Connect with us

Today News

اسکول – ایکسپریس اردو

Published

on


لائل پور‘ ایک حد درجہ منظم شہر تھا۔ پچھلی صدی کی بات کر رہا ہوں۔ ساٹھ کی دہائی کی۔ اس کا بہترین اسکول ڈویژنل پبلک اسکول تھا۔ اس وقت کی صوبائی حکومت کا فیصلہ تھا کہ پنجاب کے بڑے شہروں میں بہترین اور جدید تعلیمی ادارے کھولے جائیں ‘ جواپنی جگہ بے مثال ہوں۔ لائل پور اس وقت صرف ضلع تھا، سرگودھا ڈویژن کا حصہ تھا، کمشنر سرگودھا میں بیٹھتا تھا۔ اس فرشتہ سیرت کمشنر کا نام یاد نہیں رہا، جس نے اس اسکول کو شروع کرنے کے لیے رات دن محنت کی تھی۔ آپ بیوروکریسی کو لاکھ برا بھلا کہیں مگر پاکستان کے ابتدائی دور کے سرکاری افسران حد درجہ محنتی اور دانشور تھے۔

جیسے یاد گار پاکستان کا منصوبہ بھی ‘ لاہور میں تعینات ایک سینئر افسر کے ذہن میں آیا۔ ابتدائی طور پر انھوںنے اس عظیم کام کو سرانجام دینے کے لیے عام لوگوں سے مالی تعاون کی درخواست بھی کی تھی۔ لائل پور اس وقت مانچسٹر آف پاکستان کہلاتا تھا۔ وجہ کپڑا بنانے کی ان گنت فیکٹریاں اور ملیں تھیں۔ بات اسکول کی ہو رہی تھی ۔ ابتدائی طور پر ‘ نئی بلڈنگ بننے کاانتظار کیا جارہا تھا۔ چنانچہ جیل روڈ پر ایک بڑی سی کوٹھی میں یہ کام شروع کیا گیا تھا۔ میرا داخلہ اس کوٹھی اسکول میں ہوا تھا۔ شاید پریپ یا پھر پہلی کلاس میں، اچھی طرح یاد نہیں، مگر ایک بات ضرور یاد ہے، وہ تھی پیریڈ ختم ہونے کے بعد گھنٹی کی پرجوش گونج۔ میری عمر ہو گی ، چار یا شاید پانچ برس۔ جناح کالونی سے محمد علی بھائی‘ سائیکل پر اسکول چھوڑنے اور لینے آتے تھے۔

محمد علی بہاری تھے اور کراچی سے بھاگ کر کسی ٹرین میں سوار ہو کر ‘ لائل پور پہنچ گئے۔ اس وقت بارہ یا پندرہ برس کے ہوں گے ۔ والد صاحب‘ کو کہیں مل گئے۔ پھر وہ ہمارے گھر کے فرد بن گئے۔ والد صاحب نے ہی انھیں 1978 میں سعودی عرب میں ایک دوست کے پاس بطور ڈرائیور بھجوا دیا۔ جہاں ‘ وہ پچیس تیس برس رہے۔ دو سال پہلے محمد علی کا کراچی میں انتقال ہوا۔ سعودی عرب میں طویل نوکری کی بدولت خاصے خوشحال ہو چکے تھے۔ بہر حال‘ اسکول آنے جانے کے لیے والد صاحب ‘ محمد علی بھائی کے سوا کسی پر بھی اعتبار نہیںکرتے تھے۔ کوئی بیس منٹ کا راستہ ہوتا تھا۔ جیل روڈ‘ کو ٹھنڈی سڑک بھی کہا جاتا تھا۔ چھوٹی سی سڑک کے گرد ‘ ان گنت ‘ ہرے بھرے درخت لگے ہوئے تھے۔

میری عادت تھی کہ دونوں اطراف کے درخت گنتا رہتا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد‘ گنتی ختم ہو جاتی تھی۔ اور پھر بھول بھی جاتا تھاکہ کتنے درخت تھے۔ جناب!لائل پور میں مختلف شاہراہوں پر درخت ہی درخت تھے۔ چھوٹی چھوٹی بیلیں نہیں‘ بلکہ بڑے بڑے زندہ درخت ‘ بالخصوص ایگریکلچر یونیورسٹی کے شروع ہوتے ہی معلوم پڑ جاتا تھا کہ واقعی زرعی یونیورسٹی ہے۔ وہاں سے تو خیر سبزے کی ایک ایسی قطار شروع ہو جاتی تھی جو اسکول کے سامنے تک موجود رہتی تھی۔ اس لیے کہ یونیورسٹی کا رقبہ‘ اس قدر زیادہ تھا کہ پرانے اسکول کی عمارت سے بھی آگے تک موجود تھا۔ میں اس وقت بالکل بچہ تھا ۔ مگر آج تک تمام تر جزئیات ذہن پر نقش ہیں۔

ایک دن ‘ کلاس ٹیچر نے کوئی دس بجے اعلان کیا کہ اسکول کی نئی عمارت مکمل ہو چکی ہے۔ آج تمام بچے اپنا نیا تعلیمی ادارہ دیکھنے جائیں گے۔ گرمیوں کا آغاز تھا۔ دھوپ زیادہ نہیں تھی ۔شاید اپریل ہو گا۔ تمام بچوں نے نیلی قمیض اور خاکی نیکر پہن رکھی تھی۔ تمام طلبا اور طالبات ‘ لائن بنا کر نئے اسکول کی طرف پیدل گئے تھے۔ کوئی دس بارہ منٹ کی مسافت تھی۔ جب نئے اسکول کی عمارت دیکھی تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اتنی شاندار‘ اتنی بڑی ‘ بڑے بڑے کھیل کے میدان‘ جن میں گھاس لگی ہوئی تھی۔ شاید یہ مغربی پاکستان کے کسی بھی اسکول سے بڑا معلوم ہوتا تھا۔ بہر حال جن جن سیاست دانوں اور سرکاری عمال نے اس طرح کے مایہ ناز اسکولوں کی داغ بیل رکھی تھی ‘ خدا ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ ان کی نیکی کا ثمر ان کی اولاد کو بھی ملتا رہے۔

چوہدری ارشد اور ثاقب رزاق نے مجھے چند برس پہلے‘ کچھ نام بتائے تھے کہ یہ وہ عظیم لوگ تھے جنھوں نے نئے اور سکہ بند اسکولوں کا جال بچھانے کا تہیہ کر رکھا تھا۔ مگر میں بھول گیا ہوں۔ ارشد اور ثاقب‘ دونوں میرے پریپ اسکول کے کلاس فیلو ہے۔ آج بھی ان سے گہری وابستگی موجود ہے۔ نئے اسکول میں ہم چند ہی دنوں میں منتقل ہو گئے۔ مگر ایسا لگتا تھا کہ ہم ہمیشہ سے نئے اسکول میں موجود تھے پھر پرانی کوٹھی کا خیال بھی کبھی نہیں آیا۔ نئے اسکول میں دو سیکشن تھے۔ جونیئر اور سینئر۔ لازم ہے کہ ہم جونیئر سیکشن میں تھے۔ ہیڈ مسٹرس حد درجہ شفیق مگر ڈسپلن کو قائم رکھنے والی خاتون تھیں۔ ان کا آفس جونیئر سیکشن کے شروع میں ہی تھا۔ ہاں‘ ایک واقعہ یاد آیا جس نے میری زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ پڑھائی میں بہت اچھا تھا مگر کافی شرارتی تھا۔ ایک دن‘ کلاس میں ایک بچے نے مجھ سے کسی بات پر لڑائی کی۔ اس نے مجھے ایک مکا مارا اور میرے دو دانت ٹوٹ گئے ۔ گھر جا کر کسی کو نہیں بتایا بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ پوچھا بھی کسی نے نہیں۔ میںنے کسی سے شکایت بھی نہیں کی۔ مگر پتہ نہیں کیسے‘ یہ بات کلاس ٹیچر کو معلوم ہو گئی۔

انھوں نے ہیڈ مسٹریس کو سارا واقعہ بتا دیا۔ میں ہر چیز سے بے خبر ‘ روزانہ ‘ کلاس میں آتا تھا۔ اور اسی ترتیب سے واپس چلا جاتا تھا۔ ایک دن چھٹی سے تھوڑا سا پہلے‘ مجھے ‘ ہیڈمسٹریس نے اپنے آفس میں بلوایا ۔ بچہ جس نے میرے دانت توڑے تھے ، وہ بھی موجود تھا۔ ہیڈمسٹریس کو پورا واقعہ معلوم تھا۔ انھوں نے ہم دونوںکو آفس کے باہر کھڑا کیا۔ اور مجھے حکم دیا کہ جس طاقت سے اس بچے نے میرے چہرے پر مکا مارا تھا، اسی قوت سے اس بچے کے چہرے پر مکا ماروں۔ میں گھبرا گیا۔ ہیڈمسٹریس نے دوبارہ حکم دیا کہ فوراً مکا ماروں۔ میں نے آہستہ سے ‘ اس طالب علم کے چہرے پر تھپڑ مارا۔ مگر ہیڈ مسٹریس نے پوری طاقت سے ‘ اس شرارتی بچے کے مونہہ پر چار پانچ طمانچے مارے۔ وہ بچہ رونے لگ گیا۔ ہم دونوں واپس کلاس میں آ گئے ۔ اب جو بات عرض کر رہا ہوں۔ شاید آپ کو یقین نہ آئے۔ وہ طالب علم‘ ہیڈمسٹریس کا بیٹا تھا۔ یہ بات مجھے کافی دنوں بعد معلوم ہوئی۔

تھوڑی دیر کے لیے سوچیئے کہ ہمارے مرد اور خواتین اساتذہ کتنے انصاف پسند اور عظیم لوگ تھے کہ اپنے بچوں کی غلطی کو بھی معاف کرنے سے گریزاں تھے۔ جناب ! حیرت ہوتی ہے ‘ کہ ایسے کمال انسان بھی ہمارے سماج میں موجود تھے۔ اب چاروں طرف دیکھتا ہوں تو عجیب سی مایوسی ہوتی ہے۔ نفسا نفسی‘ مال و زر کمانے کی دوڑ اور بگاڑ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ لوگ پہچانے ہی نہیں جاتے۔ لگتا ہے کہ ہم ایک ایسے جنگل میں رہ رہے ہیں، جہاں طاقتور درندہ ‘ کمزور جانوروں کے گوشت پر ضیافت کر رہا ہے۔ منافقت کا اتنا کثیف دھواں ہے کہ انسان کے اصلی چہرے ہی نظر نہیں آتے۔ دراصل ہمارا پورا سماج‘ اخلاقی مفلسی کا شکار ہے بلکہ قلاش ہو چکا ہے۔ نہ پچاس ساٹھ برس پہلے کی اقدار نظر آتی ہیں نہ وہ ہمدردی اور نہ ہی قناعت کی دولت۔ ہم نفسوں! زمانہ ہی بدل گیا ہے۔ آج‘ ماضی کی طرف نظر پڑے تو ایسے لگتا ہے کہ کوئی خواب ہے۔ چھ دہائیوں میں سب کچھ ہی الٹ پلٹ ہو گیا۔ اب تو ایسے لگتا ہے کہ کچھ بھی غلط نہیں رہا۔ اور شاید کچھ بھی صحیح نہیں موجود۔ دونوں گڈمڈ ہو چکے ہیں۔ اچھائی اور برائی کی ترتیب ختم ہو چکی ہے۔

 بات اسکول کی ہو رہی تھی۔ جونیئر سیکشن میں جو بریک ہوتی تھی۔ اس میں ہم تمام بچے‘ میس جاتے تھے۔ جوجونیئر اور سینئر سیکشن کے درمیان میں تھا۔ وہاں لازم تھاکہ ہم دودھ کا ایک گلاس پئیں۔ ٹیچر نظر رکھتی تھی کہ کوئی بچہ بھی دودھ پیئے بغیر نہ جائے۔ مجھے‘ دودھ پینا کافی ناپسند تھا۔ مگر ٹیچر کی نگاہوں کے سامنے بچنا ناممکن تھا۔ اس لیے مجبوری میں ایک گلاس ضرور پینا پڑتا تھا۔ جس طرح لائن بنا کر ہم میس کی طرف جاتے تھے، اسی ترتیب سے واپس کلاس میں آ جاتے تھے۔ اور پھر تعلیم کا معمول شروع ہو جاتا تھا۔ بریک کے بعد شاید دو پریڈ ہی ہوتے تھے۔ ہمارا تمام نصاب انگریزی میں تھا ۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں پوری زندگی انگلش میڈیم اسکول اور کالجوں میں ہی زیر تعلیم رہا ہوں۔ اسکول کی ٹیچرز ‘ بچوں پر بہت محنت کرتی تھیں۔

شاید‘ انھیں کی جوتیوںکے طفیل زندگی میں کامیابی کی سیڑھی پر چڑھ پایا ہوں۔ مسز خان ابھی تک یاد ہیں۔ ساڑھی زیب تن فرمایا کرتی تھیں۔ مسز چوہدری جو بعد میں ہیڈمسٹریس کے عہدے پر فائز ہوئیں ۔ حددرجہ شفیق انسان تھیں۔ چہرے پرایک ملکوتی مسکراہٹ رہتی تھی۔ ان کے دونوں صاحبزادے ‘ اظہر اور عامر آج بھی میرے بہترین دوست ہیں۔ جونیئر سیکشن کے سامنے کھیل کا میدان بھی تھا۔ بریک میں بچوں کے غل غپاڑے سے ‘ ایک ہنگامہ مچا ہوتا تھا۔ پتہ نہیں اب میرے اسکول کے کیا حالات ہیں؟ گمان ہے کہ اچھے ہی ہوں گے۔ بہر حال مجھے تو سب کچھ خواب سا لگتا ہے۔ پتہ نہیں‘ خواب سے جاگ کیسے گیا؟





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

رمضان اور حکومت کی نمک پاشی

Published

on


مقدس مذہبی تہوار ہر قوم کے لیے ان کے عقائد و عبادات کے حوالے سے ایک منفرد شناخت اور پہچان رکھتے ہیں۔ ہر مذہب کے لوگ اپنے اپنے عقیدے اور ایمان کے مطابق مذہبی احترام کے ساتھ اپنے تہواروں کو مناتے ہیں۔

 دنیا کی تقریباً ڈیڑھ ارب آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے جو دنیا کے مختلف ملکوں اور خطوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ رمضان المبارک مسلمانوں کا ایک خاص مذہبی تہوار ہے، روزہ تقویٰ، پرہیزگاری اور تزکیہ نفس کی علامت ہے۔ اس ماہ مقدس کا سب سے عظیم تحفہ نزول قرآن ہے جو دنیا بھر کے انسانوں کے لیے راہ ہدایت اور مکمل طور پر ضابطہ حیات ہے جس پر عمل کر کے لوگ نجات کی منزل پا سکتے ہیں۔

رمضان المبارک کے آغاز سے چار روز پیشتر ہی مسلم لیگ (ن) کی اتحادی حکومت نے پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں ایک بڑا اضافہ کرکے کروڑوں غریب عوام پر مہنگائی کا بم گرا دیا۔ پاکستان میں رمضان المبارک کا آغاز ہوتے ہی پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے کروڑوں غریبوں کی مشکلات میں غیر متوقع اضافہ ہو جاتا ہے۔ مہنگائی و گرانی کا جن یک دم بوتل سے باہر آ جاتا ہے غریب آدمی سحری و افطاری کا اہتمام کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ گوشت، سبزی، دالیں، انڈے، دودھ، دہی اور سب سے بڑھ کر پھل فروخت کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ منافع خور ذخیرہ اندوزوں کی چاندی ہو جاتی ہے۔

روزمرہ استعمال کی تمام اشیا کی قیمتیں عام آدمی کی دسترس سے باہر ہو جاتی ہیں۔ حکومت دعوے کرتی ہے کہ وہ رمضان المبارک کے دوران مہنگائی کنٹرول کرنے اور تمام اشیا ضرورت کی چیزوں کے نرخوں کو قابو رکھنے کے لیے بھرپور اور فول پروف انتظامات کرے گی تاکہ غریب آدمی بھی باآسانی روزوں کی برکتوں اور نعمتوں سے فیض یاب ہو سکے لیکن عملاً ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ موجودہ حکومت نے تو انتہا کر دی، آغاز رمضان سے پہلے ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر مہنگائی میں اضافہ کر دیا۔ کیوں کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب بھی بجلی، گیس، ڈیزل، پٹرول، مٹی کے تیل اور توانائی و ایندھن سے متعلق اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو چیزوں کی پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے جس کا براہ راست اثر اشیا خور و نوش اور روز مرہ استعمال کی تمام چیزوں کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی بڑھ جاتے ہیں۔

حکومت کو رمضان المبارک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے گریز کرنا چاہیے تھا۔ رمضان تو نیکیاں کمانے اور آسانیاں فراہم کرنے کا مہینہ ہے جیسا کہ خود وزیر اعظم شہباز شریف نے 38 ارب رمضان پیکیج کا اعلان کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ صرف بدنی عبادات نہیں بلکہ یہ وسائل تقسیم کرنے کا مہینہ ہے، حکومت چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ایک کروڑ 21 لاکھ خاندانوں تک 13 ہزار روپے فی خاندان کے حساب سے 38 ارب روپے کسی سیاسی تفریق کے بغیر تقسیم کرے گی۔ عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سطح غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کل آبادی کا 44 فی صد سے بھی زائد ہے۔

گویا 24 کروڑ کی ملکی آبادی میں غریب افراد کی تعداد تقریباً 11 کروڑ سے بھی زائد ہے۔ گزشتہ دو سالوں کے دوران ہزاروں پڑھے لکھے نوجوان روزگار کی کمیابی کے باعث ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ حکومت کی ناقص معاشی پالیسیوں اور ٹیکسوں کے غیر منتظم نظام کے باعث سیکڑوں صنعتیں بند ہو چکی ہیں اور سرمایہ کار عرب ممالک میں سرمایہ کاری کو فوقیت دے رہے ہیں جس کے باعث ملک میں بے روزگاری کا گراف بڑھتا جا رہا ہے اور غربت میں اضافے کے باعث غریب لوگوں کی تعداد آیندہ ایک دو سال میں 50 فی صد سے تجاوزکرجائے گی۔ جو ارباب حکومت کے لیے یقیناً لمحہ فکریہ ہے۔ صرف ایک کروڑ لوگوں کو محض 13 ہزار روپے کی امداد اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔

ایک طرف ملک میں غربت و بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے، لوگوں کے لیے رمضان کے مقدس مہینے میں سحر و افطار کا انتظام کرنا عذاب جاں بن گیا ہے۔ دوسری جانب حکومت نہ صرف گیس، بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ اپنے عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ اپنے اللوں تللوں پر خرچ کر رہی ہے۔ تازہ خبر کے مطابق پنجاب حکومت نے 10 ارب روپے کا ایک طیارہ خریدا ہے جسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حکومت کی جاری کردہ غربت کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سندھ اور پنجاب میں غربت میں ماضی کی نسبت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے ماحول میں حکومت کو کفایت شعاری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے نہ کہ فضول خرچیاں اور گرانی میں اضافہ غریب لوگوں کے زخموں پر نمک پاشی کرنے کے مترادف ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایک اور رسوائی بھارت کے گلے پڑ گئی، میچ سے قبل جاری کردہ پرومو شکست کے بعد ڈیلیٹ

Published

on


آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے سپر 8 مرحلے میں جنوبی افریقا نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے بھارت کو 76 رنز سے شکست دے دی، جس کے بعد میچ سے پہلے جاری کیا گیا بھارتی براڈکاسٹر کا طنزیہ پرومو الٹا اس کے گلے پڑ گیا۔

میچ سے قبل نشر کیے گئے اشتہار میں جنوبی افریقا کو کمزور جبکہ بھارت کو برتری کی علامت کے طور پر دکھایا گیا تھا۔

پرومو میں کپ کیک کے استعارے کے ذریعے بھارتی ٹیم کی جیت کو یقینی قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ تاریخ ایک بار پھر دہرائی جائے گی اور جنوبی افریقا کو شکست ہوگی۔

تاہم میدان میں صورتحال یکسر مختلف رہی۔ جنوبی افریقا نے نہ صرف بھارت کو بڑے مارجن سے ہرایا بلکہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں رنز کے اعتبار سے ٹیم انڈیا کو اس کی بدترین شکست بھی دے دی۔

میچ کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے بھارتی براڈکاسٹر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں متنازع پرومو خاموشی سے ڈیلیٹ کر دیا گیا۔

کرکٹ شائقین کا کہنا ہے کہ قبل از وقت دعوے اور طنزیہ مہمات اکثر ٹیموں کے لیے دباؤ کا باعث بنتی ہیں، جبکہ جنوبی افریقا نے اپنی کارکردگی سے ثابت کر دیا کہ میدان میں نتیجہ صرف کھیل ہی طے کرتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

سید سلمان گیلانی اور ارشد خرم مرحوم

Published

on


‘ فاروق صاحب!خیریت تو ہے؟’

یہ ارشد خرم تھے۔ ‘تکبیر’کی کاپی پیسٹ کرتے کرتے انھوں نے نظر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور فکر مندی سے سوال کیا۔ کاپی اخبار کی ہو یا ہفت روزے کی، اس کا بھیجنا چیلنج سے کم نہیں ہوتا۔ مرحوم و مغفور خالد ایم اسحاق ایڈووکیٹ اسے درد زہ سے تشبیہ دیا کرتے تھے۔ ‘ تکبیر’ کا دفتر اس وقت اسی کیفیت سے دوچار تھا اور کاپی انچارج کی حیثیت سے معاملات میرے ہاتھ میں تھے۔ عین اس وقت جب تقریباً نصف کام باقی تھا، یوں محسوس ہوا جیسے میرا چہرہ اور کان تپ اٹھے ہوں۔ ایسی کیفیت بخار میں ہوتی ہے لیکن یہ بخار نہیں تھا۔ ارشد خرم نے فٹا( اسکیل)ایک طرف رکھا، قلم کان پر اڑسا اور آنکھیں نچاتے ہوئے اختر ملہی، محبوب اور دیگر ساتھیوں کو پکار کر کہا:

‘ حسن دے لشکارے ویکھو اوئے۔’

ارشد دوستوں کے دکھ درد میں شریک ہونے اور ضرورت کے وقت آگے بڑھ کر تعاون کرنے والے تھے لیکن کبھی ان کے لہجے میں طنز کی گہری کاٹ بھی ہوتی جسے سن کر ان کا مخاطب عام طور پر کٹ کر رہ جاتا۔ ارشد خرم کے تبصرے نے مجھے بھی لحظہ بھر کے لیے پریشان کیا لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے میرا شک یقین میں بدل دیا کہ میرا چہرہ اور کان سرخ ہو رہے ہیں۔ میں نے بے اختیار اپنے کان چھوئے جو بری طرح تپ رہے تھے۔ میں نے اس بارے میں کہا کچھ نہیں البتہ فٹا اٹھا کر ارشد کو دیتے ہوئے کہا کہ بھائی جی! باتیں مت بنا، جلدی جلدی کام نمٹا۔’

‘ فاروق صاحب!یہ بی پی کے آثار ہیں، بہتر ہے کہ کچھ آرام کر لیں۔’

ارشد خرم نے اب فکر مندی سے کہا۔ یہ پہلی بار ہو گی جب میں نے بلڈ پریشر کی کیفیت محسوس کی ہو گی۔ میں نے کہا:

‘ بی پی کو چھوڑیں، کام جلدی جلدی نمٹائیں، رات بیت رہی ہے۔’

ارشد نے کام کی طرف توجہ کرنے کے بہ جائے کاپی لپیٹ کر ایک طرف رکھی اور ساتھ رکھے فون کا ڈائیل گھما دیا۔ دوسری طرف فون جس نے اٹھایا ہو گا، اسے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب!ہمارے باس کی طبیعت خراب ہو رہی ہے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ ان کا بی پی شوٹ کر گیا ہے۔ جلدی پہنچیں۔’

بلڈ پریشر کی حشر سامانیوں سے میں واقف تھا لیکن یہ مجھے بھی پریشان کر سکتا ہے، اس بارے میں؛ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا لیکن تھوڑی دیر کے بعد استھیسکوپ(stethoscope) سنبھالے ہوئے ایک صاحب دفتر میں داخل ہوئے اور مجھے ٹوٹیاں لگانے کے بعد انھوں نے ارشد خرم کے خدشے کی تصدیق کر دی تو میرے ہوش اڑ گئے۔ میرے سر پر کاپی بھیجنے کی فکر سوار تھی، رات بیت رہی تھی، اس پر بلڈ پریشر کا حملہ جس کا مزہ میں پہلی بار چکھ رہا تھا۔ دفتر میں میرے سوا اور کوئی سینئر نہیں تھا، میری وجہ سے کام رک جاتا تو پرچے کی پروڈکشن، پرنٹنگ اور سرکیولیشن کا سارا نظام الاوقات متاثر ہو جاتا۔ میں ابھی اسی فکر میں غلطاں تھا کہ اپنے دوست ڈاکٹر کا فراہم کیا کیپسول انھوں نے میرے ہاتھ میں دیا اور کہا کہ اسے زبان تلے پھوڑ کر صوفے پر آنکھیں بند کر کے لیٹ جائیں۔ کام کی پروا نہ کریں۔ آپ نے جو چیزیں تیار کر رکھی ہیں، انھیں میں آپ کی ہدایت کے مطابق تیار کر دوں گا۔ تھوڑی دیر کے بعد جب آپ کی طبیعت بہتر ہو گی، اطمینان سے چیک کر لیجیے گا۔ ارشد خرم کے مزاج کے ہر پہلو سے ہم لوگ واقف تھے لیکن ان کی شخصیت کا یہ پہلو پہلی بار ہمارے سامنے آیا اور دلوں میں گھر کر گیا۔

1994 میں خوش نصیبی نے دستک دی اور ہم شہید محمد صلاح الدین کی قیادت میں حرمین شریفین کے سفر پر روانہ ہوئے۔ یہ صرف سعادت کا سفر نہیں تھا، اس کا تعلق روزگار سے بھی تھا۔ اس زمانے میں سعودی عرب کی حکومت حج کے دنوں میں مختلف زبانوں میں روزنامہ اخبار شائع کیا کرتی تھی جس کی ذمے داری مملکت کے کسی بڑے اخبار کو سونپی جاتی۔ ریاض ڈیلی کو جس برس یہ ذمے داری ملتی وہ اس کام کے لیے صلاح الدین صاحب سے رابطہ کیا کرتا۔ اس برس جن لوگوں کے نام کا قرعہ نکلا، ان میں مخدومی اطہر ہاشمی مرحوم کے علاوہ تین دیگر صحافی بھی شامل تھے جن میں ان سطور کا لکھنے والا بھی شامل تھا جب کہ ڈیزائنر اور خطاط کی حیثیت سے ارشد خرم بھی شریک سفر تھے۔

سفر انسان کی خوبیاں اور خامیاں سب کھول کر رکھ دیتا ہے، اس سفر میں بھی یہی ہوا۔ بہت سے ہم سفروں کے مزاج کے بہت سے گوشے عریاں ہوئے، ان میں ظاہر ہے کہ ارشد بھی شامل تھے۔ ضرورت کے وقت ساتھیوں کے کام آنا اور ان کے لیے اپنا حق بھی چھوڑ دینا۔ سارے کام کرنے والے اور اکٹھا رہنے والے اکثر ایسے ہی ہوتے ہیں، ارشد بھی مختلف نہ تھے۔ اس لیے اس سفر کی ایسی کوئی خاص بات میری یادداشت میں محفوظ نہیں جو بات یادداشت میں محفوظ ہے، وہ بالکل مختلف اور حیران کن ہے۔

ریاض میں ہماری رہائش فائیو اسٹار ہوٹل میں تھی، روزمرہ کے اخراجات کے لیے ریاض ڈیلی نے خاصی معقول رقم ہمیں دے رکھی تھی۔ اس لیے میرے سمیت بیشتر ہم سفروں کی جیبوں میں سوراخ ہو گئے۔ یہ دیکھ کر ارشد کڑھتے اور ٹوکتے۔ کوئی ان کی سنتا، کوئی نہ سنتا۔ انھیں معلوم تھا کہ میرے گھر والوں نے میری شادی کا فیصلہ کر رکھا ہے جو اس سفر کے فوراً بعد طے تھی۔ وہ مجھے خاص طور پر احتیاط کا مشورہ دیتے۔

ریاض کے بعد ہمیں مدینہ شریف جانا تھا۔ کوئی دن جاتے ہیں کہ ہم حضور ﷺ کی بستی میں ہوں گے، آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضری ہو گی، آپ جن گلی کوچوں اور راستوں سے گزرے، ان راستوں سے ہمارا گزر بھی ہو گا، اس خیال سے سارے مسافرہی جذباتی تھے، ارشد بھی، ادھر کوئی بات ہوتی، ارشد کی آنکھیں چھلک پڑتیں۔ جذب کی کیفیت بھی اس سے ملتی جلتی ہی ہو گی۔ تصوف میں صرف جذب نہیں اس کے ساتھ ہوشیاری بھی مطلوب ہے۔ ہم مسافروں میں صرف ارشد ہی تھے جن کے اوسان اس کیفیت میں بھی بحال تھے۔ ہمارا خیال تھا کہ قسمت ہمیں شہر نبی میں لائی ہے تو کیوں نہ ہم یہیں کے ہو کر رہ جائیں، اس کی مٹی میں مٹی بن جائیں۔ یہ صرف ارشد تھے جنھوں نے ہمیں اس کیفیت سے نکالا اور بتایا کہ یہاں جو تم نے کمایا ہے، یہ سب تمھارا نہیں، اس میں بہت سا حق گھر والوں کا بھی ہے لہٰذا جذبے کے ساتھ حقیقت کو پیش رکھنا بھی لازم ہے۔ یہی سبب تھا کہ ہم جو یہاں ہفتہ، دس دن بلکہ اس سے بھی زیادہ رہنے کے درپے تھے، چار روز میں ہی بہ چشم تر بلکہ ارشد کو کوستے ہوئے یہاں سے کوچ کر گئے۔ ممکن ہے کہ ارشد ہماری باتوں سے دکھی ہوئے ہوں لیکن اس وقت قبلہ ہاشمی صاحب بروئے کار آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف ارشد ہے جس کے اضطراب نے تمھاری پیاس بڑھا دی ہے۔ اس رمز کو کوئی سمجھا کوئی نہ سمجھا البتہ ارشد کے سرخ و سپید چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔ یہ واقعہ گزرے زمانہ بیت گیا لیکن وہ مسکراتا ہوا چہرہ آج بھی میرے سامنے ہے۔

سید سلمان گیلانی

سید سلمان گیلانی اللہ کو پیارے ہوئے۔ان سے براہ راست یاد اللہ نہ تھی لیکن ان کی دل نشیں شخصیت کے اثرات دور دور تک پھیلے ہوئے تھے۔ چند برس ہوتے ہیں ، برادرم علامہ عبد الستار عاصم کے ذریعے ان سے رابطہ ہوا۔ ملاقات تو نہ ہو سکی لیکن دل قریب ہو گئے۔وہ دین دار شخصیت تھے۔ ہمارے یہاں دین سے تعلق کا ایک مطلب بنی نوع انسان سے بیزاری بھی سمجھا جاتا ہے لیکن سید صاحب کی باغ و بہار شخصیت میں پاکیزہ فطرت کے تمام رنگ تھے۔ ہمارے یہاں شاعرانہ ترنم کے چند خاص انداز ہیں لیکن سید صاحب نے اس ترنم کو نیا آہنگ دیا جس کی بنیادیں محراب و منبر میں رکھی گئیں۔اللہ تعالی ان کی آیندہ منزلیں آسان فرمائے اور انھیں اعلی علیین میں جگہ عطا فرمائے ۔





Source link

Continue Reading

Trending