreaking Moment as Army Martyr’s Father Faints Receiving Son’s Belongings