Connect with us

Today News

برکت رمضاں … مگر کہاں؟

Published

on


ماہ رمضان شروع ہوا ہے اور تا دم تحریر تک کچھ روزے گزر بھی گئے ہیں، وقت کو ہی اتنی رفتار لگی ہوئی ہے کہ ادھر مہینہ شروع ہوتا ہے ادھر ختم، ادھر سال شروع ہوتا ہے اور یوں چٹکیوں میں ختم بھی ہوجاتا ہے۔ ماہ رمضان جس کا ہم سال بھر انتظار کرتے ہیں، بھی شروع ہوتا ہے اور پلک جھپکنے میں گزر بھی جاتا ہے، جزا اور اجر کی بارشیں اور اللہ کی رحمتیں ہم پر نازل ہو رہی ہوتی ہیں اور ہم ان سے سرشار ہوتے رہتے ہیں۔

پہلے تو لوگوں کوفقط اپنے گھروں میں ہی ماہ رمضان میں پر تعیش سحری اور افطاری کی فکر ہوتی تھی، روزے کی اصل روح یعنی نفس پر قابو پانا اور بھوکے کی تکلیف کو محسوس کرنا ہے مگر ہم اس مہینے میں اور بھی زیادہ خشوع و خضوع سے مینو بناتے، پارٹیاں پلان کرتے اور تزکیہء نفس اور تزکیہء قلب کو بھلا کر ان چیزوں میں وقت ضایع کرتے ہیں جو ہم سال بھر یوں بھی کرسکتے ہیں اور کرتے بھی ہیں۔

چند برسوں سے ایک اور رواج جو فروغ پا رہا ہے وہ ہے رمضان کی مناسبت سے رمضان پیکیج تقسیم کرنا جو کہ پہلے بھی ہوتے تھے مگر پہلے پردے سے اور ڈھک کر دیا جاتا تھا کہ غریب رشتہ دار، عیال اور محلے دار بھی اس خوشی میں شامل ہوں کہ انھوں نے اللہ کی خوشنودی کے لیے روزہ رکھا اور ان کے کسی متمول رشتہ دار نے ان کی عزت نفس مجروح کیے بغیر انھیں سحر اور افطار میں پیٹ بھر کر کھانے کا سامان کردیا۔

اب بھی یہ سب ہو رہا ہے، پہلے سے بہت زیادہ ہو رہا ہے مگر اس میں نمود و نمائش کا عنصر بڑھ گیا ہے ۔ ہر چھوٹی بڑی دکان پر آپ کو رمضان پیکیج نظر آتے ہیں جو ماہ رمضان سے بہت پہلے بکنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس میں دینے والوں کی سہولت کو مد نظر رکھتے ہوئے اشیائے ضروریہ کو ڈبوں میں پیک کر کے ان پر رمضان مبارک پرنٹ کروایا جاتا ہے ۔ ان میں ایک سے زائد قیمت اور معیار کے علاوہ ورائٹی دستیاب ہوتی ہے۔

پیکٹ میں موجود اشیاء کی فہرست بھی دستیاب ہوتی ہے اور ایک سیمپل کا پیکٹ بھی سامنے ڈسپلے پر ہوتا ہے۔ عام طور پر ان پیکٹوں میں یہ اشیاء ہوتی ہیں۔ آٹا، چاول، چینی، دالیں، بیسن، میدہ، بناسپتی گھی، خوردنی تیل،کھجوریں، ٹماٹو ساس، املی، چنے ، چاٹ مسالہ، پھلکیاں، نمک، مرچ، ہلدی، گرم مسالہ، پتی، دودھ، شربت۔ بعض اوقات ان پیکٹوں میں آلو پیاز بھی شامل ہوتے ہیں۔ اگر کسی محلے یا گاؤں میں پچاس لوگ صاحب حیثیت یعنی دینے والے ہوں اور پچاس سفید پوش یعنی لینے والے ہوں اور دینے والے پانچ ، دس، پندرہ یا بیس پیکٹ فی کس بھی دے رہے ہوں تو ہر غریب کے گھر میں سات سے آٹھ ملتے جلتے سامان کے پیکٹ پہنچ جاتے ہیں۔

اس کے کنبے کے سائز کے حساب سے اسے دو نہیں تو تین پیکٹ چاہئیں اس کے علاوہ کا راشن اس کے لیے اضافی ہے۔ ہمارے گاؤں میں تو ایسا ہوتا ہے کہ وہ غریب لوگ انھی دکانوں پر جا کر دکانداروں کی منت سماجت کرتے ہیں کہ وہ بے شک ان سے وہ سامان کم قیمت پر واپس لے لیں مگر اس کے عوض انھیں کچھ اور سامان دے دیں، یقینا ایسااور جگہوں پر بھی ہوتا ہو گا۔ چیک کرنے پر علم ہوا کہ لوگ جو سامان تبدیل کرواتے ہیں، اس کے عوض وہ جو بھی سامان لیتے ہیں وہ کسی بھی قیمت کے پیکٹوں میں نہیں ہوتا ہے۔

برتن اور کپڑے دھونے کا صابن، وم، سرف، شیمپو، نہانے کا صابن، ٹوتھ پیسٹ، ٹوتھ برش، بسکٹ، ڈبل روٹی، انڈے، دہی، بچوں کے ڈائپر اور ان کا فارمولا دودھ اور ایک طویل فہرست۔ اب ایک رمضان پیکٹ وصول کرنے والا جب وہ پیکٹ اٹھا کر دکان پر لے جاتا ہے تو وہ تمام راستے میں اور دکانوں پر بھی کتنی نظروں کی چھلنی سے گزرتا اور دل میں شرمندہ ہوتا ہے۔ اس کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے مگر غریب کی عزت نفس ہوتی کہاں ہے۔ بعض مفاد پرست دکاندار اس موقع سے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں اور وہی سامان جو انھوں نے پہلے مہنگے داموں بیچا ہوتا ہے، واپس لیتے وقت اس کی کم قیمت دیتے ہیں۔ واپس کرنے والا تو مجبور بھی ہے اور دیگر سامان کے لیے ضرورت مند بھی… وہ اپنی ضرورت کا وہ سامان لے کر واپس جاتے ہوئے بھی نظریں چراتا ہے ۔

جو لوگ دس لوگوں کے لیے راشن خرید کر دیتے ہیں، کیا وہ اتنی ہی رقم کسی غریب کو نقد نہیں دے سکتے؟ جانے اس کی کتنی ضرورتیں ہیں جن کے لیے وہ نہ چوری کرسکتا ہے اور نہ بھیک مانگ سکتا ہے۔ ہر روز پکوڑے، کھجوریں کھانا اور لال شربت پینا اس کے لیے کم اہم ہیں اور زیادہ اہم ہیں گھروں کے کرائے، بجلی اور گیس کے بل، بچوں کی اسکول کی فیس، گھر میں بزرگوں کی دوائیں۔

اس کے لیے آپ لوگوں کو بند لفافوں میں رقوم ڈال کر پردے سے ان کے گھروں تک پہنچا دیں۔ اگر سودے ہی دینا مقصود ہے تودکان پر اپنے نام کے تحت دس لوگوں کے لیے رقوم دے دیں اور دکاندار کو بتائیں کہ وہ دس لوگوں کو اتنی مالیت کا وہ سامان دے دیں جو انھیں چاہیے ہو نہ کہ رمضان پیکیج۔ ’ نیکی کی ٹوکری‘ کا رواج دنیا میں بہت سے ممالک میں ہے اور ہمارے ملک میں بھی چند لوگ صرف تنور کی حد تک غریبوں کو مفت روٹی کے لیے اسے استعمال کرتے ہیں۔ اس کا دائرہ وسیع کیا جا سکتا ہے۔

آپ اگر دوسروں کو کچھ دے رہے ہیں تو اللہ کی خوشنودی کے لیے یا پھر اپنی زکوۃ سے دے رہے ہیں، اس میں آپ کسی پر کوئی احسان تو نہیں کررہے ہیں؟ اس دینے کی تشہیر اور کوریج ایک انتہائی گھٹیا اقدام ہے کہ اگر آپ کا عمل نیک مگر نیت اپنی شو شا کی ہے تو آپ کا نیک عمل بھی ضایع ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ لاکھوں خرچ کر کے سیکڑوں لوگوں کو رمضان کا راشن دیتے ہیں اور داد اور واہ واہ وصول کرتے ہیں۔

کیا ہی اچھا ہو کہ آپ سیکڑوں لوگوں کو راشن دینے کی بجائے دس لوگوں کی مدد اس طرح کریں کہ وہ اپنے گھر کا نظام خود چلانے کے اہل ہوجائیں اور انھیں اگلے برس مدد کی ضرورت نہ ہو، زکوۃ دینے کا درست طریقہ اور اس کا مقصد عین یہی ہے ۔ کسی کو چھوٹا سا پھل سبزی کا کھوکھا کھلوا دیں، کسی کو کام کے لیے دکان یا ریڑھی لے دیں، کسی کو سلائی مشین، کسی بے ہنر کو ووکیشنل ٹریننگ دلوا دیں، کسی کی بچی کو چند ماہ کا بیوٹی پارلر کا کورس کروا دیں، وہیل چئیر، آکسیجن سلنڈر، دوائیں، بیساکھیاں، کوئی ضروری آپریشن، کہیں سے علاج معالجہ…

ارد گرد دیکھیں تو مدد کے سو طریقے ہیں مگر یہ ہے کہ ان طریقوں میں آپ کی تشہیر نہیں ہو گی، خاموشی سے کسی کی ایسی مدد کریں گے تو اس گھر کے چند نفوس آپ کو عمر بھر دعائیں دیں گے مگر آپ کے لیے تالیاں کوئی نہیں بجائے گا اور نہ ہی کوئی تصویریں کھینچ کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرے گا۔ راستے دونوں نیکی کے ہیں مگر فرق نیت کا ہے، دینے کے طریقے کا ہے، کسی کی عزت کرنے کا ہے اور دعائیں لینے کا ہے۔ کسی طریقے سے دنیا ملتی ہے اور کسی سے آخرت… انتخاب قطعی آپ کا ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

حیدرآباد، بجلی کے تاروں میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، متعدد گھروں کی بجلی معطل

Published

on



حیدرآباد:

لطیف آباد یونٹ نمبر 5 کی شاہ نجف کالونی میں بجلی کے پول پر لگے تاروں میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس کے باعث علاقے کے متعدد گھروں کی بجلی معطل ہو گئی۔

اطلاعات کے مطابق آتشزدگی کے نتیجے میں ایک درجن سے زائد گھروں کو بجلی فراہم کرنے والے تار جل گئے۔

واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کنکریٹ کے پول پر نصب میٹروں سے نکلنے والے تاروں میں آگ لگی اور شعلے اوپر کی جانب بلند ہوتے رہے۔

فوٹیج میں تاروں سے شدید سپارکنگ اور آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں جبکہ تاروں کا گچھا پول کے اوپری حصے سے نیچے گر کر لٹکتا دکھائی دیتا ہے۔

ویڈیو میں مقامی افراد کو بالائی منزل اور نیچے سے مٹی پھینک کر آگ بجھانے کی کوشش کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی، مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 3 زخمیوں سمیت 4 ڈاکو گرفتار

Published

on



کراچی:

شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلوں کے دوران 3 زخمیوں سمیت 4 ڈاکوؤں کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ اسلحہ اور چھینا گیا سامان بھی برآمد کر لیا گیا۔

پولیس حکام کے مطابق سچل تھانے کی حدود میں سپرہائی وے جمالی پل کے قریب مبینہ مقابلے کے بعد دو ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کیے گئے۔

گرفتار ملزمان کی شناخت یاسر اور طحہٰ کے نام سے ہوئی ہے، جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔

پولیس نے ملزمان کے قبضے سے دو پستولیں، چھینے گئے موبائل فونز اور موٹرسائیکل برآمد کر لی۔

دوسری کارروائی میں اقبال مارکیٹ پولیس نے اورنگی ٹاؤن سیکٹر ساڑھے گیارہ میں مبینہ مقابلے کے بعد دو ڈاکو گرفتار کیے گئے۔ 

ایک زخمی ملزم فضل محمد کو علاج کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ دوسرا ملزم شوکت خان کو تھانے منتقل کر دیا گیا۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان سے ایک پستول، چھینے گئے موبائل فونز، نقد رقم اور موٹرسائیکل بھی برآمد ہوئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

باجوڑ، ابابیل اسکواڈ کے 4 شہداء کی نماز جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی

Published

on



باجوڑ:

ابابیل اسکواڈ پر دہشتگرد حملے میں شہید ہونے والے 4 پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ پولیس لائنز باجوڑ میں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی۔

باجوڑ پولیس کے مطابق 25 فروری 2026 کو رمضان المبارک کے دوران عوام کی حفاظت پر مامور ابابیل اسکواڈ کی گشتی پارٹی پر نوے کلے کے قریب دہشتگردوں نے گھات لگا کر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کانسٹیبل یار زادہ، داؤد خان، عمران اور سراج شہید جبکہ ارشاد خان اور عزیز الرحمن زخمی ہو گئے۔

زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال خار منتقل کر کے علاج کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

نمازِ جنازہ میں کمانڈنٹ باجوڑ سکاؤٹس، ڈپٹی کمشنر، ایس پی انوسٹی گیشن، پولیس و سول افسران، عمائدین علاقہ اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اس موقع پر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہداء کو سلامی پیش کی جبکہ تابوتوں پر پھول رکھ کر خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ملک و قوم کی سلامتی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

ڈی پی او باجوڑ محمد خالد نے کہا کہ عوام کی حفاظت پر مامور جوانوں پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کو جلد انجام تک پہنچایا جائے گا اور شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

پولیس کے مطابق واقعے کے بعد علاقے میں بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے اور سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن جاری ہے جبکہ شہداء کے جسدِ خاکی کو ان کے آبائی علاقوں روانہ کر دیا گیا ہے جہاں انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا جائے گا۔





Source link

Continue Reading

Trending