Connect with us

Today News

انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند؛ امریکا نے ایران کے سامنے 3 مطالبات رکھ دیئے

Published

on


امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کا تیسرا دور سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں جاری ہیں لیکن دونوں فریقوں کے درمیان پہاڑ جیسے اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔

وال اسٹریٹ جنرل نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ان جوہری مذاکرات کا مقصد جنگ کے خطرے کو ٹالنا ہے لیکن امریکا نے سخت مطالبات رکھ دیئے جس کے باعث دور دُور تک بھی معاہدہ کا ہوجانا نظر نہیں آتا۔

امریکا نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران اپنی تمام اہم جوہری تنصیبات نطنز، اصفہان اور فورڈون کو فوری طور پر ہمیشہ کے لیے بند کیا جائے۔

علاوہ ازیں ایران نے ان تنصیبات میں اب تک جتنا بھی یورینیئم افرود کیا ہے وہ تمام کی تمام امریکا منتقل کردے۔

امریکا نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ اگر معاہدہ طے پاجاتا ہے تو یہ کبھی ختم نہ ہونے والی مدت کے لیے ہو یعنی اس میں محدود مدت کی کوئی شق نہ ہو۔

یاد رہے کہ امریکا یہ مطالبات 2015 میں ایران کے دیگر عالمی قوتوں سے ہونے والے مشترکہ جوہری مذاکرات سے سخت قطعی مختلف ہیں۔

جس میں ایک محدود مدت کے بعد پابندیوں کے خاتمے کی شق بھی شامل تھی۔ امریکا اسی شق خارج کرنے پر زور دے رہا ہے۔

یہ رپورٹ ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب عرب سفارتکار نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے امریکا کو جوہری معاہدے کا مجوزہ مسودہ پیش کیا ہے۔

عرب سفارتکار کے بقول اس مسودے میں ایران نے یورینیم افزودگی کی سطح 60 فیصد سے کم کر کے 3.6 فیصد تک لانے کی تجویز دی ہے۔

تاہم ایرانی حکام نے عرب سفارت کار کے اس دعوے کی تردید یا تصدیق نہیں کی۔

 

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

غزہ امن بورڈ اجلاس – ایکسپریس اردو

Published

on


اسرائیلی جارحیت و بربریت کا نشانہ بننے والے غزہ میں امن کے قیام اور بحالی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سربراہی میں جو امن بورڈ قائم کیا ہے،گزشتہ ہفتے اس کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ بورڈ کے بانی اراکین میں پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیہ، قطر و دیگر 26 ممالک شامل ہیں۔ امن بورڈ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ غزہ کے لوگوں کے لیے روشن مستقبل چاہتے ہیں۔ انھوں نے غزہ کی صورت حال کو پیچیدہ قرار دیتے ہوئے حماس کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ صدر ٹرمپ نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ معاہدے پر عمل درآمد کرتے ہوئے حماس جلد ہتھیار پھینک دے گی۔

انھوں نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے دس ارب ڈالر دینے کا اعلان کیا اور یہ بھی بتایا کہ امن بورڈ کے اراکین کی جانب سے 7 ارب ڈالر کا پیکیج دیا جا چکا ہے۔ صدر ٹرمپ نے یقین دہانی کرائی کہ امدادی پیکیج کا ہر ڈالر غزہ کی ترقی و خوشحالی اور امن کے قیام کے لیے استعمال ہوگا، غزہ اب دہشت گردی اور انتہا پسندی کا گڑھ نہیں رہے گا۔ صدر ٹرمپ کے بقول بورڈ کے رکن ممالک غزہ میں سیکیورٹی، نظم و نسق اور انسانی امداد کے تحفظ کے لیے اپنی اپنی فوج اور پولیس فورس بھیجیں گے۔ انھوں نے واضح طور پر یہ بھی کہا کہ امن بورڈ اقوام متحدہ کے معاملات پر بھی نظر رکھے گا تاکہ یو این درست طریقے سے کام کرے۔ گویا صدر ٹرمپ نے عالمی امن کے ضامن ادارے اقوام متحدہ کے کردار کو بھی نہ صرف مشکوک بنا دیا بلکہ اس پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی واضح کر دیا کہ ان کی سربراہی میں کام کرنے والا امن بورڈ اقوام متحدہ سے بھی ایک درجہ اوپرکا ادارہ ہے، دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں مبصرین و تجزیہ نگار اور عالمی سیاست پر نظر رکھنے والے ماہرین امن بورڈ کے قیام کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، صدر ٹرمپ کے خفیہ عزائم اور بورڈ کے اغراض و مقاصد پر بحث کی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ میں ویٹو کی پاور رکھنے والے بڑے ممالک چین، روس، فرانس اور برطانیہ سمیت مغرب و یورپ کے بیشتر ممالک صدر ٹرمپ کے امن بورڈ میں شامل نہیں ہیں جس سے اس کی کمزور حیثیت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ایران کو بھی دھمکی دی ہے کہ وہ دس دن میں امریکا کے ساتھ جوہری معاہدہ کرے، ورنہ جنگ کے لیے تیار ہو جائے۔ ایک اسرائیلی اخبار نے دعویٰ کیا ہے امریکا ایران میں مخصوص شخصیات کو نشانہ بنا سکتا ہے اور رجیم چینج بھی کروا سکتا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ دھمکیوں کے باوجود امریکا کے ساتھ مذاکرات اور جوہری معاہدہ کے لیے تیار ہیں۔

ایک طرف تو صدر ٹرمپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ دنیا میں قیام امن کے علمبردار ہیں، انھوں نے دنیا میں 8 جنگیں رکوائیں، دوسری طرف وہ ایران کے خلاف جنگ کا اعلانیہ اظہار کر کے مشرق وسطیٰ کے امن کو تباہ کرنے کے در پے ہیں جو ان کی دو عملی پالیسی کا مظہر ہے اور اس امر کا عکاس بھی کہ ان کے قول و فعل میں کھلا تضاد ہے۔ بجا کہ انھوں نے جنگیں رکوائیں جن کا وہ بار بار اظہار کرتے ہیں۔ غزہ بورڈ اجلاس کے خطاب کے دوران بھی انھوں نے برملا اپنے موقف کو دہراتے ہوئے پاک بھارت جنگ رکوانے کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیرکی بھی کھل کر تعریف کی۔ انھوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں ان کو بہت پسند کرتا ہوں کہ وہ میری جنگ بندی کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔ مبصرین و تجزیہ نگار اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ بار بار جو تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں، گویا وہ اپنا اخلاقی دباؤ بڑھا کر پاکستان کو اس بات پر آمادہ کرنے کے خواہاں ہیں کہ وہ غزہ کے لیے عالمی استحکام فورس میں اپنی فوج بھیجنے پر آمادہ ہو جائے دوسرے یہ کہ غزہ کے مستقبل کے حوالے سے صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے جو بھی عزائم اور پلان ہیں، اس پر عمل درآمد میں رکاوٹ پیدا نہ کرے بلکہ ان کا عملی حصہ بن جائے۔ بالخصوص حماس کو غیر مسلح کرنے کے حوالے سے، فلسطینیوں کی دوسرے ممالک میں منتقلی اور غزہ کو عالمی تفریحی پارک بنانے اور ایران میں رجیم چینج منصوبے کی حمایت پر آمادہ ہو جائے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے امن بورڈ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے دیرینہ موقف کو صاف الفاظ میں دہرایا کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق فلسطینیوں کو ان کا حق خود ارادیت دیا جائے۔

آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام پائیدار امن کے لیے ناگزیر اور فلسطینیوں کا حق ہے۔ انھوں نے بجا طور پر یہ مطالبہ کیا کہ دیرپا امن کے لیے غزہ میں سیز فائر کی خلاف ورزیاں بند ہونی چاہئیں۔ وزیراعظم نے تنازعات کے حل اور بروقت مداخلت کرکے پاک بھارت جنگ رکوانے میں صدر ٹرمپ کے کردار کو قابل تحسین قرار دیا۔ غزہ امن بورڈ سے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب آنے والا وقت دے گا۔ سردست تو اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کا یہ بیان مسلم امہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ خدا نے یہ زمین اسرائیلیوں کو دی ہے، خطے پر قبضہ ان کا حق ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

امید کی روشنی کے چند بڑے ادارے

Published

on


پاکستان کی یہ بڑی خوش قسمتی ہے کہ اس کے حکمرانی کے نظام میں خرابیوں کے باوجود فلاحی اور سماجی شعبوں میں ایسے بہت سے ادارے ہیں جو سماج میں کمزور اور غریب طبقات میں امید کی روشنی کا درجہ رکھتے ہیں ۔ جہاں حکمرانی کا نظام لوگوں کی بنیادی ضروریات فراہم کرنے سے قاصر ہے وہیں یہ سماجی شعبے کے اہم ادارے بغیر کسی تفریق کے کمزور طبقات کے دکھ میں شریک ہوکر ان کے لیے زندگیوں کو آسان بناتے ہیں۔

پاکستان میں ایسے فلاحی اداروں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور اچھی بات یہ ہے کہ معاشرے کی سطح پر اہل ثروت اور مخیر افراد ان اداروں پر نہ صرف بھروسہ کرتے ہیں بلکہ ان کی مدد میں بھی پیش پیش ہوتے ہیں ۔ایسے اداروں کی موجودگی کسی بڑی نعمت سے کم نہیں اور ہمیں بطور فرد ان اداروں کی مدد کرنا ہے بلکہ دیگر لوگوں میں بھی اس ترغیب کو ایک تحریک کی شکل دینی ہے کہ وہ ان اداروں کی حمایت میں کھڑے ہوں۔

بانی پی ٹی آئی کی سیاست سے قطع نظر ان کا فلاحی منصوبہ شوکت خانم کینسر اسپتال ایک بڑا شاندار منصوبہ ہے جو 1994 میں لاہور سے شروع ہوا تھا۔ اب پچھلے کچھ برسوں سے یہ اسپتال لاہور کے بعد پشاور اوراب 2026سے کراچی سے اپنے کام کا آغاز کرنے والا ہے ۔جب یہ اسپتال بنانے کا منصوبہ قوم کے سامنے رکھا گیا تھا تو مجھے یاد ہے کہ بہت سے پڑھے لکھے اور خود میڈیکل شعبہ کے بڑے ناموں سمیت کاروباری طبقات نے ان کو یہ ہی مشورہ دیا تھا کہ کینسر جیسے موذی مرض کا مفت یا کم پیسوں پر علاج ممکن نہیں اور وہ یہ خواب چھوڑ دیں کیونکہ ایسا کرنا تقریباً ممکن نہیں تھا ۔لیکن جو لوگ عمران خان کو جانتے ہیں کہ جب وہ کسی کام کا ارادہ کرلیں تو وہ اپنی مستقل مزاجی اور محنت یا لگن اور شوق کی بنیاد پر بہت کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

میں ذاتی طور پر ایسے بہت سے کمزور طبقات کے لوگوں کو جانتا ہوں جنھیں شوکت خانم کینسر اسپتال سے مفت علاج کا موقع ملا اوران کے بقول وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ان کے پیاروں کا علاج یہاں جہاں بہتر سہولتوں کی بنیاد پر ہوسکتا ہے وہیں یہ علاج مفت بھی ہوسکتا ہے ۔ایسا اسپتال جہاں کسی بڑے اور چھوٹے یا کسی شہر یا گاؤں کی سطح پر کوئی تفریق نہیں اور سب سے اہم بات ہر ایک کے لیے ایک جیسی سہولیات کو فراہم کرنا اور اس میں کسی بھی سطح پر تفریق نہ کرنا شوکت خانم کینسر اسپتال ہی کا کام ہے۔

یہ ادارہ ایک مکمل ادارہ جاتی سطح پر موجود ہے اور اسی بنیاد پر یہ ادارہ لاہور سے نکل کر پشاور اور اب کراچی تک پہنچ گیا ہے ۔اسپتال کی خوبی یہ ہے کہ یہاں علاج و معالجہ کی سہولتیں عالمی معیار کے مطابق ہیں اور جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد پر کمزور لوگوں کو علاج کی فراہمی دیکھ کر واقعی خوشی ہوتی ہے ۔پچھلے چند ماہ قبل میں نے شوکت خانم اسپتال کا دورہ کیا تو وہاں بیٹھے مریضوں کو دیکھا جو دور دراز کے علاقوں کے لوگ تھے اور ان کے چہرے پر ایک امید اور روشنی کی کرن تھی کہ ان کی جیب خالی ضرور ہے مگر ان میں یہ ہی یقین ہے کہ یہاں ان کے پیاروں کا علاج مفت ہوسکتا ہے۔ میں جانتا ہوں کچھ لوگ اس ادارے پر سیاسی بنیادوں پر تنقید کرتے ہیں مگر اہم بات یہ ہے کہ جب ان کے پیاروں کو کینسر جیسے مرض کا سامنا کرنا پڑے تو سب کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے پیاروں کا علاج بھی اسی اسپتال اور یہاں موجود ماہر ڈاکٹرز کی نگرانی میں ہو۔

ایک اور اہم نام ’’ اخوت‘‘ کا ہے جس کے سربراہ ڈاکٹر امجد ثاقب ہیں ۔یہ بھی ایک کمال کا ادارہ ہے ۔یہ ادارہ تعلیم اور صحت کے شعبہ کی سطح پر جہاں اہم کام کررہا ہے وہیں معاشرے سے غربت کا خاتمہ اور بالخصوص عورتوں کی غربت کا خاتمہ کی بڑی ترجیحات کا حصہ ہے۔اخوت یونیورسٹی جیسا ادارہ بنانا ڈاکٹر امجد ثاقب ہی کا کمال ہے جہاں چاروں صوبوں کے بچوں اور بچیوں کو لاکر مفت تعلیم دینا ،رہائش کی سہولت کو فراہم کرنا ،کھانا پینا دینا ان ہی جیسے بڑے اداروں کا کام ہے ۔اخوت کو ملکی سمیت عالمی سطح پر بھی اپنے کام کے حوالے سے کافی پذیرائی ملتی ہے اور یہ ادارہ اپنے کام کی بنیاد پر کئی عالمی ایوارڈ بھی اپنے نام رکھتا ہے ۔میں ذاتی طور پر ایسے کئی انفرادی افراد یا خاندانوں کو جانتا ہوں جو اخوت کی مدد سے نہ صرف مالی طور پر مستحکم ہوئے بلکہ خود کفالت کا بھی سبب بنے اور ان کو تعلیم اور علاج کی مختلف سہولتیں بھی اسی ادارے کی مدد سے مل رہی ہیں۔ اخوت جیسے اداروں کے ساتھ خود کو جوڑنا اور ان کی حمایت میں کھڑا ہونا صرف اخوت کی مدد نہیں بلکہ معاشرے کے ان کمزور طبقات کی مدد ہے جو ان اداروں کی مدد سے اپنی زندگیوں کو آسان بنارہے ہیں۔

اسی طرح ایک اور ادارہ چوہدری رحمت علی میموریل ٹرسٹ ٹاؤن شپ کا بھی ہے جو پچھلی چار دہائیوں سے تعلیم اور صحت کے شعبہ میں بڑی سطح کی خدمات انجام دے رہا ہے ۔ٹاؤن شپ جیسی بستی میں ان کی تعلیم اور صحت سے جڑی سہولتوں کی فراہمی یقیناً ایک مثالی کام ہے ۔ا س اہم کام میں جناب واسطی صاحب،خالد محمود رسول اور ڈاکٹر خالد اعوان نے بہت جلد اس ادارے کو ایک نئی جدید شکل دے دی ہے۔ اگلے چند ماہ میں ان کا اسپتال جدید بنیادوں پر سامنے لانے کا مکمل منصوبہ زیر تعمیر ہے۔ اسپتال میں جدید مشینری ، ماہر ڈاکٹرز،سازگار ماحول،نئے جدید شعبہ جات کا قیام ،کم قیمت اور مفت علاج کی سہولت، ٹیسٹوں کی فراہمی جیسی سہولیات فراہم کرنا آسان نہیں ہے۔ صرف 2025 میں پونے تین لاکھ افراد اس ادارے میں اپنے علاج سے مستفید ہوئے ہیں ۔اسی طرح مجھے ان کے تعلیمی ادارو ں کے منصوبوں کو بھی دیکھنے کا موقع ملا ہے اور جس شاندار انداز میں یہ لوگ بہت کم فیس اور غریب بچوں اور بچیوں کو مفت تعلیم دے رہے ہیں وہ بھی کمال کا کام ہے ۔ان تعلیمی اداروں میں تعلیم کی بنیاد جہاں تربیت پر ہے وہیں جدید تقاضوں کے ساتھ اساتذہ اور بچوں یا بچیوں کی تربیت میں بھی یہ کافی بہتر طور پر کام کررہے ہیں ۔

ڈاکٹر انتظار بٹ سماجی شعبہ میں کسی تعارف کے محتاج نہیں آنکھ کے ماہر ڈاکٹر ہیں اور پاکستان سمیت دیگر ممالک میں غریب اور مستحق لوگوں کے لیے وہ ان کی ڈاکٹرز پر مشتمل ٹیم آنکھوں کا مفت علاج اور آپریشن کرنے میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ ان کا ادارہ ’’ پی او بی ‘‘ کے نام سے کام کرتا ہے جس کا مقصد روشنی کے سفر کو آگے بڑھانا ہے ۔یہ سفر 2000سے شروع ہوا اور آج 2026میں ایک بڑے اسپتال کی صورت میں ہمارے سامنے ہے ۔ان کے بقول بلا امتیاز، بلا تفریق اور بلا معاوضہ ان کے سنہری اصول ہیں ۔ان کے پاس جدید ترین آلات اور بہترین ماہرین امراض چشم،آپریشن بذریعہ فیکو لیز سرجری جیسی سہولتیں میسر ہیں ۔ یہ لوگ مختلف پس ماندہ علاقوں میں آنکھ کے آپریشن کے لیے کیمپ بھی لگاتے ہیں۔ ان کے بقول اگر کوئی فرد پندرہ ہزار کی امداد دیتا ہے تو اس سے ایک فرد کی آنکھ کو بچایا جاسکتا ہے ۔ان کی طرف سے 2026کے اہداف میں چھ لاکھ سے زیادہ مریضوں کا معائنہ ،ساٹھ ہزار سے زیادہ آپریشنز،بیس ہزار سے زیادہ بچوں کا طبی معائنہ اور عینکوںکی فراہمی شامل ہے۔ اب تک یہ ادارہ 23مختلف ممالک اور ملک کے 58اضلاع میں مفت خدمات،1047فری آئی کیمپس، 33لاکھ سے زیادہ مریضوں کا طبی معائنہ، بیس جیلوں میں دس ہزار سے زیادہ افراد کا مفت علاج شامل ہے ۔یہ اسپتال لاہور رائے ونڈ میں موجود ہے ۔

رمضان المبارک میں ہم اپنی آمدن میں سے کچھ رقم ایسے افراد یا اداروں پر خرچ کرتے ہیں جو ان کی مدد کے اصل مستحق ہوتے ہیں ۔کیونکہ آپ کی امداد اصل میں پاکستان میں ان لوگوں کو سہارا دیتی ہیں جو کئی حوالوں سے محرومی کی سیاست کا شکار ہیں ۔کیونکہ ان کے پاس ایسا کچھ نہیں ہوتا کہ وہ اپنی تعلیم اور علاج سمیت اپنی معیشت کو بہتر کرسکیں ۔خاص طور پر ایسے ادارے جو لوگوں کی سفید پوشی کو چھپا کر مستحق لوگوں کی مدد میں پیش پیش ہوتے ہیں ۔اس لیے آپ آگے بڑھیں اور ان اداروں کے ساتھ خود کو جوڑیں کیونکہ یہ ہی ادارے معاشرے کا حقیقی چہرہ بھی ہوتے ہیں اور معاشرہ ان ہی اداروںکی موجودگی کی وجہ سے آج قائم ہے۔اسی طرح جب آپ اپنی امداد افراد کے مقابلے میں سماجی اداروں کو دیں گے تو اس سے ملک میں سماجی اداروں کی مضبوطی ہوگی اور ان اداروں کی مضبوطی کا عمل معاشرے کے کمزور طبقات کو بہت سی آسانیاں پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

دیر آید، درست آید – ایکسپریس اردو

Published

on


اسرائیل کی حالیہ جنگجوئی کے نتیجے میں مقبوضہ مغربی کنارے کے مزید رقبے پر اسرائیل نے قبضہ کر لیا ہے اور اب اس نے اعلان کیا ہے کہ اس علاقے کو ’’ اسٹیٹ کی ملکیت کی زمین‘‘ قرار دیا جاتا ہے یعنی یہ متنازعہ علاقوں کی اسرائیلی آبادکاری کے لیے فضا ہموار کر رہا ہے۔ ایک بار اس بات کو تسلیم کر لیا جائے تو اسرائیل اپنی ناجائز مقبوضہ زمین میں توسیع کرے گا اور اس زمین پر اسرائیلی بستیاں بسانے کا اسے اختیار حاصل ہو جائے گا۔ وہ اس ’’ نومقبوضہ‘‘ علاقے کو بھی اپنے دائرہ اختیار میں لینے کی راہ پرگامزن ہے، اس طرح وہ اس علاقے میں جدید یہودی بستیاں بسا کر فلسطین کے علاقے پر اپنے غیر قانونی تسلط کو قانونی شکل دینے کے لیے کوشاں ہے۔ اس طرح وہ اس امریکی امن منصوبے کے زیر سایہ، مسٹر ٹرمپ کی آشیرواد کے ساتھ اس علاقے کو اپنے تسلط میں لا کر فلسطین کے اصل باسیوں کو ان کے حق سے محروم کرنا چاہتا ہے۔ فلسطین کی سرزمین سے اہل فلسطین کو محروم کرنے کی اس سفاکانہ سازش کو امریکا کی خاموش حمایت حاصل ہے۔

ہم نے اپنے گزشتہ کالم میں اس خطرے کا اظہارکیا تھا کہ امریکا غزہ کی تباہی کا باعث بنا ہے، اس نے غزہ کے پورے علاقے کو جس میں مغربی کنارے کا بڑا حصہ شامل ہے، کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے۔ اسرائیل ان پر حملے کرتا رہا، عمارتوں کو کھنڈروں میں تبدیل کرتا رہا۔ مکینوں کو بے مکان بناتا رہا اور امریکا اس ساری کارروائی میں اس کا ہم نوا نہیں سرپرست بنا رہا۔

نو سو چوہے کھا کر جب بلی حج کو جانے لگی اور صدر ٹرمپ نے اہل غزہ پر ترس کھا کر غزہ کی تعمیر نو کا بیڑا اٹھایا اور خود بخود امن منصوبے کے سربراہ اور صدر بن بیٹھے۔ ان کی صدارت کے دوران اور منصوبے کے اعلان کے باوجود اسرائیل نے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری رکھیں اور اس دوران بھی اہل فلسطین کا خون ارزاں بنا دیا گیا۔

مغربی کنارے کے پڑوسی مسلم ممالک دم سادھے اور دم دبائے اس ساری کارروائی کو دیکھتے رہے مگر ان میں اتنی طاقت نہ تھی نہ اتنا دم تھا کہ وہ چوں کر سکیں۔ ان کی اس کمزوری سے اسرائیل نے پورا فائدہ اٹھایا۔ اہل فلسطین کو تنہا کرکے اپنی من مانی کرتا رہا۔ ایسے ماحول میں امن و آشتی کی بات دیوانے کا خواب بن کر رہ گئی۔

مگر امریکا بہادر کی ڈپلومیسی نے ’’ روح ہٹلر‘‘ کو شرماتے ہوئے طاقت کا جو ننگا ناچ ناچا گیا تھا، اس کی گت اور تال پر امن کے گیت گائے جانے لگے۔ امریکا نے امن کے قیام کا اعلان کرکے متعدد ممالک کو اپنا ہم نوا بنانا شروع کیا۔

بے چارے مسلم ممالک کی تو سانسیں رکی ہوئی تھیں، انھوں نے اس ’’ دام ہم رنگ زمین‘‘ کو جانتے، پہچانتے ہوئے بھی اس میں پھنس جانے میں عافیت سمجھی۔

لیکن صدر ٹرمپ بھی بخوبی واقف تھے کہ یورپی ممالک کے علاوہ یہ نیم جان مسلم ممالک کسی گنتی شمار میں نہیں آتے۔ انھیں خطرہ ترکیہ اور پاکستان سے تھا۔ چنانچہ انھوں نے ان دونوں ملکوں پر بھی جال پھینکنا شروع کیا۔ پاکستان کو قابو کرنے کے لیے انھوں نے بڑا ’’ سائنٹفک‘‘ نسخہ استعمال کیا۔ انھوں نے پاکستانی قیادت کی بیدار مغزی اور راست روی کی تعریف کرنا شروع کی اور موقع بہ موقع ہر نہج اور ہر مرحلے پر وہ پاکستانی قیادت کی مدح سرائی کرتے رہے۔ جب پاکستان کو اس امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت دی گئی تو ایک طرف قیادت نے اس میں شمولیت کے مضمرات اور خطرات کا کسی قدر اندازہ کر لیا مگر ایک عالمی طاقت کی فرمائش کو ٹھکرانا بھی ان کے لیے ممکن نہیں رہا۔ اس لیے ہچکچاہٹ کے ساتھ ہی سہی، انھوں نے اس امن منصوبے میں شامل ہونے کی منظوری دے دی۔

پاکستان کی ہچکچاہٹ کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ اس نے اپنی شمولیت کو چند مطالبات سے مشروط کر دیا تھا اور اب جب کہ اس امن منصوبے کے اصل خد و خال واضح ہو گئے ہیں تو مسلم ممالک کے ایک گروپ نے اسرائیل کی توسیع پسندی کے اس منصوبے پر اپنے عدم اعتماد کا اظہارکیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ دراصل مقبوضہ علاقے کو ’’ سرکاری زمین‘‘ قرار دینے کا مطلب اس پر اپنا مکمل قبضہ کر کے نئی یہودی بستیاں بسانے کا منصوبہ ہے جو ان کے نزدیک قطعاً قابل قبول نہیں۔

جن ممالک نے اس منصوبے کے خلاف آواز اٹھائی ہے اس میں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، مصر، اردن، انڈونیشیا اور قطر شامل ہیں۔ گویا مسلم دنیا کے بااثر ممالک اس ملوکیت پسندانہ اقدام کی مخالفت پرکمر بستہ ہوگئے ہیں۔ ان ممالک نے اسرائیلی اقدام کے مضمرات کو سمجھنے میں دیر تو لگائی ہے مگر عقل اب آ گئی ہے اور دیر آید درست آید کے مصداق ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا ان ممالک کی مخالفت اسرائیل کو اس کی توسیع پسندی سے روک بھی سکے گی یا نہیں۔ کیونکہ امن منصوبے کے خالق امریکا کی خاموش حمایت بہرحال اسرائیل کے ساتھ ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending