Today News
بالی ووڈ میں مسلم مخالف فلمیں بنانے پر انوراگ کشیپ کی سخت تنقید
بالی ووڈ کے معروف فلم ساز اور اداکار انوراگ کشیپ نے متنازع فلم ’’دی کیرالہ اسٹوری 2‘‘ پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے اسے محض پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ فلم بنانے والوں نے سنجیدہ موضوع اور مضبوط کہانی کے بجائے منافع کو ترجیح دی ہے۔
کیرالہ اسٹوری 2، پہلی فلم کے تقریباً تین سال بعد ریلیز کی جا رہی ہے، ایک بار پھر بحث و تنازع کا باعث بن گئی ہے۔ اس منصوبے کو ویپول امرت لال شاہ نے پروڈیوس جبکہ ہدایت کاری کماکھیا نارائن سنگھ نے کی ہے۔
کوچی ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کشیپ نے کہا کہ فلم کا مقصد ناظرین کو تقسیم کرنا ہے اور اس میں کوئی بامعنی یا حقیقت پر مبنی کہانی دکھائی نہیں دیتی۔ انہوں نے فلم کے ایک متنازع منظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے مناظر حقیقت سے دور اور غیر ضروری طور پر اشتعال انگیز ہیں۔ ان کے بقول ایسی پیشکش کا مقصد صرف توجہ حاصل کرنا اور کاروباری فائدہ اٹھانا ہے۔
دوسری جانب اس فلم کے خلاف قانونی محاذ بھی کھل گیا ہے۔ ماہر حیاتیات سری دیو نمبودری نے کیرالہ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے فلم کی ریلیز روکنے کی استدعا کی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ فلم کے بعض مندرجات سماجی ہم آہنگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
فلم کی ریلیز سے قبل ہی اس پر فنکارانہ آزادی، سماجی ذمہ داری اور حساس موضوعات کے استعمال کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
Source link
Today News
امید کی روشنی کے چند بڑے ادارے
پاکستان کی یہ بڑی خوش قسمتی ہے کہ اس کے حکمرانی کے نظام میں خرابیوں کے باوجود فلاحی اور سماجی شعبوں میں ایسے بہت سے ادارے ہیں جو سماج میں کمزور اور غریب طبقات میں امید کی روشنی کا درجہ رکھتے ہیں ۔ جہاں حکمرانی کا نظام لوگوں کی بنیادی ضروریات فراہم کرنے سے قاصر ہے وہیں یہ سماجی شعبے کے اہم ادارے بغیر کسی تفریق کے کمزور طبقات کے دکھ میں شریک ہوکر ان کے لیے زندگیوں کو آسان بناتے ہیں۔
پاکستان میں ایسے فلاحی اداروں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور اچھی بات یہ ہے کہ معاشرے کی سطح پر اہل ثروت اور مخیر افراد ان اداروں پر نہ صرف بھروسہ کرتے ہیں بلکہ ان کی مدد میں بھی پیش پیش ہوتے ہیں ۔ایسے اداروں کی موجودگی کسی بڑی نعمت سے کم نہیں اور ہمیں بطور فرد ان اداروں کی مدد کرنا ہے بلکہ دیگر لوگوں میں بھی اس ترغیب کو ایک تحریک کی شکل دینی ہے کہ وہ ان اداروں کی حمایت میں کھڑے ہوں۔
بانی پی ٹی آئی کی سیاست سے قطع نظر ان کا فلاحی منصوبہ شوکت خانم کینسر اسپتال ایک بڑا شاندار منصوبہ ہے جو 1994 میں لاہور سے شروع ہوا تھا۔ اب پچھلے کچھ برسوں سے یہ اسپتال لاہور کے بعد پشاور اوراب 2026سے کراچی سے اپنے کام کا آغاز کرنے والا ہے ۔جب یہ اسپتال بنانے کا منصوبہ قوم کے سامنے رکھا گیا تھا تو مجھے یاد ہے کہ بہت سے پڑھے لکھے اور خود میڈیکل شعبہ کے بڑے ناموں سمیت کاروباری طبقات نے ان کو یہ ہی مشورہ دیا تھا کہ کینسر جیسے موذی مرض کا مفت یا کم پیسوں پر علاج ممکن نہیں اور وہ یہ خواب چھوڑ دیں کیونکہ ایسا کرنا تقریباً ممکن نہیں تھا ۔لیکن جو لوگ عمران خان کو جانتے ہیں کہ جب وہ کسی کام کا ارادہ کرلیں تو وہ اپنی مستقل مزاجی اور محنت یا لگن اور شوق کی بنیاد پر بہت کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
میں ذاتی طور پر ایسے بہت سے کمزور طبقات کے لوگوں کو جانتا ہوں جنھیں شوکت خانم کینسر اسپتال سے مفت علاج کا موقع ملا اوران کے بقول وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ان کے پیاروں کا علاج یہاں جہاں بہتر سہولتوں کی بنیاد پر ہوسکتا ہے وہیں یہ علاج مفت بھی ہوسکتا ہے ۔ایسا اسپتال جہاں کسی بڑے اور چھوٹے یا کسی شہر یا گاؤں کی سطح پر کوئی تفریق نہیں اور سب سے اہم بات ہر ایک کے لیے ایک جیسی سہولیات کو فراہم کرنا اور اس میں کسی بھی سطح پر تفریق نہ کرنا شوکت خانم کینسر اسپتال ہی کا کام ہے۔
یہ ادارہ ایک مکمل ادارہ جاتی سطح پر موجود ہے اور اسی بنیاد پر یہ ادارہ لاہور سے نکل کر پشاور اور اب کراچی تک پہنچ گیا ہے ۔اسپتال کی خوبی یہ ہے کہ یہاں علاج و معالجہ کی سہولتیں عالمی معیار کے مطابق ہیں اور جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد پر کمزور لوگوں کو علاج کی فراہمی دیکھ کر واقعی خوشی ہوتی ہے ۔پچھلے چند ماہ قبل میں نے شوکت خانم اسپتال کا دورہ کیا تو وہاں بیٹھے مریضوں کو دیکھا جو دور دراز کے علاقوں کے لوگ تھے اور ان کے چہرے پر ایک امید اور روشنی کی کرن تھی کہ ان کی جیب خالی ضرور ہے مگر ان میں یہ ہی یقین ہے کہ یہاں ان کے پیاروں کا علاج مفت ہوسکتا ہے۔ میں جانتا ہوں کچھ لوگ اس ادارے پر سیاسی بنیادوں پر تنقید کرتے ہیں مگر اہم بات یہ ہے کہ جب ان کے پیاروں کو کینسر جیسے مرض کا سامنا کرنا پڑے تو سب کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے پیاروں کا علاج بھی اسی اسپتال اور یہاں موجود ماہر ڈاکٹرز کی نگرانی میں ہو۔
ایک اور اہم نام ’’ اخوت‘‘ کا ہے جس کے سربراہ ڈاکٹر امجد ثاقب ہیں ۔یہ بھی ایک کمال کا ادارہ ہے ۔یہ ادارہ تعلیم اور صحت کے شعبہ کی سطح پر جہاں اہم کام کررہا ہے وہیں معاشرے سے غربت کا خاتمہ اور بالخصوص عورتوں کی غربت کا خاتمہ کی بڑی ترجیحات کا حصہ ہے۔اخوت یونیورسٹی جیسا ادارہ بنانا ڈاکٹر امجد ثاقب ہی کا کمال ہے جہاں چاروں صوبوں کے بچوں اور بچیوں کو لاکر مفت تعلیم دینا ،رہائش کی سہولت کو فراہم کرنا ،کھانا پینا دینا ان ہی جیسے بڑے اداروں کا کام ہے ۔اخوت کو ملکی سمیت عالمی سطح پر بھی اپنے کام کے حوالے سے کافی پذیرائی ملتی ہے اور یہ ادارہ اپنے کام کی بنیاد پر کئی عالمی ایوارڈ بھی اپنے نام رکھتا ہے ۔میں ذاتی طور پر ایسے کئی انفرادی افراد یا خاندانوں کو جانتا ہوں جو اخوت کی مدد سے نہ صرف مالی طور پر مستحکم ہوئے بلکہ خود کفالت کا بھی سبب بنے اور ان کو تعلیم اور علاج کی مختلف سہولتیں بھی اسی ادارے کی مدد سے مل رہی ہیں۔ اخوت جیسے اداروں کے ساتھ خود کو جوڑنا اور ان کی حمایت میں کھڑا ہونا صرف اخوت کی مدد نہیں بلکہ معاشرے کے ان کمزور طبقات کی مدد ہے جو ان اداروں کی مدد سے اپنی زندگیوں کو آسان بنارہے ہیں۔
اسی طرح ایک اور ادارہ چوہدری رحمت علی میموریل ٹرسٹ ٹاؤن شپ کا بھی ہے جو پچھلی چار دہائیوں سے تعلیم اور صحت کے شعبہ میں بڑی سطح کی خدمات انجام دے رہا ہے ۔ٹاؤن شپ جیسی بستی میں ان کی تعلیم اور صحت سے جڑی سہولتوں کی فراہمی یقیناً ایک مثالی کام ہے ۔ا س اہم کام میں جناب واسطی صاحب،خالد محمود رسول اور ڈاکٹر خالد اعوان نے بہت جلد اس ادارے کو ایک نئی جدید شکل دے دی ہے۔ اگلے چند ماہ میں ان کا اسپتال جدید بنیادوں پر سامنے لانے کا مکمل منصوبہ زیر تعمیر ہے۔ اسپتال میں جدید مشینری ، ماہر ڈاکٹرز،سازگار ماحول،نئے جدید شعبہ جات کا قیام ،کم قیمت اور مفت علاج کی سہولت، ٹیسٹوں کی فراہمی جیسی سہولیات فراہم کرنا آسان نہیں ہے۔ صرف 2025 میں پونے تین لاکھ افراد اس ادارے میں اپنے علاج سے مستفید ہوئے ہیں ۔اسی طرح مجھے ان کے تعلیمی ادارو ں کے منصوبوں کو بھی دیکھنے کا موقع ملا ہے اور جس شاندار انداز میں یہ لوگ بہت کم فیس اور غریب بچوں اور بچیوں کو مفت تعلیم دے رہے ہیں وہ بھی کمال کا کام ہے ۔ان تعلیمی اداروں میں تعلیم کی بنیاد جہاں تربیت پر ہے وہیں جدید تقاضوں کے ساتھ اساتذہ اور بچوں یا بچیوں کی تربیت میں بھی یہ کافی بہتر طور پر کام کررہے ہیں ۔
ڈاکٹر انتظار بٹ سماجی شعبہ میں کسی تعارف کے محتاج نہیں آنکھ کے ماہر ڈاکٹر ہیں اور پاکستان سمیت دیگر ممالک میں غریب اور مستحق لوگوں کے لیے وہ ان کی ڈاکٹرز پر مشتمل ٹیم آنکھوں کا مفت علاج اور آپریشن کرنے میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ ان کا ادارہ ’’ پی او بی ‘‘ کے نام سے کام کرتا ہے جس کا مقصد روشنی کے سفر کو آگے بڑھانا ہے ۔یہ سفر 2000سے شروع ہوا اور آج 2026میں ایک بڑے اسپتال کی صورت میں ہمارے سامنے ہے ۔ان کے بقول بلا امتیاز، بلا تفریق اور بلا معاوضہ ان کے سنہری اصول ہیں ۔ان کے پاس جدید ترین آلات اور بہترین ماہرین امراض چشم،آپریشن بذریعہ فیکو لیز سرجری جیسی سہولتیں میسر ہیں ۔ یہ لوگ مختلف پس ماندہ علاقوں میں آنکھ کے آپریشن کے لیے کیمپ بھی لگاتے ہیں۔ ان کے بقول اگر کوئی فرد پندرہ ہزار کی امداد دیتا ہے تو اس سے ایک فرد کی آنکھ کو بچایا جاسکتا ہے ۔ان کی طرف سے 2026کے اہداف میں چھ لاکھ سے زیادہ مریضوں کا معائنہ ،ساٹھ ہزار سے زیادہ آپریشنز،بیس ہزار سے زیادہ بچوں کا طبی معائنہ اور عینکوںکی فراہمی شامل ہے۔ اب تک یہ ادارہ 23مختلف ممالک اور ملک کے 58اضلاع میں مفت خدمات،1047فری آئی کیمپس، 33لاکھ سے زیادہ مریضوں کا طبی معائنہ، بیس جیلوں میں دس ہزار سے زیادہ افراد کا مفت علاج شامل ہے ۔یہ اسپتال لاہور رائے ونڈ میں موجود ہے ۔
رمضان المبارک میں ہم اپنی آمدن میں سے کچھ رقم ایسے افراد یا اداروں پر خرچ کرتے ہیں جو ان کی مدد کے اصل مستحق ہوتے ہیں ۔کیونکہ آپ کی امداد اصل میں پاکستان میں ان لوگوں کو سہارا دیتی ہیں جو کئی حوالوں سے محرومی کی سیاست کا شکار ہیں ۔کیونکہ ان کے پاس ایسا کچھ نہیں ہوتا کہ وہ اپنی تعلیم اور علاج سمیت اپنی معیشت کو بہتر کرسکیں ۔خاص طور پر ایسے ادارے جو لوگوں کی سفید پوشی کو چھپا کر مستحق لوگوں کی مدد میں پیش پیش ہوتے ہیں ۔اس لیے آپ آگے بڑھیں اور ان اداروں کے ساتھ خود کو جوڑیں کیونکہ یہ ہی ادارے معاشرے کا حقیقی چہرہ بھی ہوتے ہیں اور معاشرہ ان ہی اداروںکی موجودگی کی وجہ سے آج قائم ہے۔اسی طرح جب آپ اپنی امداد افراد کے مقابلے میں سماجی اداروں کو دیں گے تو اس سے ملک میں سماجی اداروں کی مضبوطی ہوگی اور ان اداروں کی مضبوطی کا عمل معاشرے کے کمزور طبقات کو بہت سی آسانیاں پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔
Today News
دیر آید، درست آید – ایکسپریس اردو
اسرائیل کی حالیہ جنگجوئی کے نتیجے میں مقبوضہ مغربی کنارے کے مزید رقبے پر اسرائیل نے قبضہ کر لیا ہے اور اب اس نے اعلان کیا ہے کہ اس علاقے کو ’’ اسٹیٹ کی ملکیت کی زمین‘‘ قرار دیا جاتا ہے یعنی یہ متنازعہ علاقوں کی اسرائیلی آبادکاری کے لیے فضا ہموار کر رہا ہے۔ ایک بار اس بات کو تسلیم کر لیا جائے تو اسرائیل اپنی ناجائز مقبوضہ زمین میں توسیع کرے گا اور اس زمین پر اسرائیلی بستیاں بسانے کا اسے اختیار حاصل ہو جائے گا۔ وہ اس ’’ نومقبوضہ‘‘ علاقے کو بھی اپنے دائرہ اختیار میں لینے کی راہ پرگامزن ہے، اس طرح وہ اس علاقے میں جدید یہودی بستیاں بسا کر فلسطین کے علاقے پر اپنے غیر قانونی تسلط کو قانونی شکل دینے کے لیے کوشاں ہے۔ اس طرح وہ اس امریکی امن منصوبے کے زیر سایہ، مسٹر ٹرمپ کی آشیرواد کے ساتھ اس علاقے کو اپنے تسلط میں لا کر فلسطین کے اصل باسیوں کو ان کے حق سے محروم کرنا چاہتا ہے۔ فلسطین کی سرزمین سے اہل فلسطین کو محروم کرنے کی اس سفاکانہ سازش کو امریکا کی خاموش حمایت حاصل ہے۔
ہم نے اپنے گزشتہ کالم میں اس خطرے کا اظہارکیا تھا کہ امریکا غزہ کی تباہی کا باعث بنا ہے، اس نے غزہ کے پورے علاقے کو جس میں مغربی کنارے کا بڑا حصہ شامل ہے، کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے۔ اسرائیل ان پر حملے کرتا رہا، عمارتوں کو کھنڈروں میں تبدیل کرتا رہا۔ مکینوں کو بے مکان بناتا رہا اور امریکا اس ساری کارروائی میں اس کا ہم نوا نہیں سرپرست بنا رہا۔
نو سو چوہے کھا کر جب بلی حج کو جانے لگی اور صدر ٹرمپ نے اہل غزہ پر ترس کھا کر غزہ کی تعمیر نو کا بیڑا اٹھایا اور خود بخود امن منصوبے کے سربراہ اور صدر بن بیٹھے۔ ان کی صدارت کے دوران اور منصوبے کے اعلان کے باوجود اسرائیل نے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری رکھیں اور اس دوران بھی اہل فلسطین کا خون ارزاں بنا دیا گیا۔
مغربی کنارے کے پڑوسی مسلم ممالک دم سادھے اور دم دبائے اس ساری کارروائی کو دیکھتے رہے مگر ان میں اتنی طاقت نہ تھی نہ اتنا دم تھا کہ وہ چوں کر سکیں۔ ان کی اس کمزوری سے اسرائیل نے پورا فائدہ اٹھایا۔ اہل فلسطین کو تنہا کرکے اپنی من مانی کرتا رہا۔ ایسے ماحول میں امن و آشتی کی بات دیوانے کا خواب بن کر رہ گئی۔
مگر امریکا بہادر کی ڈپلومیسی نے ’’ روح ہٹلر‘‘ کو شرماتے ہوئے طاقت کا جو ننگا ناچ ناچا گیا تھا، اس کی گت اور تال پر امن کے گیت گائے جانے لگے۔ امریکا نے امن کے قیام کا اعلان کرکے متعدد ممالک کو اپنا ہم نوا بنانا شروع کیا۔
بے چارے مسلم ممالک کی تو سانسیں رکی ہوئی تھیں، انھوں نے اس ’’ دام ہم رنگ زمین‘‘ کو جانتے، پہچانتے ہوئے بھی اس میں پھنس جانے میں عافیت سمجھی۔
لیکن صدر ٹرمپ بھی بخوبی واقف تھے کہ یورپی ممالک کے علاوہ یہ نیم جان مسلم ممالک کسی گنتی شمار میں نہیں آتے۔ انھیں خطرہ ترکیہ اور پاکستان سے تھا۔ چنانچہ انھوں نے ان دونوں ملکوں پر بھی جال پھینکنا شروع کیا۔ پاکستان کو قابو کرنے کے لیے انھوں نے بڑا ’’ سائنٹفک‘‘ نسخہ استعمال کیا۔ انھوں نے پاکستانی قیادت کی بیدار مغزی اور راست روی کی تعریف کرنا شروع کی اور موقع بہ موقع ہر نہج اور ہر مرحلے پر وہ پاکستانی قیادت کی مدح سرائی کرتے رہے۔ جب پاکستان کو اس امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت دی گئی تو ایک طرف قیادت نے اس میں شمولیت کے مضمرات اور خطرات کا کسی قدر اندازہ کر لیا مگر ایک عالمی طاقت کی فرمائش کو ٹھکرانا بھی ان کے لیے ممکن نہیں رہا۔ اس لیے ہچکچاہٹ کے ساتھ ہی سہی، انھوں نے اس امن منصوبے میں شامل ہونے کی منظوری دے دی۔
پاکستان کی ہچکچاہٹ کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ اس نے اپنی شمولیت کو چند مطالبات سے مشروط کر دیا تھا اور اب جب کہ اس امن منصوبے کے اصل خد و خال واضح ہو گئے ہیں تو مسلم ممالک کے ایک گروپ نے اسرائیل کی توسیع پسندی کے اس منصوبے پر اپنے عدم اعتماد کا اظہارکیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ دراصل مقبوضہ علاقے کو ’’ سرکاری زمین‘‘ قرار دینے کا مطلب اس پر اپنا مکمل قبضہ کر کے نئی یہودی بستیاں بسانے کا منصوبہ ہے جو ان کے نزدیک قطعاً قابل قبول نہیں۔
جن ممالک نے اس منصوبے کے خلاف آواز اٹھائی ہے اس میں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، مصر، اردن، انڈونیشیا اور قطر شامل ہیں۔ گویا مسلم دنیا کے بااثر ممالک اس ملوکیت پسندانہ اقدام کی مخالفت پرکمر بستہ ہوگئے ہیں۔ ان ممالک نے اسرائیلی اقدام کے مضمرات کو سمجھنے میں دیر تو لگائی ہے مگر عقل اب آ گئی ہے اور دیر آید درست آید کے مصداق ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا ان ممالک کی مخالفت اسرائیل کو اس کی توسیع پسندی سے روک بھی سکے گی یا نہیں۔ کیونکہ امن منصوبے کے خالق امریکا کی خاموش حمایت بہرحال اسرائیل کے ساتھ ہے۔
Today News
آسمان پر 6 سیاروں کی پریڈ کا حیران کن منظر آج نظر آئے گا
نظام شمسی میں گردش کرنے والے سیاروں میں سے 6 سیارےایک قطار میں آرہے ہیں جو بیک وقت سطح زمین سے بھی نظر آئیں گے۔
یہ سیارے ایک قطار میں آئیں گے جسے planetary parade کا نام دیا جاتا ہے یہ دلچسپ اور حیران کن فلکیاتی منظر ہفتہ 28 فروری سے شروع ہوگا جو مارچ کے آغاز تک جاری رہے گا اور پاکستان میں بھی یہ فلکیاتی منظر بغیر ٹیلی اسکوپ کے ہفتے کی شام غروب آفتاب کے بعد دیکھا جاسکے گا 6 میں سے 4 سیاروں کا نظارہ بغیر کسی ٹیلی اسکوپ کے ممکن ہوگا جامعہ کراچی کے انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال کے مطابق 28 فروری کو چھ سیارے عطارد، زہرہ، مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون شام کے آسمان میں نظر آئیں گے۔
جس سے ایک نایاب “سیاروی پریڈ” (Planetary Parade) کا منظر بنے گا اس فلکیاتی نظارے کو دیکھنے کا بہترین وقت غروبِ آفتاب کے تقریباً 30 منٹ بعد ہوگا جب یہ سیارے مغرب سے مشرق تک آسمان میں پھیلے ہوئے ہوں گےڈاکٹر جاوید اقبال کے مطابق بغیر ٹیلی اسکوپ کے یا ننگی آنکھ سے نظر آنے والے سیاروں میں عطارد، زہرہ، زحل اور مشتری شامل ہونگے جبکہ دوربین یا ٹیلی اسکوپ کے ذریعے نظام شمسی کے ساتویں اور آٹھویں سیارے بالترتیب یورینس اور نیپچون کو بھی دیکھا جاسکے گا
انھوں نے بتایا کہ سیاروی پریڈ نامی اس نایاب فلکیاتی منظر کے بہترین مشاہدے کا دورانیہ فروری کے آخر سے مارچ کے آغاز تک ہوگا جس کے آغاز کے بعد 28 فروری اس کے عروج کی تاریخ ہوگی جبکہ دیکھنے کی سمت مغرب (عطارد، زہرہ، زحل) سے مشرق (مشتری) تک، جبکہ یورینس جنوب مغرب میں نسبتاً اوپر ہوگا
اور اگر موسمی صورتحال بہتر اور مطلع صاف رہتا ہے تو اس فلکیاتی منظر کا مشاہدہ باآسانی ہوسکے گا جامعہ کراچی کی رصد گاہ سے بھی یہ منظر دیکھا جائے گا ۔
-
Tech2 weeks ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
3 Reasons The Galaxy S26 Ultra Plays It Safe (And Why It Might Work)
-
Entertainment2 weeks ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Entertainment4 days ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech2 weeks ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Tech1 week ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Entertainment2 weeks ago
Hina Afridi Gets Emotional While Talking About Her Late Mother
-
Tech2 weeks ago
Pakistan Approves Bill to Fast-Track Internet and Mobile Network Expansion