Connect with us

Today News

کوئٹہ ایکسپو سینٹر کی تعمیر میں تاخیر سے منصوبے کی لاگت میں دگنے اضافے کا انکشاف

Published

on



کوئٹہ میں ایکسپو سینٹر کے تعمیری منصوبے میں تاخیر کے باعث اب لاگت بڑھ کر 4.8 ارب روپے تک پہنچ گئی۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا محمد جاوید حنیف کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں کوئٹہ ایکسپو سینٹر کی تعمیری لاگت میں دوگنا اضافے کا انکشاف ہوا۔

وزارت تجارت کے حکام نے بتایا کہ 2019 میں منصوبے کی لاگت کا تخمینہ 2.4 ارب روپے تھا،  منصوبے کی نظرثانی لاگت بڑھ کر 4.8 ارب روپے سے زیادہ ہوگئی ہے۔

کمیٹی نے منصوبے پر عمل درآمد میں تاخیر اور لاگت میں اضافے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے لاگت میں اضافے کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کیلئے رپورٹ مانگ لی۔

رکن کمیٹی اسد عالم نیازی نے کہا کہ یہ منصوبہ نوگو ایریا میں بنایا جارہا ہے، کاروباری طبقہ وہاں جانے کو تیار نہیں۔

وزارت تجارت نے وضاحت کی کہ منصوبہ کوئٹہ ایسٹرن بائی پاس سبی روڈ پر تعمیر کیا جارہا ہے، بلوچستان میں دو گروپس میں تنازع کی وجہ سے منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا۔

انہوں نے کہا کہ وزارت منصوبہ بندی کی جانب سے منظوری میں تاخیر بھی لاگت بڑھنے کی وجہ بنی۔ منصوبے کیلیے وزارت تجارت نے اگلے مالی سال منصوبے کیلئے تین ارب روہے مانگ لیے۔

وزارت تجارت نے کہا کہ منصوبے کی فزیبلٹی اور زمین کی خریداری سمیت اب تک ایک ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں، نئے مالی سال بجٹ سیلنگ دیکھ کر فنڈز کا تعین کیا جائے گا۔

وزارت منصوبہ بندی نے بتایا کہ اس سال 781 ترقیاتی منصوبوں کیلئے صرف ایک ہزار ارب روپے رکھے گئے ہیں، آئی ایم ایف نے وفاقی حکومت پر صوبائی نوعیت کے منصوبوں پر پابندی لگا رکھی ہے۔

کمیٹی نے وزارت منصوبہ بندی سے تفصیلی رپورٹ مانگ لی۔

 



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

جنسی ہراسانی کا الزام پر قانونی جنگ؛ ماڈل ماہ نور اور عمر مختار آمنے سامنے

Published

on


ابھرتی ہوئی ماڈل ماہ نور رحیم نے پروڈیوسر عمر مختار پر جنسی ہراسانی کے سنگین الزامات عائد کیے تھے جس پر دونوں کے درمیان اب قانونی جنگ چھڑ گئی ہے۔

نوجوان ماڈل ماہ نور رحیم نے شوبز انڈسٹری کے معروف پروڈیوسر عمر مختار کو جواب میں قانونی نوٹس بھجوا دیا ہے۔

جس سے ایک بار پھر اس معاملے نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے بالخصوصاً شوبز کی دنیا میں جنسی جرائم پر کھل کی گفتگ کی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل ماہ نور رحیم کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں انھوں نے شوبز انڈسٹری کے ایک بااثر شخص پر نامناسب پیغامات بھیجنے اور ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے۔

اگرچہ ماہ نور نے ویڈیو میں کسی کا نام نہیں لیا تاہم سوشل میڈیا صارفین اور بعض شوبز حلقوں نے اندازہ لگایا کہ ان کا اشارہ پروڈیوسر عمر مختار کی جانب ہے۔

یہ معاملہ اُس وقت مزید طول پکڑ گیا جب کئی دیگر خواتین نے بھی سوشل میڈیا پر ماہ نور کے مؤقف کی تائید کی اور تمام اشارے عمر مختار کی جانب تھے۔

عمر مختار کا شمار پاکستان کے معروف پروڈیوسرز میں ہوتا ہے اور وہ متعدد بڑے شوبز ستاروں کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔

اس تنازع کے بعد عمر مختار کی قریبی سمجھی جانے والی اداکارہ ہانیہ عامر نے بھی خود کو پروڈیوسر سے دور کر لیا تھا جس پر سوشل میڈیا پر خاصی توجہ دی گئی۔

جس کے باعث عمر مختار نے ماڈل ماہ نور رحیم کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوا دیا تھا اور اسے اپنا باضابطہ جواب قرار دیا تھا۔

ماڈل ماہ نور رحیم بھی کب پیچھے ہٹنے والی تھیں انھوں نے بھی اپنے وکیل کے ذریعے عمر مختار کو قانونی جواب بھیجوادیا۔

جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ میرے بیانات ہتکِ عزت کے زمرے میں نہیں آتے کیونکہ وہ سچ پر مبنی ہیں۔

ماڈل ماہ نور نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ سچ بولنے کے اپنے فیصلے کو درست سمجھتی ہیں اور کسی دباؤ یا قانونی دھمکیوں سے خوف زدی ہوکر خاموش نہیں ہوں گی۔

انھوں نے اس موقع پر عوام، شوبز شخصیات اور سوشل میڈیا صارفین کا شکریہ بھی ادا کیا جنہوں نے ان کی حمایت کی اور حوصلہ بڑھایا۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

باجوڑ میں مسلح افراد کی ابابیل فورس پر فائرنگ سے 4 اہلکار شہید، 2 زخمی

Published

on



خیبرپختونخوا کے ضلع کے باجوڑ میں مسلح افراد کی ابابیل پولیس فورس کی گشت پارٹی پر فائرنگ سے چار اہلکار شہید اور دو  زخمی ہو گئے۔

پولیس کے مطابق ضلع باجوڑ کی تحصیل خار کے علاقہ نوے کلے میں ابابیل پولیس فورس کے سکواڈ پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی۔

پولیس پارٹی افطاری کے وقت معمول کے سیکورٹی گشت پر موجود تھی، ایس ایچ او گل زادہ کے مطابق نامعلوم افراد کے اچانک حملہ اور فائرنگ سے 4 پولیس اہلکار شہید اور 2 زخمی ہو گئے، زخمی اہلکاروں کوڈی ایچ کیو ہسپتال خار منتقل کر دیا گیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ضلع باجوڑ میں گشت پر مامور پولیس فورس کے اہلکاروں پر دہشت گردوں کی فائرنگ کے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

انہوں نے اس دلخراش واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے زخمی اہلکاروں کو علاج معالجے کی بہترین اور بروقت سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی اور ان کی جلد اور مکمل صحتیابی کے لیے نیک تمناوں کا اظہار کیا۔

انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا پولیس دہشت گردی کے خلاف صفِ اول میں برسرپیکار ہے اور ہمارے بہادر پولیس اہلکاروں کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں۔

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائیاں پولیس کے عزم و حوصلے کو ہرگز متزلزل نہیں کر سکتیں۔

سہیل آفریدی نے شہدا کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل اور استقامت کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت شہداء کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

روسی عدالت نے گوگل پر کروڑوں روپے جرمانہ عائد؛ وجہ سامنے آگئی

Published

on


روسی عدالت نے ٹیکنالوجی کی عالمی کمپنی گوگل پر وی پی این سروسز کی فراہمی سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں کروڑوں روپے جرمانہ عائد کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی عدالت نے گوگل پر 2 کروڑ 20 لاکھ روبل (تقریباً 2 لاکھ 88 ہزار امریکی ڈالر) کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ یہ جرمانہ گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ کی ذیلی اکائی پر لگایا گیا ہے۔ 

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ گوگل نے اپنے پلے اسٹور کے ذریعے ایسی وی پی این سروسز کی تقسیم کی جو روسی قوانین کے تحت ممنوع یا محدود سمجھے جانے والے غیر ملکی پلیٹ فارمز اور مواد تک صارفین کی رسائی ممکن بناتی ہیں۔

عدالتی کارروائی کے دوران حکام کا مؤقف تھا کہ وی پی این سروسز روس میں انٹرنیٹ کنٹرول اور معلوماتی خودمختاری کے قوانین کو کمزور کرتی ہیں کیونکہ ان کے ذریعے صارفین حکومتی پابندیوں کو باآسانی نظرانداز کر کے ایسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مواد تک پہنچ جاتے ہیں جن پر روس میں پابندی عائد ہے۔

خیال رہے کہ روس گزشتہ چند برسوں سے انٹرنیٹ پر سخت نگرانی اور کنٹرول کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ متعدد غیر ملکی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، نیوز ویب سائٹس اور ڈیجیٹل سروسز کو قومی قوانین کے تحت یا تو محدود کر دیا گیا ہے یا مکمل طور پر بلاک کیا جا چکا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ گوگل کو روس میں قانونی کارروائی یا جرمانے کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ اس سے قبل بھی غیر قانونی مواد ہٹانے میں ناکامی اور مقامی قوانین کی عدم تعمیل کے الزامات کے تحت جرمانے عائد کیے جا چکے ہیں۔

روس اس سے قبل بھی بارہا عالمی ٹیک کمپنیوں پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ ملکی قوانین کے مطابق مواد کو کنٹرول کریں۔

 

 





Source link

Continue Reading

Trending