Connect with us

Today News

کراچی ایئرپورٹ میں کارروائی؛ جعلی شناخت پر سفر کرنے والا مسافر گرفتار

Published

on



وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) امیگریشن نے کراچی ائیرپورٹ پر کارروائی کے دوران جعلی شناخت پر کئی مرتبہ سفر کرنے والے مسافر کو گرفتار کرلیا۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق گرفتار مسافر سعودی عرب سے معمول کی پرواز کے ذریعے کراچی پہنچا، امیگریشن کلیئرنس کے دوران اس کا رویہ مشکوک پایا گیا جس پر اسے تفصیلی تفتیش اور جانچ پڑتال کے لیے روک لیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ پوچھ گچھ کے دوران مسافر نے انکشاف کیا کہ دستی پاکستانی پاسپورٹ اصل نام سے جاری ہوا تھا تاہم اس نے دھوکا دہی سے اپنی تصویر اس پاسپورٹ پر چسپاں کر رکھی تھی۔

ملزم نے بتایا کہ اس کے پاس موجود قومی شناختی کارڈ اصل نام پر جاری شدہ ہے، ذاتی تلاشی کے دوران اقلم زادہ کے نام سے جاری ایک شناختی کارڈ کی نقل بھی برآمد ہوئی، جبکہ موبائل فون کی جانچ میں اس کے اصل شناختی کارڈ کی کاپی بھی سامنے آئی جس میں اس کی حقیقی شناخت ظاہر ہوئی۔

ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ تصویر کی تبدیلی کے بعد اسی پاسپورٹ پر چار مرتبہ بیرون ملک سفر کر چکا ہے۔

ایف آئی اے نے بتایا کہ ریکارڈ کی جانچ انٹرگریٹیڈ بارڈرمینیجمنٹ سسٹم کے ذریعے کی گئی جس میں 9 سفری آمدورفت ظاہر ہوئیں، تاہم پاسپورٹ پر صرف 4 آمد و روانگی کی مہر یں ثبت تھیں، چاروں مہریں آئی بی ایم ایس ریکارڈ سے مطابقت رکھتی ہیں جبکہ باقی سفری تفصیلات کی مزید تصدیق جاری ہے۔

ایف آئی اے کے مطابق اصل پاسپورٹ پر تصویر کی تبدیلی اور کسی دوسرے شخص کی حیثیت سے سفر کرنا قابل دست اندازی جرم ہے، ملزم کو مزید قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں اس کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت مقدمہ درج کر کے تحقیقات جاری ہیں۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: شاداب خان کے سسر ثقلین مشتاق ناقص بولنگ پر ان کا دفاع کرنے لگے

Published

on


ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شاداب خان کی ناقص بولنگ پر ان کے سسر ثقلین مشتاق دفاع کرنے لگے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کی انگلینڈ کے خلاف شکست کے بعد سرکاری ٹیلی ویژن کے پروگرام میں گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی، جہاں سابق آل راؤنڈر محمد حفیظ اور سابق اسپنر ثقلین مشتاق آمنے سامنے آ گئے۔

دونوں کے درمیان موضوع قومی ٹیم میں شاداب خان کا اصل کردار تھا۔

محمد حفیظ کا کہنا تھا کہ شاداب خان کے بنیادی کردار سے متعلق ابہام ٹیم کے توازن کو متاثر کر رہا ہے۔

ان کے مطابق یہ واضح ہونا چاہیے کہ شاداب کو بیٹنگ آل راؤنڈر سمجھا جا رہا ہے یا بولنگ آل راؤنڈر، کیونکہ اسی بنیاد پر کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

دوسری جانب ثقلین مشتاق نے سختی سے شاداب کا دفاع کیا۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ شاداب کئی مواقع پر بیٹ سے میچ وننگ اننگز کھیل چکے ہیں اور انہیں صرف بولنگ آل راؤنڈر کہنا ان کی صلاحیتوں کو محدود کرنا ہے۔

جواب میں حفیظ نے اپنے کیریئر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہر آل راؤنڈر کو اپنی بنیادی ذمہ داری کا علم ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ میرے کپتان مجھے کہتے تھے کہ حفیظ صاحب آپ اگر بیٹنگ میں رنز نہیں بنائیں گے تو ہمیں آپ کی بولنگ کی ضرورت نہیں ہے۔

ان کے مطابق بین الاقوامی سطح پر واضح کردار ہی کامیابی کی ضمانت بنتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

وزیراعلیٰ کے پی کی چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے گفتگو کی کوشش، بات سنے بغیر چیمبر میں چلے گئے

Published

on



وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سُہیل آفریدی نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر کی عدالت کے روسٹرم پر جا کر بات کرنے کی کوشش تاہم چیف جسٹس بات سُنے بغیر چیمبر میں چلے گئے۔

وزیر اعلیٰ کے پی چیف جسٹس سرفراز ڈوگر سے بات کرنے اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچے تھے۔

سہیل آفریدی کو چیف جسٹس کے سیکرٹری سے ملاقات کے لیے سیکرٹری کے آفس میں آنے کا پیغام دیا گیا، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ بانی پی ٹی آئی کے کیسز نہیں لگ رہے اوپن کورٹ میں ہی بات کروں گا۔

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنیں عظمیٰ خان، نورین خان اور علیمہ خان بھی اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچی تھیں۔

بعد ازاں، میڈیا سے گفتگفو میں وزیراعلی کے پی سہیل آفریدی نے کہا کہ چیف جسٹس سے ملاقات نہیں ہوتی تھی اس لیے اوپن کورٹ میں چیف جسٹس سے بات کرنے کی کوشش کی۔ میں رمضان میں روزے کی حالت میں روسٹرم پر گیا اور چیف جسٹس کو سلام کیا مگر انہوں نے سلام کا جواب بھی نہیں دیا۔

سہیل آفریدی نے کہا ہم دکھانا چاہتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف احتجاجی یا انتشاری سیاست نہیں کرتی، ہم بتانا چاہتے ہیں کہ تمام آپشنز استعمال کرنے کے بعد پر امن احتجاج کرتے ہیں جو ہمارا حق ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سوا گھنٹہ انتظار کرنے کے بعد چیف منسٹر کو سلام کا جواب تک نہیں دیا گیا، شوکت خانم اسپتال کے ڈاکٹرز سے طبی معائنہ کی درخواست جمع کرائی لیکن درخواست ہی نہیں لگی۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ خان صاحب تک ان کے معالجین کو اور فیملی کی رسائی کی کوششیں کر رہے ہیں، عدالت نے ہفتہ وار دو ملاقاتوں کا آرڈر کیا، ایک دن وکلا اور ایک دن فیملی سے ملاقات کا دن طے ہوا۔ وزیراعلی کے پی کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے تو جیل سپرنٹنڈنٹ کو ملاقات کرانے کا کہا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم اسی روز گئے مگر ملاقات نہیں کرائی گئی، توہین عدالت کی درخواست دائر کی لیکن درخواست ہی نہیں لگی، توہین عدالت کی پرانی درخواستیں لگیں تو انہیں یک جنبش قلم نمٹا دیا گیا، ہائی کورٹ نے اپنے ہی آرڈر کی حکم عدولی پر کوئی ایکشن نہیں لیا جس پر سپریم کورٹ چلے گئے۔ طبی معائنے کے لیے بھی درخواستیں دائر کی گئیں لیکن درخواست پر سماعت نہیں ہو سکی۔

سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ ہمارے لیے ایک بند دروازہ ہے، یہاں ہم درخواستیں دائر کر سکتے ہیں لیکن اس پر سنوائی نہیں ہوتی۔ ٹوئٹر کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی کے خلاف ایک کیس سماعت کے لیے مقرر ہے، اس مقدمے کے حوالے سے بھی عدالت نے بانی پی ٹی آئی سے میری ملاقات کرنے کی ہدایات جاری کیں، میں نے کہا کہ ملاقات کے بغیر بانی پی ٹی آئی کی جانب سے کیسے جواب داخل کرایا جا سکتا ہے؟

انہوں ںے کہا کہ میری ملاقات نہیں کروائی گئی مگر عدالت نے اس کیس میں بھی کاروائی کو آگے بڑھایا، عدالت کہہ رہی ہے کہ آپ ملاقات کے بغیر ہی جواب بھی داخل کریں اور بحث بھی کریں، کسی بھی فریق کو اس کا موقف بیان کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔

سلمان اکرم راجا نے کہا چیف منسٹر نے فیصلہ کیا کہ ساڑھے چار کروڑ عوام کے نمائندے کی حیثیت سے کورٹ میں کھڑے ہو کر پوچھیں گے، کیسز ختم ہونے پر چیف منسٹر نے اپنے بات کرنے کی کوشش کی لیکن چیف جسٹس صاحب اٹھ کر چلے گئے، ہم یہاں سے سپریم کورٹ بھی جائیں گے، عمران خان کا مقدمہ قوم اور عوام کو لڑنا پڑے گا۔



Source link

Continue Reading

Today News

امدادی تقریب میں مسلمان خواتین کو صاف انکار، بھارت میں نئی بحث چھڑ گئی

Published

on


نئی دہلی: بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ریاست راجستھان میں ایک امدادی پروگرام کے دوران چند مسلمان خواتین کو مبینہ طور پر امدادی سامان دینے سے انکار کر دیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بی جے پی کے مقامی رہنما سکبھیر سنگھ ایک تقسیمِ کمبل پروگرام میں شریک تھے۔

اخبار کے مطابق متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ جب منتظمین کو ان کے مسلمان ہونے کا علم ہوا تو انہیں امدادی فہرست سے الگ کر دیا گیا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ رہنما نے مبینہ طور پر کہا کہ جو لوگ وزیر اعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، انہیں امدادی سامان لینے کا حق نہیں۔

واقعے کے بعد سوشل میڈیا اور مقامی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں، کے خلاف بڑھتے ہوئے تعصب اور نفرت انگیز واقعات تشویش کا باعث ہیں۔ تاہم اس معاملے پر متعلقہ رہنما یا حکام کی جانب سے باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ایسے واقعات ملک میں سماجی ہم آہنگی کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کے کارکنان شفاف تحقیقات اور مساوی سلوک کا مطالبہ کر رہے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending