Today News
سرحد پار دہشت گردی پر فیصلہ کن جواب
پاکستان کی جانب سے انٹیلی جنس بیسڈ فضائی حملوں میں افغانستان کے تین صوبوں ننگر ہار، پکتیکا اور خوست میں موجود ٹی ٹی پی اور داعش خراساں کے سات مراکز کو تباہ کیا گیا جس میں 80سے زائد شدت پسند مارے گئے ہیں۔ دوسری جانب سیکیورٹی فورسز نے پشین میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے خود کش حملہ آور سمیت فتنہ الخوارج کے5 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔
حالیہ کارروائی خطے کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال، پاک افغان تعلقات کی نزاکت اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جاری جدوجہد کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت اختیار کرچکی ہے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دولت اسلامیہ صوبہ خراسان گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کی داخلی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
ان تنظیموں نے نہ صرف سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا بلکہ مساجد، امام بارگاہوں، بازاروں اور عوامی مقامات پر حملوں کے ذریعے خوف کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی۔ حالیہ مہینوں میں خودکش حملوں اور بم دھماکوں میں اضافہ دیکھا گیا، جن میں متعدد سیکیورٹی اہلکار اور عام شہری شہید ہوئے۔ حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے تانے بانے سرحد پار موجود نیٹ ورکس سے ملتے ہیں اور ان کے سہولت کار افغانستان کی سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔
افغانستان میں قائم عبوری حکومت، جسے وہ اسلامی امارت افغانستان کے نام سے موسوم کرتے ہیں، پر پاکستان کی جانب سے بارہا زور دیا گیا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ اگر کوئی ریاست اپنی سرزمین پر موجود عناصر کو ہمسایہ ملک کے خلاف کارروائیوں سے روکنے میں ناکام رہتی ہے تو متاثرہ ملک کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔
یہ مؤقف بین الاقوامی قانون میں موجود حقِ دفاع کے اصول سے جڑا ہوا ہے، تاہم اس کی عملی تعبیر ہمیشہ پیچیدہ اور حساس ہوتی ہے۔پاک افغان تعلقات کی تاریخ اتار چڑھاؤ سے بھرپور رہی ہے۔ سوویت دور سے لے کر نائن الیون کے بعد کی عالمی جنگ تک، افغانستان مسلسل عالمی طاقتوں کی کشمکش کا میدان بنا رہا۔ اس طویل عدم استحکام کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوئے۔
لاکھوں افغان مہاجرین کی آمد، سرحدی علاقوں میں اسلحے اور منشیات کا پھیلاؤ اور شدت پسند گروہوں کی مضبوطی نے پاکستان کی داخلی سیکیورٹی کو متاثر کیا۔ پاکستان نے مختلف ادوار میں افغانستان میں مفاہمتی عمل کی حمایت کی، مذاکرات کی سہولت کاری کی اور عالمی برادری پر زور دیا کہ افغانستان کو تنہا نہ چھوڑا جائے، مگر زمینی حقائق آج بھی پیچیدہ ہیں۔
دوحہ معاہدے کے بعد جب امریکی افواج کا انخلا ہوا اور طالبان نے اقتدار سنبھالا تو پاکستان سمیت خطے کے کئی ممالک کو امید تھی کہ افغانستان میں استحکام آئے گا اور سرحد پار دہشت گردی میں کمی ہوگی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ خدشات بڑھنے لگے کہ کچھ شدت پسند گروہ نئی صورت حال سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے بارہا یہ کہا گیا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے عناصر افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں رکھتے ہیں، اگر یہ دعویٰ درست ہے تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ خود افغانستان کے لیے بھی خطرے کی علامت ہے، کیونکہ غیر ریاستی مسلح گروہوں کی موجودگی کسی بھی ریاست کی رٹ کو کمزور کرتی ہے۔
حالیہ فضائی کارروائی کو اسی پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیے گئے اور اہداف کا انتخاب انتہائی احتیاط سے کیا گیا تاکہ عام شہریوں کو نقصان نہ پہنچے۔ اگر افغانستان کی عبوری حکومت اس پر سخت ردعمل ظاہر کرتی ہے تو دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ عسکری اقدامات کے ساتھ ساتھ سفارتی رابطے بھی جاری رہیں تاکہ غلط فہمیوں اور تصادم کے امکانات کم کیے جا سکیں۔
دوسری جانب یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دے چکا ہے۔ ہزاروں سیکیورٹی اہلکار اور شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا، اور سرمایہ کاری کا ماحول متاثر ہوا۔ ضرب عضب اور رد الفساد جیسے آپریشنز کے ذریعے ریاست نے دہشت گردی کے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا، مگر مکمل خاتمہ ابھی باقی ہے۔ دہشت گردی ایک ایسی لعنت ہے جو بدلتی ہوئی حکمت عملی کے ساتھ دوبارہ سر اٹھا سکتی ہے، اس لیے مسلسل چوکسی ناگزیر ہے۔
اسی تسلسل میں سیکیورٹی فورسز نے پشین میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے خودکش حملہ آور سمیت فتنہ الخوارج کے پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ یہ کارروائیاں اس عزم کی عکاسی کرتی ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ بلا امتیاز جاری رہے گی۔ دہشت گردی کا مسئلہ صرف بندوق سے حل نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے نظریاتی، سماجی اور معاشی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں، اگر نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور مثبت سرگرمیوں کے مواقع میسر نہ ہوں تو شدت پسند بیانیہ انھیں آسانی سے متاثر کر سکتا ہے۔ اس لیے ریاست کو ایک جامع حکمت عملی اپنانا ہوگی جس میں تعلیمی اصلاحات، نفرت انگیز تقاریر کے خلاف سخت اقدامات اور سوشل میڈیا پر شدت پسند پروپیگنڈے کی روک تھام شامل ہو۔
نیشنل ایکشن پلان کو بھی محض کاغذی دستاویز کے بجائے عملی فریم ورک بنانا ہوگا۔ کالعدم تنظیموں کے نام بدل کر کام کرنے کی روایت کا خاتمہ، دہشت گردوں کی مالی معاونت کے ذرائع مسدود کرنا اور عدالتی نظام کو مؤثر بنانا بنیادی تقاضے ہیں، اگر گرفتار دہشت گرد ثبوتوں کی کمی یا قانونی پیچیدگیوں کے باعث چھوٹ جاتے ہیں تو دہشت گردی کے خلاف دی جانے والی قربانیاں رائیگاں جانے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کو متحرک سفارت کاری کی ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر یہ معاملہ اٹھایا جا سکتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی ہو رہی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ افغانستان کو عالمی تنہائی سے نکالنے کے لیے ایسی شرائط طے کی جائیں جن میں دہشت گردی کے خلاف واضح اور قابل تصدیق اقدامات شامل ہوں، اگر افغانستان معاشی بدحالی اور سفارتی تنہائی کا شکار رہے گا تو وہاں غیر ریاستی عناصر کے لیے جگہ پیدا ہوتی رہے گی۔
یہ امر بھی قابل غور ہے کہ سرحد پار کشیدگی کا اثر دونوں ممالک کے عوام پر پڑتا ہے۔ سرحدی تجارت متاثر ہوتی ہے، قانونی آمد و رفت میں رکاوٹیں آتی ہیں اور بداعتمادی بڑھتی ہے۔ اس لیے ایک متوازن حکمت عملی ضروری ہے جس میں سختی اور لچک دونوں شامل ہوں۔جہاں دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی ہو،وہاں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری پر بھی توجہ مرکوز رہنی چاہیے۔
ریاست کا بنیادی فریضہ اپنے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہے، ایسے شواہد موجود ہیں کہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کی منصوبہ بندی سرحد پار سے ہو رہی ہے لہٰذا اس کا سدباب ناگزیر ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ پائیدار امن کے لیے دہشت گردوں کے خاتمے کے ساتھ ساتھ سیاسی بصیرت، معاشی استحکام اور علاقائی تعاون کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔
پاکستان کو داخلی طور پر سیاسی استحکام، معاشی بہتری اور قومی یکجہتی کو فروغ دینا ہوگا تاکہ دشمن عناصر کو دراڑیں تلاش کرنے کا موقع نہ ملے۔پاکستانی قوم نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ ریاست ایک مربوط، شفاف اور طویل المدتی حکمت عملی اختیار کرے۔ عسکری کارروائیاں اپنی جگہ ضروری ہیں، مگر ان کے ساتھ ساتھ فکری محاذ پر بھی کام کرنا ہوگا۔ انتہا پسندانہ سوچ کا مقابلہ دلیل، تعلیم اور سماجی انصاف کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ شدت پسند بیانیے کے خاتمے کے لیے ایک منصفانہ، شفاف اور مضبوط معاشرہ تشکیل دینا ہوگا۔
موجودہ حالات میں ضروری ہے کہ جذباتیت کے بجائے سنجیدگی سے کام لیا جائے۔ پاکستان کو واضح پیغام دینا ہوگا کہ اس کی سرزمین پر دہشت گردی برداشت نہیں کی جائے گی اور اگر سرحد پار سے خطرہ ہو تو اس کا جواب دیا جائے گا۔ ساتھ ہی یہ دروازہ بھی کھلا رکھنا ہوگا کہ افغانستان کے ساتھ مل کر ایک ایسا نظام بنایا جائے جس میں دونوں ممالک کی سلامتی یقینی ہو۔آخرکار، یہ جنگ صرف سرحدوں کی نہیں بلکہ بیانیے کی بھی ہے، اگر ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک پرامن، مستحکم اور ترقی یافتہ پاکستان دینا چاہتے ہیں تو ہمیں دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ عسکری کامیابیاں اہم ہیں، مگر اصل کامیابی تب ہوگی جب دہشت گردی کا ناسور ہمیشہ کے لیے ختم ہو اور خطہ امن، تعاون اور ترقی کی راہ پرگامزن ہو۔ یہی وقت کا تقاضا ہے اور یہی قومی مفاد۔
Today News
امدادی تقریب میں مسلمان خواتین کو صاف انکار، بھارت میں نئی بحث چھڑ گئی
نئی دہلی: بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ریاست راجستھان میں ایک امدادی پروگرام کے دوران چند مسلمان خواتین کو مبینہ طور پر امدادی سامان دینے سے انکار کر دیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بی جے پی کے مقامی رہنما سکبھیر سنگھ ایک تقسیمِ کمبل پروگرام میں شریک تھے۔
اخبار کے مطابق متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ جب منتظمین کو ان کے مسلمان ہونے کا علم ہوا تو انہیں امدادی فہرست سے الگ کر دیا گیا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ رہنما نے مبینہ طور پر کہا کہ جو لوگ وزیر اعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، انہیں امدادی سامان لینے کا حق نہیں۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا اور مقامی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں، کے خلاف بڑھتے ہوئے تعصب اور نفرت انگیز واقعات تشویش کا باعث ہیں۔ تاہم اس معاملے پر متعلقہ رہنما یا حکام کی جانب سے باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایسے واقعات ملک میں سماجی ہم آہنگی کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کے کارکنان شفاف تحقیقات اور مساوی سلوک کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
Today News
کیا طالبان دور میں افغانستان عالمی تنہائی کا شکار ہو گیا؟ افغان جریدے کا بڑا دعویٰ
کابل: افغان جریدے ہشت صبح نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ طالبان حکومت کو دہشتگرد تنظیموں کی مبینہ سرپرستی کے باعث سفارتی اور عسکری سطح پر مشکلات کا سامنا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض طالبان حکام بالواسطہ طور پر افغانستان میں شدت پسند عناصر کی موجودگی کا اعتراف کر چکے ہیں۔
جریدے کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سرحدی بندشوں کے باعث افغانستان کو معاشی دباؤ کا سامنا ہے، جس سے ادویات اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کسی بھی ہمسایہ ملک کے ساتھ براہ راست عسکری تصادم افغانستان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب تک طالبان اقتدار میں رہیں گے، افغانستان کو عالمی سفارتکاری میں چیلنجز کا سامنا رہے گا۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان میڈیا اور عوام بھی ملک میں شدت پسند گروہوں کی موجودگی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
علاقائی تجزیہ کاروں کے مطابق سرحد پار حملوں اور سیکیورٹی خدشات کے باعث خطے میں کشیدگی برقرار ہے، جس کے اثرات ہمسایہ ممالک سمیت پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔ تاہم طالبان حکومت کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
Today News
پاکستان ٹی 20 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں کیسے پہنچ سکتا ہے؟ اگر مگر کا کھیل شروع
کراچی:
پاکستان کے ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے سیمی فائنل تک رسائی کے امکانات معدوم ہوگئے ہیں مگر مکمل ختم نہیں ہوئے۔
انگلینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد پاکستان کو اپنے آخری میچ میں فتح حاصل کرنا ہوگی اور دیگر میچوں کے نتائج بھی پاکستان کے حق میں جانے چاہئیں۔
پاکستان سپر 8 مرحلے کا اپنا آخری میچ 28 فروری کو سری لنکا کے خلاف کھیلے گا۔ اس وقت پاکستان کے پاس ایک پوائنٹ ہے جبکہ انگلینڈ نے پہلے ہی سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔
پاکستان کو سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے سری لنکا کو شکست دینا ضروری ہے تاکہ تین پوائنٹس مکمل ہو جائیں۔ تاہم صرف جیت کافی نہیں، نیوزی لینڈ کے نتائج بھی اہم ہوں گے۔ اگر نیوزی لینڈ دونوں بقیہ میچ ہار دیتا ہے تو پاکستان دوسرے نمبر پر سیمی فائنل میں جگہ بنا سکتا ہے۔
اگر پاکستان جیت جاتا ہے لیکن نیوزی لینڈ ایک میچ جیت لیتا ہے تو دونوں ٹیمیں تین تین پوائنٹس پر پہنچیں گی اور سیمی فائنل کی جگہ نیٹ رن ریٹ کے حساب سے ملے گی۔
دوسری طرف اگر پاکستان سری لنکا سے ہار جاتا ہے یا میچ ملتوی ہو جاتا ہے تو وہ سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو جائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سپر 8 کے دیگر گروپ میں انگلینڈ نے پہلے ہی سیمی فائنل کے لیے جگہ یقینی بنا لی ہے، اس لیے پاکستان کے امکانات اب اپنے آخری میچ اور نیٹ رن ریٹ پر منحصر ہیں۔
-
Tech2 weeks ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Entertainment2 weeks ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech2 weeks ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Tech2 weeks ago
3 Reasons The Galaxy S26 Ultra Plays It Safe (And Why It Might Work)
-
Tech2 weeks ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Entertainment3 days ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech1 week ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Entertainment2 weeks ago
Heartbreaking Moment as Army Martyr’s Father Faints Receiving Son’s Belongings