Today News
بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے قومی خزانے کو 472 ارب کا نقصان پہنچایا، اعداد وشمار جاری
نیشنل الیکٹرک پاور ریگیولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق مذکورہ کمپنیوں نے قومی خزانہ کو ایک سال میں 472 ارب روپے کا نقصان پہنچایا ہے۔
نیپرا کی جانب سے جاری بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی رپورٹ 25-2024 کے مطابق ایک سال میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے قومی خزانے کو 472 ارب کا نقصان پہنچایا جو ترسیل، تقسیم اور کم وصولیوں کی مد میں ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ترسیل اور تقسیم کی مد میں ایک سال میں 265 ارب اور کم ریکوری کی مد میں207 ارب روپے کا نقصان ہوا۔
نیپرا نے رپورٹ میں بتایا کہ ڈسکوز بجلی کے ترسیل اور تقسیم کے نقصانات کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہیں، ترسیل اور تقسیم کے نقصانات پاور سیکٹر کے لیے ایک مستقل چیلنج ہے۔
رپورٹ میں بجلی کمپنیوں کے ترسیل اور تقسیم کے نقصانات پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بجلی بلوں کی کم ریکوری پر بھی تشویش ہے اور نقصانات سے سرکلر ڈیٹ میں اضافہ ہوتا ہے۔
Source link
Today News
کراچی، تلخ کلامی پر سیکیورٹی گارڈ کی فائرنگ سے ریٹائرڈ ڈی ایس پی کا بیٹا جاں بحق
کراچی:
شہر قائد کے علاقے نارتھ ناظم آباد بلاک سی میں سیکیورٹی گارڈ کی فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔ پولیس کے مطابق واقعہ تلخ کلامی کے بعد پیش آیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول کی شناخت ولید کے نام سے ہوئی ہے، جسے فائرنگ کے بعد فوری طور پر عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ دم توڑ گیا۔
حکام کے مطابق مقتول ولید فیڈرل بی ایریا بلاک 10 کا رہائشی اور ریٹائرڈ ڈی ایس پی شمیم عارف کا بیٹا تھا، جو واقعے کے وقت اپنی بہن کے گھر آیا ہوا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ مقتول کے جسم پر تین گولیاں لگیں۔
پولیس کے مطابق واقعے کے بعد موقع پر پہنچ کر نجی سیکیورٹی کمپنی کے گارڈ وکیل احمد کو گرفتار کر لیا گیا اور اس سے اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے اور مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
Today News
یو اے ای سے قرض رول اوور پر رابطے جاری ہیں، وزیر خزانہ
اسلام آباد:
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ حکومت کے متحدہ عرب امارات سے 2 ارب ڈالرکے قرض کی مدت میں توسیع (رول اوور) کے معاملے پررابطے جاری ہیں، اس سلسلے میں کوئی مسئلہ درپیش نہیں، وہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگوکررہے تھے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ بیرونی مالیاتی خلا مکمل پُرکیا جا چکا ہے اور اس حوالے سے کوئی ابہام نہیں، بیرونی مالی ضروریات پرآئی ایم ایف سے پروگرام کے آغاز میں بات چیت ہو چکی ہے اور آئندہ مذاکرات میں بھی اس کاجائزہ لیا جائیگا۔
7 ارب ڈالرکے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت عرب امارات، سعودی عرب اور چین نے اسٹیٹ بینک میں مجموعی طور پر 12.5 ارب ڈالرکے ڈپازٹس پروگرام کی مدت ستمبر تک برقراررکھنے کاعزم کررکھاہے۔
تاہم ذرائع کے مطابق اس باریو اے ای نے قرض کی مدت میں صرف ایک ماہ کی توسیع کی تھی،جبکہ مزید توسیع کے بارے میں باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
گزشتہ دسمبر میں گورنر اسٹیٹ بینک نے یو اے ای سے 2.5 ارب ڈالرقرض 2 سال کیلیے رول اوورکرنے اورشرح سود 6.5 فیصدسے کم کرکے 3 فیصد کرنے کی درخواست کی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جنوری میں گزشتہ توسیع کے وقت اماراتی حکام نے عندیہ دیا تھاکہ یہ آخری توسیع ہوگی۔
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار پہلے بتا چکے ہیں کہ عرب امارات فوجی فاؤنڈیشن کے ایک ارب ڈالر مالیت کے حصص کے حصول پر بھی بات چیت کررہا ہے۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 7 ارب ڈالرکے ایکسٹینڈڈ فنڈفیسیلٹی اور 1.4 ارب ڈالرکی ریزیلینس اینڈسسٹین ایبلٹی فیسیلٹی کے تحت مذاکرات جاری ہیں، مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں آئی ایم ایف بورڈ سے 1.2 ارب ڈالرکی دو قسطوں کی منظوری کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
آئی ایم ایف مشن کراچی پہنچ چکا ہے جہاں وہ اسٹیٹ بینک کی کارکردگی کاجائزہ لے گا، جس میں نیٹ انٹرنیشنل ریزروز، نیٹ ڈومیسٹک اثاثے اور سواپ پوزیشن شامل ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہاکہ پاکستان آئی ایم ایف مذاکرات کیلیے اچھی پوزیشن میں ہے، آئندہ دنوں میں کارکردگی اور مستقبل کی حکمت عملی پر بات چیت ہوگی۔
Today News
قرض کی عدالت میں ایک لرزتی ہوئی معیشت
آئی ایم ایف کے تیسرے اقتصادی جائزہ مشن کی آمد اب محض ایک سفارتی دورہ نہیں رہا۔ یہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک امتحان کی گھڑی ہے کیونکہ اب چھ ماہ کی کارکردگی کا ایک ایک ہندسہ کٹہرے میں ہوگا۔ ہر وعدہ ترازو میں تولا جائے گا اور ہرکمزوری بے رحم سوالوں کے نرغے میں آ جائے گی،کیونکہ آئی ایم ایف ایک ایسے مہمان کی طرح آتا ہے جو دروازہ تو کھٹکھٹاتا ہے تو سلام نہیں جواب مانگے گا۔ ان کی آمد کا سن کر حکام اپنے معاشی کپڑوں کی سلوٹیں درست کرنے لگ جاتے ہیں۔ اپنی معاشی کمزوریوں کو زبان کے پھولوں میں چھپا لیتے ہیں۔
اپنے نہ پورے کیے گئے وعدوں کو گراف اور چارٹ میں سجا کر ایک ایسے ادارے کے سامنے رکھ دیتے ہیں جسے دوسری جنگ عظیم کے بعد ’’ معالج معیشت‘‘ بنا کر پیش کیا گیا تھا۔ معالج نے خوب علاج کیا، لیکن یورپ کی شکستہ معیشت کا۔ لیکن جب باری آئی پاکستان اور کئی ترقی پذیر افریقی ممالک کی تو پھر طریق علاج میں تبدیلی آ گئی۔ کئی افریقی ممالک نے تو جلد ہی ان کے ہاتھ سے اپنی نبض چھڑا لی تھی۔ اب طے کیا گیا ہے کہ مشن کی آمد 25 فروری کو ہوگی اور وہ پاکستان کی معیشت کی نبض کو ٹٹولیں گے۔
آئی ایم ایف جب بھی آتا ہے تو صرف وفد نہیں آتا فیصلے آتے ہیں، مذاکرات کی میز پر بیٹھتا ہے تو عوام کے مستقبل کی قیمت رکھی جاتی ہے، آئی ایم ایف سوال کرتا ہے تو جواب میں صرف وزیر نہیں بولتے مہنگائی بولتی ہے۔ بے روزگاری، چیخیں مارتی ہے، مزدور اپنا سر پیٹتا ہے جو مزدوری میں سے بہت کچھ بچا کر بجلی کا بل ادا کرتا ہے۔ وفد نے جولائی سے دسمبر تک کی کارکردگی کو دیکھنا ہی نہیں ٹٹولنا ہے، پرکھنا ہے۔
اگر وہ معیشت کو غور سے دیکھے تو معیشت کے چہرے کی جھریاں جو چھپی ہوئی ہیں اسے پھر بھی نظر نہیں آتیں۔ یہ وہ چھ ماہ ہیں جن میں حکومتی تقریروں میں کامیابی کے پھول کھلے ہیں اور بازاروں میں قیمتوں کے کانٹے بڑھے وہ چھ ماہ جن میں فائلوں میں نظم و ضبط لکھا گیا اور عوام کی جیب میں بے بسی۔ پاکستان میں اعداد و شمار بھی کبھی کبھی باادب بن جاتے ہیں۔ وہ سچ بولتے ہیں مگر ایسے انداز میں کہ حکمران اس سے تعریف کشید کر لیتے ہیں اور عوام ان سے خوف۔
وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق پرائمری بجٹ سرپلس حاصل کیا گیا۔ یہ اصلاح سننے میں ایسے ہے جیسے حکومت نے اپنے سارے اخراجات پورے کر لیے۔ کاغذ پر کامیابی ہی کامیابی ہے لیکن کاغذ کی دنیا اور گلی کی دنیا میں یہ فرق ہے کہ کاغذ میں خوشحالی کا گراف نمایاں ہوتے ہیں اور گلی کے بچوں کی بھوک پوشیدہ ہوتی ہے۔پرائمری سرپلس کا جشن مناتے وقت ایک سوال دب کر رہ جاتا ہے۔
یہ سرپلس کس قیمت پر آیا؟ کہیں ایسا تو نہیں یہ سرپلس عوام کی سانسیں کم کر کے حاصل کیا گیا ہو۔ کہیں یہ سرپلس اسکول کی مرمت روک کر، اسپتالوں کی دوا کم کر کے، اور یہ بات حقیقت بھی ہے۔ ایک پنشنر کا کہنا ہے کہ اسپتال میں پہلے باقاعدگی سے انسولین، دیگر ادویات اور شوگر چیک کرنے کی اسٹرپس مل جایا کرتی تھیں، لیکن اب چھ، چھ ماہ دوا نہیں ملتی۔ کم از کم اسپتالوں کو مکمل فنڈ مہیا کیا جائے اور ادویات کے بارے میں چیکنگ کا درست نظام نافذکیا جانا چاہیے۔ کیونکہ جب ادویات کی کمی ہو جاتی ہے تو شاید سرپلس کی رپورٹ صحت سے کھیل کر بنائی گئی ہو۔
پھر وہ عدد سامنے آتا ہے کہ 329 ارب روپے کا ٹیکس شارٹ فال۔ یہ محض مالیاتی اصطلاح نہیں۔ یہ ایک چیخ ہے جو بجٹ کی میز کے نیچے دب گئی ہے۔ 329 ارب روپے وہ رقم ہے جو اگر ریاست کے خزانوں میں ہوتی تو ہزاروں نوجوانوں کی تعلیم کا بندوبست ہو سکتا تھا۔ ان کو آئی ٹی کی تعلیم مفت فراہم کی جا سکتی تھی۔
سرکاری اسپتالوں میں انسولین، اسٹرپس، بی پی کی گولیوں اور دیگر ادویات پنشن لینے والوں کو دی جا سکتی تھی۔ٹیکس وہ نقطہ ہے جہاں پاکستان کی معیشت کا پرانا راز بار بار کھلتا ہے۔ ٹیکس انصاف سے نہیں وصول کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ جن کے زیادہ ٹیکس بنتے ہوں ان کو ٹیکس کم ادا کرنے کی راہ دکھا دی جاتی ہے۔ کچھ ان کا فائدہ کچھ ان کی جیب کا فائدہ۔ زیادہ تر ٹیکس دینے والا تنخواہ دار طبقہ ہوتا ہے۔ صارف ہوتا ہے جو ہر چیز خریدتے وقت پہلے ٹیکس ادا کرتا ہے اور جو اشرافیہ طاقتور اور مافیاز ہیں وہ خود کو ان سے ملا کر ٹیکس بچا لیتے ہیں۔ انھیں اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ قرض کی عدالت میں ایک لرزتی ہوئی معیشت اپنی کیا صفائی پیش کرے گی؟
-
Tech2 weeks ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Entertainment2 weeks ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech2 weeks ago
3 Reasons The Galaxy S26 Ultra Plays It Safe (And Why It Might Work)
-
Tech2 weeks ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Entertainment3 days ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech2 weeks ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Entertainment2 weeks ago
Heartbreaking Moment as Army Martyr’s Father Faints Receiving Son’s Belongings
-
Tech1 week ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch