Connect with us

Today News

سرکاری ملازمین کے پنشن رولز میں ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری

Published

on


حکومتِ پنجاب نے نئی پالیسی متعارف کراتے ہوئے رضاکارانہ اور جبری ریٹائرمنٹ کے قوانین میں تبدیلی کے ذریعے جلد ریٹائرمنٹ/پینشن پر جانے کے راستے کو محدود کر دیا۔

محکمہ خزانہ پنجاب نے سول سرونٹس ایکٹ 1974ء کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوئے Punjab Civil Servants Act, 1974 کے مطابق Punjab Civil Services Pension Rules میں ترمیم کی ہے۔ یہ ترمیم فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔

سب سے اہم تبدیلی رضاکارانہ ریٹائرمنٹ کے حوالے سے کی گئی ہے۔ پہلے بعض صورتوں میں سرکاری ملازم 25 سال سروس مکمل کرنے کے بعد ریٹائرمنٹ لے سکتا تھا، چاہے اس کی عمر 55 سال سے کم ہی کیوں نہ ہو۔ اب نئے قانون کے مطابق اگر کوئی ملازم رضاکارانہ ریٹائرمنٹ لینا چاہے تو اسے دو شرائط پوری کرنا ہوں گی، کم از کم 25 سال قابلِ شمار سروس مکمل ہو۔ عمر 55 سال ہو چکی ہو۔

اور ان دونوں میں جو شرط بعد میں پوری ہو، وہ لاگو ہوگی۔ یعنی اگر کسی ملازم کی 25 سال سروس مکمل ہو گئی لیکن عمر ابھی 52 سال ہے تو وہ ریٹائر نہیں ہو سکے گا، اسے 55 سال کی عمر مکمل ہونے کا انتظار کرنا ہوگا۔

اسی طرح جبری ریٹائرمنٹ (Compulsory Retirement) کے معاملے میں بھی وضاحت کی گئی ہے کہ 20 سال کی قابلِ شمار سروس مکمل ہونے کے بعد بعض حالات میں حکومت کسی ملازم کو جبری ریٹائر کر سکتی ہے یعنی کے پینشن کے لیے سروس کا 20 سال ہونا لازم ہوگا۔

بدعنوانی جیسے معاملات میں کارروائی بھی 20 سال سروس مکمل ہونے کے بعد کے تناظر میں دیکھی جائے گی۔

رولز کے باب نمبر 4 (Chapter IV) میں بھی تبدیلی کی گئی ہے تاکہ پینشن کی رقم کا تعین نئے قوانین کے مطابق کیا جا سکے واضح کیا گیا ہے کہ 25 سالہ سروس یا 55 سال کی عمر (جو بھی بعد میں ہو) پر لی گئی رضاکارانہ ریٹائرمنٹ اور 20 سالہ سروس پر ہونے والی جبری ریٹائرمنٹ، دونوں صورتوں میں پینشن کے فوائد نئے رولز کے تحت ہی ملیں گے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

اپوزیشن اتحاد کا مذاکرات پر حکومت کو مثبت جواب دینے کا فیصلہ

Published

on



اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے مذاکرات کے حوالے سے حکومت کو مثبت جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے، محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر عباس جلد اہم حکومتی شخصیات سے رابطہ کریں گے۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں بدھ کی شب اپوزیشن اتحاد کی مشاورتی نشست ہوئی جس میں محمود خان اچکزئی، علامہ ناصر عباس شریک ہوئے، مشاورتی نشست میں شاہد خاقان عباسی اور مصطفی نواز کھوکھر نے بھی شرکت کی۔

مشاورتی عمل میں اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری شریک ہوئے، اجلاس میں ارکان نے حکومت کی مذاکرات کی آفر پر مشاورت کی، اپوزیشن ارکان نے رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔

ذرائع اپوزیشن اتحاد کے مطابق سلمان اکرم راجہ، شاہد خاقان عباسی اور پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت نے اپوزیشن اتحاد سربراہان کو حکومت سے رابطے کرنے کا مشورہ دیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس اپوزیشن اتحاد کی فیصلوں کے بعد مذاکراتی عمل پر پیشرفت کریں گے، سربراہ اپوزیشن اتحاد ساتھیوں کے اعتماد کے بعد رمضان المبارک میں اہم حکومتی شخصیات سے رابطہ کریں گے۔

جنید اکبر مشروط مذاکرات کے حامی ہیں جبکہ عاطف خان نے مذاکراتی پیشرفت کی تصدیق کردی ہے۔

جنید اکبر کا کہنا ہے کہ ہم سیاسی لوگ ہیں اور مذاکراتی عمل پر یقین رکھتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ مفاہمت اور ڈائیلاگ کے ذریعے مسائل کا حل نکلے،  چاہتے ہیں اداروں سے محاذ آرائی ختم ہو لیکن حکومت کو بھی اپنا رویہ اور انداز درست کرنا ہوگا۔

جنید اکبر نے کہا کہ ہمیں پولیٹیکل اسپیس نہیں دیتے زبردستی کرتے ہیں تو پھر ایسے میں مذاکرات بھی عمل آگے نہیں بڑھ سکتا، آپ مذاکرات کے لیے ماحول بنائیں ہم بار بار کہتے ہیں ایک قدم آگے بڑھیں گے ہم دو قدم ساتھ دیں گے۔

عاطف خان نے کہا کہ ہماری اپوزیشن اتحاد کی نشست ہوئی جس میں تمام جماعتوں کے ارکان شریک ہوئے، اپوزیشن ارکان نے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو اعتماد کے ساتھ مذاکرات کا اختیار دے دیا ہے، ہم حکومت کو مذاکرات کا جواب دیں گے اور عوام کو بھی آگاہ کریں گے کہ ہم نے اپنا موقف پیش کر دیا ہے۔

عاطف خان نے کہا کہ ہمیں کہا جاتا ہے پاکستان اور آئین کے لیے بات چیت کریں ہم نے اس کے لیے ہامی بھری ہے، گزشتہ شب مذاکرات کے حوالے سے بحث ہوئی اور دونوں رہنماؤں پر اعتماد کیا ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

چین کو فوجی تربیت دینے والا امریکی فضائیہ کا سابق پائلٹ گرفتار

Published

on


واشنگٹن: امریکی محکمہ انصاف نے اعلان کیا ہے کہ سابق امریکی فضائیہ کے پائلٹ جیرالڈ براؤن کو چینی فوجی اہلکاروں کو تربیت دینے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

65 سالہ جیرالڈ براؤن کو ریاست انڈیانا سے اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ حال ہی میں چین سے امریکا واپس آئے تھے۔ حکام کے مطابق وہ دسمبر 2023 سے چین میں مقیم تھے۔

محکمہ انصاف کے بیان کے مطابق براؤن پر الزام ہے کہ انہوں نے امریکی محکمہ خارجہ سے درکار اجازت یا لائسنس حاصل کیے بغیر چینی فضائیہ کے پائلٹس کو جنگی طیاروں کی تربیت فراہم کرنے کی سازش کی۔

امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پاٹیل نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ سابق امریکی پائلٹ کی گرفتاری ایک اہم پیش رفت ہے اور امریکا اپنی قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا۔

براؤن 24 سال تک امریکی فضائیہ میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور حساس یونٹس کی کمان بھی کر چکے تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ دفاعی ٹھیکیدار کے طور پر بھی کام کرتے رہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ چین مبینہ طور پر امریکی فوج کے سابق اہلکاروں کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا رہا ہے تاکہ اپنی عسکری صلاحیتوں کو جدید بنایا جا سکے۔ کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

مقتولہ مسرت بی بی کی قبر کشائی کے خلاف دائر درخواست مسترد،

Published

on


وفاقی آئینی عدالت نے مقتولہ مسرت بی بی کی قبر کشائی کے خلاف دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ عدالت نے مقتولہ کے شوہر محمد علی کی درخواست خارج کر دی۔

سماعت کے دوران شوہر کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان ایک اسلامی معاشرہ ہے، اس لیے مقتولہ اہلیہ کی قبر کشائی کے حکم کو کالعدم قرار دیا جائے۔ اس پر عدالت میں ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ مقتولہ کی والدہ زبیدہ بی بی اپنی بیٹی کی قبر کشائی چاہتی ہیں کیونکہ انہیں شک ہے کہ ان کے داماد نے ان کی بیٹی کو قتل کیا ہے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے سوال اٹھایا کہ کیا مقتولہ مسرت بی بی کو واقعی ہارٹ اٹیک ہوا تھا، جبکہ یہ بھی ریکارڈ پر ہے کہ بیٹی کی موت پر شوہر نے والدہ کو اطلاع تک نہیں دی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا شوہر میں اتنی انسانیت نہیں تھی کہ تدفین کے وقت والدہ کو مطلع کرتا۔

سماعت کے دوران عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ کیا شوہر نے اس معاملے میں ضمانت حاصل کر رکھی ہے۔ وکیلِ صفائی نے مؤقف اپنایا کہ ان کے موکل کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہے، جس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ آپ کے موکل نے ایف آئی آر درج ہی نہیں ہونے دی۔

درخواست کی سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی، جس کے بعد قبر کشائی کے خلاف درخواست مسترد کر دی گئی۔





Source link

Continue Reading

Trending