Connect with us

Today News

اسلام آباد میں غیررجسٹرڈ نجی تعلیمی اداروں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ

Published

on



وفاقی دارالحکومت میں قائم غیر رجسٹرڈ نجی تعلیمی اداروں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم نجی اداروں کو فوری رجسٹریشن کے لیے دو ماہ کی مہلت اور پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) نے رجسٹریشن کی تجدید میں تاخیر والے اداروں کو ون ٹائم ایمنسٹی دیتے ہوئے رینول فیس میں 30 اپریل تک توسیع دے دی ہے۔

چیئرمین ڈاکٹر غلام علی ملاح کی زیر صدارت اہم اجلاس میں غیر رجسٹرڈ اور تجدید کے منتظر نجی تعلیمی اداروں کے مسائل اور اسلام آباد بھر کے نجی اسکولوں میں طلبہ کے اندراج کے اعداد و شمار کی تیاری و تجزیے پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں اسلام آباد کے نجی تعلیمی اداروں کے نمائندگان، فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن، فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن اور پیرا کے افسران نے شرکت کی۔

اجلاس کا بنیادی مقصد ڈیٹا جمع کرنے کے نظام کو بہتر بنانا اور نجی تعلیمی اداروں میں طلبہ کے اندراج کے ریکارڈ کی درستی اور تصدیق یقینی بنانا تھا۔

شرکا سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ڈاکٹر غلام علی ملاح نے شفافیت کے فروغ، باخبر فیصلوں اور مؤثر ضابطہ کاری کے لیے مستند اور تصدیق شدہ ڈیٹا کی اہمیت پر زور دیا۔

اجلاس کے دوران نجی تعلیمی اداروں کے نمائندگان نے درخواست کی کہ تجدید کے معاملات میں تاخیر کے باعث عائد جرمانوں کے سلسلے میں ایک مرتبہ کی عام معافی دی جائے، مزید یہ کہ ایسے اداروں کو رجسٹریشن یا تجدید رجسٹریشن کی درخواستیں جمع کرانے کے لیے دو ماہ کی مہلت دی جائے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر غلام علی ملاح نے بتایا کہ آئی سی ٹی پیرا نے تاخیر سے تجدید کی درخواستیں جمع کرانے والے نجی تعلیمی اداروں کو ایک مرتبہ کی عام معافی دے دی ہے، یہ معافی یکم مارچ 2026 سے 30 اپریل 2026 تک مؤثر ہوگی تاکہ ایسے اداروں کو ضابطہ جاتی دائرے میں لایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا تاکہ طلبہ کے اندراج کے ریکارڈ کی درستی اور تصدیق یقینی بنائی جا سکے اور اسلام آباد کے نجی تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم کو فروغ دیا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ نجی تعلیمی اداروں کے نمائندگان اپنے اپنے علاقوں میں قائم غیر رجسٹرڈ نجی اسکولوں کی فہرستیں فراہم کریں گے تاکہ انہیں ضابطہ جاتی نظام میں شامل کیا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ رجسٹریشن کی تجدید ہر سال 30 اپریل تک دی جائے گی، چاہے رجسٹریشن یا تجدید کی سابقہ تاریخِ معیاد کچھ بھی ہو۔

چیئرمین نے متنبہ کیا کہ اگر ان ہدایات پر عمل نہ کیا گیا تو اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری نجی تعلیمی ادارہ جات (رجسٹریشن و ریگولیشن) ایکٹ 2013 کی دفعہ 19 بمعہ دفعہ 13 کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

شادی سے قبل رشمیکا منڈانا اور وجے کی دولت کی تفصیلات سامنے آگئیں

Published

on


ساؤتھ انڈین فلم انڈسٹری کی مشہور جوڑی رشمیکا منڈانا اور وجے دیوراکونڈا کل یعنی 26 فروری کو شادی کے بندھن میں بندھنے جا رہے ہیں۔

پریمی جوڑے نے اپنی شادی کو خصوصی طور پر ’ویروش ویڈنگ‘ کا نام دیا ہے اور تقریب اراؤلی پہاڑیوں میں واقع دی مینٹوز میں ہوگی۔

شادی کی تقریب نجی نوعیت کی ہے اور تقریباً 100 مہمانوں کی شرکت متوقع ہے جس میں فلمی دنیا کی بڑی شخصیات کی بجائے چند سیاستدان اور ہدایتکار مدعو ہیں۔

تاہم دونوں کی شادی سے قبل ہی اس جوڑے کو ساؤتھ انڈین کی امیر ترین جوڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ جس میں کتنی سچائی ہے اس کا اندازہ مندجہ ذیل تفصیلات سے لگایا جا سکتا ہے۔

رشمیکا منڈانا جنوبی بھارت کی سب سے زیادہ معاوضہ یعنی 4 کروڑ فی فلم لینے والی اداکاراؤں میں شامل ہیں۔ ان کی مجموعی دولت تقریباً 66 کروڑ روپے ہے۔

فلموں کے علاوہ برانڈ انڈورسمنٹ اور خوشبو کے برانڈ سے آمدنی اضافی ہے۔ ان کی جائیدادیں بنگلورو، حیدرآباد، ممبئی، گوا اور کورگ تک پھیلی ہوئی ہیں۔

