Today News
کمزور ٹیموں کیخلاف بریڈ مین مگر؟
اگر میچ سے چند گھنٹے قبل تیز بارش ہو چکی اور آغاز کے بعد بھی امکان ہو تو آپ ٹاس جیت کر پہلے کیا کریں گے؟
اگر آپ کا کوئی بولر حریف ٹیم کے اعصاب پر سوار ہو تو آپ اسے جلد بولنگ دیں گے یا آدھی اننگز ختم ہونے کا انتظار کریں گے؟
اگر آپ کا اہم ترین فاسٹ بولر آؤٹ آف فارم ہو اور دوسرے بولر کو پہلے ہی اوور میں وکٹ مل جائے تو اہم پیسر کو دوسرا اوور دیں گے یا مومینٹم برقرار رکھنے کیلیے اسپنر کو لائیں گے؟
پہلے اوور میں اسٹار بولر نے زیادہ رنز دے دیے اب آخری اوور اسے دیں گے یا کسی اور کو گیند تھمائیں گے؟
آپ اپنے سب سے بڑے بیٹر کی خامیاں میڈیا کے سامنے بیان کریں گے یا ڈریسنگ روم میں بات ہو گی؟
ایک سینئر بیٹر جس کا بڑا نام ہے آپ اسے مسلسل باہر بٹھائیں گے یا کھلائیں گے؟
اگر آپ میں تھوڑی سی بھی کرکٹ کی سمجھ ہے تو ان سوالات کے جواب مشکل نہیں لگیں گے، ظاہر ہے آپ کو اس کے پیسے بھی نہیں مل رہے لیکن اگر کوئی کروڑوں روپے معاوضہ لینے کے باوجود الٹ فیصلے کررہا ہے تو اس کو کیا کہیں؟
بدقسمتی سے ورلڈکپ میں اب تک ایسا ہی ہو رہا ہے، پاکستانی ٹیم مینجمنٹ نے ایسے عجیب وغریب فیصلے کیے جس پر لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جائیں، شاید وہ خود کو عقل کل اور دوسروں کو اپنے سامنے کچھ نہیں سمجھتے۔
اگر ہم دوسرے راؤنڈ میں پہنچے تو اس میں ہمارا کوئی کمال نہیں، آئی سی سی کو دعائیں دیں، چونکہ پاکستان اور انڈیا میں میچ دیکھنے والے کروڑوں شائقین ہیں اس لیے مالی نقصان سے بچنے کیلیے دونوں ٹیموں کو ایسے گروپس میں رکھا جاتا ہے جہاں کمزور حریفوں کی موجودگی میں باآسانی دوسرے مرحلے میں پہنچ جائیں۔
ماضی میں جب دونوں سائیڈز آغاز میں ہی باہر ہو گئی تھیں تو کونسل کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا تھا، گوکہ انڈین ٹیم اب بہت آگے نکل گئی لیکن گرین شرٹس کے گروپ میں اگر آپ یوگینڈا، نیپال اور یو اے ای کو بھی رکھ دیں تب بھی کوئی جیت کی ضمانت نہیں دے سکتا۔
امریکا کا ورلڈکپ یاد کریں جہاں ہم نوآموز میزبان ٹیم سے ہی ہار گئے تھے، اس بار تو نیدرلینڈز سے پہلے ہی مقابلے میں تقریبا شکست ہو ہی گئی تھی وہ تو فہیم اشرف نے غیرمعمولی بیٹنگ کر کے لاج رکھ لی،امریکا اور پھر نمیبیا کو ہرا کر ٹیم سپر8 میں تو پہنچ گئی۔
لیکن انڈیا سے ناکامی بھلائی نہیں جا سکتی، اب نیوزی لینڈ سے مقابلہ بارش کی نذر ہو گیا تو سیمی فائنل میں رسائی کا سفر بیحد دشوار بن چکا۔
انگلینڈ نے گوکہ بہترین بولنگ کی بدولت سری لنکا کو تو زیر کر لیا لیکن اس کی بیٹنگ لائن فلاپ ہے، یہاں بھی قسمت ہمارا ساتھ دے سکتی ہے، انہی دونوں ٹیموں کو اگلے میچز میں ہرا دیا تو فائنل فور میں جگہ مل جائے گی۔
البتہ پھر اگلے دونوں مقابلے مضبوط ترین حریفوں سے ہوں گے، اگر ہم اب تک کی کارکردگی کی جائزہ لیں تو اسے کسی صورت بہترین قرار نہیں دیا جا سکتا ، یہاں تک لانے میں بھی اہم ترین کردار صاحبزادہ فرحان کا ہے جنھوں نے نمیبیا کیخلاف سنچری بھی بنائی،اس سے پہلے وہ 50،60 رنز کو ہی کافی سمجھ کر آؤٹ ہو جاتے تھے لیکن اب اننگز کو آگے بڑھانے میں کامیاب رہے ہیں۔
