Connect with us

Today News

برکت رمضاں … مگر کہاں؟

Published

on


ماہ رمضان شروع ہوا ہے اور تا دم تحریر تک کچھ روزے گزر بھی گئے ہیں، وقت کو ہی اتنی رفتار لگی ہوئی ہے کہ ادھر مہینہ شروع ہوتا ہے ادھر ختم، ادھر سال شروع ہوتا ہے اور یوں چٹکیوں میں ختم بھی ہوجاتا ہے۔ ماہ رمضان جس کا ہم سال بھر انتظار کرتے ہیں، بھی شروع ہوتا ہے اور پلک جھپکنے میں گزر بھی جاتا ہے، جزا اور اجر کی بارشیں اور اللہ کی رحمتیں ہم پر نازل ہو رہی ہوتی ہیں اور ہم ان سے سرشار ہوتے رہتے ہیں۔

پہلے تو لوگوں کوفقط اپنے گھروں میں ہی ماہ رمضان میں پر تعیش سحری اور افطاری کی فکر ہوتی تھی، روزے کی اصل روح یعنی نفس پر قابو پانا اور بھوکے کی تکلیف کو محسوس کرنا ہے مگر ہم اس مہینے میں اور بھی زیادہ خشوع و خضوع سے مینو بناتے، پارٹیاں پلان کرتے اور تزکیہء نفس اور تزکیہء قلب کو بھلا کر ان چیزوں میں وقت ضایع کرتے ہیں جو ہم سال بھر یوں بھی کرسکتے ہیں اور کرتے بھی ہیں۔

چند برسوں سے ایک اور رواج جو فروغ پا رہا ہے وہ ہے رمضان کی مناسبت سے رمضان پیکیج تقسیم کرنا جو کہ پہلے بھی ہوتے تھے مگر پہلے پردے سے اور ڈھک کر دیا جاتا تھا کہ غریب رشتہ دار، عیال اور محلے دار بھی اس خوشی میں شامل ہوں کہ انھوں نے اللہ کی خوشنودی کے لیے روزہ رکھا اور ان کے کسی متمول رشتہ دار نے ان کی عزت نفس مجروح کیے بغیر انھیں سحر اور افطار میں پیٹ بھر کر کھانے کا سامان کردیا۔ اب بھی یہ سب ہو رہا ہے، پہلے سے بہت زیادہ ہو رہا ہے مگر اس میں نمود و نمائش کا عنصر بڑھ گیا ہے ۔ ہر چھوٹی بڑی دکان پر آپ کو رمضان پیکیج نظر آتے ہیں جو ماہ رمضان سے بہت پہلے بکنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس میں دینے والوں کی سہولت کو مد نظر رکھتے ہوئے اشیائے ضروریہ کو ڈبوں میں پیک کر کے ان پر رمضان مبارک پرنٹ کروایا جاتا ہے ۔ ان میں ایک سے زائد قیمت اور معیار کے علاوہ ورائٹی دستیاب ہوتی ہے۔

پیکٹ میں موجود اشیاء کی فہرست بھی دستیاب ہوتی ہے اور ایک سیمپل کا پیکٹ بھی سامنے ڈسپلے پر ہوتا ہے۔ عام طور پر ان پیکٹوں میں یہ اشیاء ہوتی ہیں۔ آٹا، چاول، چینی، دالیں، بیسن، میدہ، بناسپتی گھی، خوردنی تیل،کھجوریں، ٹماٹو ساس، املی، چنے ، چاٹ مسالہ، پھلکیاں، نمک، مرچ، ہلدی، گرم مسالہ، پتی، دودھ، شربت۔ بعض اوقات ان پیکٹوں میں آلو پیاز بھی شامل ہوتے ہیں۔ اگر کسی محلے یا گاؤں میں پچاس لوگ صاحب حیثیت یعنی دینے والے ہوں اور پچاس سفید پوش یعنی لینے والے ہوں اور دینے والے پانچ ، دس، پندرہ یا بیس پیکٹ فی کس بھی دے رہے ہوں تو ہر غریب کے گھر میں سات سے آٹھ ملتے جلتے سامان کے پیکٹ پہنچ جاتے ہیں۔ اس کے کنبے کے سائز کے حساب سے اسے دو نہیں تو تین پیکٹ چاہئیں اس کے علاوہ کا راشن اس کے لیے اضافی ہے۔ ہمارے گاؤں میں تو ایسا ہوتا ہے کہ وہ غریب لوگ انھی دکانوں پر جا کر دکانداروں کی منت سماجت کرتے ہیں کہ وہ بے شک ان سے وہ سامان کم قیمت پر واپس لے لیں مگر اس کے عوض انھیں کچھ اور سامان دے دیں، یقینا ایسااور جگہوں پر بھی ہوتا ہو گا۔ چیک کرنے پر علم ہوا کہ لوگ جو سامان تبدیل کرواتے ہیں، اس کے عوض وہ جو بھی سامان لیتے ہیں وہ کسی بھی قیمت کے پیکٹوں میں نہیں ہوتا ہے۔

برتن اور کپڑے دھونے کا صابن، وم، سرف، شیمپو، نہانے کا صابن، ٹوتھ پیسٹ، ٹوتھ برش، بسکٹ، ڈبل روٹی، انڈے، دہی، بچوں کے ڈائپر اور ان کا فارمولا دودھ اور ایک طویل فہرست۔ اب ایک رمضان پیکٹ وصول کرنے والا جب وہ پیکٹ اٹھا کر دکان پر لے جاتا ہے تو وہ تمام راستے میں اور دکانوں پر بھی کتنی نظروں کی چھلنی سے گزرتا اور دل میں شرمندہ ہوتا ہے۔ اس کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے مگر غریب کی عزت نفس ہوتی کہاں ہے۔ بعض مفاد پرست دکاندار اس موقع سے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں اور وہی سامان جو انھوں نے پہلے مہنگے داموں بیچا ہوتا ہے، واپس لیتے وقت اس کی کم قیمت دیتے ہیں۔ واپس کرنے والا تو مجبور بھی ہے اور دیگر سامان کے لیے ضرورت مند بھی… وہ اپنی ضرورت کا وہ سامان لے کر واپس جاتے ہوئے بھی نظریں چراتا ہے ۔

جو لوگ دس لوگوں کے لیے راشن خرید کر دیتے ہیں، کیا وہ اتنی ہی رقم کسی غریب کو نقد نہیں دے سکتے؟ جانے اس کی کتنی ضرورتیں ہیں جن کے لیے وہ نہ چوری کرسکتا ہے اور نہ بھیک مانگ سکتا ہے۔ ہر روز پکوڑے، کھجوریں کھانا اور لال شربت پینا اس کے لیے کم اہم ہیں اور زیادہ اہم ہیں گھروں کے کرائے، بجلی اور گیس کے بل، بچوں کی اسکول کی فیس، گھر میں بزرگوں کی دوائیں۔

اس کے لیے آپ لوگوں کو بند لفافوں میں رقوم ڈال کر پردے سے ان کے گھروں تک پہنچا دیں۔ اگر سودے ہی دینا مقصود ہے تودکان پر اپنے نام کے تحت دس لوگوں کے لیے رقوم دے دیں اور دکاندار کو بتائیں کہ وہ دس لوگوں کو اتنی مالیت کا وہ سامان دے دیں جو انھیں چاہیے ہو نہ کہ رمضان پیکیج۔ ’ نیکی کی ٹوکری‘ کا رواج دنیا میں بہت سے ممالک میں ہے اور ہمارے ملک میں بھی چند لوگ صرف تنور کی حد تک غریبوں کو مفت روٹی کے لیے اسے استعمال کرتے ہیں۔ اس کا دائرہ وسیع کیا جا سکتا ہے۔

آپ اگر دوسروں کو کچھ دے رہے ہیں تو اللہ کی خوشنودی کے لیے یا پھر اپنی زکوۃ سے دے رہے ہیں، اس میں آپ کسی پر کوئی احسان تو نہیں کررہے ہیں؟ اس دینے کی تشہیر اور کوریج ایک انتہائی گھٹیا اقدام ہے کہ اگر آپ کا عمل نیک مگر نیت اپنی شو شا کی ہے تو آپ کا نیک عمل بھی ضایع ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ لاکھوں خرچ کر کے سیکڑوں لوگوں کو رمضان کا راشن دیتے ہیں اور داد اور واہ واہ وصول کرتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ آپ سیکڑوں لوگوں کو راشن دینے کی بجائے دس لوگوں کی مدد اس طرح کریں کہ وہ اپنے گھر کا نظام خود چلانے کے اہل ہوجائیں اور انھیں اگلے برس مدد کی ضرورت نہ ہو، زکوۃ دینے کا درست طریقہ اور اس کا مقصد عین یہی ہے ۔ کسی کو چھوٹا سا پھل سبزی کا کھوکھا کھلوا دیں، کسی کو کام کے لیے دکان یا ریڑھی لے دیں، کسی کو سلائی مشین، کسی بے ہنر کو ووکیشنل ٹریننگ دلوا دیں، کسی کی بچی کو چند ماہ کا بیوٹی پارلر کا کورس کروا دیں، وہیل چئیر، آکسیجن سلنڈر، دوائیں، بیساکھیاں، کوئی ضروری آپریشن، کہیں سے علاج معالجہ…

ارد گرد دیکھیں تو مدد کے سو طریقے ہیں مگر یہ ہے کہ ان طریقوں میں آپ کی تشہیر نہیں ہو گی، خاموشی سے کسی کی ایسی مدد کریں گے تو اس گھر کے چند نفوس آپ کو عمر بھر دعائیں دیں گے مگر آپ کے لیے تالیاں کوئی نہیں بجائے گا اور نہ ہی کوئی تصویریں کھینچ کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرے گا۔ راستے دونوں نیکی کے ہیں مگر فرق نیت کا ہے، دینے کے طریقے کا ہے، کسی کی عزت کرنے کا ہے اور دعائیں لینے کا ہے۔ کسی طریقے سے دنیا ملتی ہے اور کسی سے آخرت… انتخاب قطعی آپ کا ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

عالمی قیادت، بیانیہ اور بدلتا توازن

Published

on


عالمی سیاست اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں طاقت، بیانیہ اور حقیقت کے درمیان خلیج روز بروز وسیع ہوتی جا رہی ہے۔ ایک جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کانگریس سے طویل ترین اسٹیٹ آف دی یونین خطاب ہے جس میں دعوؤں کی بھرمار دکھائی دیتی ہے، تو دوسری طرف بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا اسرائیل کا دورہ اور غیر مشروط حمایت کا اعلان، جو عالمی سفارتی توازن کے لیے کئی نئے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ان دونوں تقاریر اور اقدامات کو محض سیاسی بیانات سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ اس بدلتی ہوئی عالمی ترتیب کی عکاسی کرتے ہیں جہاں طاقت کی سیاست، قومی مفاد اور داخلی سیاسی تقاضے بین الاقوامی اصولوں پر غالب آتے دکھائی دیتے ہیں۔

امریکی صدر نے اپنے خطاب میں یہ دعویٰ کیا کہ انھوں نے اپنے پہلے دس ماہ میں آٹھ جنگیں ختم کیں، پاک بھارت ممکنہ ایٹمی جنگ کو روکا، ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی، ملکی معیشت کو تاریخ کی مضبوط ترین سطح پر پہنچایا، مہنگائی کو کم کیا اور روزگار کو ریکارڈ سطح تک بڑھایا۔ بظاہر یہ ایک فاتحانہ بیانیہ ہے، مگر تحقیقی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ان دعوؤں کی نوعیت، شواہد اور عملی اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

سب سے اہم دعویٰ پاک بھارت ممکنہ ایٹمی جنگ کو روکنے سے متعلق تھا۔ جنوبی ایشیا دو ایٹمی طاقتوں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا خطہ ہے جہاں معمولی سرحدی جھڑپ بھی سنگین صورت اختیار کر سکتی ہے، اگر واقعی واشنگٹن نے کسی سفارتی مداخلت کے ذریعے تناؤ کم کیا تو اس کی تفصیلات، بیک چینل رابطوں، عالمی دباؤ اور علاقائی کرداروں کا تجزیہ ضروری ہے۔ عالمی سفارت کاری میں اکثر ایسی کوششیں پسِ پردہ ہوتی ہیں، مگر جب انھیں سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کیا جائے تو شفافیت ناگزیر ہو جاتی ہے۔ جنوبی ایشیا میں توازنِ طاقت کا دارومدار صرف بیرونی مداخلت پر نہیں بلکہ داخلی سیاسی استحکام، عسکری حکمت عملی اور عوامی بیانیے پر بھی ہوتا ہے۔

ایران کے حوالے سے امریکی صدر نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا معاہدے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ تہران واضح ضمانت دے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔ ایران کا جوہری پروگرام برسوں سے عالمی سیاست کا محور رہا ہے۔ 2015 کا جوہری معاہدہ، جو عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان طے پایا، بعد ازاں امریکی پالیسی میں تبدیلی کے باعث متاثر ہوا۔ آج اگر دوبارہ مذاکرات کی بات ہو رہی ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا یہ نئی حکمت عملی ہے یا سابقہ دباؤ کی پالیسی کا تسلسل؟ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو یورپی ممالک اور خطے میں امریکی اڈوں کے لیے خطرہ قرار دینا ایک اہم نکتہ ہے، مگر اس مسئلے کا حل صرف پابندیوں اور دھمکیوں میں نہیں بلکہ اعتماد سازی، علاقائی سلامتی کے فریم ورک اور باہمی ضمانتوں میں پوشیدہ ہے۔

امریکی معیشت کے حوالے سے کیے گئے دعوے بھی گہرے تجزیے کے متقاضی ہیں۔ بے روزگاری کی شرح، افراطِ زر کے اعداد و شمار، شرحِ نمو اور صنعتی پیداوار جیسے عوامل کسی بھی معیشت کی حقیقی تصویر پیش کرتے ہیں۔ انتخابی سیاست میں معاشی کامیابیاں ہمیشہ مرکزی حیثیت رکھتی ہیں اور ہر حکومت اپنی کارکردگی کو زیادہ مؤثر انداز میں پیش کرتی ہے۔ تاہم معاشی استحکام صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس کا اثر متوسط طبقے کی قوتِ خرید، صحت اور تعلیم کی سہولیات اور سماجی مساوات پر بھی پڑتا ہے، اگر معاشی ترقی کے ثمرات وسیع پیمانے پر عوام تک نہ پہنچیں تو مضبوطی کا دعویٰ محض رسمی رہ جاتا ہے۔خارجہ پالیسی کے میدان میں وینز ویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف کارروائی کا ذکر، منشیات کی اسمگلنگ کے خاتمے اور صومالی برادری پر اربوں ڈالر کے فراڈ کا الزام ایک سخت گیر بیانیے کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ لاطینی امریکا میں امریکی کردار ہمیشہ متنازع رہا ہے۔ اسی طرح داخلی سطح پر کسی مخصوص کمیونٹی کے بارے میں عمومی الزامات معاشرتی ہم آہنگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ایک ذمے دار قیادت کے لیے ضروری ہے کہ داخلی اتحاد کو کمزور کیے بغیر قانون کی بالادستی قائم کی جائے۔

ادھر بھارتی وزیر اعظم کا اسرائیل کا دورہ بھی عالمی سفارت کاری میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد بھارت نے کھل کر اسرائیل سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ اسرائیلی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت ہر اس جان کے ضیاع پر تعزیت پیش کرتا ہے جو اس حملے میں ہوئی اور بھارت مکمل یقین کے ساتھ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔ تاہم غزہ میں جاری جنگ کے دوران ہزاروں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کا واضح ذکر نہ ہونا عالمی مبصرین کے لیے قابلِ توجہ تھا۔اسرائیلی اور غزہ کی موجودہ صورتِ حال بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور علاقائی استحکام کے تناظر میں انتہائی حساس ہے۔ حماس کے حملے کی مذمت اپنی جگہ، مگر جنگ کے دوران عام شہریوں کی ہلاکتوں پر خاموشی ایک سفارتی توازن کے فقدان کی نشاندہی کرتی ہے۔ بھارت کی تاریخی خارجہ پالیسی غیر جانبداری اور فلسطینی حقِ خود ارادیت کی حمایت پر مبنی رہی ہے، اگر اس پالیسی میں تبدیلی آ رہی ہے تو اس کے اسباب، علاقائی مفادات اور اسٹرٹیجک شراکت داریوں کا تجزیہ ضروری ہے۔بھارت اور اسرائیل کے تعلقات گزشتہ دو دہائیوں میں دفاعی، تکنیکی اور زرعی شعبوں میں مضبوط ہوئے ہیں۔ جدید دفاعی سازوسامان، انٹیلی جنس تعاون اور انسدادِ دہشت گردی کے میدان میں اشتراک دونوں ممالک کو قریب لایا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس اسٹرٹیجک قربت کے نتیجے میں بھارت اپنی روایتی سفارتی توازن کی پالیسی سے دور ہو رہا ہے؟ اپوزیشن جماعتوں کی تنقید اسی پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب غزہ میں انسانی بحران پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے، غیر مشروط حمایت بھارت کی اخلاقی پوزیشن کو کمزور کرسکتی ہے۔

 عالمی سیاست میں امریکا اور بھارت کا ابھرتا ہوا اسٹرٹیجک اشتراک بھی اس تناظر میں اہم ہے۔ بحرِ ہند و بحرالکاہل کی حکمت عملی، چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ اور دفاعی تعاون کے معاہدے دونوں ممالک کو قریب لا رہے ہیں۔ ایسے میں اسرائیل کے ساتھ بھارت کی قربت اور ایران کے بارے میں امریکا کا سخت مؤقف خطے میں ایک نئی صف بندی کا اشارہ دیتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور یورپ کے درمیان طاقت کا توازن نئی شکل اختیار کر رہا ہے۔

یہ تمام عوامل مل کر ایک بڑے سوال کو جنم دیتے ہیں: کیا موجودہ عالمی قیادت طاقت کے مظاہرے کو سفارت کاری پر فوقیت دے رہی ہے؟ اگر’’ امن بزورِ طاقت‘‘ ہی اصول بن جائے تو کیا عالمی ادارے، کثیرالجہتی مذاکرات اور بین الاقوامی قانون اپنی افادیت برقرار رکھ سکیں گے؟ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی فورمز کا کردار اسی وقت مؤثر ہوتا ہے جب بڑی طاقتیں انھیں کمزور کرنے کے بجائے مضبوط کریں۔تحقیقی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو موجودہ عالمی بیانیہ زیادہ تر داخلی سیاست سے جڑا ہوا ہے۔ امریکا میں انتخابی ماحول، بھارت میں قومی سلامتی کا بیانیہ، اسرائیل میں داخلی سیاسی چیلنجز اور مشرقِ وسطیٰ میں علاقائی رقابتیں، یہ سب عوامل تقاریر اور بیانات کو متاثرکرتے ہیں۔ جب خارجہ پالیسی داخلی سیاسی ضرورت بن جائے تو اس کا عالمی استحکام پر اثر پڑتا ہے۔

پاکستان کے تناظر میں یہ تمام پیش رفت خاص اہمیت رکھتی ہے۔ جنوبی ایشیا میں کسی بھی قسم کی کشیدگی براہِ راست پاکستان کی سلامتی، معیشت اور سفارتی پوزیشن کو متاثر کرتی ہے، اگر امریکا پاک بھارت کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کرتا ہے تو یہ مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے، مگر خطے کا مستقل امن صرف بیرونی ثالثی سے نہیں بلکہ باہمی اعتماد، مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل اور اقتصادی تعاون سے ممکن ہے۔اسی طرح مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا اثر عالمی توانائی منڈیوں اور معیشت پر پڑتا ہے، جس کا براہِ راست اثر ترقی پذیر ممالک پر ہوتا ہے۔ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے یا تصادم کے نتائج عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ طاقت کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دی جائے۔آخرکار، عالمی قیادت کا اصل امتحان خطابات کی طوالت یا دعوؤں کی شدت میں نہیں بلکہ عملی نتائج میں ہے، اگر جنگیں واقعی ختم ہو رہی ہیں، معیشت مضبوط ہو رہی ہے اور عالمی امن کو فروغ مل رہا ہے تو یہ دنیا کے لیے خوش آیند ہے، اگر بیانیہ حقیقت سے متصادم ہو تو اس کے اثرات دیرپا اور نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔دنیا کو اس وقت ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہے جو طاقت اور ذمے داری کے درمیان توازن قائم کر سکیں، جو داخلی سیاست کے تقاضوں کو عالمی اصولوں پر غالب نہ آنے دیں اور جو سفارت کاری، انصاف اور انسانی وقار کو اپنی پالیسیوں کا محور بنائیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت عارضی ہو سکتی ہے، مگر انصاف اور توازن ہی پائیدار امن کی بنیاد بنتے ہیں، اگر عالمی قیادت اس اصول کو پیشِ نظر رکھے تو موجودہ بحرانوں سے نکل کر ایک زیادہ مستحکم اور منصفانہ عالمی نظام کی تشکیل ممکن ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

نی ایندرتال ، ایک نظریہ

Published

on


1856میں Fossilsپر کام کرنے والے ماہرین کی ایک ٹیم جرمنی کی ایک وادی نی ایندر میں کام کر رہی تھی کہ اسے ایسی باقیات ملیں جوانسانی باقیات سے ملتی جلتی تو تھیں لیکن انسانی نہیں تھیں۔ماہرین کو سب سے پہلے Skull cap n Femer bone ملی۔ٹیم ممبران یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ یہ کون سی انسانی نوع کی باقیات ہیں۔کھدائی کرنے والے ماہرین نے اپنی دریافت کو دنیا کے ماہرین حیاتیات سے شیئر کیا تو سب اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ باقیات موجودہ نوع انسانی سے ہٹ کر ایک دوسری نوع کی ہیں۔چونکہ یہ باقیات جرمنی کی وادی نی ایندر میں دریافت ہوئی تھیں اس لیے اسے نی ایندرتال Neanderthals کہا گیا۔ معلوم ہوا کہ یہ باقیات تقریباً ساڑھے 3لاکھ سال پرانی ہیں اور یہ کہ یہ نوعِ انسانی اب معدوم ہو چکی ہے۔

ہومو سیپینHomo sapien انسان کے زمین پر آباد ہونے سے پہلے ہومو ارک ٹسHomo Erectus کا دور آیا۔اس سے پہلے زمین پر زندگی تھی۔بے شمار قسم کے جانور اور چرند پرند تھے۔زمین ان کی مختلف آوازوں سے نغمہ زن تھی جب سیدھا کھڑا ہو کر چلنے والی پہلی مخلوق ہومو ارک ٹس نمودار ہوئی۔ہومو ارک ٹس کی پہلی نوع شاید نی ایندرتال ہی تھی۔ بہت ابتدا میں یہ زمین پر تو چلتے پھرتے اور شکار وغیرہ کرتے تھے لیکن کوئی سٹرکچر کوئی عمارت بنانے کی ابھی نہیں سوجھی تھی اس لیے یہ درختوں پر رہتے تھے۔انسانوں کی ہی ایک اور نوع ہومو فلورنس تھی۔انڈونیشیا کے ایک جزیرے فلورنس سے انسانی باقیات کے جو ڈھانچے ملے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ یہ انسانی نوع کی ایک تیسری قسم تھی۔بہت قدیم زمانے میں آباد یہ نوعِ انسانی بہت چھوٹے قد کی تھی۔ان کا عمومی قد تین سوا تین فٹ تھا،ان کی کھوپڑیاں بھی چھوٹی تھیں۔یہ نوع بھی اب مکمل طور پر معدوم ہو چکی ہے۔یورپی ماہرینِ حیاتیات نے بغیر کسی ثبوت کے ایک نظریہ گھڑ لیا ہے کہ انسان بندر یا ایپسApesسےEvoluteہوکر موجودہ انسانی شکل و صورت میں آیا اس لیے یہ ضروری ہے کہ یہ ارتقا Evolutionافریقہ میں ہوا ہو حالانکہ اگر اس قسم کا کوئی ارتقا ہوا ہے تو وہ کیوں اور کب بند یا ختم ہو گیا۔پچھلے 8سے10ہزار سال کی انسانی تاریخ تو معلوم ہے۔ اس لمبے عرصے میں کوئی ایک بھی ایسا واقعہ صفحہء شہود پر نہیں ملتا جس میں کسی نے کسی بندر یا ایپ کو انسان میں ڈھلتے دیکھا ہو۔ افریقہ سے انسان نے ترقی کر کے ایشیا اور یورپ میں قدم رکھا۔ابھی حال ہی میں صدر ٹرمپ نے سابق صدر اوباما اور ان کی اہلیہ مشال کا مذاق اُڑاتے ہوئے انھیں بن مانس کی شکل میں پیش کیا۔امریکی اور یورپی مائنڈ سیٹ ہے کہ کالی یا بھدی چیز نے افریقہ میں جنم لیا تھا۔نی ایندرتال کے بارے میں بھی یہی کچھ کہا جاتا ہے کہ وہ افریقہ میں نمودار ہوئے لیکن پھر وہاں سے نکل کر دوسرے برِ اعظموں میں پھیل گئے۔

ماہرینِ حیاتیات کا اندازہ ہے کہ کوئی چار لاکھ سال پہلے نی ایندرتال نمودار ہوئے۔سائنس دانوں کا یہ بھی خیال ہے کہ زمین پانچ مرتبہ برفانی دور یا Ice Ageسے گزری ہے۔پہلی مرتبہ ہماری زمین 2.6بلین سال پہلے برف سے ڈھک گئی تھی۔کہا جاتا ہے کہ سب سے سخت برفانی دور 720سے635لاکھ سال پہلے تھا۔نی ایندرتال سخت ترین کپکپاتی سردی جھیلنے والی نوعِ انسانی تھی۔وہ سخت ترین آب و ہوا کو بخوبی جان گئے اور اس میں زندہ رہنا سیکھ گئے تھے،آخری برفانی دور میں پوری زمین پر عمومی درجہء حرارت منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔سطحِ سمندر بھی موجودہ سطح سے کوئی 100فٹ نیچے تھی۔جبرالٹر یعنی جبل الطارق کی پہاڑیوں میں ایسی کئی غاریں ہیں جہاں نی ایندرتال بسے ہوئے تھے۔اب سمندر ان غاروں کے دہانوں تک پہنچا ہوا ہے لیکن اس وقت یہ سوفٹ نیچے تھا۔نی ایندرتال یہاں سمندر کی تہہ جو اس وقت خشک زمین تھی وہاں چلتے پھرتے،شکار کرتے اور گزر بسر کرتے تھے۔

نی ایندر تال زمین پر سب سے لمبے عرصے یعنی کوئی چار لاکھ سال آباد رہے۔یہ 42ہزار سال پہلے بالکل معدوم ہو گئے۔یہ اپنے دور میں یورپ،مغربی و وسطی ایشیا اور سائیبیریا میں آباد رہے۔ان کا جسم بہت مضبوط،، طاقتور اور گٹھا ہوا تھا لیکن ان کا قد زیادہ سے زیادہ سوا پانچ فٹ تک تھا۔ان کی ناک چوڑی تھی جو سرد ہوا کو گرم کرنے میں ممدو معاون تھی۔ نی ایندرتال کی کھوپڑی قدرے بڑی جب کہ دماغ کا سائز بھی بڑا تھا۔موجودہ نوعِ انسانی اور نی ایندرتال کے DNAکا موازنہ کیا جائے تو یہ97.5 فی صد ایک جیسا ہے۔ایک اندازے کے مطابق موجودہ یورپی آبادی میں4فیصد اور ایشیائی آبادی میں اڑھائی سے تین فیصد نی ایندرتال DNAہے۔سیدنا امام جعفرؑ اور امام ابنِ تیمیہ نے رائے ظاہر کی ہے کہ موجودہ نوعِ انسانی سے پہلے کم از کم دو نوعِ انسانی مکمل طور پر معدومی کا شکار ہو چکی ہیں۔واﷲ اعلم۔





Source link

Continue Reading

Today News

چراغ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے

Published

on


خدیجہ چھ بچوں کی ماں ہے، بڑی بیٹی پندرہ سال کی ہے، جو اس کے ساتھ ہی کام پر آتی ہے اور گھروں میں جھاڑو پونچھا کرتی ہے، برتن دھوتی ہے، دونوں ماں بیٹیاں صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک کام کرتی ہیں، مختلف گھروں سے انھیں کھانا وغیرہ مل جاتا ہے جو وہ شام کو لے کر گھر جاتی ہیں۔ خدیجہ کا دوسرے نمبرکا بیٹا ایک موٹر مکینک کے پاس کام کرتا ہے، اس کا شوہر نشئی ہے۔

تینوں افراد کل ملا کر پینتالیس ہزار کما لیتے ہیں، شوہر خدیجہ سے مار پیٹ کر رقم نشے کے لیے چھین لیتا ہے، برسوں سے کام نہیں کرتا، بس بچے پیدا کیے ہیں یا بیوی کو مارتا ہے، دس ہزار گھر کا کرایہ چلا جاتا ہے، گیس بجلی کے بل الگ ہیں، خدیجہ روز ہی پٹتی ہے لیکن شوہر سے طلاق نہیں لیتی کہ برادری والے کیا کہیں گے۔ میں نے ایک بار اس سے کہا کہ وہ پولیس سے نشئی شوہر کی شکایت کر دے اور یہ بتائے کہ وہ اس کو مارتا پیٹتا ہے تو یہ سن کر خدیجہ رو پڑی اور بولی کہ ’’ باجی! میں یہ نہیں کر سکتی کیونکہ برادری میں ہر تیسرا آدمی نشئی ہے۔‘‘ خدیجہ اور اس کے بچے مل کر کام کر رہے ہیں، لیکن غربت ان کا مقدر ہے،کمانے والے تین اور کھانے والے آٹھ۔ اگر گھروں سے کھانا نہ ملے تو ان کو فاقہ کرنا پڑے، مہنگائی نے ان کی کمر توڑ دی ہے۔

کریم، چالیس سال کا ہے، چار بچے ہیں، کل چھ افراد ہیں اور کمانے والا ایک۔ گھر کرائے کا ہے، کریم بولٹن مارکیٹ پر ایک دکان پرکام کرتا ہے، جہاں سے اسے پندرہ سو روپے روزانہ ملتے ہیں، گھر میں نہ بستر ہیں نہ ہی بیڈ، ننگے فرش پر ایک پلاسٹک بچھا ہے، اس پر ایک پتلا سا گدا، تمام افراد اسی پر سوتے ہیں۔ اگر دکھ بیماری کی وجہ سے کریم کو چھٹی کرنی پڑ جائے تو تنخواہ نہیں ملتی، کسی اور وجہ سے اگر وہ ملازمت پر نہ پہنچ سکے تب بھی تنخواہ نہیں ملتی۔ گھر کا کرایہ اور گیس بجلی کے بل دے کر کھانے کو اتنا نہیں بچتا کہ پیٹ بھر کر کھانا نصیب ہو، کریم آدھے پیٹ کھانا کھاتا ہے تاکہ بچے بھوکے نہ رہیں۔ مہنگائی نے جینا عذاب کر دیا ہے، بنیادی چیزیں مہنگی ہیں، کہاں سے خریدیں؟ آٹا، چاول، دال، سبزی، کوکنگ آئل، لہسن ادرک، دھنیا، مرچیں، ہلدی، پیاز یہ سب بنیادی چیزیں ہیں جن کی ضرورت ہر گھر میں ہوتی ہے، کم آمدنی والے کہاں سے خریدیں اور کہاں سے کھائیں؟

دانش صاحب ریٹائرڈ پروفیسر ہیں، گھر میں بیوی کے علاوہ دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہیں، پنشن میں گزارا مشکل سے ہوتا ہے۔ ان کا گھر اپنا ہے لیکن بڑھتی ہوئی مہنگائی نے ان کے بھی چھکے چھڑا دیے ہیں، ہر چیز مہنگی، گوشت، چکن، مچھلی اور مٹن ہر شے مہنگی ہو گئی ہے۔ ہر مارکیٹ میں قیمتیں مختلف، دکاندار سے کہو کہ پچھلی دکان والا تو آلو بخارا تین سو ساٹھ روپے کا ڈھائی سو گرام دے رہا ہے اور آپ چار سو روپے کا دے رہے ہیں تو وہ منہ پھاڑ کر کہتا ہے ’’ تو وہیں سے لے لیں، میں تو اتنے میں ہی بیچوں گا۔‘‘

اسی طرح ڈرائی فروٹ کی قیمتیں ہر دکان پر الگ الگ ہیں، کوئی چیک کرنے والا نہیں۔ گوشت، سبزی اور دیگر اشیا کے نرخ ہر دکان پر الگ الگ ہیں، وہ زمانے کیا ہوئے جب فوڈ انسپکٹر مارکیٹ میں اشیا کے نرخ چیک کرنے آیا کرتے تھے اور مقررکردہ نرخ سے زائد قیمت وصول کرنے والوں کے چالان بھی کرتے تھے لیکن اب سب کچھ ختم ہوگیا ہے ۔ بانی پی ٹی آئی جب اقتدار میں آئے تو ہر روز وہ یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ (ن) لیگ اور پی پی کے لوگ جو دولت باہر لے گئے ہیں وہ لوٹی ہوئی دولت ملک میں واپس لائیں گے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا، البتہ ان کی عادتوں نے انھیں جیل پہنچا دیا، ان پر اور ان کی اہلیہ پر تحائف خرد برد کرنے کے جرم میں وہ پابجولاں ہوگئے۔

اسلام کے نام پر بنے ہوئے ملک میں ہر طرف ظلم و ستم کا بازار گرم ہے، مہنگائی کا جن کئی برسوں سے بوتل سے باہر ہے۔ ملک کا خدا ہی حافظ ہے، کسی کو بھی اس ملک سے محبت نہیں۔ ہر طرف لوٹ مار ہے، حکمرانوں کے خزانے بھرے ہوئے ہیں، سیاستدانوں، ایم پی ایز، ایم این ایز، مقتدر طبقے اور امیروں کے لیے زندگی ایک سنہرا خواب ہے اور باقی لوگوں کے لیے ایک بھیانک سپنا ہے۔

اس ملک میں قیادت کا فقدان ہے۔ جب اقتدار میں رہ کر لوٹ کھسوٹ کرتے ہیں تو ان سے نہ کوئی پوچھنے والا نہ روکنے والا، اور جب وہ اپوزیشن میں آتے ہیں تو حکومت پہ تنقید کرنے لگتے ہیں۔ ہمارے ملک میں میوزیکل چیئر کا یہ کھیل آخر کب تک کھیلا جائے گا؟ ایک سیاستدان نے  سیاسی بیان دیا ہے کہ ملک کے اگلے وزیر اعظم بلاول ہوں گے، یعنی میوزیکل چیئر تبدیل ہونے والی ہے۔ طے کر دیا گیا ہے کہ کب اور کون اگلی بار وزیر اعظم بنے گا۔ ساتھ میں امریکا کی آشیر واد بھی ضروری ہے۔ موجودہ منظرنامہ دیکھ لیجیے، زرداری صاحب مقتدرہ کی عنایت سے صدر بن گئے۔ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ عوام کا حافظہ بہت کمزور ہے، لیکن پیکا ایکٹ نہ ہوتا، صحافیوں اور کالم نگاروں کی زبان بندی نہ ہوتی تو آپ دیکھتے کہ کیسے کیسے اداریے لکھے جاتے اور کیسے کیسے کالم لکھے جاتے۔ عام آدمی کو نہ حکومت سے دلچسپی ہے نہ حکمرانوں کی لوٹ کھسوٹ سے سروکار، انھیں تو دو وقت کی روٹی درکار ہے۔

حکومت نے مہنگائی اس لیے بڑھا دی ہے کہ عام آدمی اپنے روز و شب میں الجھ کر رہ جائے، دنیا بھر میں انقلاب ہمیشہ متوسط طبقہ لے کر آتا ہے کیونکہ اس کے پاس عقل اور سمجھ دونوں ہوتی ہیں، وہ تعلیم یافتہ بھی ہوتا ہے، اس لیے غلط کو غلط کہنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ غریب اپنی روزی روٹی کے چکر سے نہیں نکل سکتا اور امیر طبقہ اپنی عیاشیوں میں مگن رہتا ہے لیکن پیکا ایکٹ نے سب کی زبانیں کاٹ دی ہیں، سوچ پر پہرے بٹھا دیے ہیں۔

 گزشتہ پانچ سال سے مہنگائی اس شدت سے بڑھی ہے کہ غریب اب مرنے کو ترجیح دینے لگا ہے، حکمرانوں کو کوئی یہ سبق دے کہ اگر آپ کو من مانی کرنی ہے، لوٹ کھسوٹ کرنی ہے، چور بازاری کرنی ہے، مال بنانا ہے، ایک فیکٹری سے کئی فیکٹریاں بنانی ہیں، لندن میں فلیٹ خریدنے ہیں، سرے محل خریدنا ہے، دانت کے درد کا علاج لندن میں کرانا ہے، نزلہ زکام کا علاج امریکا اورکینیڈا میں کروانا ہے، قومی خزانہ خالی کرکے اپنے خزانے بھرنے ہیں، لوٹ مارکرنی ہے، تو ضرور کیجیے۔ صرف مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کر دیجیے اور پھر ساری زندگی عیاشی کیجیے۔

مزدور مر رہا ہے، روزانہ اجرت پرکام کرنے والا مصیبت کا شکار ہے، ملک میں ڈکیتیاں بڑھ گئی ہیں، اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ جب سیدھی طرح گھی نہ نکلتا ہو تو انگلیوں کو ٹیڑھا کرنا پڑتا ہے۔ بڑھتے ہوئے جرائم کے پیچھے یہی ٹیڑھی انگلیاں ہیں۔ مہنگائی کا جن چیختا چنگھاڑتا، شور مچاتا اور دھاڑتا ہوا آ چکا ہے اور انسانوں کو جیتے جی مار رہا ہے۔ مہنگائی کی یہ آگ کسی دشمن نے نہیں بلکہ حکومت نے خود لگائی ہے۔ ریاستی بے حسی نے اس پر جلتی پر تیل کا کام کیا ہے، یہ سارے ارکان اسمبلی جنھیں شاید ڈیسک بجانے کے بھی بھرپور پیسے ملتے ہیں۔ یہ بجٹ تقاریر کے دوران شور و غوغا بہت کرتے ہیں، لیکن عوام کے لیے ان کے اندر کوئی نرم گوشہ نہیں ہوتا۔ سب اپنے مفادات کا کھیل ہے، حکمرانوں کی بے حسی، مفاد پرستی اور ناعاقبت اندیشی سے عوام پر مسلط کی گئی مہنگائی پورے معاشرے کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ اس سماج میں صرف، ڈاکٹر، قصائی اور سیاستدان عیش کر رہے ہیں، معاشرے کا دو فی صد طبقہ ہر طرح کے عیش و عشرت کا حق دار ہے، بقیہ اٹھانوے فی صد کی مہنگائی کی تلوار سے نسل کشی کی جا رہی ہے۔ مہنگائی کے اس طوفان نے تعلیم کو بھی متاثر کیا ہے۔ پرائیویٹ یونیورسٹیوں کی لاکھوں میں فیس نے ذہین طلبا پر تعلیم کا شعبہ بھی بند کر دیا ہے۔ ماں باپ روکھی سوکھی کھا کر بچوں کی فیسیں ادا کرتے ہیں، پرائیویٹ اسکول والے بھی الٹی چھری سے والدین کو ذبح کر رہے ہیں۔ کسی کی کوئی پکڑ نہیں ہے۔ غریب کا بچہ اسکول نہیں جاتا بلکہ کسی موٹر مکینک کے ہاں ’’چھوٹا‘‘ بن جاتا ہے جو استاد کو پانا اٹھا کردیتا ہے۔ سرکاری اسپتال قصائی گھر بن گئے ہیں، غریب آدمی علاج بھی نہیں کروا سکتا۔ سرکاری اسپتالوں میں رشوت اور سفارش کے بغیر علاج ممکن نہیں ہوتا۔ یہ حکمران اگر صرف مہنگائی کم کروا دیں تو بے شک عیش کریں، انھیں کوئی کچھ نہ کہے گا۔ کاش! ہمارے نام نہاد حکمران جن کے پاس اربوں روپیہ مال دولت، سونا، ہیرے جواہرات ہیں، اس لیے ان سے کوئی امید رکھنا حماقت ہے۔ شاید کبھی قدرت کو رحم آ جائے اور کوئی سچا اور کھرا حکمران پاکستان کو بھی میسر آ جائے لیکن جن لوگوں نے قائد اعظم پہ رحم نہیں کیا وہ ایمان دار حاکم کو کیسے برداشت کریں گے۔





Source link

Continue Reading

Trending