Today News
سپرایٹ مرحلہ، بھارت کا ریکارڈ اسکور، زمبابوے کو 72 رنز سے شکست
بھارت نے ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے سپرایٹ مرحلے کے اہم میچ میں شان دار بیٹنگ اور بولنگ کے ذریعے زمبابوے کو باآسانی 72 رنز سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنانے کے لیے امکانات بحال کر دیے۔
چنائی میں میزبان بھارت اور زمبابوے کے درمیان کھیلے گئے سپرایٹ کے گروپ ون کے اہم میچ میں زمبابوے نے ٹاس جیت کر بھارت کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی، جس کا دفاعی چمپیئن نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور ایونٹ کا سب سے بڑا مجموعہ ترتیب دیا۔
بھارت کی جانب سے سنجوسیمسن اور ابھیشک شرما نے 48 رنز کا جارحانہ آغاز کیا تاہم موزاربانی نے سیمسن کو میچ کے چوتھے اوور میں آؤٹ کیا تاہم انہوں نے صرف 15 گیندوں پر 24 رنز بنا لیے تھے۔
نوجوان بیٹر ابھیشک شرما نے فارم میں واپسی کی اور دوسری وکٹ کے لیے ایشان کشن کے ہمراہ ٹیم کا اسکور 120 تک پہنچایا، ایشان کے 38 رنز آؤٹ ہونے کے بعد انہوں نے کپتان سوریا کمار یادیو کے ساتھ بھی 30 رنز کی شراکت کی، اس دوران نصف سنچری بھی مکمل کی۔
بھارت کا اسکور 150 رنز پر پہنچا تھا تو ابھیشک شرما کی 55 رنز کی اننگز کا خاتمہ ہوا، ان کی اننگز میں 4 چوکے اور 4 چھکے شامل تھے، سوریا کمار یادیو 172 کے اسکور پر 33 رنز کی اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے۔
ہارڈک پانڈیا اور تلک ورما نے 86 رنز کی بڑی شراکت کے دوران بھارت کو رواں ورلڈ کپ کے سب سے بڑے مجموعے تک پہنچایا، جس میں پانڈیا کی نصف سنچری اور تلک ورما کے 44 رنز شامل تھے۔
بھارت نے مقررہ 20 اوورز میں زمبابوے کو جیت کے لیے 257 رنز کا ایک مشکل ہدف دے دیا، زمبابوے کی جانب سے کوئی بولر نمایاں کارکردگی دکھانے میں ناکام ہوا۔
زمبابوے نے ایک بڑے ہدف کے تعاقب میں قدرے سست آغاز کیا، برائن بینیٹ اور تیڈیوانشے مارومانی نے 44 رنز بنائے جبکہ آکشر پٹیل نے مارومانی کو 20 رنز کے انفرادی اسکور پر آؤٹ کردیا، جس کے بعد ڈیون مائر صرف 6 رنز کا اضافہ کرپائے۔
کپتان سکندر رضا نے زمبابوے کی جیت کی امیدیں بحال رکھنے کی بھرپور کوشش کی لیکن 21 گیندوں پر دو چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 31 رنز ہی بناپائے اور جب آؤٹ ہوئے تو ٹیم کا اسکور 17 ویں اوور میں 144 رنز تھا۔
برائن بینیٹ نے 59 گیندوں کا سامنا کرکے 8 چوکوں اور 6 چھکوں کی مدد سے آؤٹ ہوئے بغیر 97 رنز کی اننگز کھیلی لیکن ٹیم کو جیت دلانے میں ناکام ہوئے، زمبابوے نے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں پر 184 رنز بنائے۔
ارشدیپ سنگھ نے بھارت کے لیے سب سے زیادہ 3 وکٹیں حاصل کیں اور یوں بھارت سیمی فائنل کی دوڑ میں خود کو شامل رکھنے میں کامیاب ہوا اور زمبابوے کو باآسانی 72 رنز سے شکست دے دی۔
بھارت کے ہارڈک پانڈیا کو آل راؤنڈ کارکردگی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔
خیال رہے کہ بھارت کو سپرایٹ کے پہلے میچ میں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ اگلا میچ یکم مارچ کو ویسٹ انڈیز سے ہوگا جس میں سیمی فائنل تک رسائی کرنے والی ٹیم کا فیصلہ ہوگا۔
ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے گروپ ون میں جنوبی افریقہ ابتدائی دونوں میچز میں کامیابی حاصل کرکے 4 پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست ہے، ویسٹ انڈیز دو میں سے ایک میچ میں فتح اور بہترین رن ریٹ کے ساتھ دو پوائنٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر ہے، اسی طرح بھارتی ٹیم نے منفی رن ریٹ کے ساتھ دو پوائنٹ حاصل کر لیے ہیں۔
Source link
Today News
سیّدہ النساء خاتون جنت حضرت فاطمہ زھرا ؓ
باپ بیٹیوں کی باہمی محبت ضرب المثل کی حیثیت رکھتی ہے لیکن باپ بیٹی کی محبت کی معراج کا جو منظر انسانیت نے حضرت محمد مصطفی ﷺ اور خاتون جنّت حضرت فاطمہ زھراؓ کی صورت دیکھا تاریخ انسانیت اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔
جہاں باپ بیٹی کی یہ محبت سنت رسول ﷺ کی شکل میں مسلمانوں کے لیے تا ابد باعث تقلید بن گئی وہیں خداوند عالم نے ان دونوں ہستیوں کے مقام کو عظمت و رفعت کے درجۂ کمال تک پہنچا دیا۔ والد گرامی اگر شافع محشر ﷺ ہیں تو بیٹی خاتون جنّت ٹھہریں، والد گرامیؐ اگر فخر موجوداتؐ ہیں تو بیٹی سیدۃ النساء العالمینؓ ہیں، والد گرامی ﷺ کا اسوۂ اخلاق حسنہ کا نمونہ ہیں تو بیٹی کو خواتین کے لیے اسوہ کامل کہا گیا، والد گرامی ﷺ نے احد و خندق میں زخم کھائے تو بیٹی ان زخموں کا مرہم بنتی رہیں، باباؐ نے کفر و بت پرستی کے شکار انسانوں کو مرکز توحید پر جمع کیا تو بیٹی کی عظمت و ہیبت دیکھ کر باطل کے پیروکار اسلام کے سامنے سر جھکانے پر مجبور ہوگئے.
والد گرامی ﷺ کی نصرت کے لیے بدر میں فرشتے اترے تو بیٹی کے ایثار و قربانی کے صلے میں آسمانوں سے خوان اترتے رہے، والد گرامی ﷺ کی تعظیم حضرت آدم سے عیسیؑ تک ہر نبی پر واجب تھی تو بیٹی کی تعظیم کے لیے نبیوں کے سردار ﷺ خود ایستادہ ہوجاتے، بابا ﷺ پر درود بھیجنا عبادتوں کی قبولیت کی سند ٹھہرا تو بیٹی کے دروازے پر خیر البشرؐ سلام کی صدائیں بلند کرتے رہے، والد گرامیؐ نے دنیا سے کفر و شرک کی کثافتوں کو دور کیا تو بیٹی کساء اوڑھ کر طہارتوں کا مرکز بن گئیں، والد گرامیؐ اگر آگ اور خون کے دریا عبور کرکے انسانیت کی نجات کا لازوال چارٹر اسلام دنیا میں لائے تو بیٹی نے بابا کے لائے ہوئے دین کے تحفظ کی خاطر ایسی اولاد پروان چڑھائی جو قیامت تک کربلا بسا کر دین کا حصار بن گئی۔
عورت ہر زمانے میں استحصال کا شکار رہی ہے اور قبل از اسلام تو عورت ذلت کی اس پاتال اس قدر گر چکی تھی جس کا اندازہ قرآن کے سورہ نحل ان آیات سے ہوتا ہے، مفہوم:
’’اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوش خبری دی جائے تو اس کا منہ سیاہ ہو جاتا ہے اور وہ غمگین ہوتا ہے ۔ بیٹی کی خبر کی عار سے قوم سے چھپا پھرتا ہے (سوچتا ہے) آیا اس کو اپنی ذلت پر رہنے دے یا اس کو خاک میں گاڑ دے۔‘‘ (سورہ نحل)
اسلام نے عورتوں کو استحصال سے نجات دلانے اور ان کی منزلت بتانے کے لیے دختر رسول کریم ؐ خاتون جنت حضرت فاطمہ زھراؓ کا انتخاب کیا، اس قدر منزلت تھی حضرت فاطمہ زھراؓ کی کہ تمام انسانیت کے تاج دار اور انبیاء و رسلؑ کیے سردار نبی کریم ﷺ کی زندگی کی بہار بن گئیں، کفار کے چہرے بیٹی کی خبر سن کر سیاہ ہوتے تو نبی کریمؐ کا چہرہ کِھل اٹھتا، نبی کریمؐ مدینہ سے باہر جاتے تو سب سے آخر میں بیٹی سے ملتے اور واپس آکر سب سے پہلے بیٹی فاطمہؓ سے ملتے۔ دنیا کی نسل بیٹوں سے چلتی تھی تو نبی کریم ؐ نے اپنی نسل کا ذریعہ اپنی بیٹی کو قرار دیا، کفار کے مقطوع النسل ہونے کے طعنوں کا جواب حضرت فاطمہ زھراؓ بنیں۔
حضرت جابر ابن عبداﷲ انصاریؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا:
’’ہر عورت کی اولاد کا نسب اس کے باپ کی طرف ہوتا ہے سوائے اولاد فاطمہ کے ، میں ہی ان کا نسب ہوں اور میں ہی ان کا ولی ہوں۔‘‘
حضرت ابُوہریرہ ؓروایت کرتے ہیں نبی اکرم ؐ نے فرمایا:
’’ہر نبی قیامت کے دن اپنی سواری کے جانوروں پر سوار ہو کر اپنی قوم میں سے ایمان والوں کے ساتھ میدان محشر میں تشریف لائیں گے، حضرت صالحؑ اپنی اونٹنی پر لائے جائیں گے اور مجھےؐ براق پر لایا جائے گا جس کا قدم اس کی منتہائے نگاہ پر پڑے گا اور میرے آگے فاطمہؓ ہوگی۔‘‘
(مستدرک الحاکم)
جس بیٹی کو دنیا و آخرت اور زمین و آسمان پر اﷲ اور نبی کریم ﷺ نے اتنا مقام عطا کیا وہ بیٹی اپنے بابا کی جدائی برداشت نہ کرسکیں، نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد حضرت فاطمہ زھراؓ کا گھر بیت الحزن بن گیا۔ نبی کریمؐ کی پیش گوئی کے مطابق وصال نبویؐ کے بعد محض40 یا 75یا 95 دن یا اہل سنت روایات کے مطابق 6 ماہ زندہ رہ سکیں۔
ام المومنین حضرت عائشہ ؓسے روایت ہے: ’’اپنے وصال کے وقت رسول اﷲ ﷺ نے فاطمہؓ کو نزدیک بلا کر ان کے کان میں کچھ کہا جس پر وہ رونے لگیں۔ اس کے بعد آپؐ نے پھر سرگوشی کی تو آپؓ مسکرانے لگیں۔ حضرت عائشہ ؓفرماتی ہیں کہ میں نے سبب پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ پہلے میرے بابا ﷺ نے اپنی رحلت کی خبر دی تو میں رونے لگی۔ اس کے بعد انھوں نے بتایا کہ سب سے پہلے میں ان سے جا ملوں گی تو میں مسکرانے لگی۔‘‘ (بخاری، مسلم، احمد بن حنبل)
جب حضرت فاطمہؓ آقائے دو جہاں حبیب خدا ﷺ کے مزارِ اَقدس پر حاضر ہوتیں تو فریاد کرتی تھیں، قبرِ اَنور کی مبارک مٹی اٹھا کر آنکھوں پر لگا لیتیں اور حضور ﷺ کی یاد میں رو رو کر یہ اَشعار پڑھتیں، مفہوم:
’’جس شخص نے آپ ﷺ کے مزارِ اَقدس کی خاک کو سونگھ لیا ہے اسے زندگی میں کسی دوسری خوش بُو کی ضرورت نہیں۔ آپ ﷺ کے وِصال کی وجہ سے مجھ پر جتنے عظیم مصائب آئے ہیں اگر وہ دنوں پر اُترتے تو وہ راتوں میں بدل جاتے۔‘‘ (ذھبی، روح المعانی)
حضرت فاطمہ زھراؓ نبی کریمؐ کی قمیص سونگھتیں اور گریہ کرتیں۔ بحار الانوار میں روایت ہے کہ جب پیغمبرؐ وفات پاگئے تو موذن رسول ﷺ حضرت بلالؓ نے اذان دینی بند کردی تھی۔ ایک دن جناب فاطمہؓ نے انہیں پیغام بھیجا کہ میری خواہش ہے کہ میں ایک دفعہ اپنے باپؐ کے موذن کی اذان سنوں۔ بلالؓ نے جناب فاطمہؓ کے حکم پر اذان دینی شروع کی اور اﷲ اکبر کہا۔ جناب فاطمہؓ کو اپنے باپ ﷺ کے زمانے کی یاد آگئی اور رونے پر قابو نہ پاسکیں اور جب بلالؓ نے اشہد ان محمداً رسول اﷲ کہا تو جناب فاطمہؓ نے باپ کے نام سننے پر ایک چیخ ماری اور غش کرگئیں۔ (بحار الانوار)
پیغمبر اسلام ﷺ کی رحلت کے بعد کسی نے حضرت زھراؓ کو کبھی ہنستے ہوئے نہیں دیکھا۔ جب آپؓ دنیا سے رخصت ہونے والی تھیں تو بے حد مغموم و فکر مند تھیں۔ حضرت فاطمہ زھرا کا فرمان ہے کہ بہترین عورت وہ ہے کہ جس کی آواز نامحرم نہ سنے اور وہ بھی کسی نامحرم کی آواز نہ سنے۔
جس طبقہ خواتین کو اسلام نے ذلت کی پاتال سے حضرت فاطمہ زھراؓ کی مسیحائی کے ذریعے نکالا تھا، جن کی گردنیں ذلت کے خوف سے اڑا دی جاتی تھیں، ان کے قدموں تلے جنّت کو قرار دیا گیا۔ آج ایک بار پھر اس عورت کا مقام شیطانی حملوں کی زد میں ہے جس کی تقدیس کے سامنے گردنیں خم ہوجاتی تھیں، اسے پھر بازار کی جنس بنانے پر زور ہے۔ اس گم راہی اور بے راہ روی کے طوفان کا مقابلہ سیرت حضرت فاطمہ زھراؓ کو اپنا کر ہی کر سکتی ہیں۔ کیا وہ میرا جسم میری مرضی کے نعروں کے جال میں دوبارہ اپنے آپ کو اسی ذلت کے قید خانے میں محبوس کردینا چاہتی ہیں جس سے اسلام نے انہیں نکالا تھا۔ خواتین عالم کو یہ ادراک کرنا ہوگا کہ ان کی آزادی، عزت، حرمت اور دنیا و آخرت میں سرفرازی و کام رانی اسلام کی بتائی ہوئی راہوں پر چلنے میں ہے جن کی نشان دہی خاتون جنت سید النساء العالمین حضرت فاطمہ زھراؓ نے کی تھی۔ اسی لیے ارمغان حجاز میں حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ نے خواتین کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
بتولےؓ باش و پنہاں شو ازیں عصر
کہ در آغوش شبیرےؓ بگیری
ترجمہ: ’’اگر تُو یہ چاہتی ہے کہ تیری آغوش سے کوئی امام حسینؓ جیسا پروان چڑھے تو انھیں دامن فاطمہ زھرا ؓسے وابستگی اختیار کرنا ہوگی۔‘‘
چلو سلام کریں ایسے آستانے کو
حسینؓ پال کے جس نے دیا زمانے کو
خواتین عالم کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کے مصائب کا خاتمہ، حقیقی آزادی اور حقوق کی بازیابی سیرت خاتون جنّت کی پیروی سے ہی ممکن ہے۔ خداوند عالم قوم کی ماؤں بہنوں بیٹیوں کو سیرت فاطمہ زھراؓؓ پر چلنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین
Today News
مودی کا دورئہ اسرائیل: پاکستان کے لیے باعث تشویش؟
آج بروز جمعہ ، بتاریخ 27فروری2026، جب یہ کالم شائع ہوگا، بھارتی وزیر اعظم ، نریندر مودی، اپنے سرکاری دو روزہ دَورئہ اسرائیل سے واپس اپنے ملک آ چکے ہوں گے ۔اُن کا یہ دَورہ 25اور26فروری کے دو ایام پر محیط تھا۔ یہ دَورہ ایسے ایام میں ہُوا ہے جب مغربی ایشیا پر خطرات کے کئی بادل منڈلا رہے ہیں ۔ جب امریکہ اپنے سامراجی مذموم مقاصد کی تکمیل اور حصول کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران پر حملے کے لیے پر تول رہا ہے ۔ایرانی مذہبی انقلابی قیادت بھی اپنے تئیں اپنے موقف اور اپنے مبینہ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ڈٹی ہُوئی ہے ۔ امریکہ کے مقابل ایران کا ڈَٹ جانا خود امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ، کو حیران اور ششدر کررہا ہے ۔ مودی جی نے ایسے ایام میں اسرائیل کا دَورہ کیا ہے جب چند دن قبل ہی امریکی صدر نے واشنگٹن میں ’’ بورڈ آف پیس‘‘ کے پہلے عالمی شہرت یافتہ اجلاس کی صدارت کی ہے ۔ اِس اجلاس میں مودی کو بھی مدعو کیا گیا تھا ، لیکن اُنھوں نے خود شریک ہونے کی بجائے اپنے ایک نمایندہ کو واشنگٹن بھیج دیا ۔ یہی اسلوب اسرائیلی وزیر اعظم ، نیتن یاہو، نے اختیار کیا ۔بورڈ آف پِیس کے پہلے اجلاس میں بھارتی شرکت کو ’’آبزرور‘‘ کا درجہ دیا گیا۔
اسرائیل اور بھارت گٹھ جوڑ خاصے گہرے بھی ہیں اور کسی سے مخفی بھی نہیں ۔ مودی جی ایسے ایام میں اسرائیل کے دَورے پر گئے ہیں جب ایک ہفتہ قبل ہی اسرائیل میں متعین امریکی سفیر ( Mike Huckabee) نے امریکی صحافی(Tucker Carlson) کو انٹرویو دیتے ہُوئے یہ لاف زنی اور دریدہ دہنی کی ہے کہ’’اگر اسرائیل مشرقِ وسطیٰ پر قبضہ کر لے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔ اسرائیل کو یہ حق بائبل نے دیا ہے ۔‘‘ بین الاقوامی قوانین کی توہین کرتے اِس بیان کی پاکستان سمیت تمام عالمِ اسلام نے سخت الفاظ میں بیک زبان ہو کر مذمت کی ہے ۔ اِس بیان نے ایک بار پھر اسلام مخالف امریکی و اسرائیلی گٹھ جوڑ کی قلعی کھول دی ہے ۔وائیٹ ہاؤس نے ابھی تک اپنے سفیر کے مذکورہ بالا بیان کی تردید کی ہے نہ مذمت ؛ چنانچہ اِس پس منظر میں پاکستان کو نریندر مودی کے دَورئہ اسرائیل پر بجا طور پر تشویش ہُوئی ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اِس تناظر میں 24فروری کو پاکستانی سینیٹ میں ایک متفقہ قرار داد بھی منظور ہُوئی ہے جس میں واضح الفاظ میں کہا گیا :’’ یہ ایوان بھارت، اسرائیل گٹھ جوڑ اور صہیونی توسیع پسندانہ عزائم( امریکی سفیر کے مذکورہ بالا بیان کے حوالے سے) کی مذمت کرتا ہے ۔ بھارتی وزیر اعظم اسرائیل کا دَورہ کررہے ہیں ۔ اِس پر بھی ہمیں تشویش ہے ۔ جس دن بھارت و اسرائیل (مودی کے دَورے کے بعد) میں نیا اتحاد تشکیل پائے گا، یہ سینیٹ اور حکومت اِس کا ڈَٹ کر مقابلہ کریں گے۔‘‘
اِس بیان کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ مودی کے دَورئہ اسرائیل پر پاکستان کو واضح تشویش ہے ۔ یہ تشویش ہونی بھی چاہیے کہ اِس دَورے سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم ، نیتن یاہو، نے کھل کر کہا تھا:’’مودی میرا عزیز دوست ہے ۔ نریندر مودی کے اسرائیل آنے سے ہم دونوں ملک ایک نئے ،متنوع اور تزویراتی اتحاد میں پروئے جائیں گے ۔‘‘اور ہُوا بھی ایسا ہی ہے ۔ مودی کے اِس دَورے کے دوران بھارت اور اسرائیل کے درمیان جو مبینہ اسٹریٹجک معاہدے اور ایم او یوز ہُوئے ہیں ، عالمِ اسلام اور خاص طور پر پاکستان کو اِن پر تشویش ہے ۔ حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام اس لیے بھی مودی کے دَورئہ اسرائیل پر مشوش ہیںکہ غیر مبہم الفاظ میں کہا جا رہا ہے کہ پاکستان میں آئے روز دہشت گردی کی جو خونی ، المناک داستانیں رقم ہو رہی ہیں، اِن کے عقب میں مقتدر افغان مُلّا طالبان اور بھارت کے اتحاد کی کارفرمائی ہے۔آگے بڑھ کر ہمارے ایک سابق کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے اگلے روز مین اسٹریم میڈیا اسکرین پر یہ بھی کہا ہے کہ ’’ پاکستان کے خلاف طالبان کے افغانستان، نریندرمودی کے بھارت اور نیتن یاہو کے اسرائیل کا گٹھ جوڑ سب پر آشکار ہو چکا ہے ۔‘‘
پاکستان کے خلاف صہیونی اسرائیل و بھارت کا اتحاد (مئی 1999میں) اُس وقت بھی کھل کر سامنے آیا تھا جب اسرائیل نے کارگل میں پاکستانی مجاہدین و سیکیورٹی فورسز کا ہلاکت خیز مقابلہ کرنے کے لیے ہنگامی طور پر بھارت کو اپنے مخصوص میزائل فراہم کیے تھے ۔پاکستان کے خلاف یہ اتحاد اُس وقت بھی پھر کھل کر سامنے آیا تھا جب مئی2025 کی چار روزہ جنگ ( جس میں پاکستان نے بھارتی غرور خاک میں ملا دیا تھا)میں اسرائیل نے اپنے جدید ترین جنگی ڈرونز بھارتی فوج کو فراہم کیے تھے۔ 24فروری2026 کو ’’عرب نیوز‘‘ میں ( مودی کے دَورئہ اسرائیل کے حوالے سے) جو تفصیلی رپورٹ شائع ہُوئی ہے، اِس میں بھی اِن اسرائیلی جنگی ڈرونز کا ذکر کیا گیا ہے ۔ ’’عرب نیوز‘‘ نے اپنی مذکورہ بالا رپورٹ میں یہ بھی لکھا:’’ بھارتی وزیر اعظم بدھ ( 25اور26 فروری) کو جس اسرائیلی دَورے پر جا رہے ہیں، یہ تجارت ، کاروبار اور دفاع کے اعتبار سے نہائت اہم ہے ۔ اسرائیل دراصل بھارت کا اہم ترین ٹریڈ و ڈیفنس پارٹنر ہے۔ مودی کے اسرائیلی دَورے کا مطلب یہ ہے کہ بھارت مشرقِ وسطیٰ میں توازن کے ساتھ اپنے سفارتی و تجارتی تعلقات کو بڑھا رہا ہے ۔‘‘ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ ’’عرب نیوز‘‘ کی جانب سے بھارت کی اِس غیر معمولی تعریف کے کیا معنی ہیں؟
صرف پاکستان ہی کو نریندرمودی کے دَورئہ صہیونی اسرائیل پر تشویش نہیں ہے ، بلکہ خود بھارت کی اپوزیشن نے بھی کھلے الفاظ میں مودی کے اِس دَورے کی مخالفت کی ہے ۔ مثال کے طور پر کانگریس کے سیکریٹری جنرل ( جئے رام رامیش) نے مودی کے اسرائیل روانہ ہونے سے قبل کہا:’’ مودی جی کا دَورئہ اسرائیل کھلی منافقت ہیں۔ ماضی قریب میں بھارت اور مودی فلسطین کی کھلی حمائت کر چکے ہیں ۔ اب جب کہ اسرائیل پچھلے دو برسوں میں ایک لاکھ کے قریب اہلِ غزہ کو قتل کر چکا ہے، مودی کا اسرائیلی دَورہ چہ معنی دارد؟ مودی نے اِس دَورے سے ثابت کر دیا ہے کہ اُنھوں نے فلسطین اور فلسطینیوں سے ناتہ توڑ لیا ہے ۔‘‘ جئے رام رامیش نے مزید کہا:’’ بھارت اور مودی جی ایران سے بھی دوستی اور تعاون کا دَم بھرتے رہے ہیں ۔ اب جب کہ امریکہ اور اسرائیل اکٹھے ہو کر ایران پر میزائل برسانے کی تیاریاں کررہے ہیں، ایسے حساس لمحات میں مودی جی کا اسرائیل جانا ہرگز مناسب نہیں ہے ۔‘‘
لیکن نریندر مودی اپنے ہم وطن سیاسی حریفوں اور عالمی دوستوں کے طنزو تعریض اور نصیحتوں کے برعکس پندار کا صنم کدہ ویران کرتے ہُوئے اسرئیل پہنچے ۔ اُن کے دَورے سے فلسطین اور ایران کو بھی سب سے بڑا دھچکا اور دکھ پہنچا ہے۔ مگر ہندو بنیا سب سے پہلے اپنے مفاد دیکھتا ہے۔ مودی کا اسرائیل کے ساتھ ذاتی مفاد یہ بھی ہے کہ اُن کے ارب پتی قریبی دوست ( گوتم اڈانی ، جو بی جے پی اور آر ایس ایس کی بھرپور مالی امداد کرتے ہیں) اسرائیل کی ایک اہم ترین بندرگاہ(حائفہ) چلاتے ہیں۔ بھارت و اسرائیل کی دو طرفہ تجارت کا گراف بھی 4ارب ڈالر کو چھُو رہا ہے ۔ رُوس اور فرانس کے بعد اسرائیل وہ ملک ہے جو بھارت کو سب سے زیادہ جدیدترین دفاعی سازوسامان فراہم کررہا ہے ۔عالمی دفاعی معاملات پر کڑی نظر رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ ادارے SIPRI (اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پِیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ)کا دعویٰ ہے کہ پچھلے تین برسوں کے دوران بھارت نے دُنیا بھر سے جتنا بھی اسلحہ و دفاعی سازوسامان خریدا ہے، اِس کا13فیصد اسرائیل سے آیا ہے ۔
بھارت و اسرائیلی سفارتی تعلقات بھی پرانے اور گہرے ہیں ۔ آزادی کے ایک سال بعد ہی جواہر لعل نہرو نے اسرائیل کو بطورِ مملکت تسلیم کر لیا تھا۔ مگر باقاعدہ سفارتی تعلقات آج سے 33سال قبل (1992کے دوران) معرضِ عمل میں آئے ۔ پاکستان دشمن نریندر مودی نے وزیر اعظم بنتے ہی اسرائیل سے ہر قسم کے تعلقات کو آگے بھی بڑھایا اور اِنہیں مضبوط بھی کیا ۔ مودی جی پہلے بھارتی وزیر اعظم ہیں جنھوں نے 2017 میںاسرائیل کا سرکاری دَورہ کیا ۔ اُس سے اگلے سال صہیونی اسرائیلی وزیر اعظم ، نیتن یاہو، نے بھارت کا سرکاری دَورہ کیا ۔ رواں برس بھارت اپنے ہاں ’’عرب لیگ‘‘ سے تعلق رکھنے والے وزرائے خارجہ کی کانفرنس بھی کروا چکا ہے ۔
Today News
غزہ امن بورڈ اجلاس – ایکسپریس اردو
اسرائیلی جارحیت و بربریت کا نشانہ بننے والے غزہ میں امن کے قیام اور بحالی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سربراہی میں جو امن بورڈ قائم کیا ہے،گزشتہ ہفتے اس کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ بورڈ کے بانی اراکین میں پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیہ، قطر و دیگر 26 ممالک شامل ہیں۔ امن بورڈ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ غزہ کے لوگوں کے لیے روشن مستقبل چاہتے ہیں۔ انھوں نے غزہ کی صورت حال کو پیچیدہ قرار دیتے ہوئے حماس کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ صدر ٹرمپ نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ معاہدے پر عمل درآمد کرتے ہوئے حماس جلد ہتھیار پھینک دے گی۔
انھوں نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے دس ارب ڈالر دینے کا اعلان کیا اور یہ بھی بتایا کہ امن بورڈ کے اراکین کی جانب سے 7 ارب ڈالر کا پیکیج دیا جا چکا ہے۔ صدر ٹرمپ نے یقین دہانی کرائی کہ امدادی پیکیج کا ہر ڈالر غزہ کی ترقی و خوشحالی اور امن کے قیام کے لیے استعمال ہوگا، غزہ اب دہشت گردی اور انتہا پسندی کا گڑھ نہیں رہے گا۔ صدر ٹرمپ کے بقول بورڈ کے رکن ممالک غزہ میں سیکیورٹی، نظم و نسق اور انسانی امداد کے تحفظ کے لیے اپنی اپنی فوج اور پولیس فورس بھیجیں گے۔ انھوں نے واضح طور پر یہ بھی کہا کہ امن بورڈ اقوام متحدہ کے معاملات پر بھی نظر رکھے گا تاکہ یو این درست طریقے سے کام کرے۔ گویا صدر ٹرمپ نے عالمی امن کے ضامن ادارے اقوام متحدہ کے کردار کو بھی نہ صرف مشکوک بنا دیا بلکہ اس پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی واضح کر دیا کہ ان کی سربراہی میں کام کرنے والا امن بورڈ اقوام متحدہ سے بھی ایک درجہ اوپرکا ادارہ ہے، دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں مبصرین و تجزیہ نگار اور عالمی سیاست پر نظر رکھنے والے ماہرین امن بورڈ کے قیام کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، صدر ٹرمپ کے خفیہ عزائم اور بورڈ کے اغراض و مقاصد پر بحث کی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ میں ویٹو کی پاور رکھنے والے بڑے ممالک چین، روس، فرانس اور برطانیہ سمیت مغرب و یورپ کے بیشتر ممالک صدر ٹرمپ کے امن بورڈ میں شامل نہیں ہیں جس سے اس کی کمزور حیثیت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ایران کو بھی دھمکی دی ہے کہ وہ دس دن میں امریکا کے ساتھ جوہری معاہدہ کرے، ورنہ جنگ کے لیے تیار ہو جائے۔ ایک اسرائیلی اخبار نے دعویٰ کیا ہے امریکا ایران میں مخصوص شخصیات کو نشانہ بنا سکتا ہے اور رجیم چینج بھی کروا سکتا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ دھمکیوں کے باوجود امریکا کے ساتھ مذاکرات اور جوہری معاہدہ کے لیے تیار ہیں۔
ایک طرف تو صدر ٹرمپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ دنیا میں قیام امن کے علمبردار ہیں، انھوں نے دنیا میں 8 جنگیں رکوائیں، دوسری طرف وہ ایران کے خلاف جنگ کا اعلانیہ اظہار کر کے مشرق وسطیٰ کے امن کو تباہ کرنے کے در پے ہیں جو ان کی دو عملی پالیسی کا مظہر ہے اور اس امر کا عکاس بھی کہ ان کے قول و فعل میں کھلا تضاد ہے۔ بجا کہ انھوں نے جنگیں رکوائیں جن کا وہ بار بار اظہار کرتے ہیں۔ غزہ بورڈ اجلاس کے خطاب کے دوران بھی انھوں نے برملا اپنے موقف کو دہراتے ہوئے پاک بھارت جنگ رکوانے کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیرکی بھی کھل کر تعریف کی۔ انھوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں ان کو بہت پسند کرتا ہوں کہ وہ میری جنگ بندی کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔ مبصرین و تجزیہ نگار اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ بار بار جو تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں، گویا وہ اپنا اخلاقی دباؤ بڑھا کر پاکستان کو اس بات پر آمادہ کرنے کے خواہاں ہیں کہ وہ غزہ کے لیے عالمی استحکام فورس میں اپنی فوج بھیجنے پر آمادہ ہو جائے دوسرے یہ کہ غزہ کے مستقبل کے حوالے سے صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے جو بھی عزائم اور پلان ہیں، اس پر عمل درآمد میں رکاوٹ پیدا نہ کرے بلکہ ان کا عملی حصہ بن جائے۔ بالخصوص حماس کو غیر مسلح کرنے کے حوالے سے، فلسطینیوں کی دوسرے ممالک میں منتقلی اور غزہ کو عالمی تفریحی پارک بنانے اور ایران میں رجیم چینج منصوبے کی حمایت پر آمادہ ہو جائے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے امن بورڈ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے دیرینہ موقف کو صاف الفاظ میں دہرایا کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق فلسطینیوں کو ان کا حق خود ارادیت دیا جائے۔
آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام پائیدار امن کے لیے ناگزیر اور فلسطینیوں کا حق ہے۔ انھوں نے بجا طور پر یہ مطالبہ کیا کہ دیرپا امن کے لیے غزہ میں سیز فائر کی خلاف ورزیاں بند ہونی چاہئیں۔ وزیراعظم نے تنازعات کے حل اور بروقت مداخلت کرکے پاک بھارت جنگ رکوانے میں صدر ٹرمپ کے کردار کو قابل تحسین قرار دیا۔ غزہ امن بورڈ سے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب آنے والا وقت دے گا۔ سردست تو اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کا یہ بیان مسلم امہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ خدا نے یہ زمین اسرائیلیوں کو دی ہے، خطے پر قبضہ ان کا حق ہے۔
-
Tech2 weeks ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
3 Reasons The Galaxy S26 Ultra Plays It Safe (And Why It Might Work)
-
Entertainment2 weeks ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech2 weeks ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Entertainment4 days ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech1 week ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Entertainment2 weeks ago
Hina Afridi Gets Emotional While Talking About Her Late Mother
-
Tech2 weeks ago
Pakistan Approves Bill to Fast-Track Internet and Mobile Network Expansion