دوسرے اوپنر صائم ایوب کو ہم نے بہت جلدی آسمان پر چڑھا دیا،بظاہر وہ نمبر ون آل راؤنڈر ہیں لیکن کارکردگی کسی صورت اس کی عکاسی نہیں کرتی، ان کا اصل کام بیٹنگ ہے لیکن5 میچز میں 15 کی اوسط سے 63 رنز ہی بنا سکے ہیں۔
آج کل کی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں تو کسی ٹیل اینڈر کے اعدادوشمار بھی اس سے بہتر ہوں گے،جتنے مواقع صائم کو ملے شاید ہی چند برسوں میں کسی اور کو ملے ہوں لیکن وہ پھر بھی اپنی کارکردگی میں تسلسل نہ لا سکے اور ’’نولک شاٹ‘‘ کے سحر میں ہی پھنسے رہے۔
پاکستان میں کپتان بننے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ من مانیوں کا موقع مل جاتا ہے، ٹی ٹوئنٹی میں نمبر 3 اہم ترین پوزیشن ہوتی ہے، سلمان علی آغا نے اس پر قبضہ کر لیا لیکن ورلڈکپ کے 5 میچز میں 13 کی اوسط سے55 رنز ہی بنا سکے ہیں، بطور کپتان بھی ان کے فیصلے درست نہیں لگ رہے۔
بابر اعظم کو ورلڈکپ اسکواڈ میں شامل کرنے کی ہم سب نے حمایت کی تھی لیکن وہ مایوس کر رہے ہیں، اب تک صرف 66 رنز ہی ان کے نام پر درج ہیں.
چوتھے نمبر پر کھیلنے سے وہ مطمئن نہیں لگتے لیکن آغاز میں بیٹنگ کرانا پاور پلے کے اوورزضائع کرنے کا سبب بنے گا، اگر بقیہ میچز میں بابر کچھ نہ کر سکے تو انھیں اپنے مستقبل کے حوالے سے کوئی فیصلہ کر لینا چاہیے۔
عثمان خان اس ٹیم کی سب سے کمزور کڑی ہیں، انڈیا کیخلاف جب میچ ہاتھ سے نکل گیا تو انھوں نے تھوڑے رنز بنا لیے لیکن مجموعی طور پر مسلسل ناکام ہیں۔
انھوں نے یو اے ای کی کرکٹ کو چھوڑنے کا جو ’’احسان ‘‘ کیا اب تک اس کا پھل کھا رہے ہیں، کئی بیٹرز کمزور ٹیموں کے خلاف تو بریڈمین لگتے ہیں لیکن بڑے حریفوں کے سامنے کچھ نہیں کر پاتے۔
شاداب جیسے پلیئرز پر سابق کرکٹرز تنقید کریں تو وہ برا مان کر جواب دے دیتے ہیں، حالانکہ ان کے پاس تو بیٹ اور بال موجود ہے، زبان کے بجائے اس سے اچھا پرفارم کر کے جواب دیں، آپ سوچیں کہ اس بیٹنگ لائن کے ساتھ ہم انڈیا کو ہرانے کا خواب دیکھ رہے تھے؟
فخر زمان کو ساتھ لے کر تو گئے ہیں مگر کھلایا نہیں جا رہا، بولنگ میں ہمارے اہم ترین پیسر شاہین آفریدی آؤٹ آف فارم ہیں، فہیم اشرف پر تو ٹیم مینجمنٹ کو ہی بھروسہ نہیں لہذا بہت کم گیند تھمائی جاتی ہے، محمد نواز اور ابرار احمد کی اسپن بولنگ کا جادو بھی نہیں چل پا رہا۔
البتہ عثمان طارق کے حوالے سے جتنی ہائپ بنی تھی وہ ویسا پرفارم کرنے میں کامیاب بھی رہے ہیں، اگر انڈیا کیخلاف ان کا درست وقت پراستعمال کیا جاتا تو شاید وکٹیں اڑا دیتے، سلمان کی قیادت اور مائیک ہیسن کی کوچنگ پر سوال اٹھنے لگے ہیں، دونوں نے کئی بنیادی غلطیاں کی ہیں۔
اب وقت کم ہے، انگلینڈ اور سری لنکا کو کسی صورت آسان نہیں سمجھا جا سکتا، پیش قدمی جاری رہی تو آگے مزید مضبوط حریف ملیں گے، لہذا ٹیم کو کمر کس لینی چاہیے، جس طرح کھلاڑی پی ایس ایل کی نیلامی میں اپنے ریٹ کی فکرمیں ہلکان ہوئے جا رہے تھے کاش کارکردگی کے حوالے سے بھی کچھ فکر کر لیں۔
ابھی تک تو ٹیم نے مایوس ہی کیا ، اب دعا کی جا سکتی ہے کہ بقیہ میچز میں کچھ بہتر پرفارمنس سامنے آئے ورنہ پی ایس ایل سے ہی دل بہلا لیں گے جس کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ اس میں پاکستانی ٹیم نہیں ہارتی لہذا کوئی ٹینشن نہیں ہوتی۔
(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)
Today News
رمضان اور حکومت کی نمک پاشی
مقدس مذہبی تہوار ہر قوم کے لیے ان کے عقائد و عبادات کے حوالے سے ایک منفرد شناخت اور پہچان رکھتے ہیں۔ ہر مذہب کے لوگ اپنے اپنے عقیدے اور ایمان کے مطابق مذہبی احترام کے ساتھ اپنے تہواروں کو مناتے ہیں۔
دنیا کی تقریباً ڈیڑھ ارب آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے جو دنیا کے مختلف ملکوں اور خطوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ رمضان المبارک مسلمانوں کا ایک خاص مذہبی تہوار ہے، روزہ تقویٰ، پرہیزگاری اور تزکیہ نفس کی علامت ہے۔ اس ماہ مقدس کا سب سے عظیم تحفہ نزول قرآن ہے جو دنیا بھر کے انسانوں کے لیے راہ ہدایت اور مکمل طور پر ضابطہ حیات ہے جس پر عمل کر کے لوگ نجات کی منزل پا سکتے ہیں۔
رمضان المبارک کے آغاز سے چار روز پیشتر ہی مسلم لیگ (ن) کی اتحادی حکومت نے پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں ایک بڑا اضافہ کرکے کروڑوں غریب عوام پر مہنگائی کا بم گرا دیا۔ پاکستان میں رمضان المبارک کا آغاز ہوتے ہی پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے کروڑوں غریبوں کی مشکلات میں غیر متوقع اضافہ ہو جاتا ہے۔ مہنگائی و گرانی کا جن یک دم بوتل سے باہر آ جاتا ہے غریب آدمی سحری و افطاری کا اہتمام کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ گوشت، سبزی، دالیں، انڈے، دودھ، دہی اور سب سے بڑھ کر پھل فروخت کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ منافع خور ذخیرہ اندوزوں کی چاندی ہو جاتی ہے۔
روزمرہ استعمال کی تمام اشیا کی قیمتیں عام آدمی کی دسترس سے باہر ہو جاتی ہیں۔ حکومت دعوے کرتی ہے کہ وہ رمضان المبارک کے دوران مہنگائی کنٹرول کرنے اور تمام اشیا ضرورت کی چیزوں کے نرخوں کو قابو رکھنے کے لیے بھرپور اور فول پروف انتظامات کرے گی تاکہ غریب آدمی بھی باآسانی روزوں کی برکتوں اور نعمتوں سے فیض یاب ہو سکے لیکن عملاً ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ موجودہ حکومت نے تو انتہا کر دی، آغاز رمضان سے پہلے ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر مہنگائی میں اضافہ کر دیا۔ کیوں کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب بھی بجلی، گیس، ڈیزل، پٹرول، مٹی کے تیل اور توانائی و ایندھن سے متعلق اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو چیزوں کی پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے جس کا براہ راست اثر اشیا خور و نوش اور روز مرہ استعمال کی تمام چیزوں کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی بڑھ جاتے ہیں۔
حکومت کو رمضان المبارک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے گریز کرنا چاہیے تھا۔ رمضان تو نیکیاں کمانے اور آسانیاں فراہم کرنے کا مہینہ ہے جیسا کہ خود وزیر اعظم شہباز شریف نے 38 ارب رمضان پیکیج کا اعلان کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ صرف بدنی عبادات نہیں بلکہ یہ وسائل تقسیم کرنے کا مہینہ ہے، حکومت چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ایک کروڑ 21 لاکھ خاندانوں تک 13 ہزار روپے فی خاندان کے حساب سے 38 ارب روپے کسی سیاسی تفریق کے بغیر تقسیم کرے گی۔ عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سطح غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کل آبادی کا 44 فی صد سے بھی زائد ہے۔
گویا 24 کروڑ کی ملکی آبادی میں غریب افراد کی تعداد تقریباً 11 کروڑ سے بھی زائد ہے۔ گزشتہ دو سالوں کے دوران ہزاروں پڑھے لکھے نوجوان روزگار کی کمیابی کے باعث ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ حکومت کی ناقص معاشی پالیسیوں اور ٹیکسوں کے غیر منتظم نظام کے باعث سیکڑوں صنعتیں بند ہو چکی ہیں اور سرمایہ کار عرب ممالک میں سرمایہ کاری کو فوقیت دے رہے ہیں جس کے باعث ملک میں بے روزگاری کا گراف بڑھتا جا رہا ہے اور غربت میں اضافے کے باعث غریب لوگوں کی تعداد آیندہ ایک دو سال میں 50 فی صد سے تجاوزکرجائے گی۔ جو ارباب حکومت کے لیے یقیناً لمحہ فکریہ ہے۔ صرف ایک کروڑ لوگوں کو محض 13 ہزار روپے کی امداد اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔
ایک طرف ملک میں غربت و بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے، لوگوں کے لیے رمضان کے مقدس مہینے میں سحر و افطار کا انتظام کرنا عذاب جاں بن گیا ہے۔ دوسری جانب حکومت نہ صرف گیس، بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ اپنے عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ اپنے اللوں تللوں پر خرچ کر رہی ہے۔ تازہ خبر کے مطابق پنجاب حکومت نے 10 ارب روپے کا ایک طیارہ خریدا ہے جسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حکومت کی جاری کردہ غربت کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سندھ اور پنجاب میں غربت میں ماضی کی نسبت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے ماحول میں حکومت کو کفایت شعاری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے نہ کہ فضول خرچیاں اور گرانی میں اضافہ غریب لوگوں کے زخموں پر نمک پاشی کرنے کے مترادف ہے۔
Today News
ایک اور رسوائی بھارت کے گلے پڑ گئی، میچ سے قبل جاری کردہ پرومو شکست کے بعد ڈیلیٹ
آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے سپر 8 مرحلے میں جنوبی افریقا نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے بھارت کو 76 رنز سے شکست دے دی، جس کے بعد میچ سے پہلے جاری کیا گیا بھارتی براڈکاسٹر کا طنزیہ پرومو الٹا اس کے گلے پڑ گیا۔
میچ سے قبل نشر کیے گئے اشتہار میں جنوبی افریقا کو کمزور جبکہ بھارت کو برتری کی علامت کے طور پر دکھایا گیا تھا۔
پرومو میں کپ کیک کے استعارے کے ذریعے بھارتی ٹیم کی جیت کو یقینی قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ تاریخ ایک بار پھر دہرائی جائے گی اور جنوبی افریقا کو شکست ہوگی۔
ofcourse they’ve decided to delete the tweet but @StarSportsIndia deserves this humiliation. if they had an iota of integrity, they would issue an apology to South Africa. unbridled arrogance. the game always finds a way to humble those who think they are bigger than the game 🙏🏽 pic.twitter.com/3QCM3DFw1u
— CaniZ (@caniyaar) February 22, 2026
تاہم میدان میں صورتحال یکسر مختلف رہی۔ جنوبی افریقا نے نہ صرف بھارت کو بڑے مارجن سے ہرایا بلکہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں رنز کے اعتبار سے ٹیم انڈیا کو اس کی بدترین شکست بھی دے دی۔
میچ کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے بھارتی براڈکاسٹر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں متنازع پرومو خاموشی سے ڈیلیٹ کر دیا گیا۔
کرکٹ شائقین کا کہنا ہے کہ قبل از وقت دعوے اور طنزیہ مہمات اکثر ٹیموں کے لیے دباؤ کا باعث بنتی ہیں، جبکہ جنوبی افریقا نے اپنی کارکردگی سے ثابت کر دیا کہ میدان میں نتیجہ صرف کھیل ہی طے کرتا ہے۔
Today News
سید سلمان گیلانی اور ارشد خرم مرحوم
‘ فاروق صاحب!خیریت تو ہے؟’
یہ ارشد خرم تھے۔ ‘تکبیر’کی کاپی پیسٹ کرتے کرتے انھوں نے نظر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور فکر مندی سے سوال کیا۔ کاپی اخبار کی ہو یا ہفت روزے کی، اس کا بھیجنا چیلنج سے کم نہیں ہوتا۔ مرحوم و مغفور خالد ایم اسحاق ایڈووکیٹ اسے درد زہ سے تشبیہ دیا کرتے تھے۔ ‘ تکبیر’ کا دفتر اس وقت اسی کیفیت سے دوچار تھا اور کاپی انچارج کی حیثیت سے معاملات میرے ہاتھ میں تھے۔ عین اس وقت جب تقریباً نصف کام باقی تھا، یوں محسوس ہوا جیسے میرا چہرہ اور کان تپ اٹھے ہوں۔ ایسی کیفیت بخار میں ہوتی ہے لیکن یہ بخار نہیں تھا۔ ارشد خرم نے فٹا( اسکیل)ایک طرف رکھا، قلم کان پر اڑسا اور آنکھیں نچاتے ہوئے اختر ملہی، محبوب اور دیگر ساتھیوں کو پکار کر کہا:
‘ حسن دے لشکارے ویکھو اوئے۔’
ارشد دوستوں کے دکھ درد میں شریک ہونے اور ضرورت کے وقت آگے بڑھ کر تعاون کرنے والے تھے لیکن کبھی ان کے لہجے میں طنز کی گہری کاٹ بھی ہوتی جسے سن کر ان کا مخاطب عام طور پر کٹ کر رہ جاتا۔ ارشد خرم کے تبصرے نے مجھے بھی لحظہ بھر کے لیے پریشان کیا لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے میرا شک یقین میں بدل دیا کہ میرا چہرہ اور کان سرخ ہو رہے ہیں۔ میں نے بے اختیار اپنے کان چھوئے جو بری طرح تپ رہے تھے۔ میں نے اس بارے میں کہا کچھ نہیں البتہ فٹا اٹھا کر ارشد کو دیتے ہوئے کہا کہ بھائی جی! باتیں مت بنا، جلدی جلدی کام نمٹا۔’
‘ فاروق صاحب!یہ بی پی کے آثار ہیں، بہتر ہے کہ کچھ آرام کر لیں۔’
ارشد خرم نے اب فکر مندی سے کہا۔ یہ پہلی بار ہو گی جب میں نے بلڈ پریشر کی کیفیت محسوس کی ہو گی۔ میں نے کہا:
‘ بی پی کو چھوڑیں، کام جلدی جلدی نمٹائیں، رات بیت رہی ہے۔’
ارشد نے کام کی طرف توجہ کرنے کے بہ جائے کاپی لپیٹ کر ایک طرف رکھی اور ساتھ رکھے فون کا ڈائیل گھما دیا۔ دوسری طرف فون جس نے اٹھایا ہو گا، اسے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب!ہمارے باس کی طبیعت خراب ہو رہی ہے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ ان کا بی پی شوٹ کر گیا ہے۔ جلدی پہنچیں۔’
بلڈ پریشر کی حشر سامانیوں سے میں واقف تھا لیکن یہ مجھے بھی پریشان کر سکتا ہے، اس بارے میں؛ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا لیکن تھوڑی دیر کے بعد استھیسکوپ(stethoscope) سنبھالے ہوئے ایک صاحب دفتر میں داخل ہوئے اور مجھے ٹوٹیاں لگانے کے بعد انھوں نے ارشد خرم کے خدشے کی تصدیق کر دی تو میرے ہوش اڑ گئے۔ میرے سر پر کاپی بھیجنے کی فکر سوار تھی، رات بیت رہی تھی، اس پر بلڈ پریشر کا حملہ جس کا مزہ میں پہلی بار چکھ رہا تھا۔ دفتر میں میرے سوا اور کوئی سینئر نہیں تھا، میری وجہ سے کام رک جاتا تو پرچے کی پروڈکشن، پرنٹنگ اور سرکیولیشن کا سارا نظام الاوقات متاثر ہو جاتا۔ میں ابھی اسی فکر میں غلطاں تھا کہ اپنے دوست ڈاکٹر کا فراہم کیا کیپسول انھوں نے میرے ہاتھ میں دیا اور کہا کہ اسے زبان تلے پھوڑ کر صوفے پر آنکھیں بند کر کے لیٹ جائیں۔ کام کی پروا نہ کریں۔ آپ نے جو چیزیں تیار کر رکھی ہیں، انھیں میں آپ کی ہدایت کے مطابق تیار کر دوں گا۔ تھوڑی دیر کے بعد جب آپ کی طبیعت بہتر ہو گی، اطمینان سے چیک کر لیجیے گا۔ ارشد خرم کے مزاج کے ہر پہلو سے ہم لوگ واقف تھے لیکن ان کی شخصیت کا یہ پہلو پہلی بار ہمارے سامنے آیا اور دلوں میں گھر کر گیا۔
1994 میں خوش نصیبی نے دستک دی اور ہم شہید محمد صلاح الدین کی قیادت میں حرمین شریفین کے سفر پر روانہ ہوئے۔ یہ صرف سعادت کا سفر نہیں تھا، اس کا تعلق روزگار سے بھی تھا۔ اس زمانے میں سعودی عرب کی حکومت حج کے دنوں میں مختلف زبانوں میں روزنامہ اخبار شائع کیا کرتی تھی جس کی ذمے داری مملکت کے کسی بڑے اخبار کو سونپی جاتی۔ ریاض ڈیلی کو جس برس یہ ذمے داری ملتی وہ اس کام کے لیے صلاح الدین صاحب سے رابطہ کیا کرتا۔ اس برس جن لوگوں کے نام کا قرعہ نکلا، ان میں مخدومی اطہر ہاشمی مرحوم کے علاوہ تین دیگر صحافی بھی شامل تھے جن میں ان سطور کا لکھنے والا بھی شامل تھا جب کہ ڈیزائنر اور خطاط کی حیثیت سے ارشد خرم بھی شریک سفر تھے۔
سفر انسان کی خوبیاں اور خامیاں سب کھول کر رکھ دیتا ہے، اس سفر میں بھی یہی ہوا۔ بہت سے ہم سفروں کے مزاج کے بہت سے گوشے عریاں ہوئے، ان میں ظاہر ہے کہ ارشد بھی شامل تھے۔ ضرورت کے وقت ساتھیوں کے کام آنا اور ان کے لیے اپنا حق بھی چھوڑ دینا۔ سارے کام کرنے والے اور اکٹھا رہنے والے اکثر ایسے ہی ہوتے ہیں، ارشد بھی مختلف نہ تھے۔ اس لیے اس سفر کی ایسی کوئی خاص بات میری یادداشت میں محفوظ نہیں جو بات یادداشت میں محفوظ ہے، وہ بالکل مختلف اور حیران کن ہے۔
ریاض میں ہماری رہائش فائیو اسٹار ہوٹل میں تھی، روزمرہ کے اخراجات کے لیے ریاض ڈیلی نے خاصی معقول رقم ہمیں دے رکھی تھی۔ اس لیے میرے سمیت بیشتر ہم سفروں کی جیبوں میں سوراخ ہو گئے۔ یہ دیکھ کر ارشد کڑھتے اور ٹوکتے۔ کوئی ان کی سنتا، کوئی نہ سنتا۔ انھیں معلوم تھا کہ میرے گھر والوں نے میری شادی کا فیصلہ کر رکھا ہے جو اس سفر کے فوراً بعد طے تھی۔ وہ مجھے خاص طور پر احتیاط کا مشورہ دیتے۔
ریاض کے بعد ہمیں مدینہ شریف جانا تھا۔ کوئی دن جاتے ہیں کہ ہم حضور ﷺ کی بستی میں ہوں گے، آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضری ہو گی، آپ جن گلی کوچوں اور راستوں سے گزرے، ان راستوں سے ہمارا گزر بھی ہو گا، اس خیال سے سارے مسافرہی جذباتی تھے، ارشد بھی، ادھر کوئی بات ہوتی، ارشد کی آنکھیں چھلک پڑتیں۔ جذب کی کیفیت بھی اس سے ملتی جلتی ہی ہو گی۔ تصوف میں صرف جذب نہیں اس کے ساتھ ہوشیاری بھی مطلوب ہے۔ ہم مسافروں میں صرف ارشد ہی تھے جن کے اوسان اس کیفیت میں بھی بحال تھے۔ ہمارا خیال تھا کہ قسمت ہمیں شہر نبی میں لائی ہے تو کیوں نہ ہم یہیں کے ہو کر رہ جائیں، اس کی مٹی میں مٹی بن جائیں۔ یہ صرف ارشد تھے جنھوں نے ہمیں اس کیفیت سے نکالا اور بتایا کہ یہاں جو تم نے کمایا ہے، یہ سب تمھارا نہیں، اس میں بہت سا حق گھر والوں کا بھی ہے لہٰذا جذبے کے ساتھ حقیقت کو پیش رکھنا بھی لازم ہے۔ یہی سبب تھا کہ ہم جو یہاں ہفتہ، دس دن بلکہ اس سے بھی زیادہ رہنے کے درپے تھے، چار روز میں ہی بہ چشم تر بلکہ ارشد کو کوستے ہوئے یہاں سے کوچ کر گئے۔ ممکن ہے کہ ارشد ہماری باتوں سے دکھی ہوئے ہوں لیکن اس وقت قبلہ ہاشمی صاحب بروئے کار آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف ارشد ہے جس کے اضطراب نے تمھاری پیاس بڑھا دی ہے۔ اس رمز کو کوئی سمجھا کوئی نہ سمجھا البتہ ارشد کے سرخ و سپید چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔ یہ واقعہ گزرے زمانہ بیت گیا لیکن وہ مسکراتا ہوا چہرہ آج بھی میرے سامنے ہے۔
سید سلمان گیلانی
سید سلمان گیلانی اللہ کو پیارے ہوئے۔ان سے براہ راست یاد اللہ نہ تھی لیکن ان کی دل نشیں شخصیت کے اثرات دور دور تک پھیلے ہوئے تھے۔ چند برس ہوتے ہیں ، برادرم علامہ عبد الستار عاصم کے ذریعے ان سے رابطہ ہوا۔ ملاقات تو نہ ہو سکی لیکن دل قریب ہو گئے۔وہ دین دار شخصیت تھے۔ ہمارے یہاں دین سے تعلق کا ایک مطلب بنی نوع انسان سے بیزاری بھی سمجھا جاتا ہے لیکن سید صاحب کی باغ و بہار شخصیت میں پاکیزہ فطرت کے تمام رنگ تھے۔ ہمارے یہاں شاعرانہ ترنم کے چند خاص انداز ہیں لیکن سید صاحب نے اس ترنم کو نیا آہنگ دیا جس کی بنیادیں محراب و منبر میں رکھی گئیں۔اللہ تعالی ان کی آیندہ منزلیں آسان فرمائے اور انھیں اعلی علیین میں جگہ عطا فرمائے ۔
-
Tech2 weeks ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech1 week ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Entertainment1 week ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech2 weeks ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Tech1 week ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Tech6 days ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Business2 weeks ago
Pre-Ramazan hikes in essential commodities’ prices pinching consumers
-
Entertainment2 weeks ago
Heartbreaking Moment as Army Martyr’s Father Faints Receiving Son’s Belongings