Connect with us

Today News

26 نومبراحتجاج کیس میں پی ٹی آئی کے 30 کارکنان اشتہاری قرار

Published

on


انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے 26 نومبراحتجاج کیس میں پی ٹی آئی کے 30 کارکنان کو اشتہاری قرار دے دیا۔ 

انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد میں پی ٹی آئی کارکنان کیخلاف مختلف تھانوں میں درج 5 مقدمات کی سماعت ہوئی، عدالت نے تھانہ کھنہ کے مقدمہ میں 30 ملزمان کو اشتہاری قرار دے دیا۔

عدالت کی جانب سے 31 پی ٹی آئی کارکنان کیخلاف اشتہاری کی کاروائی گزشتہ سماعت پر شروع کی گئی تھی۔ ایک پی ٹی آئی ورکر کی جانب سے آج عدالت میں پیش ہونے پر اشتہار کی کاروائی ختم کردی گئی۔

عدالت نے تھانہ کھنہ کے مقدمہ کی سماعت 2 اپریل اور تھانہ مارگلہ کے مقدمہ کی سماعت 4 اپریل اور تھانہ کوہسار کے مقدمہ کی سماعت 26 مارچ تک ملتوی کردی۔ تھانہ ترنول اور آبپارہ کے مقدمات کی سماعت 10 مارچ تک ملتوی کردی گئی۔

پولیس ریکارڈ کی عدم دستیابی کے باعث آج کسی مقدمہ میں شہادتیں ریکارڈ نہ ہو سکیں، پی ٹی آئی کارکنان کیخلاف دہشت گردی، توڑ پھوڑ، ودیگر دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پاکستان مخالف دعویٰ الٹا پڑ گیا، سوشل میڈیا دباؤ پر اسکائی نیوز پوسٹ ڈیلیٹ کرنے پر مجبور

Published

on


برطانوی نشریاتی ادارے اسکائی نیوز کی پاکستان سے متعلق مبینہ گمراہ کن سوشل میڈیا پوسٹ پاکستانی صارفین کی شدید تنقید کے بعد حذف کر دی گئی۔

رپورٹ کے مطابق اسکائی نیوز نے افغانستان ایئرفورس کے ذریعے پاکستان پر حملے کا دعویٰ کیا تھا جسے سوشل میڈیا پر جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا گیا۔

پاکستانی صارفین نے مؤقف اختیار کیا کہ افغانستان میں باقاعدہ ایئرفورس کا وجود نہیں، جس کے باعث اسکائی نیوز کی پوسٹ پر ہزاروں افراد نے ردعمل دیتے ہوئے خبر کی درستگی پر سوالات اٹھائے۔

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ اسکائی نیوز ماضی میں بھی پاکستان اور اس کی افواج کے خلاف متنازع رپورٹس کے باعث تنقید کی زد میں رہا ہے، جبکہ چینل کی اینکر یلدہ حکیم پر بھی پاکستان مخالف بیانیہ پھیلانے کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

باجوڑ سیکٹر میں دراندازی کی کوشش ناکام، دہشت گرد زندہ گرفتار، ویڈیو جاری

Published

on


باجوڑ سیکٹر کے قریب پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے ایک دہشتگرد کو بارڈر کراس کرنے کی کوشش کے دوران سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے زندہ گرفتار کر لیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار دہشتگرد نے ابتدائی تفتیش میں اپنا نام عبداللہ بتایا ہے، جبکہ اس سے مزید معلومات حاصل کرنے کیلئے تحقیقات جاری ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کسی بھی قسم کی جارحیت اور دراندازی کے خلاف مکمل الرٹ ہیں اور سرحدی علاقوں میں نگرانی کا عمل مزید سخت کر دیا گیا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

سیّدہ النساء خاتون جنت حضرت فاطمہ زھرا  ؓ

Published

on


باپ بیٹیوں کی باہمی محبت ضرب المثل کی حیثیت رکھتی ہے لیکن باپ بیٹی کی محبت کی معراج کا جو منظر انسانیت نے حضرت محمد مصطفی ﷺ اور خاتون جنّت حضرت فاطمہ زھراؓ کی صورت دیکھا تاریخ انسانیت اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔

جہاں باپ بیٹی کی یہ محبت سنت رسول ﷺ کی شکل میں مسلمانوں کے لیے تا ابد باعث تقلید بن گئی وہیں خداوند عالم نے ان دونوں ہستیوں کے مقام کو عظمت و رفعت کے درجۂ کمال تک پہنچا دیا۔ والد گرامی اگر شافع محشر ﷺ ہیں تو بیٹی خاتون جنّت ٹھہریں، والد گرامیؐ اگر فخر موجوداتؐ ہیں تو بیٹی سیدۃ النساء العالمینؓ ہیں، والد گرامی ﷺ کا اسوۂ اخلاق حسنہ کا نمونہ ہیں تو بیٹی کو خواتین کے لیے اسوہ کامل کہا گیا، والد گرامی ﷺ نے احد و خندق میں زخم کھائے تو بیٹی ان زخموں کا مرہم بنتی رہیں، باباؐ نے کفر و بت پرستی کے شکار انسانوں کو مرکز توحید پر جمع کیا تو بیٹی کی عظمت و ہیبت دیکھ کر باطل کے پیروکار اسلام کے سامنے سر جھکانے پر مجبور ہوگئے.

 والد گرامی ﷺ کی نصرت کے لیے بدر میں فرشتے اترے تو بیٹی کے ایثار و قربانی کے صلے میں آسمانوں سے خوان اترتے رہے، والد گرامی ﷺ کی تعظیم حضرت آدم سے عیسیؑ تک ہر نبی پر واجب تھی تو بیٹی کی تعظیم کے لیے نبیوں کے سردار ﷺ خود ایستادہ ہوجاتے، بابا ﷺ پر درود بھیجنا عبادتوں کی قبولیت کی سند ٹھہرا تو بیٹی کے دروازے پر خیر البشرؐ سلام کی صدائیں بلند کرتے رہے، والد گرامیؐ نے دنیا سے کفر و شرک کی کثافتوں کو دور کیا تو بیٹی کساء اوڑھ کر طہارتوں کا مرکز بن گئیں، والد گرامیؐ اگر آگ اور خون کے دریا عبور کرکے انسانیت کی نجات کا لازوال چارٹر اسلام دنیا میں لائے تو بیٹی نے بابا کے لائے ہوئے دین کے تحفظ کی خاطر ایسی اولاد پروان چڑھائی جو قیامت تک کربلا بسا کر دین کا حصار بن گئی۔

عورت ہر زمانے میں استحصال کا شکار رہی ہے اور قبل از اسلام تو عورت ذلت کی اس پاتال اس قدر گر چکی تھی جس کا اندازہ قرآن کے سورہ نحل ان آیات سے ہوتا ہے، مفہوم:

’’اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوش خبری دی جائے تو اس کا منہ سیاہ ہو جاتا ہے اور وہ غمگین ہوتا ہے ۔ بیٹی کی خبر کی عار سے قوم سے چھپا پھرتا ہے (سوچتا ہے) آیا اس کو اپنی ذلت پر رہنے دے یا اس کو خاک میں گاڑ دے۔‘‘ (سورہ نحل)

اسلام نے عورتوں کو استحصال سے نجات دلانے اور ان کی منزلت بتانے کے لیے دختر رسول کریم ؐ خاتون جنت حضرت فاطمہ زھراؓ کا انتخاب کیا، اس قدر منزلت تھی حضرت فاطمہ زھراؓ کی کہ تمام انسانیت کے تاج دار اور انبیاء و رسلؑ کیے سردار نبی کریم ﷺ کی زندگی کی بہار بن گئیں، کفار کے چہرے بیٹی کی خبر سن کر سیاہ ہوتے تو نبی کریمؐ کا چہرہ کِھل اٹھتا، نبی کریمؐ مدینہ سے باہر جاتے تو سب سے آخر میں بیٹی سے ملتے اور واپس آکر سب سے پہلے بیٹی فاطمہؓ سے ملتے۔ دنیا کی نسل بیٹوں سے چلتی تھی تو نبی کریم ؐ نے اپنی نسل کا ذریعہ اپنی بیٹی کو قرار دیا، کفار کے مقطوع النسل ہونے کے طعنوں کا جواب حضرت فاطمہ زھراؓ بنیں۔

حضرت جابر ابن عبداﷲ انصاریؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا:

’’ہر عورت کی اولاد کا نسب اس کے باپ کی طرف ہوتا ہے سوائے اولاد فاطمہ کے ، میں ہی ان کا نسب ہوں اور میں ہی ان کا ولی ہوں۔‘‘

 حضرت ابُوہریرہ ؓروایت کرتے ہیں نبی اکرم ؐ نے فرمایا:

’’ہر نبی قیامت کے دن اپنی سواری کے جانوروں پر سوار ہو کر اپنی قوم میں سے ایمان والوں کے ساتھ میدان محشر میں تشریف لائیں گے، حضرت صالحؑ اپنی اونٹنی پر لائے جائیں گے اور مجھےؐ براق پر لایا جائے گا جس کا قدم اس کی منتہائے نگاہ پر پڑے گا اور میرے آگے فاطمہؓ ہوگی۔‘‘

(مستدرک الحاکم)

جس بیٹی کو دنیا و آخرت اور زمین و آسمان پر اﷲ اور نبی کریم ﷺ نے اتنا مقام عطا کیا وہ بیٹی اپنے بابا کی جدائی برداشت نہ کرسکیں، نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد حضرت فاطمہ زھراؓ کا گھر بیت الحزن بن گیا۔ نبی کریمؐ کی پیش گوئی کے مطابق وصال نبویؐ کے بعد محض40 یا 75یا 95 دن یا اہل سنت روایات کے مطابق 6 ماہ زندہ رہ سکیں۔

ام المومنین حضرت عائشہ ؓسے روایت ہے: ’’اپنے وصال کے وقت رسول اﷲ ﷺ نے فاطمہؓ کو نزدیک بلا کر ان کے کان میں کچھ کہا جس پر وہ رونے لگیں۔ اس کے بعد آپؐ نے پھر سرگوشی کی تو آپؓ مسکرانے لگیں۔ حضرت عائشہ ؓفرماتی ہیں کہ میں نے سبب پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ پہلے میرے بابا ﷺ نے اپنی رحلت کی خبر دی تو میں رونے لگی۔ اس کے بعد انھوں نے بتایا کہ سب سے پہلے میں ان سے جا ملوں گی تو میں مسکرانے لگی۔‘‘ (بخاری، مسلم، احمد بن حنبل)

جب حضرت فاطمہؓ آقائے دو جہاں حبیب خدا ﷺ کے مزارِ اَقدس پر حاضر ہوتیں تو فریاد کرتی تھیں، قبرِ اَنور کی مبارک مٹی اٹھا کر آنکھوں پر لگا لیتیں اور حضور ﷺ کی یاد میں رو رو کر یہ اَشعار پڑھتیں، مفہوم:

’’جس شخص نے آپ ﷺ کے مزارِ اَقدس کی خاک کو سونگھ لیا ہے اسے زندگی میں کسی دوسری خوش بُو کی ضرورت نہیں۔ آپ ﷺ کے وِصال کی وجہ سے مجھ پر جتنے عظیم مصائب آئے ہیں اگر وہ دنوں پر اُترتے تو وہ راتوں میں بدل جاتے۔‘‘ (ذھبی، روح المعانی)

حضرت فاطمہ زھراؓ نبی کریمؐ کی قمیص سونگھتیں اور گریہ کرتیں۔ بحار الانوار میں روایت ہے کہ جب پیغمبرؐ وفات پاگئے تو موذن رسول ﷺ حضرت بلالؓ نے اذان دینی بند کردی تھی۔ ایک دن جناب فاطمہؓ نے انہیں پیغام بھیجا کہ میری خواہش ہے کہ میں ایک دفعہ اپنے باپؐ کے موذن کی اذان سنوں۔ بلالؓ نے جناب فاطمہؓ کے حکم پر اذان دینی شروع کی اور اﷲ اکبر کہا۔ جناب فاطمہؓ کو اپنے باپ ﷺ کے زمانے کی یاد آگئی اور رونے پر قابو نہ پاسکیں اور جب بلالؓ نے اشہد ان محمداً رسول اﷲ کہا تو جناب فاطمہؓ نے باپ کے نام سننے پر ایک چیخ ماری اور غش کرگئیں۔ (بحار الانوار)

پیغمبر اسلام ﷺ کی رحلت کے بعد کسی نے حضرت زھراؓ کو کبھی ہنستے ہوئے نہیں دیکھا۔ جب آپؓ دنیا سے رخصت ہونے والی تھیں تو بے حد مغموم و فکر مند تھیں۔ حضرت فاطمہ زھرا کا فرمان ہے کہ بہترین عورت وہ ہے کہ جس کی آواز نامحرم نہ سنے اور وہ بھی کسی نامحرم کی آواز نہ سنے۔

جس طبقہ خواتین کو اسلام نے ذلت کی پاتال سے حضرت فاطمہ زھراؓ کی مسیحائی کے ذریعے نکالا تھا، جن کی گردنیں ذلت کے خوف سے اڑا دی جاتی تھیں، ان کے قدموں تلے جنّت کو قرار دیا گیا۔ آج ایک بار پھر اس عورت کا مقام شیطانی حملوں کی زد میں ہے جس کی تقدیس کے سامنے گردنیں خم ہوجاتی تھیں، اسے پھر بازار کی جنس بنانے پر زور ہے۔ اس گم راہی اور بے راہ روی کے طوفان کا مقابلہ سیرت حضرت فاطمہ زھراؓ کو اپنا کر ہی کر سکتی ہیں۔ کیا وہ میرا جسم میری مرضی کے نعروں کے جال میں دوبارہ اپنے آپ کو اسی ذلت کے قید خانے میں محبوس کردینا چاہتی ہیں جس سے اسلام نے انہیں نکالا تھا۔ خواتین عالم کو یہ ادراک کرنا ہوگا کہ ان کی آزادی، عزت، حرمت اور دنیا و آخرت میں سرفرازی و کام رانی اسلام کی بتائی ہوئی راہوں پر چلنے میں ہے جن کی نشان دہی خاتون جنت سید النساء العالمین حضرت فاطمہ زھراؓ نے کی تھی۔ اسی لیے ارمغان حجاز میں حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ نے خواتین کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:

بتولےؓ باش و پنہاں شو ازیں عصر

کہ در آغوش شبیرےؓ بگیری

 ترجمہ: ’’اگر تُو یہ چاہتی ہے کہ تیری آغوش سے کوئی امام حسینؓ جیسا پروان چڑھے تو انھیں دامن فاطمہ زھرا ؓسے وابستگی اختیار کرنا ہوگی۔‘‘

چلو سلام کریں ایسے آستانے کو

حسینؓ پال کے جس نے دیا زمانے کو

خواتین عالم کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کے مصائب کا خاتمہ، حقیقی آزادی اور حقوق کی بازیابی سیرت خاتون جنّت کی پیروی سے ہی ممکن ہے۔ خداوند عالم قوم کی ماؤں بہنوں بیٹیوں کو سیرت فاطمہ زھراؓؓ پر چلنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین





Source link

Continue Reading

Trending