Connect with us

Today News

کراچی میں صبح کے وقت دھند، حد نگاہ متاثر

Published

on



کراچی میں آج صبح شہر کی فضاوں پر دھند چھانے کے باعث حدِ نگاہ ایک کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم خُشک، مطلع صاف اور صبح کے اوقات میں ہلکی دُھند کا امکان ہے۔

شہر میں آج صبح ہوا میں نمی کا تناسب 90 فیصد ریکارڈ ہوا جبکہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ہوا میں نمی کا تناسب 50 سے 95 فیصد رہنے کی توقع ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آج کم سے کم درجہ حرارت 18 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا اور کل کم سے کم درجہ حرارت 18 سے 20 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے۔

گزشتہ روز زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 31.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا اور آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 30 سے 32 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کی توقع ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران 10 تا 25 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مختلف سمتوں سے ہوائیں متوقع ہیں۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پی ٹی آئی گروپوں  میں ہزار اختلاف، خان اندر ہی رہے پر سب متفق  ہیں: خواجہ آصف

Published

on


وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی گروپوں  میں ہزار اختلافات ہیں لیکن  خان اندر ہی رہے، اس پر  پر سب متفق  ہیں۔

سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ پختونخوا کی حکومت عمران خان کے لیے رہائی فورس بنائے گی،  مگر دہشت گردوں کیخلاف زبان بھی نہیں کھولے گی۔

انہوں نے کہا کہ پختونخوا کی حکومت شہدا کے جنازوں میں شرکت سے گریز کرے گی۔ روزانہ پولیس کی شہادتیں ہو رہی ہیں،  زندہ جلایا جا رہا ہے مگر IK ترجیح اول اور آخر ہے۔باقی سب بے معنی اور بے وقعت ہے۔

خواجہ آصف نے لکھا کہ وزارت اعلیٰ بچاؤ نمبر ٹانگو، صوبہ گیا بھاڑ میں، وطن کی سلامتی کی کوئی وقعت نہیں ۔ کیسی سیاسی جماعت ہے جس کے کتنے ٹکڑے ہیں، کسی کو معلوم نہیں ۔ سب چاہتے ہیں وہ اندر رہے۔ باہر بیٹھے یو ٹیوبرز کا دھندہ عروج پہ ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اندر بیٹھے ایک دوسرے کو گالی دے رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے سارے گروپوں میں ہزاروں اختلاف ہیں مگر ایک ایشو پہ مکمل اتفاق ہے کہ خان اندر رہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

دو دہائیوں پر محیط دہشت گردی، فتنہ الخوار ج کا نشانہ مساجد اور معصوم عوام 

Published

on


گزشتہ 2 دہائیوں میں فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں نے متعدد بار مساجد، امام بارگاہوں اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا

تفصیلات کے مطابق فتنہ الخوارج مذہب کا لبادہ اوڑھ کر اپنے گمراہ کن عزائم حاصل کرنے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں۔ فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے ہاتھوں خیبر پختونخوا کی مساجد سب سے زیادہ متاثر ہوئیں۔

ایک اندازے کے مطابق سینکڑوں مساجد اور معصوم نمازی فتنہ الخوارج کی بربریت کا شکار ہوئے۔ فروری 2026 اسلام آباد مسجد میں خودکش حملہ کے نتیجے میں متعدد نمازی شہید اور زخمی ہوئے۔

2023 میں دو مساجد پولیس لائنز پشاور اور ہنگو خیبر پختونخواہ میں دھماکوں کے نتیجے میں متعدد افراد شہید اور زخمی ہوئے۔ مارچ 2022 میں پشاور، کوچہ رسالدار مسجد بم دھماکے میں متعدد بے گناہ افراد شہید ہوئے جبکہ مارچ 2017 پاراچنار، کرم ایجنسی میں مسجد کے قریب کار بم دھماکا میں لاتعداد شہری شہید اور زخمی ہوئے۔

ستمبر 2016، مہمند ایجنسی میں خودکش حملہ میں متعدد نمازی شہید اور زخمی ہوئے۔ جنوری 2015، شکارپور، سندھ مسجد میں دھماکے سے متعدد نمازی شہید ہوئے۔

فروری 2012 پاراچنار، کرم ایجنسی بازار کی مسجد کے قریب خودکش حملہ میں متعدد نمازی شہید ہوئے۔ 2010 دَرہ آدم خیل، قومی مسجد اور کرم ایجنسی، سپین تال مسجد میں خود کش حملوں کے دوران متعدد نمازی شہید اور زخمی ہوئے۔

فروری 2010 کوہاٹ، خیبر پختونخوا میں مسجد پر خودکش حملہ کے دوران بے گناہ نمازی شہید ہوئے۔ فتنہ الخوارج کی جانب سے مساجد میں رقص کرنے سمیت بے حرمتی کے کئی دلخراش واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

کیا بھارت اسرائیلی ماڈل اپنا رہا ہے؟ الجزیرہ کی چونکا دینے والی رپورٹ

Published

on


دوحہ: عالمی خبر رساں ادارے الجزیرہ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ بھارت کی موجودہ حکومت اسرائیل کے سیکیورٹی اور انتظامی ماڈل سے متاثر پالیسیوں پر عمل پیرا ہے، جن کے اثرات خصوصاً مسلمانوں اور مقبوضہ کشمیر پر مرتب ہو رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں ایک مشترکہ نظریاتی وژن پایا جاتا ہے، جس میں اقلیتوں کو سیکیورٹی اور جغرافیائی خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہندوتوا نظریے سے وابستہ حلقے اسرائیلی طرز حکمرانی سے متاثر ہیں اور سیکیورٹی پالیسیوں میں نگرانی اور سخت اقدامات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق 2019 کے بعد مقبوضہ کشمیر میں سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کیے گئے، جن میں چیک پوسٹوں کا قیام، چھاپے، اور مواصلاتی بندشیں شامل ہیں۔

رپورٹ میں ’بلڈوزر جسٹس‘ پالیسی کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس کے تحت مبینہ طور پر گھروں اور دکانوں کی مسماری کی گئی، جسے ناقدین ماورائے عدالت اقدام قرار دیتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اختلافی آوازوں کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

بھارتی حکومت کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ ردعمل رپورٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔





Source link

Continue Reading

Trending