Connect with us

Today News

کوہاٹ: پولیس وین پر حملے میں ڈی ایس پی لاچی سمیت 5 اہلکار شہید

Published

on



کوہاٹ:

کوہاٹ میں پولیس وین پر حملے میں ڈی ایس پی سمیت 5 اہلکار شہید ہوگئے۔

ڈی پی او کوہاٹ کے مطابق نواحی علاقے شکردرہ روڈ پر پولیس موبائل کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی لاچی سمیت 5 اہلکار شہید ہوگئے۔

شہداء میں انسپکٹر انارگل خان، ایک گن مین، ریڈر اور ڈرائیور شامل ہیں۔ متعدد اہلکار زخمی بھی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق دہشتگردوں نے حملے کے بعد پولیس موبائل کو بھی آگ لگا دی اور فرار ہوگئے جبکہ پولیس کی بھاری نفری موقع علاقے میں طلب کر لی گئی ہے۔
 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

Good news New iPhone at a low price model details revealed

Published

on


آئی فون خریدنے کے خواہش مند صارفین کے لیے خوشخبری ہے کہ معروف ٹیکنالوجی کمپنی ’’ایپل‘‘ جلد اپنے نئے اور نسبتاً کم قیمت اسمارٹ فون کو متعارف کرانے جا رہی ہے، جسے اس سال کا سب سے سستا آئی فون قرار دیا جا رہا ہے۔

ٹیک رپورٹس کے مطابق متوقع ماڈل iPhone 17E کی ابتدائی قیمت تقریباً 599 ڈالر رکھی جا سکتی ہے، جو اسے کمپنی کی موجودہ سیریز میں انٹری لیول ڈیوائس بنائے گی اور ایسے صارفین کے لیے موزوں ہوگی جو کم بجٹ میں جدید آئی فون خریدنا چاہتے ہیں۔

ڈیزائن کے اعتبار سے یہ فون گزشتہ ماڈل iPhone 16E سے کافی حد تک ملتا جلتا ہوگا، تاہم اس میں چند اہم بہتریاں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ سب سے نمایاں اپ گریڈ فرنٹ یا سیلفی کیمرے میں متوقع ہے، جس کے ساتھ کمپنی اپنے جدید ڈائنامک آئی لینڈ ڈیزائن کو بھی شامل کرسکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس نئے آئی فون کی باضابطہ رونمائی ممکنہ طور پر 4 مارچ کو ایک خصوصی تقریب کے دوران کی جائے گی، جہاں اس کی مکمل خصوصیات اور دستیابی کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔

تکنیکی طور پر اس ڈیوائس میں کمپنی کا نیا C1 5G موڈیم شامل کیے جانے کی توقع ہے، جو تیز رفتار ڈیٹا اور بہتر بیٹری کارکردگی فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ N1 وائرلیس چپ کے ذریعے وائی فائی اور بلوٹوتھ کنیکٹیویٹی کو مزید مستحکم اور مؤثر بنانے کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق کم قیمت کے ساتھ جدید فیچرز کی شمولیت اس ماڈل کو متوسط صارفین کے لیے ایک پرکشش انتخاب بنا سکتی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

رات گئے کھانا دل اور شوگر کےلیے خطرہ، نئی تحقیق میں اہم انکشاف

Published

on



رات کے اوقات میں اسنیکس یا کھانے کی عادت صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔

ایک عالمی طبی جریدے میں شائع ہونے والی نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کھانے کے اوقات کو جسم کی قدرتی حیاتیاتی گھڑی کے مطابق رکھنے سے نہ صرف نیند اور بیداری کے نظام میں بہتری آتی ہے بلکہ دل اور میٹابولزم پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق کارڈیو میٹابولک نظام کی خرابی کئی دائمی بیماریوں سے جڑی ہوتی ہے، جن میں دل کے امراض، ٹائپ ٹو ذیابیطس اور نان الکوحلک فیٹی لیور شامل ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ اگر کھانے کے اوقات کو منظم کرلیا جائے تو اس کے فوائد بعض صورتوں میں کیلوریز کم کرنے والی روایتی ڈائٹ کے برابر ہوسکتے ہیں۔

اس تحقیق میں 36 سے 75 سال کی عمر کے 39 ایسے افراد کو شامل کیا گیا جو زائد وزن یا موٹاپے کا شکار تھے۔ سات سے ساڑھے سات ہفتوں کے دوران ایک گروپ کو رات کے وقت کھانے سے 13 سے 16 گھنٹے کا وقفہ رکھنے کی ہدایت دی گئی، جبکہ دوسرے گروپ نے اپنی معمول کی خوراک اور اوقات برقرار رکھے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ وہ افراد جنہوں نے رات گئے کھانے سے پرہیز کیا، ان کی دل کی صحت میں نمایاں بہتری آئی۔ ان کا رات کے وقت بلڈ پریشر تقریباً 3.5 فیصد کم ہوگیا جبکہ دل کی دھڑکن میں بھی تقریباً 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو صحت مند قلبی نظام کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند جسم میں دن کے وقت دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر قدرتی طور پر زیادہ ہوتے ہیں جبکہ رات کے وقت ان میں کمی آتی ہے۔ یہ حیاتیاتی ردھم بہتر دل کی صحت سے جڑا ہوتا ہے، اور رات گئے کھانے کی عادت اس توازن کو متاثر کرسکتی ہے۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ دن کے اوقات میں خون میں شوگر کنٹرول کرنے کی صلاحیت بہتر رہی۔ جب شرکا کو گلوکوز دیا گیا تو ان کے لبلبے نے زیادہ مؤثر انداز میں انسولین خارج کی، جس کے نتیجے میں خون میں شوگر کی سطح متوازن رہی۔

ماہرین کے مطابق رات گئے اسنیکس سے گریز اور کھانے کے اوقات کو منظم کرنا مجموعی صحت کے لیے نہایت مفید ہے، خاص طور پر دل اور شوگر کے مریضوں کے لیے یہ عادت طویل مدت میں نمایاں فائدہ پہنچا سکتی ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

NASA scientist makes surprising claim of existence of aliens

Published

on


امریکی خلائی ادارے NASA کے ایک سینئر سائنسدان نے کہا ہے کہ وسیع و عریض کائنات میں خلائی مخلوق کے وجود کے امکانات خاصے مضبوط ہیں، تاہم اب تک ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے ثابت ہو کہ کسی خلائی مخلوق نے زمین کا دورہ کیا ہو۔

1968 سے ناسا سے وابستہ ڈاکٹر جینٹری لی نے ایک سائنسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ آج تک کسی بھی تحقیق یا مشاہدے میں ایسی شہادت نہیں ملی جو یہ ظاہر کرے کہ کسی خلائی مخلوق یا اس کی کسی ٹیکنالوجی نے زمین پر قدم رکھا ہے۔ ان کے مطابق اس حوالے سے پھیلائی جانے والی بیشتر باتیں غلط فہمی یا گمراہ کن معلومات پر مبنی ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر لی کا کہنا تھا کہ کائنات کی وسعت کو مدنظر رکھا جائے تو یہ تصور کرنا مشکل نہیں کہ کہیں نہ کہیں زندگی ضرور موجود ہوسکتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں انسان کسی نہ کسی شکل میں زمین سے باہر زندگی کے آثار دریافت کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سابق امریکی صدر بارک اوباما کی ایک پرانی گفتگو دوبارہ زیر بحث ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ خلائی مخلوق کے حوالے سے کئی راز موجود ہیں، تاہم بعد ازاں انہوں نے وضاحت کی کہ اپنے دورِ صدارت میں انہیں زمین پر کسی غیر زمینی مخلوق کی موجودگی کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا۔

دوسری جانب موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ یو ایف اوز اور ممکنہ خلائی سرگرمیوں سے متعلق سرکاری فائلوں کی تفصیلات عام کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

ماہرین فلکیات کے مطابق خلائی حیات کی تلاش کے لیے ایسے سیاروں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے جہاں زمین جیسی فضا اور ماحول موجود ہو۔ اسی تناظر میں زمین کے حجم سے ملتے جلتے ایک سیارے کو ممکنہ طور پر زندگی کے لیے موزوں قرار دیا جا رہا ہے، جو زمین سے تقریباً 40 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending