Connect with us

Today News

پاسکو کے پاس موجود 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم مسابقتی بولی کے ذریعے فروخت کرنے کی منظوری

Published

on



اسلام آباد:

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پاسکو کے پاس موجود 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم مسابقتی بولی کے ذریعے فروخت کرنے کی منظوری دے دی۔

وزارت خزانہ کے مطابق کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان (ویڈیو لنک کے ذریعے) سمیت متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنز کے اعلیٰ حکام  شریک ہوئے جبکہ وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔

اجلاس میں اہم معاشی امور پر غور کیا گیا اور متعدد فیصلے کیے گئے۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق اجلاس میں وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے پاسکو کے پاس موجود 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم کے ذخیرے کو مسابقتی بولی کے ذریعے فروخت کرنے کی تجویز پیش کی گئی اور کمیٹی کو بتایا گیا کہ پہلے منظور شدہ ریزرو قیمتوں پر گندم فروخت کرنے کی کوشش کم بولیاں موصول ہونے کے باعث کامیاب نہ ہو سکی تھی۔

موجودہ ذخیرہ اندوزی اور اس پر اٹھنے والے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے ای سی سی نے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم کو فرسٹ اِن،فرسٹ آؤٹ (ایف آئی ایف او) بنیاد پر نئی مقرر کردہ ریزرو قیمتوں پر فروخت کرنے کی منظوری دے دی مقامی گندم کی فی 40 کلو قیمت 4 ہزار 150 روپے جبکہ درآمدی گندم کی فی 40 کلو قیمت 3 ہزار 800 روپے مقرر کی گئی ہے۔

اجلاس میں مزید برآں سابقہ پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پاک پی ڈبلیو ڈی) کے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) منصوبوں کے لیے 53 کروڑ 60 لاکھ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری بھی دی گئی۔ منظور شدہ رقم متعلقہ قانونی و آئینی تقاضوں کے مطابق پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں کو جاری منصوبوں کی تکمیل کے لیے منتقل کی جائے گی۔

اجلاس کے دوران پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے سی اینرجیکو پی کے لمیٹڈ کے ساتھ معاہدہ تصفیہ اور پیٹرولیم لیوی کی ادائیگی میں تاخیر سے متعلق حقائق جاننے کی رپورٹ بھی پیش کی گئی جو ای سی سی کی سابقہ ہدایات کی روشنی میں تیار کی گئی تھی کمیٹی نے رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد اسے مزید جامع پریزنٹیشن کے لیے آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

60 لاکھ روپے بھتہ نہ دینے کی سزا، کار شوروم پر نامعلوم مسلح افراد کی اندھا دھند فائرنگ

Published

on



کراچی:

شہر قائد کے علاقے نیو کراچی سیکٹر الیون ڈی میں واقع ایک کار شوروم پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر دی۔ پولیس کے مطابق واقعہ گینگ وار سے وابستہ بھتہ خوروں کی جانب سے پیش آیا تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان شوروم مالک سے 60 لاکھ روپے بھتہ طلب کر رہے تھے اور اس سے قبل بھتے کی پرچی بھی دی گئی تھی۔

شوروم مالک نے دھمکیوں کے خلاف نیو کراچی تھانے میں مقدمہ درج کرا رکھا تھا۔

پولیس کے مطابق فائرنگ میں ملوث افراد کا تعلق مبینہ طور پر صمد کاٹھیواڑی گروپ سے بتایا جا رہا ہے۔

ملزمان دو موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر آئے اور فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے۔

واقعے کے بعد پولیس نے شواہد اکٹھے کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی جا رہی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

بھارت میں بوائے فرینڈ کے سامنے گرل فرینڈ سے 7 افراد کی اجتماعی زیادتی

Published

on


بھارتی ریاست آسام میں پیش آنے والے انسانیت سوز واقعے میں چاقو کی نوک پر 28 سالہ خاتون کو اس کے بوائے فرینڈ کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق یہ افسوناک واقعہ 19 فروری کو پیش آیا جس کا مقدمہ متاثرہ خاتون کی شکایت پر درج کر لیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون نے بیان دیا ہے کہ حملہ آوروں نے اسے اغوا کرکے ایک ایک کر کے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

جنسی زیادتی کرنے والوں نے  بعد ازاں خاتون کے اکاؤنٹ سے 10 ہزار روپے ایک اکاؤنٹ میں منتقل کرنے پر بھی مجبور بھی کیا۔

اہلِ خانہ نے بتایا کہ ان کی بیٹی اپنے ایک دوست کے ساتھ چند کلومیٹر دور بائی پاس روڈ پر ایک کار میں موجود تھی کہ اچانک جانور نما مردوں کا ایک گروہ نمودار ہوا۔

ملزمان نے دونوں کو گاڑی سے باہر نکالا اور بوائے فرینڈ کو جان سے مارنے کی دھمکی دے کر واردات انجام دی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون نے دو ملزمان 25 سالہ نیلوتپل داس اور 27 سالہ سبول داس کو شناخت کرلیا جو اب پولیس کی حراست میں ہیں۔

پولیس کے بقول متاثرہ خاتون کا طبی معائنہ کروا لیا گیا ہے اور تفصیلی بیان بھی ریکارڈ کیا جا چکا ہے جب کہ دیگر ملزمان کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ بھارت کی مودی سرکار کے دور میں جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث ہندوستان کو اب ریپستان کہا جانے لگا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا بھی کہنا ہے کہ مودی سرکار میں ایک گائے تو محفوظ ہے جس کی دیوی مان کر رکھشا کی جاتی ہے لیکن خواتین محفوظ نہیں ہیں۔

 

 





Source link

Continue Reading

Today News

جنسی ہراسانی کا الزام پر قانونی جنگ؛ ماڈل ماہ نور اور عمر مختار آمنے سامنے

Published

on


ابھرتی ہوئی ماڈل ماہ نور رحیم نے پروڈیوسر عمر مختار پر جنسی ہراسانی کے سنگین الزامات عائد کیے تھے جس پر دونوں کے درمیان اب قانونی جنگ چھڑ گئی ہے۔

نوجوان ماڈل ماہ نور رحیم نے شوبز انڈسٹری کے معروف پروڈیوسر عمر مختار کو جواب میں قانونی نوٹس بھجوا دیا ہے۔

جس سے ایک بار پھر اس معاملے نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے بالخصوصاً شوبز کی دنیا میں جنسی جرائم پر کھل کی گفتگ کی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل ماہ نور رحیم کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں انھوں نے شوبز انڈسٹری کے ایک بااثر شخص پر نامناسب پیغامات بھیجنے اور ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے۔

اگرچہ ماہ نور نے ویڈیو میں کسی کا نام نہیں لیا تاہم سوشل میڈیا صارفین اور بعض شوبز حلقوں نے اندازہ لگایا کہ ان کا اشارہ پروڈیوسر عمر مختار کی جانب ہے۔

یہ معاملہ اُس وقت مزید طول پکڑ گیا جب کئی دیگر خواتین نے بھی سوشل میڈیا پر ماہ نور کے مؤقف کی تائید کی اور تمام اشارے عمر مختار کی جانب تھے۔

عمر مختار کا شمار پاکستان کے معروف پروڈیوسرز میں ہوتا ہے اور وہ متعدد بڑے شوبز ستاروں کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔

اس تنازع کے بعد عمر مختار کی قریبی سمجھی جانے والی اداکارہ ہانیہ عامر نے بھی خود کو پروڈیوسر سے دور کر لیا تھا جس پر سوشل میڈیا پر خاصی توجہ دی گئی۔

جس کے باعث عمر مختار نے ماڈل ماہ نور رحیم کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوا دیا تھا اور اسے اپنا باضابطہ جواب قرار دیا تھا۔

ماڈل ماہ نور رحیم بھی کب پیچھے ہٹنے والی تھیں انھوں نے بھی اپنے وکیل کے ذریعے عمر مختار کو قانونی جواب بھیجوادیا۔

جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ میرے بیانات ہتکِ عزت کے زمرے میں نہیں آتے کیونکہ وہ سچ پر مبنی ہیں۔

ماڈل ماہ نور نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ سچ بولنے کے اپنے فیصلے کو درست سمجھتی ہیں اور کسی دباؤ یا قانونی دھمکیوں سے خوف زدی ہوکر خاموش نہیں ہوں گی۔

انھوں نے اس موقع پر عوام، شوبز شخصیات اور سوشل میڈیا صارفین کا شکریہ بھی ادا کیا جنہوں نے ان کی حمایت کی اور حوصلہ بڑھایا۔

 





Source link

Continue Reading

Trending