Today News
سانحہ گل پلازہ: بچوں نے بتایا وہ ماچس سے کھیل رہے تھے ، ایس پی سٹی
ایس ایس پی سٹی ٹریفک اعجاز شیخ سندھ ہائیکورٹ میں سانحہ گل پلازہ کمیشن کے روبرو پیش ہوگئے۔
ایس ایس پی ٹریفک اعجاز شیخ نے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے حوالے سے بنے کمیشن کو بیان میں بتایا کہ ہم نے بچوں کو بلایا اور بیانات لیے، انہوں نے بتایا وہ ماچس سے کھیل رہے تھے کہ اسی دوران آگ بھڑک اٹھی۔
ایس ایس پی سٹی ٹریفکؤ نے بتایا کہ جب وہاں پہنچا تو دیکھامین روڈ والی سائیڈ پر آگ بڑی شدت سے لگی ہوئی تھی، آگ کے بارے میں بتایا گیا کہ آگ بہت تیزی سے پھیل رہی ہے، ڈی سی آفس والی سائیڈ سے آگ زیادہ نہیں تھی لوگ وہاں سے سامان نکال رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ تین سائیڈ سے پولیس کی نفری لگا کر لوگوں کو روکا، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے تینوں سائیڈز کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
اعجاز شیخ کا کہنا تھا بتایا گیا کہ دو بچے ماچس سے کھیل رہے تھے، ہم نے بچوں کو بلایا اور ان کے بیانات لیے، انہوں نے بتایا کہ وہ کھیل رہے تھے، یہ چیزین انکوائری کا حصہ ہیں۔
ایس ایس پی سٹی نے کمیشن کو بتایا کہ آگ لگنے کی وجہ بچوں کا ماچس سے کھیلنا اور آگ پکڑنے والی اشیا ہیں، وہاں بلینکٹ، کپڑے، پھول تھے جو ٹشو سے بنتے ہیں، اسپرے وغیرہ بھی ہوتے ہیں۔
کمیشن نے کہا بیسمنٹ کی سی سی ٹی وی ہم سے شئیر کریں، ہمیں بتایا گیا آگ سے پہلے دھواں پھیلا اور پھر آگ؟ جس پر اعجاز شیخ کا کہنا تھا پلازہ کے 17 دروازوں میں سے 4 کھلے ہوئے تھے، دروازے کھولنا ایسوسی ایشن کا کام تھا وہ دکانوں سے پیسے لیتے ہیں، چوکیدار رکھے ہوئے ہیں، ایسوسی ایشن والے سب سے پہلے چوکیداروں کو کہتے کہ دروازے کھولیں۔
ایس ایس پی ٹریفک کا کہنا تھا میرا کام لوگوں کو ریسکیو کام کے راستے سے دور رکھنا تھا، اندر کتنے لوگ ہیں ہمیں اس کا اندازہ نہیں تھا، دروازے کھولنے کا کسی نے نہیں کہا، یہ ایسوسی ایشن کی ذمے داری تھی، عام دنوں میں 10 بجے گل پلازہ کے دروازے بند کر دیتے ہیں، رمضان یا عید کی وجہ سے ٹائم بڑھایا ہوا تھا، ایسوسی ایشن کو انتظامات کرنے چاہیے تھے۔
ان کا کہنا تھا ریسکیو میں کوئی مسائل نہیں ہوئے، ریسکیو کے کام میں لوگوں کی وجہ سے کوئی مسئلہ نہیں ہوا، ایک ماہ پہلے گرین لائن کا کام شروع ہوا، گل پلازہ کی ایک طرف روڈ 12 فٹ اور دوسری طرف 15 فٹ ہے، ہمارے پاس شہر بھر میں 5200 کی نفری ہے، جب واقعہ پیش آیا تو مختلف جگہوں پر ہماری نفری موجود تھی۔
Today News
امریکا کے سابق وزیر خزانہ ایپسٹین جنسی اسکینڈل میں نام آنے پر مستعفی
امریکا کے سابق وزیرِ خزانہ لیری سمرز ایپسٹین سے تعلقات کے معاملے پر ہارورڈ یونیورسٹی میں عہدہ چھوڑنے کا اعلان کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق لارنس ہنری سمرز امریکا کے سابق وزیرِ خزانہ اور ہارورڈ یونیورسٹی کے سابق صدر بھی رہ چکے ہیں۔
انھوں نے اپنے تعلیمی عہدوں سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی نے اعلان کیا ہے کہ سمرز اپنی پروفیسر شپ اور تمام اکیڈمک عہدوں سے اس تعلیمی سال کے اختتام پر ریٹائر ہو جائیں گے۔
وہ نو نومر مورساوار-رحمانی سنٹر فار بزنس اینڈ گورنمنٹ میں اپنے لیڈرشپ کے عہدے سے بھی مستعفی ہو چکے ہیں۔
یہ اقدام بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلقات سے متعلق سامنے آنے والے دستاویزات کے بعد سامنے آیا ہے۔
سمرز نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ مشکل فیصلہ تھا اور انھوں نے اپنی 50 سال سے زیادہ کی تعلیمی خدمات کے دوران طالب علموں اور ساتھیوں کے ساتھ کام کرنے کے لیے اپنی قدردانی کا اظہار کیا ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ وہ تحقیق، تجزیے اور عالمی اقتصادی مسائل پر تبصرے کے ذریعے مستقبل میں اپنی شراکت جاری رکھیں گے۔
یاد رہے کہ سمرز نے کلنٹن انتظامیہ کے دوران امریکا کے وزیرِ خزانہ کے طور پر خدمات انجام دیں جب کہ بعد میں انھوں نے ہارورڈ یونیورسٹی کے صدر کے طور پر پانچ سال کام کیا۔
ان کا نام ایپسٹین فائلز میں اس لیے سامنے آیا تھا کیونکہ ایپسٹین نے ہارورڈ کو بڑی رقم کے عطیات دیے تھے، جس کے بعد سمرز اور ایپسٹین کے درمیان متعدد خط و کتابت ظاہر ہوئی۔
اس سے قبل سمرز نے OpenAI کے بورڈ سے بھی استعفیٰ دیا تھا جبکہ انہیں امریکی اکنامک ایسوسی ایشن نے عمر بھر کے لیے پابندی عائد کی تھی جس کا تعلق بھی ایپسٹین فائلز میں سامنے آنے والی معلومات سے تھا۔
Today News
بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل؛ ہلیری کلنٹن کی ایوانِ نمائندگان کے پینل کے سامنے پیشی
امریکا کی سابق وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن ایوانِ نمائندگان کی ایک کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گی جو بدنامِ زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے جرائم کی تحقیقات کر رہی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ہلیری کلنٹن نے حال ہی میں اپنے شوہر اور سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے ساتھ مل کر ہاؤس اوور سائٹ کمیٹی کے سامنے بیان ریکارڈ کرانے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
اس سے قبل دونوں میاں بیوی ان طلبیوں کی مخالفت کرتے رہے تھے اور انہیں سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیتے تھے تاہم بیان دینے پر آمادگی کے بعد ان کے خلاف کانگریس کی توہین کی ممکنہ کارروائی ٹل گئی۔
کلنٹن جوڑے نے کمیٹی کے ری پبلکن سربراہ جیمز کومر پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ اس معاملے کو جماعتی سیاست کے تحت چلا رہے ہیں۔
کلنٹن خاندان کا مؤقف تھا کہ یہ سمن محض سیاسی مخالفین کو شرمندہ کرنے کی کوشش ہیں اور انھوں نے پہلے ہی ایپسٹین سے متعلق محدود معلومات پر مبنی حلفیہ بیانات جمع کرا دیے تھے۔
اس کے برعکس جیمز کومر کا کہنا ہے کہ کلنٹن جوڑے سے بیان لینا ایک دو جماعتی کوشش ہے، جس کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں۔
ہلیری کلنٹن کا کہنا ہے کہ انھیں جنسی ریکٹ کے سرغنہ جیفری ایپسٹین سے ملاقات یا گفتگو یاد نہیں ہے تاہم بل کلنٹن تسلیم کرتے ہیں کہ وہ ایپسٹین کو جانتے تھے البتہ انھوں نے کسی بھی غیر قانونی عمل یا ایپسٹین کے جرائم سے آگاہی کی تردید کی۔
بل کلنٹن کا کہنا ہے کہ انھوں نے دو دہائیاں قبل ہی ایپسٹین سے تعلقات ختم کر دیے تھے اور اب اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ کبھی ان سے وابستگی رہی۔
بل کلنٹن سے علیحدہ طور پر جمعہ کے روز بیان ریکارڈ کیے جانے کی توقع ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی محکمۂ انصاف نے ایپسٹین سے متعلق تحقیقات میں سامنے آنے والے دستاویزات مرحلہ وار جاری کیے ہیں۔
ان فائلوں میں کئی معروف شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں، جن میں موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شامل ہیں۔
تاہم حکام کے مطابق ان دستاویزات میں نام آنا کسی بھی فرد کے خلاف جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں۔
Today News
عمران خان، بشریٰ بی بی کی 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی درخواست 11 مارچ کو سماعت کےلیے مقرر
اسلام آباد ہائی کورٹ 11 مارچ کو سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا معطل کرنے کی درخواستوں کی سماعت کرے گی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستوں کو جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے سے متعلق متفرق درخواست پر سماعت ہوئی۔
190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان، بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستوں کو جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے سے متعلق متفرق درخواست پر سماعت ہوئی۔
سماعت سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل بینچ نے کی۔ دورانِ سماعت بیرسٹر سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے حامی وکلاء کو اپنی نشستوں پر بیٹھنے کی ہدایت کی۔
عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی درخواستیں 11 مارچ کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے جلد سماعت کی متفرق درخواست پر احکامات جاری کر دیے۔ عدالت نے بانی اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی درخواستیں جلد سننے کی استدعا منظور کر لی۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا مسئلہ ہے اور بشریٰ بی بی خاتون ہیں، ایک سال سے سزا معطلی کی درخواستیں زیر التواء ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کو آنکھ کے علاج کے لیے ہسپتال لایا جا رہا ہے، پانچ بار متفرق درخواستیں دائر کی جا چکی ہیں اور استدعا ہے کہ کیسز سنے جائیں۔
عدالت نے استفسار پر کہا کہ تاریخ بعد میں دی جائے گی، جس پر بیرسٹر سلمان صفدر نے رمضان میں ضمانتوں کو ترجیحی بنیادوں پر سننے کا حوالہ دیا۔ عدالت نے کیلنڈر دیکھنے کے بعد کیس 11 مارچ کے لیے مقرر کرنے کا اعلان کیا۔
-
Tech2 weeks ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
3 Reasons The Galaxy S26 Ultra Plays It Safe (And Why It Might Work)
-
Entertainment2 weeks ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Entertainment4 days ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech2 weeks ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Tech1 week ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Entertainment2 weeks ago
Hina Afridi Gets Emotional While Talking About Her Late Mother
-
Tech2 weeks ago
Pakistan Approves Bill to Fast-Track Internet and Mobile Network Expansion