Today News
انگلینڈ سے ہار کے بعد کپتان سلمان آغا کے اہلِ خانہ کو آن لائن ہراسانی کا سامنا
آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کے سپر 8 مرحلے میں پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف میچ میں شکست کھائی جس سے پاکستان کے لیے سیمی فائنل میں رسائی مزید مشکل ہوگئی۔
پاکستانی ٹیم کی اس شکست کے بعد بعض شائقین نے قومی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا کے اہلِ خانہ یعنی ان کی بیوی اور بیٹے کو سوشل میڈیا پر ہراساں کرنا شروع کر دیا۔
سلمان آغا کی اہلیہ صبا نے انسٹاگرام پر ایک اسٹوری شیئر کی جس میں انہوں نے کہا کہ ’’مجھے یا میرے معصوم بیٹے کو گالیاں دینے سے آپ ورلڈکپ نہیں جیتیں گے۔‘‘
کرکٹ حلقوں میں بھی اس رویے پر تنقید ہو رہی ہے اور بعض سابق کھلاڑیوں نے کھلاڑیوں کے اہلِ خانہ کو نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے۔
جنوبی افریقا کے اسپنر تبریز شمسی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ اس قسم کا احمقانہ رویہ پریشان کرتا ہے، انہوں نے کہا کہ ہاں آپ کو ہارنے کا دکھ ہو سکتا ہے لیکن جیتنا اور ہارنا کھیل کا حصہ ہے لیکن کھلاڑیوں کے اہل خانہ کو گالی دینے کی ضرورت نہیں۔
Its this type of stupid behaviour that pisses me off!!!! 😡
Yeah u can be sad that your team lost, winning and losing is part of sport but there is no need to abuse players families
This goes for fans from all different countries
Have some respect for others please!
Thank you https://t.co/DlDhKlM5IV
— Tabraiz Shamsi (@shamsi90) February 25, 2026
انہوں نے کہا کہ یہ تمام مختلف ممالک کے شائقین کے لیے ہے، براہ کرم دوسروں کا کچھ احترام کریں!
Source link
Today News
عوام کا ناقابل برداشت صبر
حکومت نے پہلے سوئی گیس کے گھریلو صارفین پر فکسڈ چارجز مسلط کیے تھے اور اس زیادتی کو کوئی روکنے والا نہیں تھا اور گیس صارفین فکسڈ چارجز مہنگی گیس کے باوجود برداشت کرنے پر مجبور تھے جس سے حکومت نے اندازہ لگا لیا کہ عوام پٹرولیم لیوی اورگیس فکسڈ چارجز برداشت کرنے کی سکت رکھتے ہیں تو ٹیکسوں تلے صارفین مزید بوجھ بھی برداشت کر لیں گے۔ حکومت ہر الزام خود پر نہیں لیتی۔
اس لیے اس نے پٹرولیم کی الگ وزارت اور توانائی کی الگ الگ وزارتیں بنا رکھی ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھانے کی ذمے داری سیاسی وزرائے خزانہ نے لی ہوئی تھی، اس لیے (ن) لیگی حکومت کے وزرائے خزانہ ہر پندرہ روز بعد ٹی وی پر نرخ بڑھانے کا اعلان کیا کرتے تھے اور متعلقہ وزیر خاموش رہا کرتے تھے اور عوام کی طرف سے برائیاں حکومت کو ملتی تھیں۔
اب ایک غیر سیاسی وزیر خزانہ ہیں جو سینیٹر ہیں اور انھوں نے کبھی الیکشن نہیں لڑا ۔ سابق وزیر مفتاح اسمٰعیل نے مجبوراً کراچی سے اپنی پارٹی مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی پر مجبوری میں الیکشن لڑا تھا اور وہ ہار گئے تھے۔ مفتاح اسمٰعیل اب سیاسی ہو گئے ہیں اور (ن) لیگی سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی بنائی گئی سیاسی پارٹی میں جنرل سیکریٹری کے طور پر (ن) لیگی حکومت پر تنقید میں پیش پیش رہتے ہیں۔ یہی کام ان کے نئے قائد کا ہے اور دونوں کو جو برائیاں (ن) لیگی حکومت میں پہلے نظر نہیں آئی تھیں، اب آ رہی ہیں اور عوام کے لیے آواز اٹھانے لگے ہیں۔
عوام سے تعلق نہ رکھنے والے وزرائے خزانہ کا ایف بی آر کی بجائے صرف عوام پر بس چلتا ہے اس لیے وہ عام لوگوں اور باقاعدگی سے ٹیکس کٹوانے پر مجبور تنخواہ دار ملازموں پر بوجھ بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ یہ دونوں احتجاج نہیں کرتے جس سے انھیں شے ملتی ہے اس لیے اب گیس کے بعد بجلی صارفین کو بھی پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ میں تقسیم کرکے ان پر بھی فکسڈ چارجز مسلط کر دیے گئے ہیں اور سوئی گیس میں نئے مالی سال میں فکسڈ چارجز بھی بڑھائے تھے اور ماہانہ 6 سو کو ایک ہزار اور ایک ہزار کو ڈیڑھ ہزار فکسڈ چارجز مسلط کر دیے تھے جب کہ گیس اور بجلی پر اصل قیمت کے علاوہ متعدد ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں جب کہ بجلی و گیس پہلے ہی بہت مہنگی ہے اور پٹرول کو مہنگے سے مہنگا کرنے کے لیے لیوی بڑھا دی جاتی ہے تاکہ عوام کو عالمی سطح پر کم ہونے والی قیمتوں کا بھی ریلیف نہ مل سکے جو عوام کا حق ہے مگر نہیں ملتا۔
نیپرا نے وزارت توانائی کی درخواست منظور کرتے ہوئے پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ دونوں گھریلو صارفین پر مختلف فکسڈ چارجز عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ عوام جو مہنگی بجلی سے پہلے ہی پریشان تھے، اب مزید پریشان کرنے کے لیے پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے ماہانہ سو یونٹ پر دو سو روپے، دو سو یونٹ استعمال کرنے والوں پر تین سو روپے فکسڈ چارجز اور تین سو سے زائد بجلی استعمال کرنے والوں کو سہولت دی گئی جو متوسط طبقہ ہی استعمال کرتا ہے۔
نیپرا نے تین سو ایک سے چار سو یونٹ تک بجلی 1.53 روپے اور صنعتی صارفین کے لیے پانچ روپے سستی کرنے کی منظوری دی ہے۔ پہلے ایک سو یونٹ استعمال پر فکسڈ چارجز نہیں تھے اور بجلی کا نرخ بھی کچھ کم تھا اور نہایت ہی غریب صارفین بڑی احتیاط سے بجلی استعمال کرتے تھے۔ سردیوں میں تو ان کا استعمال کم ہو جاتا تھا مگر گرمیوں میں پنکھوں کی وجہ سے سو یونٹ میں گزارا نہیں ہوتا اور ان کے یونٹ بڑھ جاتے ہیں۔
ہر حکومت ہر سال بجٹ میں ٹیکس ہی نہیں بڑھاتی بلکہ نئے ٹیکس بھی مسلط کرتی ہے اور سال کے دوران وعدے کر کے بھی ضمنی بجٹ کے ذریعے ٹیکس بڑھا دیتی ہے کیونکہ ایوان صدر، وزیراعظم سیکریٹریٹ اور ہاؤس کے اخراجات کے لیے بجٹ بڑھانا پڑتا ہے جب کہ اپنوں کو نوازنے کے لیے بھی نئے عہدے تخلیق کرکے حکومت اخراجات تو بڑھاتی ہے مگر عوام کو سہولت کبھی نہیں دیتی۔ شاید ہر حکومت عوام کو ریلیف دینے کو گناہ سمجھتی ہے اسی لیے کوئی بھی ریلیف نہیں دیتی اور عوام پر اتنے زیادہ ٹیکسوں سے بھی حکومت مطمئن نہیں ہوتی، اس لیے ہر 15 دن بعد پٹرولیم مصنوعات اور بجلی و گیس مہنگی کرتی رہتی ہے اور یہ آزماتی ہے کہ عوام مزید کتنا حکومتی بوجھ برداشت کر سکتے ہیں۔ اس طرح عوام کے صبر و برداشت کا مسلسل امتحان لیا جاتا ہے کیونکہ عوام بھی مجبور ہیں۔
غیر ملکی قرضے عوام کے لیے نہیں بلکہ پہلے سے لیے گئے قرضے اور قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے مسلسل لیے جا رہے ہیں اور قرضے دینے والے اپنی کڑی شرائط پر قرضے دیتے رہتے ہیں انھیں کوئی سروکار نہیں کہ یہ قرضے عوام کو ریلیف دینے پر خرچ ہونے کی بجائے حکومت کہیں اور خرچ کرکے عوام کو مقروض پر مقروض کر رہی ہے۔
مہنگائی اور بے روزگاری کو حکومت عالمی مسئلہ قرار دیتی ہے جب کہ حکومت کو پتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک عوام سے ٹیکس لے کر عوام کو بے شمار سہولیات اور رعایت بھی دیتے ہیں مگر ہماری حکومتیں عوام کو ریلیف دینے پر یقین ہی نہیں رکھتیں بلکہ عوام کو نئے نئے ٹیکسوں میں جکڑنا اپنا حق سمجھتی ہیں۔ عوام سے ٹیکس حکومت اپنا حق سمجھ کر وصول کرتی ہے اور ٹیکس دینا عوام کا فرض بنا دیا گیا ہے جس سے عوام کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ حکومت کے مسلسل جاری مظالم عوام کے لیے ناقابل برداشت ہوتے جا رہے ہیں، اس لیے بہتر ہوگا کہ عوام کے مسلسل صبر کا حکومت مزید امتحان نہ لے اور انھیں مہنگائی و بے روزگاری کے خلاف سڑکوں پر آنے پر مجبور نہ کرے کہ ان کی برداشت ختم ہو جائے۔
Today News
خیبر، نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پولیس اہلکار اور اس کا کمسن بیٹا جاں بحق
خیبر:
ضلع خیبر کے علاقے لنڈی کوتل سلطان خیل میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں پولیس اہلکار اور اس کا کمسن بیٹا جاں بحق ہو گئے۔
پولیس کے مطابق سپاہی سفیر خان کو گزشتہ شام اپنے حجرے کے سامنے نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کا نشانہ بنایا، جس کے باعث وہ اپنے 7 سالہ بیٹے محمد طلحہ سمیت شدید زخمی ہو گئے۔
دونوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ سپاہی سفیر خان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال میں دم توڑ گیا، جبکہ اس کا کمسن بیٹا محمد طلحہ بھی دورانِ علاج جاں بحق ہو گیا۔
حکام کے مطابق حملہ تقریباً ایک گھنٹہ قبل پیش آیا تھا اور واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
پولیس نے تھانہ لنڈی کوتل میں نامعلوم دہشتگردوں کے خلاف مقدمہ درج کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔
Today News
کراچی، تلخ کلامی پر سیکیورٹی گارڈ کی فائرنگ سے ریٹائرڈ ڈی ایس پی کا بیٹا جاں بحق
کراچی:
شہر قائد کے علاقے نارتھ ناظم آباد بلاک سی میں سیکیورٹی گارڈ کی فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔ پولیس کے مطابق واقعہ تلخ کلامی کے بعد پیش آیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول کی شناخت ولید کے نام سے ہوئی ہے، جسے فائرنگ کے بعد فوری طور پر عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ دم توڑ گیا۔
حکام کے مطابق مقتول ولید فیڈرل بی ایریا بلاک 10 کا رہائشی اور ریٹائرڈ ڈی ایس پی شمیم عارف کا بیٹا تھا، جو واقعے کے وقت اپنی بہن کے گھر آیا ہوا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ مقتول کے جسم پر تین گولیاں لگیں۔
پولیس کے مطابق واقعے کے بعد موقع پر پہنچ کر نجی سیکیورٹی کمپنی کے گارڈ وکیل احمد کو گرفتار کر لیا گیا اور اس سے اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے اور مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
-
Tech2 weeks ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Entertainment2 weeks ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech2 weeks ago
3 Reasons The Galaxy S26 Ultra Plays It Safe (And Why It Might Work)
-
Tech2 weeks ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Entertainment3 days ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech2 weeks ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Entertainment2 weeks ago
Heartbreaking Moment as Army Martyr’s Father Faints Receiving Son’s Belongings
-
Tech1 week ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch