Connect with us

Today News

ایم کیو ایم پاکستان کی سانحہ گل پلازہ جوڈیشل کمیشن میں فریق بننے کی درخواست مسترد

Published

on



کراچی:

ایم کیو ایم پاکستان کی سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کیلئے قائم جوڈیشل کمیشن میں فریق بننے کی درخواست کو کمیشن نے مسترد کردیا۔

پیر کو جوڈیشل کمیشن کی سماعت کے موقع پر ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار، نسرین جلیل و دیگر بھی لیگل ٹیم کے ہمراہ پہنچ گئے، ڈاکٹر فاروق ستار نے کمیشن کے سربراہ سے استدعا کی کہ ہم اس کمیشن میں فریق بننا چاہتے ہیں۔

جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ پ کے آنے کی خوشی ہے لیکن ابھی کمیشن کی کارروائی شروع ہوگئی ہے، آپ تشریف رکھیں۔ ہم فی الحال معذرت چاہتے ہیں ابھی کمیشن کی سماعت جاری ہے۔

جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ آپ اس حوالے سے صحیح طور پر درخواست دائر کریں، جس پر طارق منصور ایڈووکیت نے بتایا کہ میری جانب سے درخواست پہلے ہی دائر کردی گئی ہے، جسٹس آغا فیصل نے کہا جو درخواست آپ نے دی ہے اس میں فی الحال کچھ نہیں ہوسکتا۔

بعد ازاں فاروق ستار نے گفتگو میں کہا کہ ہمارے پاس کچھ شواہد اور ثبوت ہیں، مجرمانہ غفلت اور اختیارات کا ناجائز مادرپدر استعمال بھی ہے، اس عمارت کی تعمیر میں بے ضابطگیاں ہیں، گل پلازہ میں تعمیراتی بے ضابطگی پر افسران کیخلاف مقدمہ بھی بنا تھا۔

فاروق ستار نے کہا کہ ہم عدالتی کمیشن کی معاونت کے لیے آٙئے ہیں، ایم کیو ایم ایک جماعت کے طور پر فریق بن سکتی ہے، ہماری دستاویزات میں مضبوط شواہد و ثبوت ہیں، ہم نے ای میل کے ذریعے کمیشن میں پٹیشن دی، ہمیں کہا گیا کہ آپ کی پٹیشن ہماری ضرورت کے مطابق نہیں، انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا، آج دوپہر تین بجے تفصیلی پریس کانفرنس کریں گے۔

 ایس ایس پی ٹریفک اعجاز شیخ نے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے حوالے سے بنے کمیشن کو بیان میں بتایا کہ ہم نے بچوں کو بلایا اور بیانات لیے، انہوں نے بتایا وہ ماچس سے کھیل رہے تھے کہ اسی دوران آگ بھڑک اٹھی۔

ایس ایس پی سٹی ٹریفک اعجاز شیخ سندھ ہائیکورٹ میں سانحہ گل پلازہ کمیشن کے روبرو پیش ہوئے اور بتایا کہ جب وہاں پہنچا تو دیکھامین روڈ والی سائیڈ پر آگ بڑی شدت سے لگی ہوئی تھی، آگ کے بارے میں بتایا گیا کہ آگ بہت تیزی سے پھیل رہی ہے، ڈی سی آفس والی سائیڈ سے آگ زیادہ نہیں تھی لوگ وہاں سے سامان نکال رہے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ تین سائیڈ سے پولیس کی نفری لگا کر لوگوں کو روکا، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے تینوں سائیڈز کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

اعجاز شیخ کا کہنا تھا بتایا گیا کہ دو بچے ماچس سے کھیل رہے تھے، ہم نے بچوں کو بلایا اور ان کے بیانات لیے، انہوں نے بتایا کہ وہ کھیل رہے تھے، یہ چیزین انکوائری کا حصہ ہیں۔

ایس ایس پی سٹی نے کمیشن کو بتایا کہ آگ لگنے کی وجہ بچوں کا ماچس سے کھیلنا اور آگ پکڑنے والی اشیا ہیں، وہاں بلینکٹ، کپڑے، پھول تھے جو ٹشو سے بنتے ہیں، اسپرے وغیرہ بھی ہوتے ہیں۔

کمیشن نے کہا بیسمنٹ کی سی سی ٹی وی ہم سے شئیر کریں، ہمیں بتایا گیا آگ سے پہلے دھواں پھیلا اور پھر آگ؟ جس پر اعجاز شیخ کا کہنا تھا پلازہ کے 17 دروازوں میں سے 4 کھلے ہوئے تھے، دروازے کھولنا ایسوسی ایشن کا کام تھا وہ دکانوں سے پیسے لیتے ہیں، چوکیدار رکھے ہوئے ہیں، ایسوسی ایشن والے سب سے پہلے چوکیداروں کو کہتے کہ دروازے کھولیں۔

ایس ایس پی ٹریفک کا کہنا تھا میرا کام لوگوں کو ریسکیو کام کے راستے سے دور رکھنا تھا، اندر کتنے لوگ ہیں ہمیں اس کا اندازہ نہیں تھا، دروازے کھولنے کا کسی نے نہیں کہا، یہ ایسوسی ایشن کی ذمے داری تھی، عام دنوں میں 10 بجے گل پلازہ کے دروازے بند کر دیتے ہیں، رمضان یا عید کی وجہ سے ٹائم بڑھایا ہوا تھا، ایسوسی ایشن کو انتظامات کرنے چاہیے تھے۔

ان کا کہنا تھا ریسکیو میں کوئی مسائل نہیں ہوئے، ریسکیو کے کام میں لوگوں کی وجہ سے کوئی مسئلہ نہیں ہوا، ایک ماہ پہلے گرین لائن کا کام شروع ہوا، گل پلازہ کی ایک طرف روڈ 12 فٹ اور دوسری طرف 15 فٹ ہے، ہمارے پاس شہر بھر میں 5200 کی نفری ہے، جب واقعہ پیش آیا تو مختلف جگہوں پر ہماری نفری موجود تھی۔

بعد ازاں جوڈیشل کمیشن نے کارروائی 25 فروری تک ملتوی کردی۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

60 لاکھ روپے بھتہ نہ دینے کی سزا، کار شوروم پر نامعلوم مسلح افراد کی اندھا دھند فائرنگ

Published

on



کراچی:

شہر قائد کے علاقے نیو کراچی سیکٹر الیون ڈی میں واقع ایک کار شوروم پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر دی۔ پولیس کے مطابق واقعہ گینگ وار سے وابستہ بھتہ خوروں کی جانب سے پیش آیا تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان شوروم مالک سے 60 لاکھ روپے بھتہ طلب کر رہے تھے اور اس سے قبل بھتے کی پرچی بھی دی گئی تھی۔

شوروم مالک نے دھمکیوں کے خلاف نیو کراچی تھانے میں مقدمہ درج کرا رکھا تھا۔

پولیس کے مطابق فائرنگ میں ملوث افراد کا تعلق مبینہ طور پر صمد کاٹھیواڑی گروپ سے بتایا جا رہا ہے۔

ملزمان دو موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر آئے اور فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے۔

واقعے کے بعد پولیس نے شواہد اکٹھے کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی جا رہی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

بھارت میں بوائے فرینڈ کے سامنے گرل فرینڈ سے 7 افراد کی اجتماعی زیادتی

Published

on


بھارتی ریاست آسام میں پیش آنے والے انسانیت سوز واقعے میں چاقو کی نوک پر 28 سالہ خاتون کو اس کے بوائے فرینڈ کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق یہ افسوناک واقعہ 19 فروری کو پیش آیا جس کا مقدمہ متاثرہ خاتون کی شکایت پر درج کر لیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون نے بیان دیا ہے کہ حملہ آوروں نے اسے اغوا کرکے ایک ایک کر کے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

جنسی زیادتی کرنے والوں نے  بعد ازاں خاتون کے اکاؤنٹ سے 10 ہزار روپے ایک اکاؤنٹ میں منتقل کرنے پر بھی مجبور بھی کیا۔

اہلِ خانہ نے بتایا کہ ان کی بیٹی اپنے ایک دوست کے ساتھ چند کلومیٹر دور بائی پاس روڈ پر ایک کار میں موجود تھی کہ اچانک جانور نما مردوں کا ایک گروہ نمودار ہوا۔

ملزمان نے دونوں کو گاڑی سے باہر نکالا اور بوائے فرینڈ کو جان سے مارنے کی دھمکی دے کر واردات انجام دی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون نے دو ملزمان 25 سالہ نیلوتپل داس اور 27 سالہ سبول داس کو شناخت کرلیا جو اب پولیس کی حراست میں ہیں۔

پولیس کے بقول متاثرہ خاتون کا طبی معائنہ کروا لیا گیا ہے اور تفصیلی بیان بھی ریکارڈ کیا جا چکا ہے جب کہ دیگر ملزمان کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ بھارت کی مودی سرکار کے دور میں جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث ہندوستان کو اب ریپستان کہا جانے لگا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا بھی کہنا ہے کہ مودی سرکار میں ایک گائے تو محفوظ ہے جس کی دیوی مان کر رکھشا کی جاتی ہے لیکن خواتین محفوظ نہیں ہیں۔

 

 





Source link

Continue Reading

Today News

جنسی ہراسانی کا الزام پر قانونی جنگ؛ ماڈل ماہ نور اور عمر مختار آمنے سامنے

Published

on


ابھرتی ہوئی ماڈل ماہ نور رحیم نے پروڈیوسر عمر مختار پر جنسی ہراسانی کے سنگین الزامات عائد کیے تھے جس پر دونوں کے درمیان اب قانونی جنگ چھڑ گئی ہے۔

نوجوان ماڈل ماہ نور رحیم نے شوبز انڈسٹری کے معروف پروڈیوسر عمر مختار کو جواب میں قانونی نوٹس بھجوا دیا ہے۔

جس سے ایک بار پھر اس معاملے نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے بالخصوصاً شوبز کی دنیا میں جنسی جرائم پر کھل کی گفتگ کی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل ماہ نور رحیم کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں انھوں نے شوبز انڈسٹری کے ایک بااثر شخص پر نامناسب پیغامات بھیجنے اور ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے۔

اگرچہ ماہ نور نے ویڈیو میں کسی کا نام نہیں لیا تاہم سوشل میڈیا صارفین اور بعض شوبز حلقوں نے اندازہ لگایا کہ ان کا اشارہ پروڈیوسر عمر مختار کی جانب ہے۔

یہ معاملہ اُس وقت مزید طول پکڑ گیا جب کئی دیگر خواتین نے بھی سوشل میڈیا پر ماہ نور کے مؤقف کی تائید کی اور تمام اشارے عمر مختار کی جانب تھے۔

عمر مختار کا شمار پاکستان کے معروف پروڈیوسرز میں ہوتا ہے اور وہ متعدد بڑے شوبز ستاروں کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔

اس تنازع کے بعد عمر مختار کی قریبی سمجھی جانے والی اداکارہ ہانیہ عامر نے بھی خود کو پروڈیوسر سے دور کر لیا تھا جس پر سوشل میڈیا پر خاصی توجہ دی گئی۔

جس کے باعث عمر مختار نے ماڈل ماہ نور رحیم کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوا دیا تھا اور اسے اپنا باضابطہ جواب قرار دیا تھا۔

ماڈل ماہ نور رحیم بھی کب پیچھے ہٹنے والی تھیں انھوں نے بھی اپنے وکیل کے ذریعے عمر مختار کو قانونی جواب بھیجوادیا۔

جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ میرے بیانات ہتکِ عزت کے زمرے میں نہیں آتے کیونکہ وہ سچ پر مبنی ہیں۔

ماڈل ماہ نور نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ سچ بولنے کے اپنے فیصلے کو درست سمجھتی ہیں اور کسی دباؤ یا قانونی دھمکیوں سے خوف زدی ہوکر خاموش نہیں ہوں گی۔

انھوں نے اس موقع پر عوام، شوبز شخصیات اور سوشل میڈیا صارفین کا شکریہ بھی ادا کیا جنہوں نے ان کی حمایت کی اور حوصلہ بڑھایا۔

 





Source link

Continue Reading

Trending