Today News
بنگلہ دیش انتخابات : مذہبی جماعتیں کیوں ناکام ہُوئیں؟
بنگلہ دیش میں12 فروری کو ہونے والے معرکہ آرا پارلیمانی انتخابات اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں ۔ بارہ کروڑ50لاکھ سے زائد بنگلہ دیشی ووٹروں نے اپنا حقِ رائے دہی اپنی مرضی و منشا سے استعمال کیا۔50سے زائد سیاسی جماعتوں نے انتخابات میں حصہ لیا، مگر 42سیاسی جماعتیں مکمل طور پر ناکام ہو گئیں ۔ سات سیاسی جماعتوں کو صرف ایک ایک سِیٹ پر کامیابی مل سکی ہے۔ وہ پھر بھی مطمئن ہیں۔
یہ انتخابات شفاف بھی کہے گئے ہیں اور غیر جانبدار بھی ۔ اِکا دُکا ناقابلِ ذکر واقعات کے سوا، بنگلہ دیشیوں نے تمام پولنگ اسٹیشنز کو پُر امن رکھا۔ مذکورہ پارلیمانی انتخابات کی نگرانی کرنے والے عالمی اداروں ، انٹرنیشنل آبزرورز، بنگلہ دیش پہنچنے والے سیکڑوں غیر ملکی صحافیوں اور یورپین یونین ، سبھی نے بیک زبان اقرار و اعتراف کیا ہے کہ 12فروری کے بنگلہ دیشی انتخابات فیئر اینڈ فری تھے ۔یوں ہم نوبل انعام یافتہ ( پروفیسر محمد یونس) کی زیر نگرانی بنگلہ دیش کی (سابقہ) عبوری حکومت کو شاباش دے سکتے ہیں ۔
مذکورہ بنگلہ دیشی انتخابات میں ’’عوامی لیگ‘‘ کو انتخابات سے باہر رکھا گیا ۔ ’’عوامی لیگ‘‘ کی سربراہ اور سابق وزیر اعظم(شیخ حسینہ واجد) پر متعدد سنگین الزامات عائد تھے ۔ اِسی وجہ سے حسینہ واجد کی حکومت اگست2024میں ختم ہو گئی تھی اور حسینہ واجد بنگلہ دیش سے فرار ہو کر بھارت پناہ گزیں ہو گئی تھیں ۔ موصوفہ اب تک وہیں ہیں۔ حسینہ واجد کی غیر حاضری میں بنگلہ دیشی عدالت نے اُنہیں سزائے موت بھی سنائی۔ پروفیسر محمد یونس کی عبوری حکومت نے بھارت سے کئی بار مطالبہ کیا کہ مجرم و سزا یافتہ حسینہ واجد کو بنگلہ دیش کے حوالے کیا جائے ۔ یہ مطالبہ مگر ابھی تک تسلیم نہیں کیا گیا۔
بارہ فروری کے انتخابات کا ایک اہم منظر یہ بھی سامنے آیا کہ بنگلہ دیش کے جن انقلابی اور تعلیم یافتہ نوجوانوں نے حسینہ واجد کا تختہ اُلٹ کر نئی سیاسی جماعت(NCP)بنائی تھی ، وہ کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکی ۔’’این سی پی ‘‘ کے سربراہ ناہید اسلام ہیں۔ اُن کی پارٹی صرف 7سیٹیں حاصل کر سکی ہے۔ حالانکہ اندازے یہی تھے کہ NCPبھاری اکثریت سے انتخابات جیتے گی ۔ بنگلہ دیش کی سیاست و انتخابات پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ’’نیشنل سٹیزن پارٹی‘‘ یعنی ’’این سی پی‘‘ کو اس لیے انتخابات میں شکست ہُوئی ہے کہ اُس نے بنگلہ دیش کی جماعتِ اسلامی سے انتخابی اتحاد کیا تھا ۔
اندازے اور توقعات تو یہ بھی تھیں کہ جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش ( جس کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن ہیں)، بھی بھاری اکثریت سے انتخابات جیت کر حکمران جماعت بن جائے گی ۔ ہم نے تو اِنہی اندازوں اور قیافوں کی اساس پر اِنہی صفحات پر ’’ کیا جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کا اقتدار سنبھالنے کو تیار ہے؟‘‘ کے زیر عنوان کالم بھی لکھ دیا تھا ۔ مگر جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش ، دیگر کئی بنگلہ دیشی مذہبی جماعتوں کی طرح، ایسی بھاری کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکی ہے کہ بنگلہ دیش کے اقتدار پر براجمان ہو سکے ۔
عام پارلیمانی انتخابات نے یہ سنہری اور تاریخی موقع BNP ( بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی) کو عطا کیا ہے ۔ بی این پی دو تہائی سے زائد اکثریت حاصل کر کے حکمران جماعت بن چکی ہے۔ بی این پی کے سربراہ جناب طارق رحمن بنگلہ دیش کے نئے وزیراعظم بھی بن چکے ہیں اور 24رکنی کابینہ بھی تشکیل دے چکے ہیں ۔جناب طارق رحمن کے والد گرامی( جنرل ضیاء الرحمن مرحوم ) بھی بنگلہ دیش کے صدر تھے( پارٹی کے بانی بھی) اور اُن کی والدہ محترمہ( خالدہ ضیاء مرحومہ) بھی بنگلہ دیش کی وزیر اعظم رہی ہیں ۔
بنگلہ دیش کے بارہ فروری2026کے انتخابات میں اصل مقابلہ ’’بی این پی ‘‘ اور ’’جماعتِ اسلامی ‘‘ ہی میں تھا۔ جماعتِ اسلامی کو مگر صرف 77سیٹوں پر کامیابی ملی ہے۔ ہمارے نزدیک تو یہ بھی عظیم الشان انتخابی کامیابی ہے۔ خاص طور پر جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اتنی سیٹیں تو کسی جنرل الیکشن میں پاکستان کی جماعتِ اسلامی کو بھی پچھلے78برسوں میں کبھی نہیں مل سکی ہیں۔
اِس پس منظرمیں بنگلہ دیش کی جماعتِ اسلامی کی یہ کامیابی ایک عظیم الشان کامیابی ہی نظر آنی چاہیے۔ مگر جماعتِ اسلامی کے نقادوں اور مخالفین کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں جماعت ِ اسلامی کو انتخابی شکست ہُوئی ہے ۔ حتمی انتخابی نتائج کے بعد بظاہر تو ایسا ہی نظر آ رہا ہے۔ ویسے بنگلہ دیش کی کئی دیگر اسلامی ومذہبی جماعتوں کو حالیہ تازہ انتخابات میں زبردست شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مثال کے طور پر :بنگلہ دیش خلافت مجلس کو 2، اور خلافت مجلس( زی) و اسلامی اندولن بنگلہ دیش نے محض ایک ایک سِیٹ جیتی ہے۔بنگلہ دیش میں بروئے کار ’’جمعیت العلمائے اسلام‘‘ (جس کے سربراہ مولانا ممنون الحق ہیں) تو ایک بھی سِیٹ نہیں جیت سکی ، حالانکہ اِس جماعت کے بنگلہ دیش کی تبلیغی جماعت میں گہرے اثرات ہیں ۔
جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے اقتدار حاصل کرنے میں ناکامی کی ایک وجہ بیان کرتے ہُوئے مقامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’’ بنگلہ دیش کی کئی مذہبی جماعتیں بھی جماعتِ اسلامی کے خلاف تھیں ۔ مثلاً: جے یو آئی کے دو بڑے علماء نے جماعتِ اسلامی کے خلاف فتویٰ دیا کہ اِسے ووٹ دینا حرام ہے۔ اِسی طرح بنگلہ دیش کی بریلوی جماعت کے وابستگان نے بھی جماعتِ اسلامی کو ووٹ نہیں دیے ۔‘‘ اگر ہم ’’برکلے سینٹر‘‘ میں شائع شدہ لامیا کریم کا تفصیلی مقالہ بعنوان Tableghi Jamaat and Regulation of Women in Bangladeshکامطالعہ کریں توسمجھ آ جاتی ہے کہ بنگلہ دیش کی ’’جمعیت العلمائے اسلام‘ کو بارہ فروری کے انتخابات میں زبردست شکست کیوں ہُوئی ؟ ہمارا بنیادی سوال مگر یہ ہے کہ جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش توقعات کے مطابق بڑی کامیابی کیوں حاصل نہ کر سکی ؟ بعض باخبر حلقے اور بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی پر کڑی نظر رکھنے والے محققین کا دعویٰ ہے کہ اِس انتخابی شکست کے اصل ذمے دار خود امیرِ جماعت ہیں۔
انتخابات کی گرمی کے عین درمیان میں جماعتِ اسلامی کے ایک معروف لیڈر ( ٹھاکر گاؤں ضلع کے امیر بلال الدین) ائر پورٹ پر نقد 50لاکھ ٹکہ کے ساتھ گرفتار کیے گئے ۔ حالانکہ جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کی مرکزی قیادت نے بہتیرا شور مچایا کہ یہ رقم کسی انتخابی مقصد کے لیے نہیں تھی ، بلکہ اُن کی کاروباری تھی، مگر جماعت کے مخالفین نے اِس بنیاد پر بے حد منفی پروپیگنڈہ کیا ۔
پھر انتخابات سے قبل امیرِ جماعت ، ڈاکٹر شفیق الرحمن ، سے منسوب ایک ایسے ٹویٹ میسج نے خواتین ووٹروں کو بددل کر دیا جس میں مبینہ طور پر بنگلہ دیشی خواتین کی توہین کا پہلو نکلتا تھا ۔ جماعتِ اسلامی نے سوشل میڈیااور مین اسٹریم میڈیا پر اِس کی وضاحت کرتے ہُوئے بہت کہا کہ ’’امیرِ جماعت کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہیک کرکے یہ میسج ٹائپ کیا گیا‘‘ مگر تب تک ٹوئیٹر میسج اپنا منفی اور تباہ کن اثرات مرتب کر چکا تھا ۔ بعد ازاں اِس ٹویٹ میسج کو جماعت والوں نے ڈیلیٹ بھی کر دیا ۔
انتخابات سے چند دن قبل امیرِ جماعت بنگلہ دیش( ڈاکٹر شفیق الرحمن صاحب) نے ’’الجزیرہ‘‘ کے صحافی(معصوم باللہ) کو جو تفصیلی انٹرویو دیا تھا، اِس نے بھی بنگلہ دیشی خواتین ووٹروں کو جماعت سے دُور کر دیا ۔ خواتین بارے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں امیرِ جماعت نے کہا تھا:’’ مرد بچہ جَن سکتا ہے نہ مرد اپنی چھاتی سے بچے کو دُودھ پلا سکتا ہے ۔ہم اللہ کی تقسیم نہیں بدل سکتے ۔ہم خواتین کو الیکشن لڑنے کے لیے جماعت کا ٹکٹ دے سکتے ہیں نہ کوئی خاتون جماعت کی سربراہ بن سکتی ہے ۔‘‘اِس بیان پر جماعتِ اسلامی کی مخالف جماعتوں نے یہ کہہ کر کہ ’’جماعتِ اسلامی خواتین کی برابری کی دشمن ہے ‘‘ اور یہ کہ’’ جماعتِ اسلامی خواتین کے بنیادی حقوق بھی تسلیم کرنے سے انکاری ہے ‘‘ ، خوب منفی پروپیگنڈہ کیا۔
جماعت کے خلاف انتخابی بھَد اُڑانے کی کوششیں کی گئیں ۔ جماعت مخالف بعض بنگلہ دیشی ’’دانشوروں‘‘ نے تو یہاں تک کہا کہ ’’ایران اور افغانستان میں مقتدر مذہبی جماعتیں خواتین سے جو سلوک کررہی ہیں ، کیا اِس پیش منظر میں بنگلہ دیشی خواتین جماعتِ اسلامی کو ووٹ دینے کا رِسک لے سکتی ہیں؟۔‘‘ گویا جماعتِ اسلامی کو ہرانے کے لیے کئی قوتیں میدان میں کود پڑی تھیں ۔ بھارت کا خفیہ ہاتھ الگ کارفرما تھا ۔ ’’عوامی لیگ‘‘ کے ووٹ بھی جماعت کی حریف(بی این پی کو) پڑے ہیں ۔
Today News
کراچی؛ اورنگی ٹاؤن میں پولیس مقابلہ، ایک ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
کراچی:
شہر قائد کے علاقے اورنگی ٹاؤن سیکٹر 14 بی، فرحان اسکول کے قریب پاکستان بازار پولیس نے مبینہ مقابلے کے دوران ایک ڈاکو کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا۔
زخمی ڈاکو کو فوری طور پر عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم کی شناخت عمیر علی کے نام سے کی گئی ہے اور موقع سے اسلحہ بھی برآمد ہوا۔
Today News
کراچی، شہری کی فائرنگ سے ڈاکو زخمی، 2 ساتھی ڈاکو شہریوں کے تشدد سے زخمی
کراچی:
شہر قائد کے علاقے غریب آباد، اسحاق آباد میں ڈاکوؤں کی جانب سے لوٹنے کے دوران شہری نے فائرنگ کر کے ایک ڈاکو کو شدئد زخمی کر دیا۔
زخمی ڈاکو کے دیگر دو ساتھی عوام کے ہتھے چڑھ گئے جنہیں شہریوں نے بدترین تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔
پولیس نے موقع پر پہنچ کر زخمی ڈاکو کو فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا جبکہ اس کے ساتھیوں کو گرفتار کر کے تھانے منتقل کر دیا۔
Today News
رمضان اور حکومت کی نمک پاشی
مقدس مذہبی تہوار ہر قوم کے لیے ان کے عقائد و عبادات کے حوالے سے ایک منفرد شناخت اور پہچان رکھتے ہیں۔ ہر مذہب کے لوگ اپنے اپنے عقیدے اور ایمان کے مطابق مذہبی احترام کے ساتھ اپنے تہواروں کو مناتے ہیں۔
دنیا کی تقریباً ڈیڑھ ارب آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے جو دنیا کے مختلف ملکوں اور خطوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ رمضان المبارک مسلمانوں کا ایک خاص مذہبی تہوار ہے، روزہ تقویٰ، پرہیزگاری اور تزکیہ نفس کی علامت ہے۔ اس ماہ مقدس کا سب سے عظیم تحفہ نزول قرآن ہے جو دنیا بھر کے انسانوں کے لیے راہ ہدایت اور مکمل طور پر ضابطہ حیات ہے جس پر عمل کر کے لوگ نجات کی منزل پا سکتے ہیں۔
رمضان المبارک کے آغاز سے چار روز پیشتر ہی مسلم لیگ (ن) کی اتحادی حکومت نے پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں ایک بڑا اضافہ کرکے کروڑوں غریب عوام پر مہنگائی کا بم گرا دیا۔ پاکستان میں رمضان المبارک کا آغاز ہوتے ہی پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے کروڑوں غریبوں کی مشکلات میں غیر متوقع اضافہ ہو جاتا ہے۔ مہنگائی و گرانی کا جن یک دم بوتل سے باہر آ جاتا ہے غریب آدمی سحری و افطاری کا اہتمام کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ گوشت، سبزی، دالیں، انڈے، دودھ، دہی اور سب سے بڑھ کر پھل فروخت کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ منافع خور ذخیرہ اندوزوں کی چاندی ہو جاتی ہے۔
روزمرہ استعمال کی تمام اشیا کی قیمتیں عام آدمی کی دسترس سے باہر ہو جاتی ہیں۔ حکومت دعوے کرتی ہے کہ وہ رمضان المبارک کے دوران مہنگائی کنٹرول کرنے اور تمام اشیا ضرورت کی چیزوں کے نرخوں کو قابو رکھنے کے لیے بھرپور اور فول پروف انتظامات کرے گی تاکہ غریب آدمی بھی باآسانی روزوں کی برکتوں اور نعمتوں سے فیض یاب ہو سکے لیکن عملاً ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ موجودہ حکومت نے تو انتہا کر دی، آغاز رمضان سے پہلے ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر مہنگائی میں اضافہ کر دیا۔ کیوں کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب بھی بجلی، گیس، ڈیزل، پٹرول، مٹی کے تیل اور توانائی و ایندھن سے متعلق اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو چیزوں کی پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے جس کا براہ راست اثر اشیا خور و نوش اور روز مرہ استعمال کی تمام چیزوں کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی بڑھ جاتے ہیں۔
حکومت کو رمضان المبارک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے گریز کرنا چاہیے تھا۔ رمضان تو نیکیاں کمانے اور آسانیاں فراہم کرنے کا مہینہ ہے جیسا کہ خود وزیر اعظم شہباز شریف نے 38 ارب رمضان پیکیج کا اعلان کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ صرف بدنی عبادات نہیں بلکہ یہ وسائل تقسیم کرنے کا مہینہ ہے، حکومت چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ایک کروڑ 21 لاکھ خاندانوں تک 13 ہزار روپے فی خاندان کے حساب سے 38 ارب روپے کسی سیاسی تفریق کے بغیر تقسیم کرے گی۔ عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سطح غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کل آبادی کا 44 فی صد سے بھی زائد ہے۔
گویا 24 کروڑ کی ملکی آبادی میں غریب افراد کی تعداد تقریباً 11 کروڑ سے بھی زائد ہے۔ گزشتہ دو سالوں کے دوران ہزاروں پڑھے لکھے نوجوان روزگار کی کمیابی کے باعث ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ حکومت کی ناقص معاشی پالیسیوں اور ٹیکسوں کے غیر منتظم نظام کے باعث سیکڑوں صنعتیں بند ہو چکی ہیں اور سرمایہ کار عرب ممالک میں سرمایہ کاری کو فوقیت دے رہے ہیں جس کے باعث ملک میں بے روزگاری کا گراف بڑھتا جا رہا ہے اور غربت میں اضافے کے باعث غریب لوگوں کی تعداد آیندہ ایک دو سال میں 50 فی صد سے تجاوزکرجائے گی۔ جو ارباب حکومت کے لیے یقیناً لمحہ فکریہ ہے۔ صرف ایک کروڑ لوگوں کو محض 13 ہزار روپے کی امداد اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔
ایک طرف ملک میں غربت و بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے، لوگوں کے لیے رمضان کے مقدس مہینے میں سحر و افطار کا انتظام کرنا عذاب جاں بن گیا ہے۔ دوسری جانب حکومت نہ صرف گیس، بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ اپنے عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ اپنے اللوں تللوں پر خرچ کر رہی ہے۔ تازہ خبر کے مطابق پنجاب حکومت نے 10 ارب روپے کا ایک طیارہ خریدا ہے جسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حکومت کی جاری کردہ غربت کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سندھ اور پنجاب میں غربت میں ماضی کی نسبت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے ماحول میں حکومت کو کفایت شعاری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے نہ کہ فضول خرچیاں اور گرانی میں اضافہ غریب لوگوں کے زخموں پر نمک پاشی کرنے کے مترادف ہے۔
-
Tech2 weeks ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech1 week ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Entertainment1 week ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech2 weeks ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Tech1 week ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Tech6 days ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Entertainment2 weeks ago
Heartbreaking Moment as Army Martyr’s Father Faints Receiving Son’s Belongings
-
Tech2 weeks ago
5 Satellite Internet Firms Are Ready, But Pakistan’s Regulators Are Not