رشمیکا کا کورگ میں واقع ولا کی مالیت ہی تقریباً 8 کروڑ روپے بنتی ہے جب کہ ان کے پاس رینج روور اسپورٹ، آڈی کیو تھری اور مرسڈیز بینز جیسی مہنگی گاڑیاں بھی ہیں۔

ان کے ہونے والے شوہر وجے دیوراکونڈا بھی جنوبی بھارت کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے اداکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔

وجے کی مجموعی دولت 66 سے 70 کروڑ روپے کے لگ بھگ ہے اور وہ فی فلم اوسطاً 3 سے 5 کروڑ روپے لیتے ہیں۔

رشمیکا کی طرح وجے کو بھی برانڈ انڈورسمنٹ اور سوشل میڈیا سے آمدنی حاصل ہوتی ہے حیدرآباد کے پوش علاقے جوبلی ہلز میں تقریباً 15 کروڑ روپے مالیت کا بنگلہ بھی ہے۔

وجے بھی رشمیکا کی طرح گاڑیوں کے شوقین ہیں اور ان کے پاس اس وقت بھی بی ایم ڈبلیو، فورڈ مستنگ، رینج روور ہیں۔

اس کے علاوہ وجے ایک نجی طیارہ بھی رکھتے ہیں جس کی مالیت تقریباً 30 کروڑ روپے ہے۔

جوڑے کی مشترکہ دولت 130 کروڑ روپے سے زائد بتائی جاتی ہے جس کے باعث یہ جوڑی ٹالی وڈ کی سب سے امیر نوجوان جوڑیوں میں شامل ہو گئی ہے۔

 

 





Source link

Continue Reading

Today News

ماں سے جدا بندر پر آنسو، غزہ کے بچی پر خاموشی؟ دلخراش ویڈیو نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دیا

Published

on


فرانس میں کیوبا کے سفارتخانے کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی گئی ہے جس نے دنیا کو آئینہ دکھا دیا۔

دنیا بھر میں سوشل میڈیا اس وقت ایک چونکا دینے والی ویڈیو نے تہلکہ مچادیا تھا جس میں ماں سے محروم ایک بندر کو کھلونا بندر کو ماں سمجھ کر لپٹے رہتے دکھایا گیا تھا۔

جس پر دنیا بھر سے رنج و الم کا اظہار کیا گیا تھا تاہم اب فرانس میں کیوبا کے سفارتخانے نے عالمی برادری کی اس دکھاوے کی ہمدردی کو کھلے لفظوں میں شرمناک قرار دیا۔

کیوبن سفارتخانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک ویڈیو شیئر کی۔ جس کے پہلے حصے میں جاپان کے ایک چڑیا گھر میں موجود پنچ نامی ننھے بندر کو دکھایا گیا ہے۔

ماں کی ممتا سے محروم یہ بندر ایک کھلونے کو سینے سے لگائے بیٹھا ہے۔ اس منظر نے دنیا بھر کے صارفین کو جذباتی کر دیا اور ہر طرف ہمدردی کے پیغامات کی بھرمار ہو گئی۔

مگر اسی ویڈیو کے دوسرے حصے میں منظر یکسر بدل جاتا ہے۔ یہاں غزہ کی ایک معصوم بچی دکھائی دیتی ہے، جو اسرائیلی بمباری میں اپنے گھر اور اہلِ خانہ کو کھونے کے بعد ملبے کے ڈھیر پر کھڑی، اپنی گڑیا کو سینے سے لگائے خاموشی سے درد سہہ رہی ہے۔

کیوبن سفارتخانے نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ دنیا ایک بندر کے کھلونے سے لپٹنے پر رو پڑتی ہے لیکن غزہ میں ہزاروں یتیم بچوں کے دکھ کو نظر انداز کر دیتی ہے جن کے خاندان اسرائیلی حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔

سفارتخانے نے اس رویے کو اپنی من مرضی کی ہمدردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تضاد انسانیت کے دعوؤں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے قومی خزانے کو 472 ارب کا نقصان پہنچایا، اعداد وشمار جاری

Published

on



نیشنل الیکٹرک پاور ریگیولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق مذکورہ کمپنیوں نے قومی خزانہ کو ایک سال میں 472 ارب روپے کا نقصان پہنچایا ہے۔

نیپرا کی جانب سے جاری بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی رپورٹ 25-2024 کے مطابق  ایک سال میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے قومی خزانے کو 472 ارب کا نقصان پہنچایا جو ترسیل، تقسیم اور  کم وصولیوں  کی مد میں ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ترسیل اور تقسیم کی مد میں ایک سال میں 265 ارب اور کم ریکوری کی مد میں207 ارب روپے کا نقصان ہوا۔

نیپرا نے رپورٹ میں بتایا کہ ڈسکوز بجلی کے ترسیل اور تقسیم کے نقصانات کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہیں، ترسیل اور تقسیم کے نقصانات پاور سیکٹر کے لیے ایک مستقل چیلنج ہے۔

رپورٹ میں بجلی کمپنیوں کے ترسیل اور تقسیم کے نقصانات پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بجلی بلوں کی کم ریکوری پر بھی تشویش ہے اور نقصانات سے سرکلر ڈیٹ میں اضافہ ہوتا ہے۔



Source link

Continue Reading

Trending