Connect with us

Today News

لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے اسٹیٹکس اینڈ ٹرینڈز رپورٹ 24 ۔ 2023 جاری

Published

on


وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت خالد مقبول صدیقی نے لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے سٹیٹکس اینڈ ٹرینڈز رپورٹ 24 ۔ 2023 جاری کر دی جس کے مطابق 96فیصد اسکولوں میں پختہ عمارتیں، 92 فیصد میں بیت الخلا اور 82 فیصد میں پینے کا صاف پانی دستیاب ہے۔

غذائی قلت سے بچوں کے قد اور وزن میں کمی جیسے چیلنجز سامنے آئے ہیں۔ پرائمری ، مکمل کرنے والی لڑکیوں کی شرح 75فیصد سے بڑھ کر 89فیصد ہوگئی، ہر سال لڑکیوں کی تعلیم میں سہولیات اور انفراسٹرکچر میں بتدریج بہتری آرہی ہے ۔

جمعرات کو پی آئی ای میں گرلز ایجوکیشن سٹیٹکس اینڈ ٹرینڈز رپورٹ 2023/24 کے اجرا کی تقریب منعقد ہوئی۔یہ رپورٹ پی آئی ای ،ملالہ فنڈ ،پی اے جی ای اور وفاقی وزارت تعلیم کے اشتراک سے تیار کی گئی۔

وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت خالد مقبول صدیقی، وزیر مملکت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت وجہیہ قمر ، وفاقی پارلیمانی سیکرٹری فرح اکبر ناز سینیٹر فوزیہ،ڈجی پی آئی ای ڈاکٹر محمد شاہد سرویا،شراکتداروں کے نمائندوں اور ماہرین تعلیم نے شرکت کی۔

وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت خالد مقبول صدیقی نے رپورٹ کے نتائج پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے سرکاری سکولوں میں بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، وہ ہماری پالیسی سازی کی بنیاد بنیں گے۔ انہوں نے کہاکہ جب تک ہمارے پاس درست اعداد و شمار نہیں ہوں گے، مسائل کا حل ممکن نہیں ہے دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی ملک تنہا ترقی نہیں کرتا، بلکہ پورا خطہ مل کر آگے بڑھتا ہے۔

ہمیں بھی اعداد و شمار کے بعد اب عملی اقدامات کی طرف بڑھنا ہوگا کیونکہ دنیا نے انہی کے ذریعے کامیاب پالیسیاں مرتب کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بچیوں کی تعلیم سے ‘ڈراپ آؤٹ’ ہونے کا راستہ ہم صرف اپنے رویوں کو تبدیل اور اپنے دماغوں کو وسیع کر کے ہی روک سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 14 کروڑ نوجوان ہیں،ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اس یوتھ کو بوجھ سمجھ رہے ہیں یا انہیں مواقع فراہم کر کے اپنا اثاثہ بنا رہے ہیں۔ہمیں جہالت کے خلاف جہاد اپنے گھروں سے شروع کرنا ہوگا۔

ریاست جس بچی کے ہاتھ میں ڈگری یا ہنر تھما دیتی ہے، اس کا حق ہے کہ اسے آگے بڑھنے دیا جائے۔ والدین اپنی بیٹیوں کو گھریلو ذمہ داریاں ضرور دیں ، لیکن انہیں اپنی پیشہ ورانہ خدمات جاری رکھنے کی اجازت بھی دینی چاہیے۔ ہنرمند خواتین کو گھروں تک محدود رکھنا انسانی سرمائے کا ضیاع ہے۔

وفاقی وزیر نے اختتام پر کہا کہ بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات اب وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکے ہیں اور حکومت اس ضمن میں تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔

وزیر مملکت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت وجیہہ قمر نے کہا کہ اس رپورٹ کے چیدہ چیدہ نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ہم نے ایک ایکشن پلان ترتیب دینا ہے ، اس میں سامنے آنے والی کامیابیاں اور چیلنجز دونوں ہمارے لئے ایک نئی راہ متعین کریں گے۔

ڈی جی پی آئی ای ڈاکٹر محمد شاہد سرویا نے کہا کہ پاکستان کی بیٹیاں تعلیمی میدان میں اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔

نیشنل اچیومنٹ ٹیسٹ کے نتائج ثابت کرتے ہیں کہ اگر لڑکیوں کو سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو وہ ہر شعبے میں لڑکوں سے بہتر نتائج دے سکتی ہیں۔ ہمارا مقصد اعداد و شمار کے زریعے ان خلیجوں کو نشاندہی کرنا ہے جو ہماری بچیوں کے راستے کی رکاوٹ ہیں تا کہ پالیسی سازی کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔رپورٹ کے مطابق پاکستانی لڑکیوں نے تعلیمی میدان میں اپنی فوقیت ثابت کر دی ہے۔

نیشنل اچیومنٹ ٹیسٹ (NAT) 2023 کے مطابق، لڑکیوں نے انگریزی، اردو ، سندھی اور ریاضی میں لڑکوں سے بہتر اسکور حاصل کیے۔ آٹھویں جماعت میں بھی وہ سائنس اور ریاضی میں آگے رہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ آبادی کے دباؤ کی وجہ سے فی ہزار بچوں اور سکولوں کا تناسب کم ریکارڈ ہوا ہے ۔

تعلیمی اداروں میں معذروں کے سہولیات کے حوالے سے بتایا گیا کہ23 فیصد سکولوں میں ریمپ (Ramps) موجود ہیں تاہم کم تعلیمی ادارے ہیں جس میں خصوصی تدریسی مواد یا امدادی آلات دستیاب ہیں۔ رپورٹ میں بتا یا گیا کہ لڑکیوں کے تعلیمی اداروں میں 23 فیصد اساتذہ بنیاد تربیت یافتہ ہیں ۔ 19فیصد اسکولوں میں ڈیجیٹل آلات ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ تعلیمی بجٹ کا حصہ 13فیصد سے کم ہو کر 11فیصد رہ گیا ہے۔ مجموعی فنڈز کا 94فیصد صرف تنخواہوں پر خرچ ہو رہا ہے، جس سے ترقیاتی کاموں کے لیے گنجائش ختم ہو گئی ہے۔

اعلیٰ تعلیم میں خواتین کی تعداد مردوں کے برابر آ رہی ہے، لیکن روزگار میں ان کی شرکت صرف 24فیصد ہے، جو کہ ایک بڑا انسانی سرمایہ کا ضیاع ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اب بھی ملک میں مجموعی طور پر 2.62 کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں، جن میں سے 1.34 کروڑ لڑکیاں ہیں۔ اگرچہ لڑکیوں نے اپنی صلاحیت ثابت کی ہے، لیکن نظام کی کمزوریاں ان کے راستے کی رکاوٹ ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ رپورٹ کے نتائج ثابت کرتے ہیں کہ پاکستانی لڑکیاں باصلاحیت ہیں، لیکن انہیں منزل تک پہنچانے کے لیے حکومت کو تعلیمی بجٹ میں اضافہ، اساتذہ کی جدید تربیت اور ڈیجیٹل سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دینی ہوگی۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

بنگلہ دیش میں نظام بدلنے کی تحریک

Published

on


بنگلہ دیش کے انتخابات اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی)بی این پی (کی دو تہائی اکثریت کی بنیاد پر حکومت بننے کے باوجود داخلی سیاسی بحران کم نہیں بلکہ اور زیادہ بڑھے گا۔کیونکہ بنگلہ دیش میں عوامی لیگ اور حسینہ واجد کے خلاف جو سیاسی بغاوت ہوئی اور جس طرح سے انھیں ملک کو چھوڑ کر بھارت جانا پڑا اس کے پیچھے جہاں حسینہ واجد کی فسطائیت کے خلاف نفرت تھی وہیں وہاں کی نئی نسل جسے جنریشن ذی کہا جاتا ہے وہ ملک کے داخلی نظام جس میں انصاف ،سیاسی ،معاشی ،بے روزگاری اور دیگر بنیادی حقوق کی عدم موجودگی پر سخت نالاں تھے،یعنی ان کو ایک طرف حسینہ واجد کی پالیسیوں پر سخت تحفظات تھے کہ وہ ملک کی متبادل آوازوں کو طاقت کی بنیاد پر کچل رہی ہیں تو دوسری طرف ریاست کے نظام سے بھی ان کو گلہ تھا کہ ریاست اور شہریوں کے باہمی تعلق کو بنیاد بنا کر شہری مفاد کو اہمیت نہیں دی جارہی۔اس لیے جب بنگلہ دیش کی سطح پر جو سیاسی بغاوت ہوئی تو لوگ اس کے نتیجے میں ملک کی داخلی سیاست میں ایک نمایاں اور بڑی تبدیلی دیکھنا چاہتے تھے۔

اسی بنیاد پر ڈاکٹر یونس کی سربراہی میں بنے والی عبور ی یا نگران حکومت پر بھی بڑا دباو تھا کہ ہم انتخابات کی صورت میں پرامن سیاسی جمہوری تبدیلی بھی چاہتے ہیںمگر یہ تبدیلی بنگلہ دیش کی عوام کے مفاد میں داخلی سیاست اور معیشت میں ایک بڑی مثبت تبدیلی کی بنیاد بھی رکھ سکے۔

کیونکہ جمہوری نظام میں انتخابات کا عمل کا ہونا اور اس کے نتیجے میں حکومت بننا ایک بات جب کہ اس کے نتیجے میں لوگوں کے بنیادی نوعیت کے مسائل کا حل ہونا بھی اہمیت رکھتا ہے۔لوگ بنیادی طور جمہوریت کے نظام میں آزاد عدلیہ ،داخلی ملکی خود مختاری، مضبوط معیشت، آزاد میڈیا سمیت انسانی بنیادی حقوق کو تسلیم کرنا،محروم طبقات کی مضبوط سیاست دیکھنا چاہتے ہیں ۔لیکن اگر انتخابات کے بعد جمہوریت کے نام پر حکومتیں بن جائیں مگر جمہوریت کے ان بنیادی اصولوں کو نظر انداز کردیا جائے تو پھر جمہوری نظام کی داخلی اہمیت کم ہوجاتی ہے۔کچھ اسی قسم کی صورتحال بنگلہ دیش میں بھی ہے اور اسی بنیاد پر ان انتخابات میں لوگوں کا سیاسی نظام میں جوش قابل دید تھا اور جو ان انتخابات میں ووٹ کا ٹرن آوٹ59.09رہا جو ظاہر کرتا ہے کہ لوگ ان انتخابات کی بنیاد پر بڑی تبدیلی چاہتے ہیں۔

اسی لیے اگر ہم نے بنگلہ دیش کے موجودہ انتخابات کا پس منظر دیکھنا ہے تو اسے ہمیں 2024کی حسینہ واجد کے خلاف طلبہ یا نئی نسل کی سیاسی یا عوامی بغاوت سے جوڑ کر دیکھنا ہوگا۔اسی بنیاد پر جب ڈاکٹر یونس کی سربراہی میں عبوری حکومت بنی تو ان پر ایک بڑی سیاسی تبدیلی کا دباؤ تھا اور اسی دباؤ کے تحت عبوری حکومت نے مختلف اداروں اور شعبہ جات کی سطح پر اصلاحاتی کمیشنز کی تشکیل کی اور کہا کہ بنگلہ دیش کا نظام ایک بڑی سیاسی ،انتظامی،معاشی،قانونی اور ادارہ جاتی اصلاحات کی طرف بڑھے گا۔

اس کمیشنز کی تشکیل نے نئی نسل کو حوصلہ دیا کہ سیاسی عمل میں درست سمت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔پہلے ابتدا میں تمام اصلاحاتی سفارشات کو ’’ قومی اتفاق رائے کمیشن‘‘ کی سطح پر جمع کیا گیااور پھر اسے ’’ جولائی نیشنل چارٹر‘‘ کا نام دیا گیا جو 80سفارشات پر مشتمل ہے جو2025میں تیار کیا گیا۔ان میں آئین ،عدالت، پولیس،انتظامیہ ،انتخابی نظام،بدعنوانی و کرپشن کا خاتمہ جیسے امور شامل ہیں ۔ان پر بنگلہ دیش کی بیشتر سیاسی جماعتوں کے دستخط ہیں۔

اہم بات عام انتخابات کے ساتھ ریفرنڈم کا انعقاد بھی ہے جس میں لوگوں سے یہ رائے لی گئی کہ آپ انتخابات کے بعد نئی حکومت سے اصلاحاتی ایجنڈے کی تکمیل چاہتے ہیں یا نہیں۔اہم بات یہ ہے کہ انتخابی نتائج کے ساتھ ساتھ لوگوں نے ریفرنڈم کی حمایت میں 65فیصد ووٹ ڈال کر ایک بڑے داخلی اصلاحات کی بنیاد پر تبدیلی کے ایجنڈے پر مہر لگائی ہے۔اس ریفرنڈم کا بنیادی مقصدملک کی حکمرانی کے نظام کو تشکیل دینا، جمہوریت کو مضبوط بنانا،سماجی انصاف کو فروغ دینااور اداروں میںاحتساب کو بڑھانا ،اداروں میں توازن قائم کرناجیسے امور پر کام کرنا نئی حکومت اور وزیر اعظم طارق رحمان کے لیے ابتدا ہی میں بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس لیے جولوگ بنگلہ دیش کی داخلی سیاست کو محض انتخابی نتائج کی بنیاد پر دیکھ رہے ہیں وہ درست تجزیہ نہیں بلکہ حالات کو عام انتخابات کے نتائج اور ریفرنڈم کے نتائج اور اس کی باہمی کشمکش اور ٹکراو کی صورت میں دیکھ کر نتائج کو ترتیب دینا ہوگا۔یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ یہ بھی انتخابات اور ریفرنڈم سے پہلے طے کرلیا گیا تھا کہ اگر لوگوں کی اکثریت نے ریفرنڈم کی حمایت میں ووٹ ڈالا تو نئی پارلیمنٹ یا حکومت پہلے چھ ماہ یعنی 180دن ’’دستوری اصلاحات کونسل‘‘ کے طورپر کام کرے گی۔یعنی اس پارلیمنٹ کا ایک بڑا مینڈیٹ بنیادی نوعیت کی تبدیلی کو ممکن بنانا ہوگا۔

اہم بات یہ ہے کہ ان آئینی ترامیم میں موجودہ وزیر اعظم ماضی کے طاقت ور یا یکطرفہ طاقت پر مبنی وزیر اعظم سے مختلف ہوگا اور آج کا صدر ماضی کے کمزور صدر کے مقابلے میں زیادہ اختیارات کا حامل ہوگا۔یہ تجویز بھی زیر غور ہے کہ وزیر اعظم اپنی سیاسی جماعت کا سربراہ نہیں ہوگا اور وہ دو سے زیادہ مرتبہ وزیر اعظم بھی نہیں بن سکے گا۔سینیٹ جیسے ادارے کی تشکیل اور متناسب نمائندگی کا نظام بھی لاگو کیا جائے گا۔عدلیہ کو انتظامیہ سے الگ کرنا بھی نظام کا حصہ ہے۔یاد رہے کہ یہ جولائی چارٹر اور ریفرنڈم کا عمل صدارتی آرڈنینس کی مدد سے کیا گیا تھا تاکہ اس کی قانونی حیثیت بھی قائم رہے۔اس لیے طارق رحمان اور بی این پی کی حکومت اپنی سیاسی خود مختاری کو ریفرنڈم کے عملی نتائج کی بنیاد پر آئینی یاسیاسی یا قانونی اصلاحات کو آسانی سے تسلیم نہیں کرے گی اور وہ کہے گی کہ یہ عمل ہماری حکومت اور دو تہائی منتخب سطح کی پارلیمنٹ کی خود مختاری کو چیلنج کرے گا۔ایک طرف ریفرنڈم کے نتائج کے بعد آئینی اصلاحات اور دوسری طرف موجودہ بنگلہ دیش میں موجود حکومت کو جماعت اسلامی کے طور پر ایک مضبوط حزب اختلاف جو ان آئینی اصلاحات کی حامی ہے اور تیسری طرف بنگلہ دیش میں نئی نسل کی سطح پر موجود تبدیلی کی بڑی لہر نئی حکومت کو آسانی سے حکومت نہیں کرنے دیں گے۔

اسی بنیاد پر بی این پی کے لوگوں نے پارلیمنٹ کے رکن کے طور پر تو حلف لیا ہے مگرآئینی اصلاحات کونسل کے طور پر حلف لینے سے انکار کیا ہے جو یقینی طور آنے والے دنوںمیں بنگلہ دیش کی سیاست میں نئے ٹکراو کے کھیل کو نمایاں کرے گا۔حالانکہ بی این پی نے بطور جماعت انتخابات سے پہلے اس اصلاحاتی ایجنڈے پر دستخط کیے تھے۔لیکن ایسے لگتا ہے کہ دو تہائی اکثریت ملنے کے بعد بی این پی کے سیاسی تیور بدل گئے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ اصلاحات کی بنیاد پر مبنی ایجنڈا ان کو سیاسی طور پر بطور حکومت کنٹرول کرنے کا ہے اور ہم آزادانہ بنیاد پر دو تہائی اکثریت کے باوجود حکومت نہیں کرسکیں گے۔





Source link

Continue Reading

Today News

برکت رمضاں … مگر کہاں؟

Published

on


ماہ رمضان شروع ہوا ہے اور تا دم تحریر تک کچھ روزے گزر بھی گئے ہیں، وقت کو ہی اتنی رفتار لگی ہوئی ہے کہ ادھر مہینہ شروع ہوتا ہے ادھر ختم، ادھر سال شروع ہوتا ہے اور یوں چٹکیوں میں ختم بھی ہوجاتا ہے۔ ماہ رمضان جس کا ہم سال بھر انتظار کرتے ہیں، بھی شروع ہوتا ہے اور پلک جھپکنے میں گزر بھی جاتا ہے، جزا اور اجر کی بارشیں اور اللہ کی رحمتیں ہم پر نازل ہو رہی ہوتی ہیں اور ہم ان سے سرشار ہوتے رہتے ہیں۔

پہلے تو لوگوں کوفقط اپنے گھروں میں ہی ماہ رمضان میں پر تعیش سحری اور افطاری کی فکر ہوتی تھی، روزے کی اصل روح یعنی نفس پر قابو پانا اور بھوکے کی تکلیف کو محسوس کرنا ہے مگر ہم اس مہینے میں اور بھی زیادہ خشوع و خضوع سے مینو بناتے، پارٹیاں پلان کرتے اور تزکیہء نفس اور تزکیہء قلب کو بھلا کر ان چیزوں میں وقت ضایع کرتے ہیں جو ہم سال بھر یوں بھی کرسکتے ہیں اور کرتے بھی ہیں۔

چند برسوں سے ایک اور رواج جو فروغ پا رہا ہے وہ ہے رمضان کی مناسبت سے رمضان پیکیج تقسیم کرنا جو کہ پہلے بھی ہوتے تھے مگر پہلے پردے سے اور ڈھک کر دیا جاتا تھا کہ غریب رشتہ دار، عیال اور محلے دار بھی اس خوشی میں شامل ہوں کہ انھوں نے اللہ کی خوشنودی کے لیے روزہ رکھا اور ان کے کسی متمول رشتہ دار نے ان کی عزت نفس مجروح کیے بغیر انھیں سحر اور افطار میں پیٹ بھر کر کھانے کا سامان کردیا۔ اب بھی یہ سب ہو رہا ہے، پہلے سے بہت زیادہ ہو رہا ہے مگر اس میں نمود و نمائش کا عنصر بڑھ گیا ہے ۔ ہر چھوٹی بڑی دکان پر آپ کو رمضان پیکیج نظر آتے ہیں جو ماہ رمضان سے بہت پہلے بکنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس میں دینے والوں کی سہولت کو مد نظر رکھتے ہوئے اشیائے ضروریہ کو ڈبوں میں پیک کر کے ان پر رمضان مبارک پرنٹ کروایا جاتا ہے ۔ ان میں ایک سے زائد قیمت اور معیار کے علاوہ ورائٹی دستیاب ہوتی ہے۔

پیکٹ میں موجود اشیاء کی فہرست بھی دستیاب ہوتی ہے اور ایک سیمپل کا پیکٹ بھی سامنے ڈسپلے پر ہوتا ہے۔ عام طور پر ان پیکٹوں میں یہ اشیاء ہوتی ہیں۔ آٹا، چاول، چینی، دالیں، بیسن، میدہ، بناسپتی گھی، خوردنی تیل،کھجوریں، ٹماٹو ساس، املی، چنے ، چاٹ مسالہ، پھلکیاں، نمک، مرچ، ہلدی، گرم مسالہ، پتی، دودھ، شربت۔ بعض اوقات ان پیکٹوں میں آلو پیاز بھی شامل ہوتے ہیں۔ اگر کسی محلے یا گاؤں میں پچاس لوگ صاحب حیثیت یعنی دینے والے ہوں اور پچاس سفید پوش یعنی لینے والے ہوں اور دینے والے پانچ ، دس، پندرہ یا بیس پیکٹ فی کس بھی دے رہے ہوں تو ہر غریب کے گھر میں سات سے آٹھ ملتے جلتے سامان کے پیکٹ پہنچ جاتے ہیں۔ اس کے کنبے کے سائز کے حساب سے اسے دو نہیں تو تین پیکٹ چاہئیں اس کے علاوہ کا راشن اس کے لیے اضافی ہے۔ ہمارے گاؤں میں تو ایسا ہوتا ہے کہ وہ غریب لوگ انھی دکانوں پر جا کر دکانداروں کی منت سماجت کرتے ہیں کہ وہ بے شک ان سے وہ سامان کم قیمت پر واپس لے لیں مگر اس کے عوض انھیں کچھ اور سامان دے دیں، یقینا ایسااور جگہوں پر بھی ہوتا ہو گا۔ چیک کرنے پر علم ہوا کہ لوگ جو سامان تبدیل کرواتے ہیں، اس کے عوض وہ جو بھی سامان لیتے ہیں وہ کسی بھی قیمت کے پیکٹوں میں نہیں ہوتا ہے۔

برتن اور کپڑے دھونے کا صابن، وم، سرف، شیمپو، نہانے کا صابن، ٹوتھ پیسٹ، ٹوتھ برش، بسکٹ، ڈبل روٹی، انڈے، دہی، بچوں کے ڈائپر اور ان کا فارمولا دودھ اور ایک طویل فہرست۔ اب ایک رمضان پیکٹ وصول کرنے والا جب وہ پیکٹ اٹھا کر دکان پر لے جاتا ہے تو وہ تمام راستے میں اور دکانوں پر بھی کتنی نظروں کی چھلنی سے گزرتا اور دل میں شرمندہ ہوتا ہے۔ اس کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے مگر غریب کی عزت نفس ہوتی کہاں ہے۔ بعض مفاد پرست دکاندار اس موقع سے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں اور وہی سامان جو انھوں نے پہلے مہنگے داموں بیچا ہوتا ہے، واپس لیتے وقت اس کی کم قیمت دیتے ہیں۔ واپس کرنے والا تو مجبور بھی ہے اور دیگر سامان کے لیے ضرورت مند بھی… وہ اپنی ضرورت کا وہ سامان لے کر واپس جاتے ہوئے بھی نظریں چراتا ہے ۔

جو لوگ دس لوگوں کے لیے راشن خرید کر دیتے ہیں، کیا وہ اتنی ہی رقم کسی غریب کو نقد نہیں دے سکتے؟ جانے اس کی کتنی ضرورتیں ہیں جن کے لیے وہ نہ چوری کرسکتا ہے اور نہ بھیک مانگ سکتا ہے۔ ہر روز پکوڑے، کھجوریں کھانا اور لال شربت پینا اس کے لیے کم اہم ہیں اور زیادہ اہم ہیں گھروں کے کرائے، بجلی اور گیس کے بل، بچوں کی اسکول کی فیس، گھر میں بزرگوں کی دوائیں۔

اس کے لیے آپ لوگوں کو بند لفافوں میں رقوم ڈال کر پردے سے ان کے گھروں تک پہنچا دیں۔ اگر سودے ہی دینا مقصود ہے تودکان پر اپنے نام کے تحت دس لوگوں کے لیے رقوم دے دیں اور دکاندار کو بتائیں کہ وہ دس لوگوں کو اتنی مالیت کا وہ سامان دے دیں جو انھیں چاہیے ہو نہ کہ رمضان پیکیج۔ ’ نیکی کی ٹوکری‘ کا رواج دنیا میں بہت سے ممالک میں ہے اور ہمارے ملک میں بھی چند لوگ صرف تنور کی حد تک غریبوں کو مفت روٹی کے لیے اسے استعمال کرتے ہیں۔ اس کا دائرہ وسیع کیا جا سکتا ہے۔

آپ اگر دوسروں کو کچھ دے رہے ہیں تو اللہ کی خوشنودی کے لیے یا پھر اپنی زکوۃ سے دے رہے ہیں، اس میں آپ کسی پر کوئی احسان تو نہیں کررہے ہیں؟ اس دینے کی تشہیر اور کوریج ایک انتہائی گھٹیا اقدام ہے کہ اگر آپ کا عمل نیک مگر نیت اپنی شو شا کی ہے تو آپ کا نیک عمل بھی ضایع ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ لاکھوں خرچ کر کے سیکڑوں لوگوں کو رمضان کا راشن دیتے ہیں اور داد اور واہ واہ وصول کرتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ آپ سیکڑوں لوگوں کو راشن دینے کی بجائے دس لوگوں کی مدد اس طرح کریں کہ وہ اپنے گھر کا نظام خود چلانے کے اہل ہوجائیں اور انھیں اگلے برس مدد کی ضرورت نہ ہو، زکوۃ دینے کا درست طریقہ اور اس کا مقصد عین یہی ہے ۔ کسی کو چھوٹا سا پھل سبزی کا کھوکھا کھلوا دیں، کسی کو کام کے لیے دکان یا ریڑھی لے دیں، کسی کو سلائی مشین، کسی بے ہنر کو ووکیشنل ٹریننگ دلوا دیں، کسی کی بچی کو چند ماہ کا بیوٹی پارلر کا کورس کروا دیں، وہیل چئیر، آکسیجن سلنڈر، دوائیں، بیساکھیاں، کوئی ضروری آپریشن، کہیں سے علاج معالجہ…

ارد گرد دیکھیں تو مدد کے سو طریقے ہیں مگر یہ ہے کہ ان طریقوں میں آپ کی تشہیر نہیں ہو گی، خاموشی سے کسی کی ایسی مدد کریں گے تو اس گھر کے چند نفوس آپ کو عمر بھر دعائیں دیں گے مگر آپ کے لیے تالیاں کوئی نہیں بجائے گا اور نہ ہی کوئی تصویریں کھینچ کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرے گا۔ راستے دونوں نیکی کے ہیں مگر فرق نیت کا ہے، دینے کے طریقے کا ہے، کسی کی عزت کرنے کا ہے اور دعائیں لینے کا ہے۔ کسی طریقے سے دنیا ملتی ہے اور کسی سے آخرت… انتخاب قطعی آپ کا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایران امریکا کشیدگی میں اضافہ، کے ایل ایم نے اسرائیل پروازیں معطل کر دیں

Published

on


ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث خطے میں سفری اور عسکری سرگرمیوں میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔

ڈچ فضائی کمپنی کے ایل ایم رائل ڈچ ایئرلائنز نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے لیے اپنی پروازیں یکم مارچ سے غیر معینہ مدت تک معطل کر رہی ہے۔ ایئرلائن کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ خطے کی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

ادھر آسٹریلیا نے اسرائیل، لبنان، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات سے اپنے شہریوں کے انخلا کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

دوسری جانب امریکا نے مزید چھ F-22 Raptor طیارے مشرق وسطیٰ بھیج دیے ہیں تاکہ خطے میں اپنی عسکری موجودگی کو مضبوط بنایا جا سکے۔

بھارتی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا کی جانب سے خطے میں فوجی قوت بڑھانے کا مقصد ایران پر دباؤ ڈالنا ہے، تاہم ایران کسی دباؤ میں آ کر ہتھیار نہیں ڈالے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران پہلے سے زیادہ تیار ہے اور تنازع کا واحد حل سفارتکاری اور بات چیت ہے۔

عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران اپنے پُرامن جوہری پروگرام کے حق سے دستبردار نہیں ہوگا اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کیا جانا چاہیے۔





Source link

Continue Reading

Trending