Connect with us

Today News

بیوی کو دیا تحفہ واپس نہیں لیا جا سکتا، یہ تھوک کر چاٹنے والی بات ہے، جسٹس محسن کے ریمارکس

Published

on



اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے فیملی کورٹ کے فیصلے کیخلاف شہری کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ بیوی کو دیا گیا تحفہ بھی واپس نہیں لیا جا سکتا، یہ تو تھوک کر چاٹنے والی بات ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے فیملی کورٹ کے فیصلے کے خلاف شہری محمد شعبان کی درخواست سماعت کی۔

جسٹس محسن اختر کیانی کے فیملی کیس میں اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بیوی کو دیا گیا تحفہ واپس نہیں لیا جا سکتا، یہ تو تھوک کر چاٹنے والی بات ہے، دیا ہوا تحفہ واپس نہیں لیا جاتا، ایسی کوئی روایت نہیں اور اسلام بھی اس کی اجازت نہیں دیتا۔

بیوی سے علیحدگی کے بعد شہری نے سابقہ بیوی سے زیورات کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا۔ شہری نے جج فیملی کورٹ فیصلہ کے خلاف درخواست دائر کر رکھی ہے۔

عدالت نے فیملی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

دو دہائیوں پر محیط دہشت گردی، فتنہ الخوار ج کا نشانہ مساجد اور معصوم عوام 

Published

on


گزشتہ 2 دہائیوں میں فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں نے متعدد بار مساجد، امام بارگاہوں اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا

تفصیلات کے مطابق فتنہ الخوارج مذہب کا لبادہ اوڑھ کر اپنے گمراہ کن عزائم حاصل کرنے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں۔ فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے ہاتھوں خیبر پختونخوا کی مساجد سب سے زیادہ متاثر ہوئیں۔

ایک اندازے کے مطابق سینکڑوں مساجد اور معصوم نمازی فتنہ الخوارج کی بربریت کا شکار ہوئے۔ فروری 2026 اسلام آباد مسجد میں خودکش حملہ کے نتیجے میں متعدد نمازی شہید اور زخمی ہوئے۔

2023 میں دو مساجد پولیس لائنز پشاور اور ہنگو خیبر پختونخواہ میں دھماکوں کے نتیجے میں متعدد افراد شہید اور زخمی ہوئے۔ مارچ 2022 میں پشاور، کوچہ رسالدار مسجد بم دھماکے میں متعدد بے گناہ افراد شہید ہوئے جبکہ مارچ 2017 پاراچنار، کرم ایجنسی میں مسجد کے قریب کار بم دھماکا میں لاتعداد شہری شہید اور زخمی ہوئے۔

ستمبر 2016، مہمند ایجنسی میں خودکش حملہ میں متعدد نمازی شہید اور زخمی ہوئے۔ جنوری 2015، شکارپور، سندھ مسجد میں دھماکے سے متعدد نمازی شہید ہوئے۔

فروری 2012 پاراچنار، کرم ایجنسی بازار کی مسجد کے قریب خودکش حملہ میں متعدد نمازی شہید ہوئے۔ 2010 دَرہ آدم خیل، قومی مسجد اور کرم ایجنسی، سپین تال مسجد میں خود کش حملوں کے دوران متعدد نمازی شہید اور زخمی ہوئے۔

فروری 2010 کوہاٹ، خیبر پختونخوا میں مسجد پر خودکش حملہ کے دوران بے گناہ نمازی شہید ہوئے۔ فتنہ الخوارج کی جانب سے مساجد میں رقص کرنے سمیت بے حرمتی کے کئی دلخراش واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

کیا بھارت اسرائیلی ماڈل اپنا رہا ہے؟ الجزیرہ کی چونکا دینے والی رپورٹ

Published

on


دوحہ: عالمی خبر رساں ادارے الجزیرہ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ بھارت کی موجودہ حکومت اسرائیل کے سیکیورٹی اور انتظامی ماڈل سے متاثر پالیسیوں پر عمل پیرا ہے، جن کے اثرات خصوصاً مسلمانوں اور مقبوضہ کشمیر پر مرتب ہو رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں ایک مشترکہ نظریاتی وژن پایا جاتا ہے، جس میں اقلیتوں کو سیکیورٹی اور جغرافیائی خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہندوتوا نظریے سے وابستہ حلقے اسرائیلی طرز حکمرانی سے متاثر ہیں اور سیکیورٹی پالیسیوں میں نگرانی اور سخت اقدامات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق 2019 کے بعد مقبوضہ کشمیر میں سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کیے گئے، جن میں چیک پوسٹوں کا قیام، چھاپے، اور مواصلاتی بندشیں شامل ہیں۔

رپورٹ میں ’بلڈوزر جسٹس‘ پالیسی کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس کے تحت مبینہ طور پر گھروں اور دکانوں کی مسماری کی گئی، جسے ناقدین ماورائے عدالت اقدام قرار دیتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اختلافی آوازوں کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

بھارتی حکومت کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ ردعمل رپورٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔





Source link

Continue Reading

Today News

یورپی ممالک کا غیر قانونی امیگریشن روکنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کا اعتراف

Published

on


یورپی ممالک نے غیر قانونی امیگریشن روکنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کا کھل کر اعتراف کیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی اٹلی، اسپین اور یونان کے وزرائے داخلہ سے اہم ملاقات ہوئی جس میں غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

چاروں وزرا نے روم میں غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے لیے منعقدہ 4 ملکی کانفرنس میں شرکت کی۔

ملاقات کے دوران اٹلی، اسپین اور یونان نے غیر قانونی امیگریشن روکنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا جب کہ تینوں یورپی ممالک نے غیر قانونی امیگریشن میں 47 فیصد کمی پر پاکستان کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے لیگل پاتھ وے کے ذریعے غیر قانونی امیگریشن روکنے کی تجویز پر تینوں ممالک نے اتفاق کیا۔

اس موقع پر پاکستان، اٹلی، اسپین اور یونان کے درمیان غیر قانونی امیگریشن کو ہر سطح پر روکنے کیلئے مربوط حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا گیا جبکہ تینوں ممالک نے استعداد کار بڑھانے کے لیے یورپی یونین کے ذریعے پاکستان کی بھرپور معاونت کا فیصلہ بھی کیا۔

چاروں وزرا نے مشترکہ مفادات کے شعبوں میں اشتراک بڑھانے ، غیر قانونی امیگریشن، انسانی اسمگلنگ اور منشیات کے خلاف مشترکہ پالیسی فریم ورک بنانے پر اتفاق کیا۔

ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کو یورپ سے پاکستان واپس لایا جائے گا اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ علاوہ ازیں چاروں رہنماؤں نے مشترکہ اور فوری ردعمل کے نظام کو مؤثر بنانے پر بھی اتفاق کیا جبکہ آئندہ اجلاس رواں برس ہی پاکستان میں منعقد کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ غیر قانونی امیگریشن میں ملوث مافیا کو قانون کی گرفت میں لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ غیر قانونی امیگریشن سے سب سے زیادہ متاثر ہے ۔ اس چیلنج کا خاتمہ مشترکہ میکنزم سے ہی ممکن ہے۔

اطالوی وزیر داخلہ میٹیو پینٹے ڈوسی، اسپین کے وزیر داخلہ فرنینڈو گرینڈے مارلاسکا اور یونان کے وزیر مائیگریشن اتھاناسیس پلیورس نے غیر قانونی امیگریشن روکنے کے لیے پاکستانی اقدامات کو سراہا۔

اطالوی وزیر داخلہ نے کہا کہ غیر قانونی امیگریشن کے خلاف پاکستانی اداروں نے بہترین اقدامات کیے ہیں جبکہ وزیر داخلہ اسپین نے کہا کہ غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے لیے آپ کی قیادت میں مثالی ایکشن قابل تحسین ہیں۔

تینوں یورپی ممالک کے وزرا نے اس حوالے سے وزیر داخلہ محسن نقوی کا شکریہ ادا کیا  جب کہ چاروں وزرا نے دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے اور کوآرڈینیشن بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

اس موقع پر پاکستانی سفیر علی جاوید، ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور اور دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔





Source link

Continue Reading

Trending