Connect with us

Today News

مقتولہ مسرت بی بی کی قبر کشائی کے خلاف دائر درخواست مسترد،

Published

on


وفاقی آئینی عدالت نے مقتولہ مسرت بی بی کی قبر کشائی کے خلاف دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ عدالت نے مقتولہ کے شوہر محمد علی کی درخواست خارج کر دی۔

سماعت کے دوران شوہر کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان ایک اسلامی معاشرہ ہے، اس لیے مقتولہ اہلیہ کی قبر کشائی کے حکم کو کالعدم قرار دیا جائے۔ اس پر عدالت میں ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ مقتولہ کی والدہ زبیدہ بی بی اپنی بیٹی کی قبر کشائی چاہتی ہیں کیونکہ انہیں شک ہے کہ ان کے داماد نے ان کی بیٹی کو قتل کیا ہے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے سوال اٹھایا کہ کیا مقتولہ مسرت بی بی کو واقعی ہارٹ اٹیک ہوا تھا، جبکہ یہ بھی ریکارڈ پر ہے کہ بیٹی کی موت پر شوہر نے والدہ کو اطلاع تک نہیں دی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا شوہر میں اتنی انسانیت نہیں تھی کہ تدفین کے وقت والدہ کو مطلع کرتا۔

سماعت کے دوران عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ کیا شوہر نے اس معاملے میں ضمانت حاصل کر رکھی ہے۔ وکیلِ صفائی نے مؤقف اپنایا کہ ان کے موکل کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہے، جس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ آپ کے موکل نے ایف آئی آر درج ہی نہیں ہونے دی۔

درخواست کی سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی، جس کے بعد قبر کشائی کے خلاف درخواست مسترد کر دی گئی۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

دادی کی میت پر ہنسی کیوں آئی؟ ہیری اسٹائلز نے حیران کن وجہ بتادی

Published

on



برطانوی گلوکار ہیری اسٹائلز نے اپنی زندگی کے ایک نہایت ذاتی اور غیر متوقع واقعے کا انکشاف کیا ہے، جس نے مداحوں کو حیران بھی کیا اور جذباتی بھی کردیا۔

گلوکار نے بتایا کہ وہ اپنی دادی کی آخری رسومات کے دوران ہنس پڑے تھے، جس کی ایک عجیب لیکن دلچسپ وجہ تھی۔

حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ انٹرویو کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ہیری اسٹائلز سے پوچھا گیا کہ ان کے مشہور گانے ’’میوزک فار اے سوشی ریسٹورنٹ‘‘ کی طرح اور کن مقامات سے انہیں موسیقی کے لیے آئیڈیاز مل سکتے ہیں؟

اس سوال کے جواب میں انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ انہیں ’’کریمیٹوریم‘‘ یعنی تدفین کی جگہ سے بھی گانے کا خیال آسکتا ہے۔

گلوکار نے اس غیر معمولی جواب کے پیچھے ایک یادگار واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ اپنی دادی کی آخری رسومات میں موجود تھے تو جیسے ہی رسومات شروع ہوئیں، پس منظر میں ’’دی لانگ اینڈ وِنڈنگ روڈ‘‘ بجنے لگا۔ یہ غیر متوقع لمحہ انہیں اتنا عجیب لگا کہ وہ اپنی ہنسی پر قابو نہ رکھ سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال بظاہر نامناسب محسوس ہوتی ہے، لیکن اسی لمحے انہوں نے سوچنا شروع کیا کہ اگر آخری رسومات کے لیے مخصوص گانوں کی فہرست بنائی جائے تو وہ کیسی ہوگی۔ اسی خیال نے انہیں مزاحیہ انداز میں ایک ’’کریمیٹیشن پلے لسٹ‘‘ بنانے کی طرف مائل کیا۔

ہیری اسٹائلز نے اپنی اس خیالی فہرست میں چند دلچسپ گانوں کا بھی ذکر کیا، جن میں ’’ڈسکو انفرنو‘‘، ’’ری لائٹ مائی فائر‘‘ اور ’’رنگ آف فائر‘‘ شامل ہیں۔

سابقہ بینڈ ’’ون ڈائریکشن‘‘ کے رکن کا یہ انکشاف سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہا ہے، جہاں مداح اس واقعے کو ان کے منفرد حسِ مزاح اور زندگی کو مختلف زاویے سے دیکھنے کے انداز کی عکاسی قرار دے رہے ہیں۔



Source link

Continue Reading

Today News

سیکرٹری آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کی فائر وال ہٹانے کی تردید

Published

on


قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے والی فائر وال کی بندش کا معاملہ زیرِ بحث آیا۔

اجلاس کے دوران کمیٹی رکن صادق میمن نے سوال اٹھایا کہ کیا فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی سے قبل فائر وال کی بندش کر دی گئی ہے۔

اس پر سیکریٹری آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام ضرار ہاشم نے فائر وال ہٹانے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کا ویب منیجمنٹ سسٹم مکمل طور پر فعال ہے۔

سیکریٹری آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام نے واضح کیا کہ فائر وال یا ویب منیجمنٹ سسٹم کسی قسم کے ڈیلے کا شکار نہیں بنتا۔

اس موقع پر چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ فائر وال نہیں بلکہ پی ٹی اے کا ویب منیجمنٹ سسٹم ہے جو 2006 سے چل رہا ہے اور اب تک چار بار اپ ڈیٹ ہو چکا ہے، جبکہ اس کی آخری اپ گریڈیشن 2023 میں کی گئی۔

چیئرمین پی ٹی اے کے مطابق اس سسٹم کے نفاذ سے گرے ٹریفک میں واضح کمی آئی ہے اور اسی نظام کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بند کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومتی احکامات پر ایکس کو بھی ویب منیجمنٹ سسٹم کے تحت بند کیا گیا تھا، جبکہ حکومت اور عدالتی احکامات پر اب تک سات مرتبہ مختلف پلیٹ فارمز بند کیے جا چکے ہیں۔

چیئرمین پی ٹی اے نے مزید کہا کہ ویب منیجمنٹ سسٹم ٹیکنالوجی کو سست نہیں کرتا اور نہ ہی یہ کسی قسم کے ڈیلے کا باعث بنتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل سرحدوں کا تحفظ بھی ضروری ہے اور پاک بھارت جنگ کے دوران بھارت کی جانب سے ہونے والے سائبر حملے اسی نظام کے ذریعے روکے گئے۔





Source link

Continue Reading

Today News

Sanjay Leela Bhansali suffers heart attack Team informed about the situation

Published

on


بالی ووڈ کے معروف ہدایتکار سنجے لیلا بھنسالی کی طبیعت سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں نے مداحوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی، تاہم ان کی ٹیم نے تمام افواہوں کی تردید کرتے ہوئے صورتحال واضح کر دی ہے۔

میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اپنے 63 ویں یومِ پیدائش کے موقع پر ہدایتکار کو دل کا دورہ پڑنے کے بعد ممبئی کے این ایچ اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زیرِ علاج ہیں۔

یہ خبر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر ان کی صحت سے متعلق قیاس آرائیاں تیزی سے پھیلنے لگیں۔

تاہم بعد ازاں ہدایتکار کی ٹیم کی جانب سے جاری بیان میں ان اطلاعات کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ سنجے لیلا بھنسالی بالکل خیریت سے ہیں اور ان کی صحت کے حوالے سے پھیلنے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔

سنجے لیلا بھنسالی بالی ووڈ کے ان ہدایتکاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فلم سازی کے ذریعے ایک الگ شناخت بنائی۔ انہوں نے بطور ہدایتکار اپنے کیریئر کا آغاز فلم ’’خاموشی‘‘ سے کیا، جبکہ ’’ہم دل دے چکے صنم‘‘ اور ’’دیوداس‘‘ جیسی فلموں نے انہیں عالمی شہرت دلائی۔

دوسری جانب معروف موسیقار اسماعیل دربار نے بھی حالیہ انٹرویو میں بھنسالی کے ساتھ اپنے تعلقات پر بات کرتے ہوئے ماضی کے اختلافات کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ طویل عرصے تک ان کے ساتھ کام کرتے رہے، تاہم ویب سیریز ’’ہیرامنڈی‘‘ میں انہیں تبدیل کیے جانے پر انہیں شدید دکھ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ڈیڑھ سال تک اس پروجیکٹ پر کام کرتے رہے لیکن بعد میں انہیں پیشگی اطلاع دیے بغیر بدل دیا گیا۔ اسماعیل دربار کے مطابق ماضی میں فلموں کے گانوں کے حوالے سے اختلافات کے باوجود ان کے اور بھنسالی کے تعلقات قریبی رہے، تاہم اس واقعے نے انہیں مایوس کیا۔

بھنسالی کی صحت سے متعلق افواہوں کی تردید کے بعد مداحوں نے اطمینان کا اظہار کیا اور سوشل میڈیا پر ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending