Today News
قیام امن کی خیر ہو
صدر ٹرمپ کی دنیا میں امریکی بالادستی کا فلسفہ اب کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ اب تک امریکا مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی بالادستی کے قیام کی بالواسطہ کوششیں کرتا رہا تھا، اب تکلیف کی ضرورت باقی نہیں رہی چنانچہ امریکا نے کھل کھلا کر اسرائیل کو انتہائی جدید اور مہلک ہتھیاروں سے لیس کر کے اپنا پٹھا بنا کر مغربی کنارے پر مسلط کرنا شروع کیا، چنانچہ اسرائیل اب مغربی کنارے کے فلسطینی حصے میں یہودی آبادیاں بسانے میں کامیاب ہوگیا اور جب امریکا نے محسوس کیا کہ فلسطینیوں کی سرکوبی اور بربادی مناسب طور پر انجام پا چکی ہے تو یہی آمریت سراپا شخص انسانی ہمدردی کا لبادہ اوڑھ کر اب اپنے بغل بچے اسرائیل کے تباہ کردہ غزہ کے علاقے کی دوبارہ آبادکاری کے لیے کمربستہ ہو گیا۔
خیال رہے کہ اس پوری مہم جوئی میں جہاں صدر ٹرمپ اسرائیل کی سرپرستی کرتے رہے اسے ہر قسم کی امداد فراہم کر کے اس کے بے رحمانہ اور غیر انسانی اقدامات پر نہ صرف خاموش تماشائی بنے رہے بلکہ اس کی کھلم کھلا حمایت فرماتے رہے اور جب ان کے خیال میں غزہ کی اینٹ سے اینٹ بجائی جا چکی تو ان کے اندر نہ جانے کہاں سے انسانیت جاگ اٹھی۔
اب وہ رعونت کے ساتھ غزہ کی تباہی کی دھمکیاں چھوڑ کر اس کی ازسر نو آبادکاری کے چیمپئن بنے بیٹھے ہیں اور غزہ امن بورڈ قائم کرکے اس کے خودساختہ صدر بن گئے ہیں۔
گرگٹ کی طرح بدلتے ہوئے اس انداز سیاست کے دوران ایک طرف وہ ایران سے جنگی زبان میں گفتگو کرتے رہے، وہیں پاکستان کی مدح سرائی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ انھوں نے عوامی جلسوں میں پاکستان کی تعریف کی۔پاکستان کی یہ تعریف و توصیف بے معنی نہ تھی۔ پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور اس کے منہ آنا مصلحت کے خلاف تو ہے ہی اس سے خود امریکا کو بھی نقصان کا خدشہ تھا۔ مگر سب سے بڑی بات یہ تھی کہ امریکا پاکستان کو اپنے جال میں پھانس کر اس کی قوت توانائی کو زائل کرنا چاہتا تھا مگر پاکستان بھی اپنے کارڈ بڑی دانش مندی سے کھیل رہا ہے اور اپنا امیج بہتر بنا رہا ہے۔
غزہ امن بورڈ کے قیام کا اعلان ہوتے ہی بین الاقوامی ماحول میں ہلچل کی کیفیت پیدا ہوئی۔ کچھ لوگ امریکی موقف سے خوفزدہ ہوکر اس کے ساتھ شامل ہونے سے گریزاں تھے مگر ’’ امن بورڈ‘‘ کا نام ایسا تھا کہ اس سے علیحدگی بھی ان کے لیے مفید نہیں تھی۔ پاکستان بھی ہچکچاہٹ کا شکار رہا مگر یہاں امریکی صدر کی پاکستان سے غیر ضروری ہمدردی اور اس کی توصیف و تعریف کام کر گئی۔ کافی غور و خوض کے بعد پاکستان نے امن بورڈ کے قیام میں شامل ہونے کی حامی بھر لی۔
مگر پاکستان نے اپنی چند شرائط بیان کیں اورکہا کہ وہ ان شرائط کے ساتھ امن بورڈ میں شامل ہوگا۔ وہ شرائط کچھ اس قسم کی تھیں کہ اسرائیل غزہ کی پٹی پر غیر قانونی قبضے سے دست بردار ہو اور اہل غزہ کو ان کے علاقوں میں ازسرنو آباد کیا جائے اور اہل غزہ کی نسل کشی روکنے کی ضمانت دی جائے۔
یہ سب کچھ پاکستانی مطالبات تھے ، ان پر عمل ہوگا یا نہیں یہ تو امن بورڈ آگے چل کر طے کرے گا کیونکہ اس وقت ان مطالبات پر عمل درآمد کی گارنٹی دینے والی کوئی طاقت موجود نہیں اور جو آگے چل کر سامنے آئے گی وہی تو اہل غزہ کی تباہی و بربادی اور فلسطینی ریاست کے قیام کا سب سے بڑا روڑا ہے۔
بہرحال پاکستان صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کی حمایت اور امریکا سے اپنے تعلقات بہتر بنا رہا ہے، اس نے غزہ امن بورڈ میں شمولیت کا مشروط اعلان کر دیا، فی الوقت ان شرائط کے رد و قبول کرنے کی کوئی اتھارٹی موجود نہیں۔ ادھر صدر ٹرمپ اہل غزہ کی سرکوبی کرنے کے بعد اب امن کے پیامبر بنے بیٹھے ہیں۔ نو سو چوہے مکمل ہو گئے اب بلی حج کو چل پڑی۔
روس اور چین نے امن بورڈ کے قیام کے سلسلے میں بہت محتاط رویہ رکھا ہے وہ نہ اس بورڈ سے علیحدہ رہے ہیں نہ اس میں شامل ہوئے ہیں بلکہ بددلی کے ساتھ اس میں شرکت کر رہے ہیں۔
امن بورڈ کا پہلا اجلاس 14 فروری کو واشنگٹن میں ہو رہا ہے۔ گویا طے ہو گیا کہ اہل غزہ کی قسمت کے فیصلے اب واشنگٹن میں ہوا کریں گے۔ روس نے بورڈ کے پہلے اجلاس میں شرکت سے معذرت کر لی ہے۔ چین ویسے ہی بددلی کا شکار ہے، گویا۔
پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے
جہاں تک مسلم ممالک کا تعلق ہے مشرق وسطیٰ کی چھوٹی بڑی ریاستیں کسی گنتی شمار میں نہیں اور وہ پہلے سے امریکا کی باج گزار ہیں۔ ترکیہ اور پاکستان کی آواز کی اہمیت ہو سکتی تھی سو ترکیہ کا ہمیں علم نہیں، پاکستان صدر ٹرمپ کی تعریف و توصیف سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔امریکا سے بہتر تعلقات کے باعث خطے میں پاکستان کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری طرف تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ایسی یک طرفہ فضا میں کیا اہل غزہ پھر سے آباد ہو سکیں گے، کیا ان کے وطن پر اسرائیل کی دست درازیاں ختم ہو سکیں گی؟ جب کہ جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیل جنگ بندی کی درجنوں خلاف ورزیاں کر چکا ہے اور صدر امریکا سمیت کسی نے اس سے نہیں پوچھا کہ جنگ بندی کس چڑیا کا نام ہے۔ اب یہ نام نہاد امن بورڈ کا قیام امن کا ضامن ہوگا یا اہل غزہ کی محرومیوں پر کیل نہیں سریے ٹھونکنے کا سبب بنے گا؟
Today News
عتیقہ اوڈھو کا فہد مصطفیٰ کو جواب، اداکار نے بھی لائیو پروگرام میں ردعمل دیدیا
نجی ٹی وی پروگرام میں اداکارہ عتیقہ اوڈھو نے میزبان کی جانب سے پروگرام کے ایک سیگمنٹ کے دوران فہد مصطفیٰ سے متعلق بات کہی جس پر اداکار نے اپنے پروگرام میں رد عمل دیا جو وائرل ہوا۔
بعد ازاں، اداکارہ نے انسٹاگرام پوسٹ کے ذریعے معاملے کو رفع دفع کرنے کی اپیل کرتے ہوئے اپنے الفاظ پر معذرت بھی کی، جس پر فہد مصطفیٰ نے اپنے پروگرام سے ایک اور پیغام جاری کردیا۔
View this post on Instagram
پروگرام کے دوران میزبان تابش ہاشمی نے عتیقہ اوڈھو کو فہد مصطفیٰ کی تصویر دکھاکر کہا آپ انہیں کوئی ایک مشورہ دینا چاہیں گی؟
جس پر اداکارہ نے جواب دیا کہ فہد کو اب اپنی عمر کی اداکاراؤں کے ساتھ یعنی خواتین کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔
جس پر اداکار ومیزبان فہد مصطفیٰ نے اپنے پروگرام میں ہمایوں سعید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا عتیقہ آپا شاید خود ہماری ہیروئن بننا چاہتی ہیں، ان سے کہنا چاہوں گا کہ آپ 2 ، 4 سرجریز مزید کروالیں پھر ہم آپ کے ہیرو بن جائیں گے۔
فہد مصطفیٰ نے عتیقہ اوڈھو سے معافی مانگ لی pic.twitter.com/7xcXFb1CGb
— Rizwan Ghilzai (Remembering Arshad Sharif) (@rizwanghilzai) February 25, 2026
جس کے جواب میں سینیئر اداکارہ نے اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں درخواست کی ’ آئیے اس معاملے کو مزید نہ بڑھائیں اور ساتھ یہ بھی کہا کہ فہد ایک باصلاحیت اور محنتی پروفیشنل ہیں۔
عتیقہ اوڈھو نے اپنی پوسٹ میں لکھا ’ایک حالیہ انٹرویو میں ان کا تبصرہ شاید فہد مصطفیٰ کے جذبات کو ٹھیس پہنچاگیا جس پر انھوں نے جذباتی ردِعمل دیا ہے۔
He is body shaming others. He who injected and ingested every possible chemical to his body to make his skin not look like his father https://t.co/7Vg7UvVz5E pic.twitter.com/ZiaFpXHyZw
— O T I S (@Vesimeer) February 24, 2026
سینئر اداکارہ نے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے لکھا کہ اگر میری کسی بات سے فہد مصطفیٰ یا کسی اور کو دکھ پہنچا ہے تو وہ معذرت خواہ ہیں۔
بعد ازاں، فہد مصطفیٰ نے اپنے پروگرام میں کہا ’وہ رشتہ ہی کیا جس میں انا ہی رہے، خوبصورتی تو ہے جب آجائے معافی‘۔
ان کا مزید کہنا تھا ’عتیقہ آپا آپ ہماری بڑی ہیں، ہم آپ سے بہت پیار کرتے ہیں اور آپ پاکستان کی سب سے حسین عورت ہیں، ہم کچھ بھی نہیں آپ کے آگے، اللہ آپ کو خوش رکھے اور میں آپ سے معافی مانگتا ہوں‘۔
Source link
Today News
احتجاجی تحریک سے متعلق پنجاب اور کے پی کے فیصلوں پر پی ٹی آئی تقسیم
تحریک انصاف کی آئندہ احتجاجی تحریک کے حوالے سے پنجاب اور کے پی کے فیصلوں پر پی ٹی آئی تقسیم دکھائی دینے لگی۔
ذرائع کے مطابق تحریک انصاف پنجاب کے رہنماوں نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے بیانات پر تحفظات کا اظہار کر دیا۔
روپوش سینیئر رہنما نے رائے دی ہے کہ ڈائیلاگ کے بجائے رہائی فورس کا قیام پنجاب کے کارکنوں کی مشکلات میں اضافہ کرے گا۔ کے پی میں تو حکومت ہونے کی وجہ سے مشکلات کم ہے، پنجاب میں کارکن مشکل میں ہے۔
ذرائع پی ٹی آئی پنجاب کے مطابق فورس بنانے کے اعلانات تو اسیران اور روپوش رہنماؤں کی قربانیاں ضائع کرنے کے مترادف ہے۔
روپوش سیئینر رہنما نے رائے دی کہ رہائی فورس کے ذرائع احتجاج تحریک میں تشدد نہ آنے کی ضمانت کون دے گا۔ پنجاب میں گرفتاریوں اور پکڑ دھکڑ کی وجہ سے پہلے ہی کارکن خاموش ووٹرز کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
پنجاب کے اسیران پہلے ہی احتجاجی تحریک مؤخر اور فلسطین ایشو پر آل پارٹی کانفرنس کی تجویز دیں چکے ہیں۔
Source link
Today News
وفاقی وزیرِ تعلیم کا ملک بھر میں “نو چائلڈ لیفٹ بیہائنڈ” مہم کے آغاز کا اعلان
وفاقی وزیرِ تعلیم خالد مقبول صدیقی نے پریس کانفرنس میں ملک بھر میں “نو چائلڈ لیفٹ بیہائنڈ” مہم کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک بھی بچہ تعلیم کے میدان میں پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ اس مہم کے تحت تعلیمی اداروں کی تعداد، ان کی حالت اور سہولیات کا جامع جائزہ لیا جائے گا۔ عمارتوں کی کمی کی صورت میں مساجد اور گھروں میں بھی تعلیم کا انتظام کیا جائے گا، جبکہ اسلام آباد اور گرد و نواح میں 100 فیصد بچوں کا اسکول میں داخلہ یقینی بنایا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 25-A پر مکمل عملدرآمد حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اسکولوں سے باہر بچوں کے لیے “فیڈرل ایکشن پلان 2025-2030” تیار کر لیا گیا ہے، جس کے تحت گھر گھر جا کر بچوں کی نشاندہی اور میپنگ کی جائے گی، اسکولوں میں سیکنڈ شفٹ متعارف کرائی جائے گی، متبادل تعلیمی راستے اور ایکسلریٹڈ لرننگ پروگرامز فراہم کیے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل ڈیش بورڈز کے ذریعے داخلوں اور حاضری کی شفاف نگرانی ہوگی، تاکہ غربت اور جغرافیائی دوری تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔ والدین، اساتذہ اور میڈیا کو اس قومی مشن میں حکومت کا ساتھ دینا ہوگا کیونکہ تعلیم ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ جب انہیں وزارت ملی تو تعلیمی اعداد و شمار تشویشناک تھے، جس پر انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو تعلیمی ایمرجنسی سے آگاہ کیا۔ ان کے مطابق دیہی علاقوں میں تعلیم کے رجحان کو بڑھانے اور سماجی سوچ میں تبدیلی ایک بڑا چیلنج ہے، جس کے لیے گلی محلوں تک پہنچنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اس مہم کو علامتی نہیں بلکہ عملی اور وقت کی پابند بنائے گی اور زیادہ سے زیادہ وسائل بروئے کار لا کر ہر بچے کا مستقبل محفوظ کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی دعوت دی کہ وہ آؤٹ آف اسکول بچوں کے داخلے کے لیے فرنٹ فٹ پر آ کر کردار ادا کرے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ دنیا تعلیمی معیشت کی جانب بڑھ رہی ہے، اور پاکستان کو بھی ترقی کے اس سفر میں تعلیم کو مرکزی حیثیت دینا ہوگی۔
-
Tech2 weeks ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Entertainment2 weeks ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech2 weeks ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Tech2 weeks ago
3 Reasons The Galaxy S26 Ultra Plays It Safe (And Why It Might Work)
-
Tech2 weeks ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Entertainment3 days ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Entertainment2 weeks ago
Heartbreaking Moment as Army Martyr’s Father Faints Receiving Son’s Belongings
-
Tech1 week ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch